افسانہ: روبینہ فیصل
برامپٹن کے قبرستان میں، اس کی تدفین کے بعد، ہم کچھ قریبی دوست اپنی بیگمات کے ساتھ،اس کے گھر ہی آگئے تھے۔ اس کا نام حامد تھا۔ پاکستان سے اس کا تعلق میرے شہر گجرات سے تھا۔ میں نے اسے بچپن سے ہی محنت کرتے دیکھا تھا۔ اس کی ماں سوتیلی تھی اور وہ سکول میں آدھی چھٹی کے وقت ہمارے ٹفن سے کھانا کھایا کرتا تھا، اس کی سوتیلی ماں نے اسے سکول میں کھانے کے لئے کبھی کچھ نہیں دیا تھا۔ سکول کے بعد وہ ایک چائے کے سٹال پر کام کر نے چلا جایا کرتا تھا۔اس کی بچپن کی جد و جہد کی کہانی ویسی ہی ہے جیسی تیسری دنیا کے غربت کے مارے بچوں کی ہو تی ہے۔ ان بچوں کی آنکھوں میں اچھی زندگی کے خواب ہو تے ہیں۔بے تحاشا غربت کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ محنت کے بل بوتے پر وہ ایک نہ ایک دن کہیں پہنچ جائیں گے۔
میں بھی کسی امیر گھرانے کا چشم و چراغ نہیں تھا۔ مگر میرے باپ دادا پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے جن پر میں بہت سال بعد پہنچا تھا یعنی اصول ہو تے ہی توڑنے اور پیٹ بھرنے کے لئے ہیں ، اس کے آگے پیچھے جو بھی کہانیاں سنائی جا تی ہیں وہ سب بس کتابوں کے صفحوں پر یا نانیوں دادیوں کی زبانوں پر ہی اچھی لگتی ہیں۔ بس، اسی وجہ سے ہمارے گھر میں رزق سے لے کر مال و اسباب تک، سب چیزوں میں
بر کت ہی بر کت تھی۔ مجھے لندن، امریکہ یا کینیڈا جا کر تعلیم حاصل کر نے کا یا یوں کہنا چاہیئے بس ان بدیسی ملکوں میں بسنے کا شوق تھا۔ مجھے گورے لوگ، ان کا رہن سہن،امن، قانون اور برابری یہ سب بہت فیسینیٹ کیا کرتا تھا۔میں نے اپنے یہ سارے خواب غریب حامد کی آنکھوں میں بھی انڈیل دئیے تھے۔ وہ چائے کے کھوکھے پربیٹھا، اس دیس کے خواب دیکھنے لگا تھا،جس کا ذکر اس نے صرف میرے سے ہی سنا تھا۔
آج میڈوول سیمٹیری میں،اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہو ئے ، میں اس کے بچپن کی ساری محرومیوں،جوانی کے خوابوں اور انتالیس سالہ زندگی کی محنتوں پر بھی مٹی ڈال رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جب ہم وطن سے دور جینے کے خواب دیکھا کرتے تھے تو ہم نے اس وقت کبھی وہاں مر نے اور دفن ہو نے کے متعلق نہیں سوچا تھا ۔ اپنی قبر کو جب سوچا،ہمیشہ خاندان یا محلے کے کسی قبرستان میں ہی سوچاتھا۔
یہ بات تو کبھی نہ ہمارے وہموں میں تھی نہ کبھی خوابوں کا حصہ تھی کہ ہم دور دراز کے دیسوں کو اپنی قبروں سے آباد کریں گے۔۔ خیر جینے کے دنوں میں کون مر نے کی باتیں سوچتا ہے۔ مگر وہ جن دنوں میں مر گیا ہے یہ بھی تو اس کے مر نے کے دن نہیں تھے۔
میں نے اسے کینیڈا لانے میں بہت مدد کی تھی۔ جب سے میں اس خوبصورت ملک میں آیا تھا، اس دن سے بس یہی سوچا کرتا تھا کہ ہم دونوں کے خواب مشترکہ تھے، تومیں اکیلا یہاں کیا کروں گا،کچھ کر بھی لیا مگر مطمئن کیسے رہوں گا۔میں نے یورک یونیورسٹی ٹورنٹو سے اپنی ڈگری لی اور اس کے بعد یہیں شادی کر لی تھی اورپھر یہیں پر ہی ، بال بچوں والا بھی ہو گیا۔ اس دوران پاکستان کا جب بھی چکر لگا تو اسے انہی حالات کی چکی میں پستا دیکھا۔ حامد،شکل و صورت کا بہت اچھا تھا،۔اس کی بھی اپنے ہی خاندان میں ایک کھاتے پیتے گھر کی لڑکی سے شادی ہو چکی تھی۔اس وجہ سے حامد کے اخراجات زیادہ ہوچکے تھے مگر آمدن بہت کم تھی۔وہ، شادی کے چھ سال بعد بھی بچوں کی نعمت سے محروم تھا۔
ایک دن جب میں اسے ملنے گیا،تو مجھے کہنے لگا ;”یار تیرے سے اِس بے وفائی کی امید نہیں تھی، کہ یوں اس بنجر زمین پر مجھے اکیلا چھوڑ کر ہمارے خوابوں کے دیس میں اکیلے ہی اپنا گھروندہ بنا لو گے اور مجھے بالکل ہی بھول جاو گے؟۔۔ “میں دل سے شرمندہ ہو گیا میں نے واقعی اسے تنہا چھوڑ دیا تھا۔
اس دوستی بھرے شکوے کے بعد، اس کے انداز میں ایسی التجا بھر گئی جو اس سے پہلے میں نے اس کی آواز میں کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ وہ غربت کے باوجود اپنی ہی دُھن میں مگن رہنے والا ایک خوددار اور محنتی لڑکا تھا۔ اب جب کہ وہ لڑکپن سے نکل چکا تھا،اور اس میں موجود سختیوں سے نپٹتے نپٹتے تھک چکا تھا تو اب وہ اپنے خواب بھول کر صرف ضروریات زندگی کو پورا کر نے کی دوڑ میں ایک بدلا ہوا انسان بن چکا تھا۔مجھے اس کا یہ انداز بہت بُرا لگا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے دوستی کے مان اور اکڑ کے ساتھ کہے کہ مجھے بھی کینیڈا بلاؤ۔۔ بس کہہ دیا۔۔ مگر اس کے ترلے منت والے انداز نے مجھے اندر سے شدید دکھی کردیاتھا۔
میں نے کس کس طرح اس کی کینیڈا آنے میں مدد کی وہ ایک الگ کہانی ہے۔اس وقت تو میں اس کی کینیڈا بلکہ دنیا سے رخصتی کر کے آیا تھا۔ اب تو میں اس کے کینیڈا والے گھر میں تھا۔ میری بیوی،حامد کی بیوی،سعدیہ کے ساتھ بیٹھی، اسے تسلیاں دے رہی تھی۔ ایک اور دوست کی بیوی، اسے کچھ کھلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر وہ غموں سے چُور نظر آرہی تھی۔ میں ایک دفعہ اپنی بیوی کو بلانے اندر فیملی روم تک گیا تو میری نظر اس روتی دھوتی عورت پر پڑی جو پینتس سال کی ہو نے کے باوجود اس وقت ستر سالہ بڑھیا لگ رہی تھی۔ان کے دو چھوٹے چھوٹے بچے یتیمی کا بوجھ اٹھائے ادھر اُدھر ڈرے سہمے پھر رہے تھے۔وہ نہیں جانتے تھے کہ آج صبح ان کا باپ جو انہیں روزانہ کی طرح پیار کر کے گھر سے نکلا تھا،اب تک واپس کیوں نہیں آیا، اس کی بجائے یہ بہت سے اجنبی کیوں ان کے ارد گرد منڈلا رہے ہیں، روتے ہوئے ان کے سروں پر ہاتھ رکھ رہے ہیں،ایسے وقت میں وہ اپنے باپ کے ہاتھوں کو تھامنا چاہتے تھے۔
مسجد میں ہو نے والی نماز جنازہ اور مولوی صاحب کا اعلان کہ ان کے باپ نے کسی کے پیسے دینے ہوں تو ان بچوں سے پوچھ سکتے ہیں اور بچوں کے ناموں کے ساتھ مولوی صاحب نے اپنا نام بھی دیا تھا۔۔ دونوں لڑکے جنہیں یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی تھی بس اپنا نام سُن کر چونک سے گئے تھے۔۔ ان کی سہمی اور حیرت زدہ آنکھیں لوگوں کے اس ہجوم میں اپنے باپ کو تلاش کر رہی تھیں،جو ان کے لاڈ اٹھاتا نہیں تھکتا تھا، مگر اب مولوی صاحب کہہ رہے تھے کہ اس نے کسی شخص کے پیسے دینے ہوں تو وہ ان بچوں کو بتا سکتا ہے۔
انہیں دیکھ کر مجھے، وہ وقت بھی یاد آیا جب وہ پیدا ہوئے تھے۔ حامد اور اس کی بیوی اللہ کی اس دیر آید رحمت پر کسقدر خوش تھے۔ حامد نے جب اپنی بیوی کو کینیڈا سپانسر کیا تو اس کے کچھ ہی عرصے بعدخدا نے انہیں اولاد کی نعمت سے بھی نواز دیا تھا۔ حامد اپنے بیٹوں سے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا کہ کینیڈا کی زمین انہیں راس آگئی ہے کہ یہاں اللہ نے انہیں دولت اور اولاد ، دونوں سے نوازدیا تھا ۔ اب وہ ایک کنسٹرکشن کمپنی میں اچھی تنخواہ پر کام کرتا تھا۔ اسے محنت کی عادت تو شروع سے ہی تھی، ا سی عادت نے کینیڈا میں اسے ترقی کر نے میں بہت مدد دی۔ کم ہی عرصے میں، وہ ٹھیک ٹھاک پیسہ کمانے لگ گیا تھا۔کینیڈا نے واقعی اس کے دکھ درد دور کر دئیے تھے۔ بظاہر ایسے ہی لگ رہا تھا۔کم از کم جنازے میں موجود لوگوں کو اور اب گھر میں بیٹھے فیملی فرینڈز کو سب کو یہی گمان تھا۔۔ اور سب کی زبانوں پر وقفے وقفے سے یہی بات آرہی تھی کہ “نجانے ان کی خوشیوں کو کس کی نظر کھا گئی۔”
مگر صرف میں جانتا تھا کہ یہ سب ایک گُمان ہی تھا۔۔ اس کے بچپن کا محرومیوں اور اداسیوں بھرا کالا سایہ یہاں بھی اندر اندر سے اس کی خوشیوں کو نگل رہا تھا۔۔وہ کالا سایہ جو اس کی شخصیت کے اندر ہی کہیں رچ بس گیا تھا۔
میں بڑی اذیت سے حامدکے اُس ڈرائنگ روم کو دیکھ رہا تھا، جہاں کی سجاوٹ میں اُس کی سالہا سال کی محنت اور محبت شامل تھی۔جب وہ زندہ تھا تو میں یہاں اسی صوفے پر بیٹھ کر اس کو ہزاروں دفعہ کہہ چکا تھا کہ دیکھو تمہارے بچپن کے بُرے دن اور نوجوانی کی محرومیاں کینیڈا جیسے ملک میں یوں غائب ہو گئی ہیں۔یہاں محنت کر نے والے کی کتنی عزت اور قدر ہے۔ “وہ میری چٹکی کو بغور دیکھتا اور مسکرا کر کہتا؛ “اور اس یوں میں میں ووں ووں ہو گیا ہوں۔۔ یہ بھی تو دیکھا کرو۔”
