بدتمیز یو تھئیے۔
چار سال پہلے تک میں نہیں جانتی تھی بدتمیز یوتھیا کیا ہوتا ہے، یہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے۔ 10اپریل 2022کو ایسی تیزابی بارش ہو ئی جس سے نہ صرف پاکستان کے کونے کونے سے یوتھئیے اُگ آئے، بلکہ بیرون ملک رہنے والے ننانوے فی صد پاکستانی بھی یوتھئیے بن گئے۔
یہ فصل کیسے تیار ہو ئی؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔۔
2018کے الیکشن میں، عوام کے دلوں کی دھڑکن عمران خان، جس کی امانت، دیانت پر کسی ایک بھی پاکستانی کو شبہ نہیں تھا جب چھبیس سال کی طویل سیاسی جد و جہد کے بعد وزیر ِ اعظم بنا تو سالوں سے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک دو خاندان اور کچھ اور اشرافیہ سیاسی خاندانوں میں ہلچل مچ گئی۔ عمران خان، فرسودہ سیاسی نظام میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا تھا، اس کا سابقہ کردار، اس کی پچھلی زندگی ایک ایک پاکستانی کو ازبر تھی، اُس کا کر کٹ کا کئیرئیر ہو،یا سوشل ورک کا جنون، یا ذاتی زندگی کے پیچ و خم، وہ نہ صرف اس کے ہم عمروں کو بلکہ اگلی نسلوں تک کو ازبر یاد تھے۔ وہ پاکستانی تاریخ کا ایک ایسا دیومالائی کردار تھا جو بوڑھوں، جوانوں اور نوجوانوں کے دلوں میں بستا تھا۔
سیاست کا میدان مار کر جب وہ اقتدار کی مسند پر بیٹھا، تو کائی لگے ٹھہرے ہوئے بد بودار پانی سے خوشبو کا تازہ جھونکا اٹھا۔۔
اقتدار،اور اس کی بھول بھلیاں اس کے لئے بالکل ایک نیا راستہ تھا، یہ گیارہ بارہ کھلاڑیوں کی ٹیم نہیں تھی، یہ اس کی شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے محدود سٹاف تک کا معاملہ بھی نہیں تھا یہ 796095 مر بع کلومیڑ رقبے اور 25 کروڑ آبادی پر مشتمل چار صوبوں والا سنڈیوں بھرا کباب تھا۔ مگراس کا عزم بھی ہمالیہ سے بلند تھا، ہمت استقامت اور خدا پر توکل اس کے بہترین ہتھیار تھے۔
مگر یوں جانئیے برسوں سے اقتدار کے مزے لوٹنے والے،کیا سیاستدان، کیا بیورکریٹس، کیا صحافی،کیا عدلیہ،سب ہی کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے۔ ہمارے جیسی عوام نے سکھ کا سانس لیاکہ چلو اس دفعہ عسکری طاقتوروں کو عقل آگئی ہے اور انہوں نے پاکستان کے لئے کسی بہترین انسان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مگر سکھ کا یہ سانس بہت مختصر رہا اور مزے کی بات یہ رہی کہ اس مختصر ترین دور میں بھی جن جن کے مفادات پر ضرب لگی تھی وہ سب نہ صرف خاموشی سے تلملاتے رہے بلکہ با آواز بلند چیخیں بھی مارتے رہے، کبھی ہائے مہنگائی، کبھی ہائے ناانصافی، کبھی ہائے لاقانونیت۔ اس دور میں گلی میں کتا بھی مرتا تو سب صحافی، دانشور، لبرل، مولوی مل کر ماتم کرتے۔۔ہائے ہائے ہائے مچ جاتی اور عمران خان کے چاہنے والے عام عوام، جن کا پاکستان بننے سے اب تک پاکستان کے نظام میں سٹیک نہ ہو نے کے برا بر رہا ہے۔ جیسا نظام پاکستان میں بن چکا ہے اس کا فائدہ اٹھانے والے یہ کبھی بھی برداشت نہیں کرتے کہ کوئی ایسا شخص اقتدار میں آبیٹھے، جس کا انٹرسٹ پاکستانی عوام میں ہو۔ یہی ہوا ایک طرف عمران کے چاہنے والے غریب غربا، تبدیلی کے خواہشمند عام عوام اور دوسری طرف طاقتوروں کا جتھا، جو یہو د کی طرح تعداد میں تو غریبوں کی آبادیوں سے کہیں کم ہیں مگر سارے ذرائع اور سارے محکموں پر قبضہ کر نے کی وجہ سے ملک میں حاوی ہیں اور وہ ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں جس سے مضبوط تر رہتے ہیں۔
