ایک طرف ریاست نے اپنے سارے ذرائع جھونک دیئے ، عدالتوں کو ڈمی بنا دیا ، پارلیمنٹ کو فقط ایک پلاسٹک کی گڑیا ، صحافت کو درباری لونڈی اور اداروں کے لیے عوام کی نفرت کمائ
افسوس تو یہ ہے کہ ابھی بھی ہمارے جرنیلوں کا حال اس نشئی والا ہے جو اپنا نشہ ( اندھی اور بے حساب طاقت کا نشہ ) پورے کرنے کے لیے ایک ایک کر کے گھر کا سارا سامان بیچ دیتا ہے مگر اس کے بدلے جو نشہ کرتا ہے اس سے اپنا اور گھر والوں کا ہی نقصان کرتا ہے ۔۔
دوسری طرف وہ قلندر ہے جس نے اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ ہار دیا ۔۔وہ آج پتھر پر بھی ہاتھ رکھے تو لوگ اسے پارس سمجھنے لگتے ہیں وہ کسی گمنام نوجوان کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دے لوگ اسے آنکھوں میں بسا لیتے ہیں
اس کو ہرانے جو نکلے تھے وہ آج رو رو کے تین تین گھنٹوں کی پریس کانفریسیس کرتے ہیں اور پورے تیس دن جوتے کھاتے ہیں
دوسری طرف
بقول امجد اسلام امجد
تم جس خواب میں آنکھیں کھولو
اُس کا روپ امر
تم جس رنگ کا کپڑا پہنو
وہ موسم کا رنگ
تم جس پھول کو ہنس کر دیکھو
کبھی نہ وہ مُرجھائے
تم جس حرف پہ اُنگلی رکھ دو
وہ روشن ہو جائے