“ہاں مگر تم ان چند لوگوں میں سے ہو جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنا نصیب سنوارا ہے۔۔ پاکستان جیسے ملک میں رہتے جہاں نہ قانون نہ امن نہ آئین نہ شرافت کچھ بھی نہیں بچا،وہاں تمہاری محنت کا اور تمہارا دونوں کا کباڑا ہوجاناتھا ۔۔”
یہ سنتے ہی،وہ بہت سنجیدہ ہو جاتا اور کہتا; “ہاں یار پاکستان میں بڑی ذلت اٹھائی ہے مگر ایک بات ہے وہاں کی جانے والی میری انتھک محنت نے ہی مجھے اس قابل بنایا کہ میں یہاں کامیاب ہوگیا ہوں۔” اسے پاکستان سے بڑا پیار تھا، وہ یہ کبھی نہیں بھولتا تھا کہ ہم جو ہیں پاکستان کی وجہ سے ہیں۔ میں سوچتا، یہ کیسی محبت ہے، وہاں دو وقت کی روٹی کے لئے وہ ہر وقت محنت کرتا اور ذلت اٹھاتا تھا پھر بھی وہ اس دھرتی کے ساتھ اچھی بات جوڑ کے ہی اپنی یادوں کو زندہ رکھتا ۔۔”
“شکر ہے یار ہماری نسل نے کاٹ لیا اب ہمارے بچے خوش رہیں گے، عزت کے ساتھ،برابری کے ساتھ۔۔۔۔”اس کے دونوں بیٹوں کی شکل دیکھ کر مجھے اس کے یہ الفاظ یاد آئے تو کلیجہ منہ کو آگیا۔۔ کیا اب ان بچوں کا لڑکپن بھی حامد جیسا ہی ہوگا، اپنے حصے سے زیادہ محنت کرتا،دوسروں کی طرف ترستی آنکھوں سے دیکھتا ہوا بچپن۔۔۔
اس کے بغیر یہ ڈرائنگ روم مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہاں میں اس کے بغیر بیٹھوں گا،میری آنکھیں آنسوؤں سے بھیگنے لگیں۔ اسی وقت گھر کی بیل بجی۔ایک دوست اٹھ کر باہر جانے لگا، میں نے ا س کا ہاتھ دبا کر اسے وہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود بیرونی دروازے کی طرف چل پڑا۔
میں نے دروازہ کھولا تومجھے سامنے کینیڈین پولیس کھڑی نظر آئی۔ میں نے سوچا حامد کی موت جس حادثے کے نتیجے میں ہو ئی ہے اس کی تحقیق کر نے آئے ہو ں گے۔ میں نے شائید ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ حامد کی موت کنسٹرکشن سائیٹ پر یعنی جو بلڈنگ وہ بنارہے تھے اس کے چوتھے فلور سے گرنے کے بعد ہوئی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر دونوں پولیس والوں سے ہاتھ ملایا اور انہیں پوچھا ; “میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ؟۔ایک پولیس والے نے جو رنگ و نقوش سے دیسی لگ رہا تھا، مجھے کہنے لگا “کیا میں حامد ہوں۔۔ “میں نے اپنا نام بتایا۔۔ دوسرے پولیس والے نے آگے بڑھ کر سختی سے کہا؛” حامد کہا ں ہے ہم اسے گرفتار کر نے آئے ہیں۔۔”
” کیوں۔۔ “حیرت سے یہی ایک لفظ میرے منہ سے نکل سکا۔۔” یہ ہم اسے ہی بتائیں گے۔۔”
“وہ تو نہیں ہے۔ وہ تو مر گیا ہے۔۔”
اب چونکنے کی باری ان دو پولیس والوں کی تھی ;کب؟ کب مرا؟ “
“تین دن پہلے “میں بمشکل ہی بول سکا۔
“یہ کیسے ممکن ہے صدف نامی ایک عورت نے اس پر جنسی ہراسانی کا الزام لگاتے ہو ئے کل رات کا وقت لکھوایا ہے۔۔ “
“حامد تو تین دن پہلے۔۔۔۔اس کی موت کنسٹرکشن سائیٹ پر ہو ئی تھی۔۔کیا پولیس کے پاس انفارمیشن نہیں ہوتی؟ یہ تو اخبار میں بھی آیا تھا۔۔ “میں پولیس کی لاپرواہی اور لاعلمی پر سخت حیران تھا۔۔
“کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ سچ کہہ رہے ہیں۔۔ “
“بالکل۔۔ابھی میڈوول سیمٹری میوس روڈ برامپٹن،میں اس کی تدفین کر کے آرہے ہیں مگر کیا آپ نے یہ سوال صدف نامی خاتون سے بھی پوچھا تھا کہ وہ جو کہہ رہی ہے کیا اسے یقین ہے کہ وہ سچ بول رہی ہے؟ “اس کے ساتھ ہی میں نے حامد کی موت کی خبر جو مقامی اخبار میں چھپی تھی اور ویب سائیٹ پر بھی تھی، ان کے آگے کر دی، انہوں نے خجالت سے میرے فون پر نظر آنے والی خبر کو دیکھا۔ اب ان کے چہروں پر گھبراہٹ واضح نظر آرہی تھی۔
میں نے انہیں بتایا میں اس معاملے کو جانتا ہوں مگر پلیز حامد کی بیوی اس بات سے بالکل نا واقف ہے اس کی بجائے جو سوال کر نے ہیں مجھ سے کر لئے جائیں۔۔
برامپٹن کے قبرستان میں، اس کی تدفین کے بعد، ہم کچھ قریبی دوست اپنی بیگمات کے ساتھ،اس کے گھر ہی آگئے تھے۔ اس کا نام حامد تھا۔ پاکستان سے اس کا تعلق میرے شہر گجرات سے تھا۔ میں نے اسے بچپن سے ہی محنت کرتے دیکھا تھا۔ اس کی ماں سوتیلی تھی اور وہ سکول میں آدھی چھٹی کے وقت ہمارے ٹفن سے کھانا کھایا کرتا تھا، اس کی سوتیلی ماں نے اسے سکول میں کھانے کے لئے کبھی کچھ نہیں دیا تھا۔ سکول کے بعد وہ ایک چائے کے سٹال پر کام کر نے چلا جایا کرتا تھا۔اس کی بچپن کی جد و جہد کی کہانی ویسی ہی ہے جیسی تیسری دنیا کے غربت کے مارے بچوں کی ہو تی ہے۔ ان بچوں کی آنکھوں میں اچھی زندگی کے خواب ہو تے ہیں۔بے تحاشا غربت کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ محنت کے بل بوتے پر وہ ایک نہ ایک دن کہیں پہنچ جائیں گے۔
میں بھی کسی امیر گھرانے کا چشم و چراغ نہیں تھا۔ مگر میرے باپ دادا پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے جن پر میں بہت سال بعد پہنچا تھا یعنی اصول ہو تے ہی توڑنے اور پیٹ بھرنے کے لئے ہیں ، اس کے آگے پیچھے جو بھی کہانیاں سنائی جا تی ہیں وہ سب بس کتابوں کے صفحوں پر یا نانیوں دادیوں کی زبانوں پر ہی اچھی لگتی ہیں۔ بس، اسی وجہ سے ہمارے گھر میں رزق سے لے کر مال و اسباب تک، سب چیزوں میں
بر کت ہی بر کت تھی۔ مجھے لندن، امریکہ یا کینیڈا جا کر تعلیم حاصل کر نے کا یا یوں کہنا چاہیئے بس ان بدیسی ملکوں میں بسنے کا شوق تھا۔ مجھے گورے لوگ، ان کا رہن سہن،امن، قانون اور برابری یہ سب بہت فیسینیٹ کیا کرتا تھا۔میں نے اپنے یہ سارے خواب غریب حامد کی آنکھوں میں بھی انڈیل دئیے تھے۔ وہ چائے کے کھوکھے پربیٹھا، اس دیس کے خواب دیکھنے لگا تھا،جس کا ذکر اس نے صرف میرے سے ہی سنا تھا۔
آج میڈوول سیمٹیری میں،اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہو ئے ، میں اس کے بچپن کی ساری محرومیوں،جوانی کے خوابوں اور انتالیس سالہ زندگی کی محنتوں پر بھی مٹی ڈال رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جب ہم وطن سے دور جینے کے خواب دیکھا کرتے تھے تو ہم نے اس وقت کبھی وہاں مر نے اور دفن ہو نے کے متعلق نہیں سوچا تھا ۔ اپنی قبر کو جب سوچا،ہمیشہ خاندان یا محلے کے کسی قبرستان میں ہی سوچاتھا۔
یہ بات تو کبھی نہ ہمارے وہموں میں تھی نہ کبھی خوابوں کا حصہ تھی کہ ہم دور دراز کے دیسوں کو اپنی قبروں سے آباد کریں گے۔۔ خیر جینے کے دنوں میں کون مر نے کی باتیں سوچتا ہے۔ مگر وہ جن دنوں میں مر گیا ہے یہ بھی تو اس کے مر نے کے دن نہیں تھے۔
میں نے اسے کینیڈا لانے میں بہت مدد کی تھی۔ جب سے میں اس خوبصورت ملک میں آیا تھا، اس دن سے بس یہی سوچا کرتا تھا کہ ہم دونوں کے خواب مشترکہ تھے، تومیں اکیلا یہاں کیا کروں گا،کچھ کر بھی لیا مگر مطمئن کیسے رہوں گا۔میں نے یورک یونیورسٹی ٹورنٹو سے اپنی ڈگری لی اور اس کے بعد یہیں شادی کر لی تھی اورپھر یہیں پر ہی ، بال بچوں والا بھی ہو گیا۔ اس دوران پاکستان کا جب بھی چکر لگا تو اسے انہی حالات کی چکی میں پستا دیکھا۔ حامد،شکل و صورت کا بہت اچھا تھا،۔اس کی بھی اپنے ہی خاندان میں ایک کھاتے پیتے گھر کی لڑکی سے شادی ہو چکی تھی۔اس وجہ سے حامد کے اخراجات زیادہ ہوچکے تھے مگر آمدن بہت کم تھی۔وہ، شادی کے چھ سال بعد بھی بچوں کی نعمت سے محروم تھا۔
ایک دن جب میں اسے ملنے گیا،تو مجھے کہنے لگا ;”یار تیرے سے اِس بے وفائی کی امید نہیں تھی، کہ یوں اس بنجر زمین پر مجھے اکیلا چھوڑ کر ہمارے خوابوں کے دیس میں اکیلے ہی اپنا گھروندہ بنا لو گے اور مجھے بالکل ہی بھول جاو گے؟۔۔ “میں دل سے شرمندہ ہو گیا میں نے واقعی اسے تنہا چھوڑ دیا تھا۔
اس دوستی بھرے شکوے کے بعد، اس کے انداز میں ایسی التجا بھر گئی جو اس سے پہلے میں نے اس کی آواز میں کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ وہ غربت کے باوجود اپنی ہی دُھن میں مگن رہنے والا ایک خوددار اور محنتی لڑکا تھا۔ اب جب کہ وہ لڑکپن سے نکل چکا تھا،اور اس میں موجود سختیوں سے نپٹتے نپٹتے تھک چکا تھا تو اب وہ اپنے خواب بھول کر صرف ضروریات زندگی کو پورا کر نے کی دوڑ میں ایک بدلا ہوا انسان بن چکا تھا۔مجھے اس کا یہ انداز بہت بُرا لگا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے دوستی کے مان اور اکڑ کے ساتھ کہے کہ مجھے بھی کینیڈا بلاؤ۔۔ بس کہہ دیا۔۔ مگر اس کے ترلے منت والے انداز نے مجھے اندر سے شدید دکھی کردیاتھا۔