آپ دیکھئے ایک بیورکریٹ، ایک فوجی، ایک صحافی، ایک جج،یہ سب بوڑھے اور ریٹائرڈ ہو کر بھی کیسے اس نظام کی گردن میں دانت گاڑے،خون چوستے رہتے ہیں اور بدقسمتی سے ان پیراسائٹس کو پالنے کے لئے عوام تازہ خون مہیا کرتی رہتی ہے۔۔
ِ عمران خان کے دور کے دو سال کرونا کی وبا کی نذر ہو گئے، جو تھوڑا بہت وقت ملا وہ اشرافیہ نے آسمان سر پر اٹھائے رکھا، جو کام وہ کر سکتا تھا وہ بھی اسے نہیں کر نے دئیے گئے۔۔
عوام جو سوچ رہی تھی کہ اس دفعہ عسکری نظر ٹھیک ہو گئی ہے وہ بھی ایک خام خیالی ہی رہی۔ انہیں یاد آگیا کہ وہ تو”چور سیاستدانوں ” کے ساتھ بلی چوہے کا کھیل کھیلنے کے عادی ہیں یہ درمیان میں شیر کہاں سے آگیا ہے۔
گِدھو ں کے ساتھ ساتھ رہتے رہتے انہیں عقاب کے خواص کا کہاں سے علم ہو تا۔ جیسے ہی ان طاقت کے ایوانوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، انہوں نے وہی کیا جو وہ پچھتر سال سے کرتے آرہے ہیں۔ ان کا خیال تھا ایک بٹن کلک کرنا ہے اور وہ سب کچھ ان ڈو ہو جائے گا جو وہ غلطی سے کر بیٹھے ہیں۔
اس دوران عمران خان جوانوں میں امنگیں مکمل طور پر جگا چکا تھا۔اس کی سچائی، اس کی آنکھوں سے اور اس کے سچے الفاظ اس کے ہو نٹوں سے پھسلتے تو دیکھنے والے مسحور ہوجاتے۔ وہ اپنے وقت کا درویش، اور ولی بن گیا۔وزیر اعظم ہاؤس سے نکلتے وقت اس کی ڈائری اس کی مزاحمت اور استقامت کی علامت بن گئی۔
جب وہ وہاں سے نکلا تو اس کا سینہ چوڑا اور گردن اٹھی ہو ئی تھی۔وہ جانتا تھا، اس نے کچھ غلط نہیں کیا،وہ جانتا تھا کہ وہ اس سوال کی مکمل تیاری کرتا رہتا ہے جو روز ِ قیامت رب کے حضور پیش ہو نے پر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے وہ سب کیا جو تم پر فر ض تھا۔
اور اسی ایک پل لوگ اس کے ساتھ جڑ گئے۔ وہ عوام جو برسوں سے اقتدار میں آنے والوں اور ان کی لوٹ مار سے تنگ آجانے کے عمل سے بارہا مرتبہ گزر چکی تھی۔اور عسکریہ جسے ٹھڈا مار کے نکالتی وہ خوش ہی ہوتی مگر اس دفعہ ایک اجنبی احساس اسے لپیٹے ہو ئے تھا۔
پاکستانی، دنیا میں جہاں بھی تھے،وہاں ایک ایک گھر میں ماتم کی صف یوں بچھ گئی جیسے کسی بہت اپنے کا نقصان ہو گیا ہو۔ اس دن عوام کو احساس ہوا یہ شخص تو پاکستان کے ہر گھر کا فرد ہے۔ وہ سب کا پیارا، دلارا، راجکمار ہے۔ اس دن پاکستانیوں کو احساس ہوا اشرافیہ میں یہ وہ واحد شخص ہے جوبھوکے کو روٹی، بے گھر کو پناہ گاہ، بیمار کو علاج سے لے کر بے عزت قوم کو عزت دلانے تک اپنے عزائم میں پکا رہا ہے۔
نوجوانوں کی آنکھیں، ان خوابوں سے چمکنے لگیں جو ان سے پہلی والی نسلوں کا نصیب نہیں تھے۔حاملہ ماؤں کو اس کی تقریریں سنتے دیکھا گیا اس امید کے ساتھ کہ ان کے پیٹ میں پلنے والا بچہ ایسا ہی دلیر اور سچا ہو۔ بوڑھے جو پاکستان کے مستقبل سے مایوس ہو چکے تھے، پھر سے اس امید سے نکھرنے لگے کہ شائید پاکستان کے نکھرنے کا وقت بھی آگیا ہے۔۔
مگر افسوس یہ سب خام خیالی ثابت ہو ئی، سب خواب چکنا چور ہو ئے۔ ا ن کی آنکھوں کے سامنے ایک دلیر صحافی ارشد شریف کو بے دردی اور بے رحمی سے مار دیا گیا،کئی اور سچ کا ساتھ دینے والے صحافیوں کو ملک سے بھاگنا پڑا، نکمے، نالائق،الیکشن میں ایک بھی سیٹ نہ جیتنے والوں کو مسلط کردیا گیا، ایک سائیں بچے ظل شاہ کو جانوروں کی طرح پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا۔ عدالتیں، طوائفیں بن گئیں،میڈیا ہاؤس کوٹھے بن گئے۔