میں نے کس کس طرح اس کی کینیڈا آنے میں مدد کی وہ ایک الگ کہانی ہے۔اس وقت تو میں اس کی کینیڈا بلکہ دنیا سے رخصتی کر کے آیا تھا۔ اب تو میں اس کے کینیڈا والے گھر میں تھا۔ میری بیوی،حامد کی بیوی،سعدیہ کے ساتھ بیٹھی، اسے تسلیاں دے رہی تھی۔ ایک اور دوست کی بیوی، اسے کچھ کھلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر وہ غموں سے چُور نظر آرہی تھی۔ میں ایک دفعہ اپنی بیوی کو بلانے اندر فیملی روم تک گیا تو میری نظر اس روتی دھوتی عورت پر پڑی جو پینتس سال کی ہو نے کے باوجود اس وقت ستر سالہ بڑھیا لگ رہی تھی۔ان کے دو چھوٹے چھوٹے بچے یتیمی کا بوجھ اٹھائے ادھر اُدھر ڈرے سہمے پھر رہے تھے۔وہ نہیں جانتے تھے کہ آج صبح ان کا باپ جو انہیں روزانہ کی طرح پیار کر کے گھر سے نکلا تھا،اب تک واپس کیوں نہیں آیا، اس کی بجائے یہ بہت سے اجنبی کیوں ان کے ارد گرد منڈلا رہے ہیں، روتے ہوئے ان کے سروں پر ہاتھ رکھ رہے ہیں،ایسے وقت میں وہ اپنے باپ کے ہاتھوں کو تھامنا چاہتے تھے۔
مسجد میں ہو نے والی نماز جنازہ اور مولوی صاحب کا اعلان کہ ان کے باپ نے کسی کے پیسے دینے ہوں تو ان بچوں سے پوچھ سکتے ہیں اور بچوں کے ناموں کے ساتھ مولوی صاحب نے اپنا نام بھی دیا تھا۔۔ دونوں لڑکے جنہیں یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی تھی بس اپنا نام سُن کر چونک سے گئے تھے۔۔ ان کی سہمی اور حیرت زدہ آنکھیں لوگوں کے اس ہجوم میں اپنے باپ کو تلاش کر رہی تھیں،جو ان کے لاڈ اٹھاتا نہیں تھکتا تھا، مگر اب مولوی صاحب کہہ رہے تھے کہ اس نے کسی شخص کے پیسے دینے ہوں تو وہ ان بچوں کو بتا سکتا ہے۔
انہیں دیکھ کر مجھے، وہ وقت بھی یاد آیا جب وہ پیدا ہوئے تھے۔ حامد اور اس کی بیوی اللہ کی اس دیر آید رحمت پر کسقدر خوش تھے۔ حامد نے جب اپنی بیوی کو کینیڈا سپانسر کیا تو اس کے کچھ ہی عرصے بعدخدا نے انہیں اولاد کی نعمت سے بھی نواز دیا تھا۔ حامد اپنے بیٹوں سے بہت پیار کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا کہ کینیڈا کی زمین انہیں راس آگئی ہے کہ یہاں اللہ نے انہیں دولت اور اولاد ، دونوں سے نوازدیا تھا ۔ اب وہ ایک کنسٹرکشن کمپنی میں اچھی تنخواہ پر کام کرتا تھا۔ اسے محنت کی عادت تو شروع سے ہی تھی، ا سی عادت نے کینیڈا میں اسے ترقی کر نے میں بہت مدد دی۔ کم ہی عرصے میں، وہ ٹھیک ٹھاک پیسہ کمانے لگ گیا تھا۔کینیڈا نے واقعی اس کے دکھ درد دور کر دئیے تھے۔ بظاہر ایسے ہی لگ رہا تھا۔کم از کم جنازے میں موجود لوگوں کو اور اب گھر میں بیٹھے فیملی فرینڈز کو سب کو یہی گمان تھا۔۔ اور سب کی زبانوں پر وقفے وقفے سے یہی بات آرہی تھی کہ “نجانے ان کی خوشیوں کو کس کی نظر کھا گئی۔”
مگر صرف میں جانتا تھا کہ یہ سب ایک گُمان ہی تھا۔۔ اس کے بچپن کا محرومیوں اور اداسیوں بھرا کالا سایہ یہاں بھی اندر اندر سے اس کی خوشیوں کو نگل رہا تھا۔۔وہ کالا سایہ جو اس کی شخصیت کے اندر ہی کہیں رچ بس گیا تھا۔
میں بڑی اذیت سے حامدکے اُس ڈرائنگ روم کو دیکھ رہا تھا، جہاں کی سجاوٹ میں اُس کی سالہا سال کی محنت اور محبت شامل تھی۔جب وہ زندہ تھا تو میں یہاں اسی صوفے پر بیٹھ کر اس کو ہزاروں دفعہ کہہ چکا تھا کہ دیکھو تمہارے بچپن کے بُرے دن اور نوجوانی کی محرومیاں کینیڈا جیسے ملک میں یوں غائب ہو گئی ہیں۔یہاں محنت کر نے والے کی کتنی عزت اور قدر ہے۔ “وہ میری چٹکی کو بغور دیکھتا اور مسکرا کر کہتا؛ “اور اس یوں میں میں ووں ووں ہو گیا ہوں۔۔ یہ بھی تو دیکھا کرو۔”
“ہاں مگر تم ان چند لوگوں میں سے ہو جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنا نصیب سنوارا ہے۔۔ پاکستان جیسے ملک میں رہتے جہاں نہ قانون نہ امن نہ آئین نہ شرافت کچھ بھی نہیں بچا،وہاں تمہاری محنت کا اور تمہارا دونوں کا کباڑا ہوجاناتھا ۔۔”
یہ سنتے ہی،وہ بہت سنجیدہ ہو جاتا اور کہتا; “ہاں یار پاکستان میں بڑی ذلت اٹھائی ہے مگر ایک بات ہے وہاں کی جانے والی میری انتھک محنت نے ہی مجھے اس قابل بنایا کہ میں یہاں کامیاب ہوگیا ہوں۔” اسے پاکستان سے بڑا پیار تھا، وہ یہ کبھی نہیں بھولتا تھا کہ ہم جو ہیں پاکستان کی وجہ سے ہیں۔ میں سوچتا، یہ کیسی محبت ہے، وہاں دو وقت کی روٹی کے لئے وہ ہر وقت محنت کرتا اور ذلت اٹھاتا تھا پھر بھی وہ اس دھرتی کے ساتھ اچھی بات جوڑ کے ہی اپنی یادوں کو زندہ رکھتا ۔۔”
“شکر ہے یار ہماری نسل نے کاٹ لیا اب ہمارے بچے خوش رہیں گے، عزت کے ساتھ،برابری کے ساتھ۔۔۔۔”اس کے دونوں بیٹوں کی شکل دیکھ کر مجھے اس کے یہ الفاظ یاد آئے تو کلیجہ منہ کو آگیا۔۔ کیا اب ان بچوں کا لڑکپن بھی حامد جیسا ہی ہوگا، اپنے حصے سے زیادہ محنت کرتا،دوسروں کی طرف ترستی آنکھوں سے دیکھتا ہوا بچپن۔۔۔
اس کے بغیر یہ ڈرائنگ روم مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہاں میں اس کے بغیر بیٹھوں گا،میری آنکھیں آنسوؤں سے بھیگنے لگیں۔ اسی وقت گھر کی بیل بجی۔ایک دوست اٹھ کر باہر جانے لگا، میں نے ا س کا ہاتھ دبا کر اسے وہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود بیرونی دروازے کی طرف چل پڑا۔
میں نے دروازہ کھولا تومجھے سامنے کینیڈین پولیس کھڑی نظر آئی۔ میں نے سوچا حامد کی موت جس حادثے کے نتیجے میں ہو ئی ہے اس کی تحقیق کر نے آئے ہو ں گے۔ میں نے شائید ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ حامد کی موت کنسٹرکشن سائیٹ پر یعنی جو بلڈنگ وہ بنارہے تھے اس کے چوتھے فلور سے گرنے کے بعد ہوئی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر دونوں پولیس والوں سے ہاتھ ملایا اور انہیں پوچھا ; “میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ؟۔ایک پولیس والے نے جو رنگ و نقوش سے دیسی لگ رہا تھا، مجھے کہنے لگا “کیا میں حامد ہوں۔۔ “میں نے اپنا نام بتایا۔۔ دوسرے پولیس والے نے آگے بڑھ کر سختی سے کہا؛” حامد کہا ں ہے ہم اسے گرفتار کر نے آئے ہیں۔۔”
” کیوں۔۔ “حیرت سے یہی ایک لفظ میرے منہ سے نکل سکا۔۔” یہ ہم اسے ہی بتائیں گے۔۔”
“وہ تو نہیں ہے۔ وہ تو مر گیا ہے۔۔”
اب چونکنے کی باری ان دو پولیس والوں کی تھی ;کب؟ کب مرا؟ “
“تین دن پہلے “میں بمشکل ہی بول سکا۔
“یہ کیسے ممکن ہے صدف نامی ایک عورت نے اس پر جنسی ہراسانی کا الزام لگاتے ہو ئے کل رات کا وقت لکھوایا ہے۔۔ “
“حامد تو تین دن پہلے۔۔۔۔اس کی موت کنسٹرکشن سائیٹ پر ہو ئی تھی۔۔کیا پولیس کے پاس انفارمیشن نہیں ہوتی؟ یہ تو اخبار میں بھی آیا تھا۔۔ “میں پولیس کی لاپرواہی اور لاعلمی پر سخت حیران تھا۔۔
“کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ سچ کہہ رہے ہیں۔۔ “
“بالکل۔۔ابھی میڈوول سیمٹری میوس روڈ برامپٹن،میں اس کی تدفین کر کے آرہے ہیں مگر کیا آپ نے یہ سوال صدف نامی خاتون سے بھی پوچھا تھا کہ وہ جو کہہ رہی ہے کیا اسے یقین ہے کہ وہ سچ بول رہی ہے؟ “اس کے ساتھ ہی میں نے حامد کی موت کی خبر جو مقامی اخبار میں چھپی تھی اور ویب سائیٹ پر بھی تھی، ان کے آگے کر دی، انہوں نے خجالت سے میرے فون پر نظر آنے والی خبر کو دیکھا۔ اب ان کے چہروں پر گھبراہٹ واضح نظر آرہی تھی۔
میں نے انہیں بتایا میں اس معاملے کو جانتا ہوں مگر پلیز حامد کی بیوی اس بات سے بالکل نا واقف ہے اس کی بجائے جو سوال کر نے ہیں مجھ سے کر لئے جائیں۔۔
اب ہم کیا سوال کریں ہم تو صدمے میں آگئے ہیں۔۔تین دن پہلے مر جانے والے انسان پر کل رات کی ہراسمنٹ کی رپورٹ کروائی گئی ہے”
پولیس والے بہت پریشان ہوچکے تھے۔
“اگر میں یہ کہوں کہ اس عورت کی اسی بلیک میلنگ کی وجہ سے میرے دوست کی جان گئی ہے تو کیا آپ اس عورت کو بھی اسی طرح گرفتار کر نے جائیں گے جیسے یہاں آئے ہیں ؟ “
“ہم پہلے تحقیقات کریں گے۔۔ “وہ دونوں مشینی انداز سے بولے۔
“تو یہی تحقیقات آپ لوگ اس وقت کیوں نہیں کرتے جب کوئی عورت ایسی ہراسمنٹ کا الزام کسی مرد پر لگاتی ہے۔۔ اس مرد کو تو اسی وقت گرفتار کر لیا جاتا ہے۔۔ وہ جہاں بھی ہو۔۔ چاہے قبر میں ہی کیوں نا جا پڑا ہو “۔ میں لاکھ ضبط کے باوجود اپنے اندر اتری تلخی کو زبان پر آنے سے نہیں روک پا رہا تھا۔
“مس صدف،مرد کی گالم گلوچ کی آڈیو کے ساتھ آئی تھیں۔۔۔ وہ فون کال پر گالیاں اور دھمکیاں دے رہا تھا۔۔ “پولیس والے کی آواز میں تھکاوٹ نمایاں ہو گئی تھی۔
“اور گالیوں کی نوبت تک لانے والی محترمہ آرام سے گالیاں ریکارڈ کر رہی تھی،اور اپنے اکسانے والے جملے نر م آواز میں ادا کر رہی تھی؟
کیا آپ لوگ کبھی ایسے بھی سوچتے ہیں کہ جو عورت ایسی ہراسانیوں کا شکار ہو رہی ہو کیا اس کے حواس اتنے قابو میں ہو تے ہیں کہ وہ ریکارڈ نگ کرتی جائے؟ “۔میں پو لیس کے سامنے یہ سب اس لئے کہنے کی ہمت کررہا تھا کہ حامد مر چکا تھا اور اس کی موت سے مجھے پولیس والوں کے سامنے بولنے کا حوصلہ ملا تھا۔
اُن دونوں نے میر ی اس بات کو بڑی ہشیاری سے نظر انداز کردیا۔ وہ مجھے پوچھنے لگے کہ کیا یہ عورت واقعی ہی آپ کے دوست کو بلیک میل کررہی تھی۔میں نے کہا ہاں۔۔ وہ بہت پریشان رہتا تھا۔۔ وہ اس سے جان چھڑاوانا چاہتا تھا۔۔ “
“اس بات سے کیا مطلب ہے؟ “
“اگر آپ کے پاس وقت ہے تو میں آپ کو اس کی موٹی موٹی تفصیلات بتا سکتا ہوں۔۔ “
“ضرور۔۔ “وہ دونوں حامد کی کہانی سننا چاہتے تھے۔۔
“میرا دوست، حامد چند سال پہلے یہاں ریفیوجی آیا تھا، اس کی بیوی پاکستان میں تھی۔۔ یہاں اسے کسی نے مشورہ دیا کہ یہاں کی کسی سیٹیزن لڑکی سے شادی کر لو تو ریفیوجی ویزہ ریفیوز بھی ہو جائے تو شادی کی صورت یہیں پکے ہوجاؤ گے۔۔ اس مشورے کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ویسے بھی یہاں کی تنہا زندگی سے گھبرا کر اس کی دوستی صدف سے ہو گئی تھی۔۔اور کچھ عرصے بعد دوستی جسمانی حدودبھی پار گئی۔ مجھے وہ بتاتا رہتا تھا۔ اسے صدف اچھی لگتی تھی۔ کھلی ڈُلی، زندگی کو بھر پور انداز میں گزارنے والی۔۔ ان دونوں کا وقت ایکدوسرے کی سنگت میں بہت بہت اچھا گزرنے لگا۔ حامد مجھے کہا کرتا تھا “صدف، میری آج تک کی ملنے والی محرومیوں کے بدلے اللہ کا انعام ہے”۔ میں اسے خوش دیکھ کر خوش ہوجاتا۔ اس وقت ہم دونوں ہی پاکستان میں بیٹھی اس کی بیوی کے بارے میں نہیں سوچتے تھے۔اس وقت مجھے وہ اس بچے کی طرح لگتا تھا جس نے بہت دنوں سے کھانا نہ کھایا ہو اور پھر ایک دن وہ تنگ آکر یہ سوچ لے کہ کوڑے میں سے بھی اٹھا کر کچھ کھایا جاسکتا ہے یا چوری کر کے کھانا بھی حلال ہے۔میں اس کو خوش دیکھ کر مطمئن ہوجاتا تھا کہ زندگی کی خوشیوں پر اس کا جو حق تھا آخر کار اسے ملنے لگا تھا۔
اسی دوران، اس کا ریفیوجی کیس بھی منظور ہو گیا اس لئے حامد کو اس شادی کی بھی خاص ضرورت نہ رہی مگر ان دونوں کی آپسی کشش میں کوئی کمی نہیں آئی۔۔ حامد اس عورت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا تفریحی ٹائم سمجھتا تھا۔ ایک دن جب وہ اپنی بیوی کو سپانسر کر کے کینیڈا بلا رہا تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ صدف کا کیا بنے گا؟اس نے کہا سعدیہ نجانے کب سے میرے انتظار میں سوکھ رہی ہے۔۔ ریفیوجی ہونے کی وجہ سے اس سے ملنے تک نہیں جا سکا مگر وہ، پوری وفا کے ساتھ میرے نام کے ساتھ بیٹھی رہی ہے۔۔ میں اس کی دل سے قدر کرتا ہوں اور محبت کرتا ہوں وہ میری شرعی بیوی ہے اس کا اپنا مقام ہے۔۔ “
“اور صدف کا اپنا؟ “میں نے اسے چھیڑتے ہو ئے کہا۔۔
“صدف کی کیا بات ہے۔۔ مگر وہ بلبلہ ہے۔۔ کبھی بھی بیٹھ سکتا ہے۔۔ ایسے تعلقات تو پہلے دن سے ہی اپنی وضاحت رکھتے ہیں۔۔بس دل لگی کے لئے ہو تے ہیں یہ اُسے بھی پتہ ہے۔۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ اپنی پہلی دو ناکام شادیوں کے بعد شادی وادی جیسے کسی بندھن کو مانتی ہی نہیں، وہ زندگی میں کسی بھی ذمہ داری سے گھبراتی ہے ۔بلکہ یار یہ سن کر میں پریشان رہتا تھا کہ اگر یہاں پکا ہونے کے لئے مجھے اس سے شادی کر نی پڑی تو کیا وہ میرا ساتھ دے گی۔شادی نہ کرنا۔۔اس کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔ ہاں سعدیہ کے یہاں آنے کے بعد وہ کیا کر ے گی۔۔پھر خود سے ہی جواب دینے لگا کچھ بھی نہیں کرے گی، وہ تو چیز ہی کچھ اور ہے، مست مست۔۔۔ “مجھے یہ سب سن کر حیرت تو ہوئی تھی مگر اس کے لہجے میں اتنا یقین تھا کہ مجھے اس کے یقین پر یقین آگیا تھا۔
پھر سعدیہ بھابی کینیڈا آگئیں۔۔ حامد کو گھر کا سکھ ملنے لگا۔۔ اب بھی صدف سے ملاقاتیں ضرور ہو تیں مگر حامد کی طرف سے ان کی شدت میں کمی آنے لگی۔۔ اور جب اللہ نے دو سالوں میں ہی دو بیٹوں سے نواز دیا تو حامد کو یقین ہو گیا کہ یہ سب سعدیہ کی نیکی اور وفا کا پھل ہے۔ اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ ایک مکمل گھر کا مزہ محسوس کیا تھا ۔۔ اب وہ غیر ارادی طور پر ہی صدف سے دور دور رہنے لگا۔۔ حامد کی بیوی کے آنے کے بعد، صدف یہ سوچ رہی تھی کہ حامد پر شروع میں کچھ دیر خمار رہے گا، پھر بیوی کے پرانے ہو تے ہی وہ پہلے والا اس کا وہی عاشق بن جائے گا جو اسے دنیا کی سیر کراتا، گھنٹوں گھماتا، باتیں کرتا، شاپنگ کرواتا، کھانے کھلاتا، ناز نخرے اٹھاتا تھا ۔۔ مہینے سالوں میں بدل گئے مگر حامد اس کی طرف واپس متوجہ ہونے کی بجائے اپنی بیوی اور بچوں میں زیادہ ہی مگن رہنے لگا۔۔ وہ مجھے کہتا میں اپنے بچوں کو دنیا کی ہر نعمت اور اپنا سارا پیار اور توجہ دینا چاہتا ہوں۔۔ میں اپنے بچپن کا کالا سایہ ان پرکبھی نہیں پڑنے دوں گا۔
حامد،دل کا صاف تھا اس نے جب یہ بات صاف گوئی سے صدف کو بتائی تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئی، اس دن ان کے درمیان پہلا بڑا جھگڑا ہوا۔۔ صدف کے اندر سے حسد ناکامی اور نفرت کی ایسی آگ نکلی کہ پل بھر میں ان کے سالوں کے رشتے کو جلا گئی۔ وہ یہ یقین کر نے کو تیار ہی نہیں تھی کہ جو شخص اس کے بغیر سانس بھی نہیں لیتا تھا اب اس کے ساتھ بیٹھ کر یہ کہہ رہا کہ اس تعلق سے اس کا سانس بند ہونے لگا ہے۔۔۔
غصے اور انتقام کی آگ نے صدف کو اندھا کردیا تھا۔۔ اس نے دن رات حامد کو تنگ کرنا شروع کردیا۔۔ حامد اس کے اس بدلے روپ کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔۔ ہنسنے مسکرانے اور زندگی کو ایک مذاق اور کھیل سمجھنے والی عورت اب اس پر دن رات چیخنے لگی تھی۔
ایک دن میں حامد کے ساتھ ہی بیٹھا تھا جب وہ فون پر اتنا چیخ رہی تھی کہ اس کی آواز فون سے باہر گر رہی تھی؛ “تم نے میری زندگی کے اتنے سال ضائع کر دئیے۔۔ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔۔ میں تمہاری بیوی کو سب بتاؤں گی۔۔ “
میں نے پولیس کو چند اور بنیادی باتیں بتائیں۔۔ انہیں بتایا کہ یہ بلیک میلنگ کا کیس ہے۔ حامد کی موت حادثاتی ضرور ہے مگر یہ قتل کے مترادف ہے۔۔ پولیس نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ وہ عدالت سے حامد کے فون کا فرانزک کروانے کی اجازت لے لیں گے اور اگر یہی معاملہ نکلا تو۔۔۔۔
میں نے جھٹ سے پوچھا؛ “تو کیا پھر صدف بھی چارج ہوگی؟ “
ان دونوں نے کندھے اچکائے اور چل دئیے۔۔
میں اندر آکر پھر اسی گھر میں، اسی خالی کمرے میں آکر بیٹھ گیا، جو، ابھی بھی لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔۔وہاں بیٹھے دوستوں نے پوچھا باہر کون تھا۔۔ میں نے کہاں بس کوئی ایسے ہی سروے کر نے والے تھے۔۔
میرے دماغ میں اسی دن کے فون والی گفتگو بج رہی تھی۔
حامد اس عورت کو سمجھا رہا تھا کہ؛ ” یہ بات تمہیں پتہ تھی۔۔میری بیوی ہے اور جب وہ یہاں آئی بچے بھی ہو گئے۔۔ میرا گھر بن گیا۔ تمہیں میں نے کبھی نہیں روکا، تم بھی شادی کر سکتی تھی اور تم نے مجھے تعلق کے شروع میں کہہ دیا تھا کہ ہم صرف ایک دوسرے کی تنہائی بانٹنے کیلئے ، صرف مزے کے لئے اکھٹے ہیں۔۔ اور یہ رشتہ کبھی بھی ختم ہو سکتا ہے۔۔کہا تھا یا نہیں؟”
وہ چلائی: “مگر میں نے ختم تو نہیں کیا نا۔۔ تم یکطرفہ کیسے فیصلہ کر سکتے ہو۔ تم بے ایمان دھوکے باز انسان ہو۔ کس مکاری سے مجھے اپنی تنہائی کا چارہ بنایا۔
پولیس والے بہت پریشان ہوچکے تھے۔