خوابوں کی کرچیاں آنکھوں میں چبھنے لگیں تو سب جوان بوڑھے بچے چلا اٹھے۔۔ ان کے دل کے بادشاہ کو قیدی بنا دیا گیا، وہ احتجاج کے لئے اٹھے تو ان پر جھوٹے کیس بنائے گئے۔ پولیس کے ہاتھ میں ماچس دے دی گئی، اس اندھی طاقت نے ان پہلے سے کرپٹ مافیاز کو لوگوں کے مال اور عزتوں پر ہاتھ صاف کرنے کا نادر موقع عطا کیا۔ سندھ زرداریوں کو اور پنجاب ناکارہ عورتوں کے حوالے کردیا گیا، جنہوں نے عورتوں پر ہی جی بھر کر ظلم کیا اور اس پر ٹھٹھے بھی لگائے۔
محسن نقوی جیسے کوفی کو ڈھونڈ کر سب پر مسلط کردیا گیا۔۔ مکاروں نے نو مئی رچایا، چھبیس نومبر کو ان جوانوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں، جو ہندوستان کی تقسیم میں پاکستان بننے کے اسباب میں ایک سبب یہ بھی پڑھتے آئے تھے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہو گا جہاں نہ انگریز کی حکمرانی ہوگی نہ ہندو کی، وہاں مسلمان حاکم ہوں گے اور ساری رعایا اپنی مر ضی سے آزادانہ زندگی گزار سکے گی، کوئی ان کے ہجوم پر لاٹھیاں چلا کر لالہ لجپت رائے کی طرح نہیں مرے گا، کوئی سانحہ جلیانوالہ نہیں ہوگا، کوئی بھگت بے گناہ پھانسی نہیں چڑھے گا انصاف سب کے لئے اور حقوق بھی سب کے مساوی ہوں گے۔
مگر ان چارسالوں میں ہوا کیا؟چھوٹے بچوں کو گھروں سے اٹھا کر تھانوں میں پولیس کی د ہشت گردی کے سپرد کیا گیا، چار دیواری پھاند کر بچیوں کے جسموں کو چھوا گیا۔ یہ آزاد پاکستان میں ہوا اور یہ سب ان بچوں نے سہا۔۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔مگر انہیں کہا گیا تم نے بولنا نہیں، آگے سے بدتمیزی نہیں کر نی، گالی نہیں دینی۔۔ تمیز میں رہو۔ ادب آداب سے رہو۔
رجیم چینج کے ان چار سالوں میں، میں نے کئی جوانوں کو مرتے دیکھا۔
زمان پارک کا پہرہ دینے والے نوجوان جو چاہتے تھے کہ ان کا احساس کرنے والا لیڈر محفوظ رہے، وہ سب ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ایک کر کے مرتے گئے۔ کہنے کو جن کی موت طبعی بھی تھی، میں سمجھتی ہوں وہ بھی مار ہی دئیے گئے ہیں۔ انہیں کینسر یا کوئی اور بیماری نہیں لگی، انہیں وہ آسیب کھا گیا جو پچھتر،اسی سالوں سے اس ملک کو کھا رہا ہے۔۔
بچ جانے والے، اپنے خوابوں کے پیچھے اب بھی بھاگ رہے ہیں۔ اپنے لیڈر کی ایک جھلک دیکھنے کو تڑپ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں نجانے کون کون جینے کی امنگ میں مرے گا۔۔ میتیں اٹھانے کو تیار رہیں۔ یہ بدتمیز یوتھئیے، یہ گالیاں دینے والے یو تھئیے ایک ایک کر کے مر جائیں گے۔۔
صاحب بہادر! آپ فکر نہ کریں، بس ان کی قبروں کے پلاٹ بُک کرتے جائیں۔ ان کے عزیز و اقارب سے پیسے نکلواتے جائیں، لاشیں سپرد کر نے کے پیسے۔۔ ٹوٹی ٹانگوں یا بازووں کے ساتھ حوالہ خاندان کرنے کے پیسے، قبروں کے پیسے۔۔ جینے کی عمر میں مر نے کے پیسے۔۔
جو عقاب تھا اس کی آنکھیں تک چھین لی ہیں۔۔ جو گدھ تھے انہیں بدتمیز یوتھئیوں کو نوچنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔
خبردار کوئی گالی نہ دے، کوئی بدکلامی نہ کرے، کوئی اونچی آواز نہ نکالے یہاں ستر اسی سالہ آسیب زدہ مکان کے وارث،آدم بو جن اور چڑیلیں سو رہی ہیں۔یہاں بدتمیزی منع ہے۔یہاں خواب دیکھنا منع ہے۔یہاں مر نے کی اجازت ہے اسی کو غنیمت جانو، بدتمیز یوتھیو۔