“اگر میں یہ کہوں کہ اس عورت کی اسی بلیک میلنگ کی وجہ سے میرے دوست کی جان گئی ہے تو کیا آپ اس عورت کو بھی اسی طرح گرفتار کر نے جائیں گے جیسے یہاں آئے ہیں ؟ “
“ہم پہلے تحقیقات کریں گے۔۔ “وہ دونوں مشینی انداز سے بولے۔
“تو یہی تحقیقات آپ لوگ اس وقت کیوں نہیں کرتے جب کوئی عورت ایسی ہراسمنٹ کا الزام کسی مرد پر لگاتی ہے۔۔ اس مرد کو تو اسی وقت گرفتار کر لیا جاتا ہے۔۔ وہ جہاں بھی ہو۔۔ چاہے قبر میں ہی کیوں نا جا پڑا ہو “۔ میں لاکھ ضبط کے باوجود اپنے اندر اتری تلخی کو زبان پر آنے سے نہیں روک پا رہا تھا۔
“مس صدف،مرد کی گالم گلوچ کی آڈیو کے ساتھ آئی تھیں۔۔۔ وہ فون کال پر گالیاں اور دھمکیاں دے رہا تھا۔۔ “پولیس والے کی آواز میں تھکاوٹ نمایاں ہو گئی تھی۔
“اور گالیوں کی نوبت تک لانے والی محترمہ آرام سے گالیاں ریکارڈ کر رہی تھی،اور اپنے اکسانے والے جملے نر م آواز میں ادا کر رہی تھی؟
کیا آپ لوگ کبھی ایسے بھی سوچتے ہیں کہ جو عورت ایسی ہراسانیوں کا شکار ہو رہی ہو کیا اس کے حواس اتنے قابو میں ہو تے ہیں کہ وہ ریکارڈ نگ کرتی جائے؟ “۔میں پو لیس کے سامنے یہ سب اس لئے کہنے کی ہمت کررہا تھا کہ حامد مر چکا تھا اور اس کی موت سے مجھے پولیس والوں کے سامنے بولنے کا حوصلہ ملا تھا۔
اُن دونوں نے میر ی اس بات کو بڑی ہشیاری سے نظر انداز کردیا۔ وہ مجھے پوچھنے لگے کہ کیا یہ عورت واقعی ہی آپ کے دوست کو بلیک میل کررہی تھی۔میں نے کہا ہاں۔۔ وہ بہت پریشان رہتا تھا۔۔ وہ اس سے جان چھڑاوانا چاہتا تھا۔۔ “
“اس بات سے کیا مطلب ہے؟ “
“اگر آپ کے پاس وقت ہے تو میں آپ کو اس کی موٹی موٹی تفصیلات بتا سکتا ہوں۔۔ “
“ضرور۔۔ “وہ دونوں حامد کی کہانی سننا چاہتے تھے۔۔
“میرا دوست، حامد چند سال پہلے یہاں ریفیوجی آیا تھا، اس کی بیوی پاکستان میں تھی۔۔ یہاں اسے کسی نے مشورہ دیا کہ یہاں کی کسی سیٹیزن لڑکی سے شادی کر لو تو ریفیوجی ویزہ ریفیوز بھی ہو جائے تو شادی کی صورت یہیں پکے ہوجاؤ گے۔۔ اس مشورے کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ویسے بھی یہاں کی تنہا زندگی سے گھبرا کر اس کی دوستی صدف سے ہو گئی تھی۔۔اور کچھ عرصے بعد دوستی جسمانی حدودبھی پار گئی۔ مجھے وہ بتاتا رہتا تھا۔ اسے صدف اچھی لگتی تھی۔ کھلی ڈُلی، زندگی کو بھر پور انداز میں گزارنے والی۔۔ ان دونوں کا وقت ایکدوسرے کی سنگت میں بہت بہت اچھا گزرنے لگا۔ حامد مجھے کہا کرتا تھا “صدف، میری آج تک کی ملنے والی محرومیوں کے بدلے اللہ کا انعام ہے”۔ میں اسے خوش دیکھ کر خوش ہوجاتا۔ اس وقت ہم دونوں ہی پاکستان میں بیٹھی اس کی بیوی کے بارے میں نہیں سوچتے تھے۔اس وقت مجھے وہ اس بچے کی طرح لگتا تھا جس نے بہت دنوں سے کھانا نہ کھایا ہو اور پھر ایک دن وہ تنگ آکر یہ سوچ لے کہ کوڑے میں سے بھی اٹھا کر کچھ کھایا جاسکتا ہے یا چوری کر کے کھانا بھی حلال ہے۔میں اس کو خوش دیکھ کر مطمئن ہوجاتا تھا کہ زندگی کی خوشیوں پر اس کا جو حق تھا آخر کار اسے ملنے لگا تھا۔
اسی دوران، اس کا ریفیوجی کیس بھی منظور ہو گیا اس لئے حامد کو اس شادی کی بھی خاص ضرورت نہ رہی مگر ان دونوں کی آپسی کشش میں کوئی کمی نہیں آئی۔۔ حامد اس عورت کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا تفریحی ٹائم سمجھتا تھا۔ ایک دن جب وہ اپنی بیوی کو سپانسر کر کے کینیڈا بلا رہا تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ صدف کا کیا بنے گا؟اس نے کہا سعدیہ نجانے کب سے میرے انتظار میں سوکھ رہی ہے۔۔ ریفیوجی ہونے کی وجہ سے اس سے ملنے تک نہیں جا سکا مگر وہ، پوری وفا کے ساتھ میرے نام کے ساتھ بیٹھی رہی ہے۔۔ میں اس کی دل سے قدر کرتا ہوں اور محبت کرتا ہوں وہ میری شرعی بیوی ہے اس کا اپنا مقام ہے۔۔ “
“اور صدف کا اپنا؟ “میں نے اسے چھیڑتے ہو ئے کہا۔۔
“صدف کی کیا بات ہے۔۔ مگر وہ بلبلہ ہے۔۔ کبھی بھی بیٹھ سکتا ہے۔۔ ایسے تعلقات تو پہلے دن سے ہی اپنی وضاحت رکھتے ہیں۔۔بس دل لگی کے لئے ہو تے ہیں یہ اُسے بھی پتہ ہے۔۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ اپنی پہلی دو ناکام شادیوں کے بعد شادی وادی جیسے کسی بندھن کو مانتی ہی نہیں، وہ زندگی میں کسی بھی ذمہ داری سے گھبراتی ہے ۔بلکہ یار یہ سن کر میں پریشان رہتا تھا کہ اگر یہاں پکا ہونے کے لئے مجھے اس سے شادی کر نی پڑی تو کیا وہ میرا ساتھ دے گی۔شادی نہ کرنا۔۔اس کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔ ہاں سعدیہ کے یہاں آنے کے بعد وہ کیا کر ے گی۔۔پھر خود سے ہی جواب دینے لگا کچھ بھی نہیں کرے گی، وہ تو چیز ہی کچھ اور ہے، مست مست۔۔۔ “مجھے یہ سب سن کر حیرت تو ہوئی تھی مگر اس کے لہجے میں اتنا یقین تھا کہ مجھے اس کے یقین پر یقین آگیا تھا۔
پھر سعدیہ بھابی کینیڈا آگئیں۔۔ حامد کو گھر کا سکھ ملنے لگا۔۔ اب بھی صدف سے ملاقاتیں ضرور ہو تیں مگر حامد کی طرف سے ان کی شدت میں کمی آنے لگی۔۔ اور جب اللہ نے دو سالوں میں ہی دو بیٹوں سے نواز دیا تو حامد کو یقین ہو گیا کہ یہ سب سعدیہ کی نیکی اور وفا کا پھل ہے۔ اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ ایک مکمل گھر کا مزہ محسوس کیا تھا ۔۔ اب وہ غیر ارادی طور پر ہی صدف سے دور دور رہنے لگا۔۔ حامد کی بیوی کے آنے کے بعد، صدف یہ سوچ رہی تھی کہ حامد پر شروع میں کچھ دیر خمار رہے گا، پھر بیوی کے پرانے ہو تے ہی وہ پہلے والا اس کا وہی عاشق بن جائے گا جو اسے دنیا کی سیر کراتا، گھنٹوں گھماتا، باتیں کرتا، شاپنگ کرواتا، کھانے کھلاتا، ناز نخرے اٹھاتا تھا ۔۔ مہینے سالوں میں بدل گئے مگر حامد اس کی طرف واپس متوجہ ہونے کی بجائے اپنی بیوی اور بچوں میں زیادہ ہی مگن رہنے لگا۔۔ وہ مجھے کہتا میں اپنے بچوں کو دنیا کی ہر نعمت اور اپنا سارا پیار اور توجہ دینا چاہتا ہوں۔۔ میں اپنے بچپن کا کالا سایہ ان پرکبھی نہیں پڑنے دوں گا۔
حامد،دل کا صاف تھا اس نے جب یہ بات صاف گوئی سے صدف کو بتائی تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئی، اس دن ان کے درمیان پہلا بڑا جھگڑا ہوا۔۔ صدف کے اندر سے حسد ناکامی اور نفرت کی ایسی آگ نکلی کہ پل بھر میں ان کے سالوں کے رشتے کو جلا گئی۔ وہ یہ یقین کر نے کو تیار ہی نہیں تھی کہ جو شخص اس کے بغیر سانس بھی نہیں لیتا تھا اب اس کے ساتھ بیٹھ کر یہ کہہ رہا کہ اس تعلق سے اس کا سانس بند ہونے لگا ہے۔۔۔
غصے اور انتقام کی آگ نے صدف کو اندھا کردیا تھا۔۔ اس نے دن رات حامد کو تنگ کرنا شروع کردیا۔۔ حامد اس کے اس بدلے روپ کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔۔ ہنسنے مسکرانے اور زندگی کو ایک مذاق اور کھیل سمجھنے والی عورت اب اس پر دن رات چیخنے لگی تھی۔
ایک دن میں حامد کے ساتھ ہی بیٹھا تھا جب وہ فون پر اتنا چیخ رہی تھی کہ اس کی آواز فون سے باہر گر رہی تھی؛ “تم نے میری زندگی کے اتنے سال ضائع کر دئیے۔۔ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔۔ میں تمہاری بیوی کو سب بتاؤں گی۔۔ “
میں نے پولیس کو چند اور بنیادی باتیں بتائیں۔۔ انہیں بتایا کہ یہ بلیک میلنگ کا کیس ہے۔ حامد کی موت حادثاتی ضرور ہے مگر یہ قتل کے مترادف ہے۔۔ پولیس نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ وہ عدالت سے حامد کے فون کا فرانزک کروانے کی اجازت لے لیں گے اور اگر یہی معاملہ نکلا تو۔۔۔۔
میں نے جھٹ سے پوچھا؛ “تو کیا پھر صدف بھی چارج ہوگی؟ “
ان دونوں نے کندھے اچکائے اور چل دئیے۔۔
میں اندر آکر پھر اسی گھر میں، اسی خالی کمرے میں آکر بیٹھ گیا، جو، ابھی بھی لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔۔وہاں بیٹھے دوستوں نے پوچھا باہر کون تھا۔۔ میں نے کہاں بس کوئی ایسے ہی سروے کر نے والے تھے۔۔
میرے دماغ میں اسی دن کے فون والی گفتگو بج رہی تھی۔
حامد اس عورت کو سمجھا رہا تھا کہ؛ ” یہ بات تمہیں پتہ تھی۔۔میری بیوی ہے اور جب وہ یہاں آئی بچے بھی ہو گئے۔۔ میرا گھر بن گیا۔ تمہیں میں نے کبھی نہیں روکا، تم بھی شادی کر سکتی تھی اور تم نے مجھے تعلق کے شروع میں کہہ دیا تھا کہ ہم صرف ایک دوسرے کی تنہائی بانٹنے کیلئے ، صرف مزے کے لئے اکھٹے ہیں۔۔ اور یہ رشتہ کبھی بھی ختم ہو سکتا ہے۔۔کہا تھا یا نہیں؟”
وہ چلائی: “مگر میں نے ختم تو نہیں کیا نا۔۔ تم یکطرفہ کیسے فیصلہ کر سکتے ہو۔ تم بے ایمان دھوکے باز انسان ہو۔ کس مکاری سے مجھے اپنی تنہائی کا چارہ بنایا۔
“تو تمہیں مسئلہ صرف یہ ہو رہا ہے کہ میں ختم کرنا چاہتا ہوں۔۔یعنی اگر تم ختم کر دیتی تو تب خیر تھی؟ “وہ کسی میمنے کی طرح منمنا رہا تھا اور مجھے اس کے انداز میں ایسی لجاجت اور بے بسی کبھی بھی پسند نہیں آتی تھی۔۔
“میں تمہیں مزا چکھاؤں گی۔۔ تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا تھا۔۔کیا میں تمہارا کھلونا تھی؟ نیا آیا تو پرانا ڈسکارڈ کر دو گے؟ اتنے تم مغل شہزادے کہیں کے۔۔”
یہ سب تو وہ تھا جو میں نے اپنے کانوں سے سنا۔۔ میں نے اسے اس عورت سے دور رہنے کے مشورے دئیے میں نے اسے پوچھا؛ “تم تو کہتے تھے بڑی کھلے دل کی روشن خیالات والی عورت ہے یہ تو بڑی جنونی سی عورت لگ رہی ہے۔۔ “اس دن وہ اتنا پریشان تھا کہ مجھے بچپن والا حامد یاد آگیا وہی پرانی بچارگی اس کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔ اتنے سالوں کا سفر یونہی ایک غلط فیصلے سے بر باد ہو رہا تھا۔۔
اس کے بعد ہماری بہت دن تک ملاقات نہ ہوسکی تھی۔کئی دنوں بعد ملا تو میں اسے پہچان ہی نہیں پایا، بکھرے بال، وہ،چہرہ جو کینیڈا آنے کے بعد سے ہمیشہ کھلا کھلا رہتا تھا، اب کئی سالوں پیچھے کا سفر طے کر چکا تھا۔ اس کا وزن ناقابل یقین حد تک گر چکا تھااور اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تھے۔۔
“یہ تمہارا چہرہ کیوں ایسے کملایا ہوا ہے”
“اس سائیکو نے میری زندگی تباہ کر کے رکھ دی ہے۔۔۔ “
“ہیں۔۔ تو کیا اسے ابھی تک چمٹایا ہوا ہے؟ “
“میں تو جب سے سعدیہ،یہاں آئی ہے اس دن سے اس سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مگر اب کمبل میری جان نہیں چھوڑ رہا ہے۔۔اب تو وہ بلیک میلنگ پر اتر آئی ہے کبھی کہتی ہے خود کشی کر لوں گی اور نوٹ میں تمہارا لکھ کے جاوں گی،کورٹ کچہری بھگتتے رہنا کبھی اپنی اور میری ذاتی تصویریں سوشل میڈیا پر لگانے اور میرے ملنے جلنے والوں اور بیوی کو ٹیگ کر نے کی دھمکی دیتی ہے ۔۔ “
“اس کو اپنی بدنامی کا ڈر نہیں؟ “میں نے حیرت اور خوف سے پوچھا۔
“پتہ نہیں، کسی چیز کا ڈر نہیں اسے۔کوئی آگے پیچھے نہیں اس کا۔۔ ڈر کس کا ہوگا۔ یہاں کا نظام تو اسے سپورٹ کرے گا۔ سچ غلط جو بولے گی، اسی کو مظلوم سمجھے گا۔۔ میں تو مارا گیا یار۔۔مجھے بتاؤ اب میں اس سب سے کیسے باعزت طریقے سے نکلوں؟”
“تم بیوی کو پہلے سے ہی اعتماد میں لے لو۔۔ “میں یہ سن کر سکتے میں آگیا تھا ۔۔ بچارا بہت بڑی مصیبت میں پھنس چکا تھا۔ اس کے آگے کنواں پیچھے کھائی تھی۔۔ ہمارے کئی جاننے والے نہ جانے کیا کیا گناہ کرتے پھر رہے تھے اس غریب کے گلے میں ایک وقتی تفریخ ہی پھندا بن چکی تھی۔ہوسکتا ہے یہ بہت بڑا گناہ ہو۔ میں اس پوزیشن میں بھی نہیں تھا کہ یہ فیصلہ کر سکوں کہ وہ غلط تھا یا وہ عورت۔ ہوسکتا ہے صدف مظلوم ہو۔۔مگر اس وقت وہ جس حالت میں تھا کم از کم وہ ظالم نہیں تھا۔۔ میں نے سوچا ہوسکتا ہے دوونں ہی حالات کا شکار مظلوم ہیں۔۔ مگر میں اپنے دل میں اس عورت کے لئے پھر بھی کوئی ہمدردی محسوس نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو میری دوستی کا تعصب اور دوسرا مجھے حامد کی معصوم بیوی اور کم سن بچوں کا خیال آتا تو اس گھر کا سکون بر باد کر نے والی عورت ولن ہی لگتی۔۔ بے شک اس کو ولن بنانے والا حامد خود ہی کیوں نہ ہو۔۔
“سعدیہ بہت معصوم ہے وہ بکھر جائے گی۔ اس نے زندگی میں بہت تکلیفیں دیکھی ہیں۔۔ میں اپنے گناہ کی سزا اسے نہیں دینا چاہتا ہوں۔۔”
“یہ بدذات عورت کہتی کیا ہے۔۔”میں نے اسے سنبھالا دیتے ہوئے پوچھا۔
“کہتی ہے اپنی بیوی کو طلاق دو اور مجھ سے شادی کرو، ورنہ میں سب کچھ بر باد کر دوں گی۔۔ “
“کیا ہی کر لے گی۔۔؟ “
“اس نے بہت سی پرائیوٹ لمحات کی تصویریں اور ویڈیوز بنا رکھی ہیں۔۔ان کو سوشل میڈیا پر ڈالنے سے اس کا تو کچھ نہیں جائے گا۔”
“کیوں نہیں جائے گا؟ میں نے حیرانی سے پوچھا۔۔ کیا دنیا میں آگے پیچھے کوئی نہ ہو تو عورتوں کو اپنی عزت کی کوئی پرواہ نہیں رہ جاتی ہے؟۔ “
شائید یہی ہوتا ہے ۔۔اس کے پاس کھونے کے لئے نہ کوئی خاندان ہے نہ دولت عزت۔۔ سب کچھ میرا داؤ پر لگا ہوا ہے۔۔ جس مسجد کی چیرٹی میں میں والنٹئیر کرتا ہوں، کہہ رہی تھی وہاں بھی میرا تماشا لگا دے گی۔۔۔۔میرے سارے کولیگز، دوستوں کو فیس بک پر پہلے ہی اپنے ساتھ ایڈ کر چکی ہے۔۔ سو سجن سو دشمن، دو چار بھی ہلہ شیری دینے والے مل گئے تو یہ کم عقل عورت میرے ساتھ ساتھ اپنی عزت کا تماشہ بھی بنادے گی۔۔ “
“میری دادی سچ ہی کہا کرتی تھیں عورت بے شرم ہوجائے تو بڑے بڑے غنڈوں سے زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔یار پیسے ویسے دے کے منہ بند کروا دو۔۔ اب میں اس کے لئے بہت زیادہ فکر مند ہو چکا تھا۔ معا ملہ بہت سنگین ہو چکا تھا۔
حامد یہ سن کر کچھ سوچنے لگا؛ ” میرا نہیں خیال کہ وہ,یہ سب کچھ پیسوں کے لئے کر رہی ہے۔ وہ بس مجھ سے محبت میں پڑ گئی ہے اور کسی بھی طرح مجھے مکمل طور پر اپنانا چاہتی ہے۔ میرے بیوی بچوں سے حسد کرتی ہے۔میرے معاملے میں وہ بہت خبطی ہوگئی ہے۔۔ “
“یہ تمہاری اپنی انٹرپرٹیشین ہے ورنہ مجھے یہ سب سن کر بالکل نہیں لگ رہا کہ اسے محبت کہتے ہیں۔۔ وہ تو تمہیں اذیت دے رہی ہے اپنا حال تو دیکھو ذرا۔۔۔ محبت۔ یہ حال کرتی ہے۔۔؟بات اتنی سی ہے کہ اس کے ہاتھ سے ایک ناز اٹھانے والا احمق نکل گیا ہے۔اس کی انا کو ٹھیس لگی ہے اور کچھ نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہارا قصور نہیں ہے۔ اس معاملے میں سارا قصور تمہارا ہی ہے۔ مگر میں اس وقت تمہیں صرف سپورٹ کرنا چاہتا ہوں تاکہ تم اپنے بیوی بچوں کے لئے صحتمند رہو، تمہاری بیوی بھی ایک عورت ہے جسے تمہارے کئے کی سزا نہیں ملنی چاہیئے “
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔”۔ وہ بے چارگی سے بولا۔یہ سن کر مجھے لگا وہ صدف کے اس بازاری پن کو محبت کا نام دے کر راہ فرار اختیار کرنا چاہتا ہے تو میں کون ہوتا ہوں اسے حقیقت کی پتھریلی پر خار زمین پر لا پٹکوں۔۔ میں نے بھی اسے اس کے حال پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ خود ہی اس مسئلے سے باعزت طور پر نکل آئے۔۔ میں نے دل میں دعا کی کہ” یاللہ اس کی بیوی کی قربانیوں کے صدقے، اس کے معصوم بچوں کے واسطے اس کے تمام گناہ، غلطیاں معاف کردے اور اسے اس مصیبت سے نجات دلا دے۔۔ “
میری دعا یوں سنے جائے گی اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔۔ہم،زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے ساری عمر لگا دیتے ہیں۔اپنی تھکاوٹ اتارنے کو جو ایک پل رکتے ہیں تو تبھی اگر کچھ بھول چوک ہوجائے تو کبھی کبھار یا چند لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ان کاطے کیا ہوا تمام عمر کا سفر رائیگاں چلا جاتا ہے۔ میں یہ سب سوچ رہا تھا کہ ساتھ بیٹھے ہوئے دوست جس کی گود میں اب حامد کا چھوٹا بیٹا کھیل رہا تھا بولا،؛”دیکھو اس بچے کی آنکھیں ہو بہو حامد جیسی ہیں۔۔ خواب دیکھتی ہو ئی سوتے میں بھی جاگنے والی آنکھیں۔۔۔۔ “
میں نے اس کے چھوٹے بیٹے کی آنکھوں کو غور سے دیکھا، اس میں مجھے حامد کا عکس نظر آیا جو چاروں طرف دیکھ رہا تھا اور مجھ سے کہہ رہا تھا؛ “میں لاکھ کوششوں کے باوجود اپنے بیوی بچوں کو اس زہریلی عورت کے ڈسنے سے نہیں بچا سکا۔۔ وہ مجھے ڈس گئی۔ ۔۔”
“ذرا باہر آئیں آپ کو ایک بات بتانی ہے “، سامنے بیٹھے ہو ئے حامد کے ایک کولیگ نے مجھے مخاطب کیا تو میں بری طرح چونک گیا۔کچھ دیر مجھے ہوش کی دنیا میں آنے میں لگے اور پھر میں خاموشی سے اٹھ کر اس کولیگ کے ساتھ باہر آگیا؛
“آپ کے بارے میں میں نے حامد سے بہت مرتبہ سنا تھا۔آپ ا س کے بچپن کے دوست اور اب تک کے بہترین فیملی فرینڈ بلکہ فیملی ہی ہیں اس لئے میں نے سوچا یہ بات آپ کو بتانی چاہیئے معاملہ ہی ایسا تھا۔۔آپ کوصدف کا پتہ ہوگا۔۔ میں نے نفرت سے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ وہ بہت بڑی بلیک میلر عورت تھی۔۔ اس نے حامد کو اتنا زچ کر رکھا تھا کہ اس کی بھوک تک ختم ہو چکی تھی۔ وہ ڈپریشن کا مر یض بن گیا تھا۔۔ آخری دن جو آخری کال اس نے سنی یا یوں کہیئے جس سے آخری مرتبہ بات کی وہ وہی خبیث عورت تھی۔۔ وہ میرے ساتھ ہی کھڑا تھا۔۔ جب اس کا سیل فون بجا، کاش میں اس کو کوئی کام بتا دیتا وہ اس میں لگ جاتا اور وہ فون نہ اٹھاتا، مگر شائید تب بھی اٹھا لیتا۔۔ فون سکرین پر اس عورت کی نام کے ساتھ تصویر ابھرتے ہی اس کا رنگ فق ہوگیا۔۔ وہ بات کر نے کے لئے مجھ سے دور ہٹتا گیا۔۔ دو چار اور وہ بھی ورکرز تھے مگر ان میں سے اردو سمجھنے والا بس میں ہی تھا۔۔ اپنے تئیں وہ مجھ سے کافی فاصلے پر چلا گیا تھا مگر شائید دوسری طرف والی بات سنتے سنتے وہ اتنی کمزوری محسوس کر نے لگ گیا تھا کہ اس سے مذید چلنا تو دور کی بات، سیدھا کھڑا ہونا مشکل لگ رہا تھا۔
مجھے محسوس ہورہا تھا کہ میں اس کی پرائیویسی کا خیال نہ کر کے ایک غیر اخلاقی حرکت کررہا ہوں مگر اس کی حالت دیکھ کر میں خود کو اس کی باتیں سننے پر مجبور پا رہا تھا ، اس کی آواز میرے کانوں میں صاف آرہی تھی۔۔” تیس لاکھ؟ نہ دوں تو کیا کر لو گی۔۔ بلا لو پولیس کو، کرا دو کیس کیا
کہو گی۔۔ ہراسمنٹ؟ کس نے؟ میں نے؟ کس کی؟ تمہاری۔۔ تم میرے ساتھ عیش کرتی رہی ہو۔۔ اب ہراسمنٹ کیس کرواو گی؟۔۔ ہراس تو تم مجھے کررہی ہو۔۔شادی بھی نہیں کرو ں گا۔۔ تم جیسی ناگن سے شادی؟۔۔ وہ چیخ چیخ کر بول رہا تھا ساتھ گالیاں دے رہا تھا جو میں نے اس سے پہلے کبھی اس کے منہ سے نہیں سنی تھیں۔اسے اردگرد کسی کی پرواہ نہیں رہ گئی تھی۔وہ جال میں بری طرح جکڑا ہوا پرندہ لگ رہا تھا، جو آزاد ہو نے کے لئے پورے زور سے پھڑپھڑا رہا تھا ۔ میں نے اس دن ہر صورتحال کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے حامد کو مکمل طور پر شکست خوردہ دیکھا،۔۔ میں اس کی طرف جانے لگا لیکن اسی لمحے، شائید کوئی چیز اس کے پیر کے نیچے آگئی، وہ لڑکھڑایا، اور پھر سنبھل نہ سکا اور گرتا چلا گیا۔۔ میں اس کی طرف بھاگا مگر میرے پہنچنے سے پہلے ہی وہ گر چکا تھا۔۔میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے حواسوں میں ہو تا تو شائید ساتھ پڑی پچیس سو چیزوں میں سے کسی ایک کا سہارا لے سکتا تھا لیکن وہ تو غصے میں ہو ش کھو بیٹھا تھا۔”کہانی سناتے سناتے وہ رک کر میرے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیتے ہو ئے بولا؛ آپ تو اس سارے قصے کو جانتے ہی ہو ں گے۔” میں نے ہلکے سے سر ہلا تے ہو ئے کہا؛ “کاش ہم اسے، اس حرافہ عورت کے چکر سے بچا سکتے۔۔ “
“جیتے جی تو شائید یہ ممکن نہ ہوتا۔۔ پر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد میری طرف دیکھ کر بولا؛ نظر کا لگنا شائید اسی کو کہتے ہیں؟ آپ کسی بد نظر والے کو خود بڑے اہتمام سے اپنی زندگی میں شامل کر لیتے ہیں “
میں نے اسے پولیس والوں کے متعلق بتایا۔۔
اس نے گھبرا کر میری طرف دیکھا اور جوش سے بولا ؛ “دیکھا اگر وہ زندہ ہوتا تو پولیس ہتھکڑی ڈال کر لے جاتی، بیوی بچوں کے سامنے اس کی کیسی ذلت ہوتی، جیل میں ایک رات بھی کاٹتا تو اپنے آپ سے بھروسہ اٹھ جاتا، اپنے وجود سے نفرت ہو جاتی ۔۔اگر وہ خود، اپنی زندگی میں یہ کہانی پولیس کو بتاتا تو کیا وہ اس پر یقین کرتی؟ کبھی نہیں اس کو یہ ساری ذلت برداشت کر نا پڑتی عدالت کا فیصلہ آتے آتے اس کا پیسہ، اس کی عزت سب خاک ہوجاتے۔ اس عورت کی جیب سے ایک کوائن نہ نکلتا۔۔ اسے یہاں کا سسٹم کہتا ہے، لو پیسے اور پل پڑو۔۔ “غصے اور بے بسی سے اس کولیگ کی آنکھیں باہر کو ابلنے لگی تھیں۔
میں نے کہا” ایسا ہی ہے، اب میں نے پولیس سے بس ایک دفعہ بلیک میلنگ کا کہا اور انہوں نے فورا مان لیا بالکل اس طرح جس طرح ایک عورت جا کر ہراسمنٹ کا الزام کسی بھی مرد پر لگا دے پولیس فورا مان جاتی ہے۔۔۔”
“زندہ مرد پر۔۔۔” حامد کے ساتھی نے آہستہ سے کہا۔۔ اس کی آنکھوں میں بچارگی اور بے بسی کے آنسو امڈ آئے۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنے آنسوؤں کو گرنے سے بمشکل روکا کہ مرد کہاں ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے ہیں یہ تو عورتوں کا کام ہے جنہیں کمزور کہا جاتا ہے۔
“میں تمہیں مزا چکھاؤں گی۔۔ تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا تھا۔۔کیا میں تمہارا کھلونا تھی؟ نیا آیا تو پرانا ڈسکارڈ کر دو گے؟ اتنے تم مغل شہزادے کہیں کے۔۔”
یہ سب تو وہ تھا جو میں نے اپنے کانوں سے سنا۔۔ میں نے اسے اس عورت سے دور رہنے کے مشورے دئیے میں نے اسے پوچھا؛ “تم تو کہتے تھے بڑی کھلے دل کی روشن خیالات والی عورت ہے یہ تو بڑی جنونی سی عورت لگ رہی ہے۔۔ “اس دن وہ اتنا پریشان تھا کہ مجھے بچپن والا حامد یاد آگیا وہی پرانی بچارگی اس کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔ اتنے سالوں کا سفر یونہی ایک غلط فیصلے سے بر باد ہو رہا تھا۔۔
اس کے بعد ہماری بہت دن تک ملاقات نہ ہوسکی تھی۔کئی دنوں بعد ملا تو میں اسے پہچان ہی نہیں پایا، بکھرے بال، وہ،چہرہ جو کینیڈا آنے کے بعد سے ہمیشہ کھلا کھلا رہتا تھا، اب کئی سالوں پیچھے کا سفر طے کر چکا تھا۔ اس کا وزن ناقابل یقین حد تک گر چکا تھااور اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تھے۔۔
“یہ تمہارا چہرہ کیوں ایسے کملایا ہوا ہے”
“اس سائیکو نے میری زندگی تباہ کر کے رکھ دی ہے۔۔۔ “
“ہیں۔۔ تو کیا اسے ابھی تک چمٹایا ہوا ہے؟ “
“میں تو جب سے سعدیہ،یہاں آئی ہے اس دن سے اس سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مگر اب کمبل میری جان نہیں چھوڑ رہا ہے۔۔اب تو وہ بلیک میلنگ پر اتر آئی ہے کبھی کہتی ہے خود کشی کر لوں گی اور نوٹ میں تمہارا لکھ کے جاوں گی،کورٹ کچہری بھگتتے رہنا کبھی اپنی اور میری ذاتی تصویریں سوشل میڈیا پر لگانے اور میرے ملنے جلنے والوں اور بیوی کو ٹیگ کر نے کی دھمکی دیتی ہے ۔۔ “
“اس کو اپنی بدنامی کا ڈر نہیں؟ “میں نے حیرت اور خوف سے پوچھا۔
“پتہ نہیں، کسی چیز کا ڈر نہیں اسے۔کوئی آگے پیچھے نہیں اس کا۔۔ ڈر کس کا ہوگا۔ یہاں کا نظام تو اسے سپورٹ کرے گا۔ سچ غلط جو بولے گی، اسی کو مظلوم سمجھے گا۔۔ میں تو مارا گیا یار۔۔مجھے بتاؤ اب میں اس سب سے کیسے باعزت طریقے سے نکلوں؟”
“تم بیوی کو پہلے سے ہی اعتماد میں لے لو۔۔ “میں یہ سن کر سکتے میں آگیا تھا ۔۔ بچارا بہت بڑی مصیبت میں پھنس چکا تھا۔ اس کے آگے کنواں پیچھے کھائی تھی۔۔ ہمارے کئی جاننے والے نہ جانے کیا کیا گناہ کرتے پھر رہے تھے اس غریب کے گلے میں ایک وقتی تفریخ ہی پھندا بن چکی تھی۔ہوسکتا ہے یہ بہت بڑا گناہ ہو۔ میں اس پوزیشن میں بھی نہیں تھا کہ یہ فیصلہ کر سکوں کہ وہ غلط تھا یا وہ عورت۔ ہوسکتا ہے صدف مظلوم ہو۔۔مگر اس وقت وہ جس حالت میں تھا کم از کم وہ ظالم نہیں تھا۔۔ میں نے سوچا ہوسکتا ہے دوونں ہی حالات کا شکار مظلوم ہیں۔۔ مگر میں اپنے دل میں اس عورت کے لئے پھر بھی کوئی ہمدردی محسوس نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو میری دوستی کا تعصب اور دوسرا مجھے حامد کی معصوم بیوی اور کم سن بچوں کا خیال آتا تو اس گھر کا سکون بر باد کر نے والی عورت ولن ہی لگتی۔۔ بے شک اس کو ولن بنانے والا حامد خود ہی کیوں نہ ہو۔۔
“سعدیہ بہت معصوم ہے وہ بکھر جائے گی۔ اس نے زندگی میں بہت تکلیفیں دیکھی ہیں۔۔ میں اپنے گناہ کی سزا اسے نہیں دینا چاہتا ہوں۔۔”
“یہ بدذات عورت کہتی کیا ہے۔۔”میں نے اسے سنبھالا دیتے ہوئے پوچھا۔
“کہتی ہے اپنی بیوی کو طلاق دو اور مجھ سے شادی کرو، ورنہ میں سب کچھ بر باد کر دوں گی۔۔ “
“کیا ہی کر لے گی۔۔؟ “
“اس نے بہت سی پرائیوٹ لمحات کی تصویریں اور ویڈیوز بنا رکھی ہیں۔۔ان کو سوشل میڈیا پر ڈالنے سے اس کا تو کچھ نہیں جائے گا۔”
“کیوں نہیں جائے گا؟ میں نے حیرانی سے پوچھا۔۔ کیا دنیا میں آگے پیچھے کوئی نہ ہو تو عورتوں کو اپنی عزت کی کوئی پرواہ نہیں رہ جاتی ہے؟۔ “
شائید یہی ہوتا ہے ۔۔اس کے پاس کھونے کے لئے نہ کوئی خاندان ہے نہ دولت عزت۔۔ سب کچھ میرا داؤ پر لگا ہوا ہے۔۔ جس مسجد کی چیرٹی میں میں والنٹئیر کرتا ہوں، کہہ رہی تھی وہاں بھی میرا تماشا لگا دے گی۔۔۔۔میرے سارے کولیگز، دوستوں کو فیس بک پر پہلے ہی اپنے ساتھ ایڈ کر چکی ہے۔۔ سو سجن سو دشمن، دو چار بھی ہلہ شیری دینے والے مل گئے تو یہ کم عقل عورت میرے ساتھ ساتھ اپنی عزت کا تماشہ بھی بنادے گی۔۔ “
“میری دادی سچ ہی کہا کرتی تھیں عورت بے شرم ہوجائے تو بڑے بڑے غنڈوں سے زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔یار پیسے ویسے دے کے منہ بند کروا دو۔۔ اب میں اس کے لئے بہت زیادہ فکر مند ہو چکا تھا۔ معا ملہ بہت سنگین ہو چکا تھا۔
حامد یہ سن کر کچھ سوچنے لگا؛ ” میرا نہیں خیال کہ وہ,یہ سب کچھ پیسوں کے لئے کر رہی ہے۔ وہ بس مجھ سے محبت میں پڑ گئی ہے اور کسی بھی طرح مجھے مکمل طور پر اپنانا چاہتی ہے۔ میرے بیوی بچوں سے حسد کرتی ہے۔میرے معاملے میں وہ بہت خبطی ہوگئی ہے۔۔ “
“یہ تمہاری اپنی انٹرپرٹیشین ہے ورنہ مجھے یہ سب سن کر بالکل نہیں لگ رہا کہ اسے محبت کہتے ہیں۔۔ وہ تو تمہیں اذیت دے رہی ہے اپنا حال تو دیکھو ذرا۔۔۔ محبت۔ یہ حال کرتی ہے۔۔؟بات اتنی سی ہے کہ اس کے ہاتھ سے ایک ناز اٹھانے والا احمق نکل گیا ہے۔اس کی انا کو ٹھیس لگی ہے اور کچھ نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہارا قصور نہیں ہے۔ اس معاملے میں سارا قصور تمہارا ہی ہے۔ مگر میں اس وقت تمہیں صرف سپورٹ کرنا چاہتا ہوں تاکہ تم اپنے بیوی بچوں کے لئے صحتمند رہو، تمہاری بیوی بھی ایک عورت ہے جسے تمہارے کئے کی سزا نہیں ملنی چاہیئے “
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔”۔ وہ بے چارگی سے بولا۔یہ سن کر مجھے لگا وہ صدف کے اس بازاری پن کو محبت کا نام دے کر راہ فرار اختیار کرنا چاہتا ہے تو میں کون ہوتا ہوں اسے حقیقت کی پتھریلی پر خار زمین پر لا پٹکوں۔۔ میں نے بھی اسے اس کے حال پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ خود ہی اس مسئلے سے باعزت طور پر نکل آئے۔۔ میں نے دل میں دعا کی کہ” یاللہ اس کی بیوی کی قربانیوں کے صدقے، اس کے معصوم بچوں کے واسطے اس کے تمام گناہ، غلطیاں معاف کردے اور اسے اس مصیبت سے نجات دلا دے۔۔ “
میری دعا یوں سنے جائے گی اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔۔ہم،زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے ساری عمر لگا دیتے ہیں۔اپنی تھکاوٹ اتارنے کو جو ایک پل رکتے ہیں تو تبھی اگر کچھ بھول چوک ہوجائے تو کبھی کبھار یا چند لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ان کاطے کیا ہوا تمام عمر کا سفر رائیگاں چلا جاتا ہے۔ میں یہ سب سوچ رہا تھا کہ ساتھ بیٹھے ہوئے دوست جس کی گود میں اب حامد کا چھوٹا بیٹا کھیل رہا تھا بولا،؛”دیکھو اس بچے کی آنکھیں ہو بہو حامد جیسی ہیں۔۔ خواب دیکھتی ہو ئی سوتے میں بھی جاگنے والی آنکھیں۔۔۔۔ “
میں نے اس کے چھوٹے بیٹے کی آنکھوں کو غور سے دیکھا، اس میں مجھے حامد کا عکس نظر آیا جو چاروں طرف دیکھ رہا تھا اور مجھ سے کہہ رہا تھا؛ “میں لاکھ کوششوں کے باوجود اپنے بیوی بچوں کو اس زہریلی عورت کے ڈسنے سے نہیں بچا سکا۔۔ وہ مجھے ڈس گئی۔ ۔۔”
“ذرا باہر آئیں آپ کو ایک بات بتانی ہے “، سامنے بیٹھے ہو ئے حامد کے ایک کولیگ نے مجھے مخاطب کیا تو میں بری طرح چونک گیا۔کچھ دیر مجھے ہوش کی دنیا میں آنے میں لگے اور پھر میں خاموشی سے اٹھ کر اس کولیگ کے ساتھ باہر آگیا؛
“آپ کے بارے میں میں نے حامد سے بہت مرتبہ سنا تھا۔آپ ا س کے بچپن کے دوست اور اب تک کے بہترین فیملی فرینڈ بلکہ فیملی ہی ہیں اس لئے میں نے سوچا یہ بات آپ کو بتانی چاہیئے معاملہ ہی ایسا تھا۔۔آپ کوصدف کا پتہ ہوگا۔۔ میں نے نفرت سے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ وہ بہت بڑی بلیک میلر عورت تھی۔۔ اس نے حامد کو اتنا زچ کر رکھا تھا کہ اس کی بھوک تک ختم ہو چکی تھی۔ وہ ڈپریشن کا مر یض بن گیا تھا۔۔ آخری دن جو آخری کال اس نے سنی یا یوں کہیئے جس سے آخری مرتبہ بات کی وہ وہی خبیث عورت تھی۔۔ وہ میرے ساتھ ہی کھڑا تھا۔۔ جب اس کا سیل فون بجا، کاش میں اس کو کوئی کام بتا دیتا وہ اس میں لگ جاتا اور وہ فون نہ اٹھاتا، مگر شائید تب بھی اٹھا لیتا۔۔ فون سکرین پر اس عورت کی نام کے ساتھ تصویر ابھرتے ہی اس کا رنگ فق ہوگیا۔۔ وہ بات کر نے کے لئے مجھ سے دور ہٹتا گیا۔۔ دو چار اور وہ بھی ورکرز تھے مگر ان میں سے اردو سمجھنے والا بس میں ہی تھا۔۔ اپنے تئیں وہ مجھ سے کافی فاصلے پر چلا گیا تھا مگر شائید دوسری طرف والی بات سنتے سنتے وہ اتنی کمزوری محسوس کر نے لگ گیا تھا کہ اس سے مذید چلنا تو دور کی بات، سیدھا کھڑا ہونا مشکل لگ رہا تھا۔
مجھے محسوس ہورہا تھا کہ میں اس کی پرائیویسی کا خیال نہ کر کے ایک غیر اخلاقی حرکت کررہا ہوں مگر اس کی حالت دیکھ کر میں خود کو اس کی باتیں سننے پر مجبور پا رہا تھا ، اس کی آواز میرے کانوں میں صاف آرہی تھی۔۔” تیس لاکھ؟ نہ دوں تو کیا کر لو گی۔۔ بلا لو پولیس کو، کرا دو کیس کیا
کہو گی۔۔ ہراسمنٹ؟ کس نے؟ میں نے؟ کس کی؟ تمہاری۔۔ تم میرے ساتھ عیش کرتی رہی ہو۔۔ اب ہراسمنٹ کیس کرواو گی؟۔۔ ہراس تو تم مجھے کررہی ہو۔۔شادی بھی نہیں کرو ں گا۔۔ تم جیسی ناگن سے شادی؟۔۔ وہ چیخ چیخ کر بول رہا تھا ساتھ گالیاں دے رہا تھا جو میں نے اس سے پہلے کبھی اس کے منہ سے نہیں سنی تھیں۔اسے اردگرد کسی کی پرواہ نہیں رہ گئی تھی۔وہ جال میں بری طرح جکڑا ہوا پرندہ لگ رہا تھا، جو آزاد ہو نے کے لئے پورے زور سے پھڑپھڑا رہا تھا ۔ میں نے اس دن ہر صورتحال کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے حامد کو مکمل طور پر شکست خوردہ دیکھا،۔۔ میں اس کی طرف جانے لگا لیکن اسی لمحے، شائید کوئی چیز اس کے پیر کے نیچے آگئی، وہ لڑکھڑایا، اور پھر سنبھل نہ سکا اور گرتا چلا گیا۔۔ میں اس کی طرف بھاگا مگر میرے پہنچنے سے پہلے ہی وہ گر چکا تھا۔۔میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے حواسوں میں ہو تا تو شائید ساتھ پڑی پچیس سو چیزوں میں سے کسی ایک کا سہارا لے سکتا تھا لیکن وہ تو غصے میں ہو ش کھو بیٹھا تھا۔”کہانی سناتے سناتے وہ رک کر میرے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیتے ہو ئے بولا؛ آپ تو اس سارے قصے کو جانتے ہی ہو ں گے۔” میں نے ہلکے سے سر ہلا تے ہو ئے کہا؛ “کاش ہم اسے، اس حرافہ عورت کے چکر سے بچا سکتے۔۔ “
“جیتے جی تو شائید یہ ممکن نہ ہوتا۔۔ پر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد میری طرف دیکھ کر بولا؛ نظر کا لگنا شائید اسی کو کہتے ہیں؟ آپ کسی بد نظر والے کو خود بڑے اہتمام سے اپنی زندگی میں شامل کر لیتے ہیں “
میں نے اسے پولیس والوں کے متعلق بتایا۔۔
اس نے گھبرا کر میری طرف دیکھا اور جوش سے بولا ؛ “دیکھا اگر وہ زندہ ہوتا تو پولیس ہتھکڑی ڈال کر لے جاتی، بیوی بچوں کے سامنے اس کی کیسی ذلت ہوتی، جیل میں ایک رات بھی کاٹتا تو اپنے آپ سے بھروسہ اٹھ جاتا، اپنے وجود سے نفرت ہو جاتی ۔۔اگر وہ خود، اپنی زندگی میں یہ کہانی پولیس کو بتاتا تو کیا وہ اس پر یقین کرتی؟ کبھی نہیں اس کو یہ ساری ذلت برداشت کر نا پڑتی عدالت کا فیصلہ آتے آتے اس کا پیسہ، اس کی عزت سب خاک ہوجاتے۔ اس عورت کی جیب سے ایک کوائن نہ نکلتا۔۔ اسے یہاں کا سسٹم کہتا ہے، لو پیسے اور پل پڑو۔۔ “غصے اور بے بسی سے اس کولیگ کی آنکھیں باہر کو ابلنے لگی تھیں۔
میں نے کہا” ایسا ہی ہے، اب میں نے پولیس سے بس ایک دفعہ بلیک میلنگ کا کہا اور انہوں نے فورا مان لیا بالکل اس طرح جس طرح ایک عورت جا کر ہراسمنٹ کا الزام کسی بھی مرد پر لگا دے پولیس فورا مان جاتی ہے۔۔۔”
“زندہ مرد پر۔۔۔” حامد کے ساتھی نے آہستہ سے کہا۔۔ اس کی آنکھوں میں بچارگی اور بے بسی کے آنسو امڈ آئے۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنے آنسوؤں کو گرنے سے بمشکل روکا کہ مرد کہاں ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے ہیں یہ تو عورتوں کا کام ہے جنہیں کمزور کہا جاتا ہے۔