“BEUPARI “بیوپاری — Written and directed by Rubina Faisal. Watch Now | 💬 Read Reviews | 🌐 Visit Official Website

دی ہینڈ میڈ ٹیلز، کنیڈین ادیبہ مارگریٹ ایٹ ووڈ

thehandsmaidtail1

مزاحمت زندہ باد
تحریر : روبینہ فیصل
دی ہینڈ میڈ ٹیلز، کنیڈین ادیبہ مارگریٹ ایٹ ووڈ کی شاندار تخلیق ہے۔ یہ ناول زمان و مکا ن کی قید سے آزاد ہر انسان کی کہانی ہے۔
گو کہ اسے نسائی تحریک (فیمینیزم) سے جوڑا جاتا ہے مگر میرے خیال میں یہ ایک ایسی داستان ہے جس کے آئینے میں ہم،جبر کے نظام میں دبے ہو ئے، کچلے ہو ئے کسی بھی انسان کی شکل دیکھ سکتے ہیں۔
مجھے اس ناول کو پڑھ کر کیا احساس ہوا، اس کی بات تھوڑی دیر بعد کر تی ہوں پہلے میں چاہتی ہوں کہ آپ سب کے لئے اس ناول کا خلاصہ لکھ دوں تاکہ اگر آپ اس کو پڑھنا چاہیں تو آسانی ہو۔ اس کے چھ سیزنزبن چکے ہیں۔ پہلا سیزن ناول پر مبنی ہے، بعد کے سیزیز میں انہی کرداروں کی زندگی کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ ویسے انیس سو نوے میں اس پر فلم بھی بن چکی ہے۔
خیر یہاں میں صرف ناول کی بات کروں گی۔
یہ انیس سو پچاسی میں لکھا جاناے والا ایک ڈسٹوپین ناول ہے۔یعنی ایک ایسے فرضی، مذہبی اور فوجی ریاست گلیڈ کی کہانی ہے جس میں معاشرے کی اصلاح کے لئے مذہب اور معشیت کا سہارا لے کر خواتین کی غلامی دکھا ئی گئی ہے۔
ڈسٹوپین،کا مطلب ہے ایسا معاشرہ جوصرف مصنف کے ذہن کی اختراع ہے۔ میں اس پر یہ کہنا چاہوں گی کہ مارگریٹ نے شائید ایسا نظام کہیں نہ دیکھا ہو یا ان کا فرسٹ ہینڈ تجربہ نہ ہو مگر جو اس ناول میں بیان کیا گیا ہے وہ دنیا میں بہت جگہ پہلے بھی ہو رہا تھا، اب بھی ہو رہا ہے اور آئیندہ بھی ہو تا رہے گا مگر نارتھ امریکہ میں رہنے والوں کیلئے یہ شائید ایک فرضی داستان ہی ہے۔ویسے تو ایپسٹین فائلز کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ گمان بھی ختم ہوجانا چاہیئے ۔ جس طرح اس مہذب دنیا کے مہذب ملک میں، چھوٹی بچیوں کا استحصال اور استعمال کیا گیا ہے تو ہینڈ میڈ ٹیلز یہاں کا بھی سچ بن گیا ہے۔سو میں اسے ڈسٹوپین نہیں بلکہ حقیقی مان کر پڑھنے کا مشورہ دوں گی۔ اس ناول کے کئی ایسے مناظر ہیں جن میں ہم پاکستان کی موجودہ شکل جس میں جبر اور فسطائیت برپاہے بار بار دیکھیں گے۔
رجیم چینج کی داستان سنیں، جو ہم پاکستان میں 2022کے بعد سے اب تک مسلسل دیکھ رہے ہیں۔
آفریڈ، نامی خاتون اس ناول کا مرکزی کردار ہے۔اس کا اصلی نام، ناول میں کہیں بھی نہیں بتایا گیا۔ آفریڈ ریاست کا دیا ہوا نام ہے۔ آفریڈ، جو ابھی آفریڈ نہیں بنی اور اپنے شوہر لیوک اور پانچ سال کی بچی کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہی ہے۔ ایک دم اس کا بنک اکاونٹ فریز ہو جاتا ہے۔ ملک میں ہونے والی اچانک تبدیلیاں، اصل میں بڑی رجیم چینج کا عندیہ ہیں۔ وہ یہ سب جان کر وہاں سے ہجرت کا سوچتے ہیں، مگر ان کی قسمت ساتھ نہیں دیتی اور وہ سرحد پار کر نے سے پہلے ہی پکڑے جاتے ہیں۔ آفریڈ کو،فوجی پکڑ کر لے جاتے ہیں اور اس سے اس کی بچی چھین لی جاتی ہے ،اور ناول میں اس کے شوہر لیوک کی زندگی غیر یقینی ہی رہتی ہے۔ پتہ نہیں چلتا کہ وہ زندہ ہے یا مار دیا گیا ہے۔
اغوا یا گرفتاری کے بعد آفریڈ، کو ٹریننگ کیمپ میں بھیجا جاتا ہے، جہاں اس کی طرح کی اور بہت سی لڑکیاں ہیں، جن میں سے ایک اس کی سہیلی موئزا بھی ہے۔
آنٹی لیڈیا، ان کی ٹڑینر ایک سخت گیرعورت ہے وہ،ان سب لڑکیوں کو کمانڈرز کے گھروں میں بھیجنے کے لئے ٹرینڈ کرتی ہے۔ اس ٹریننگ کے دوران جہاں بھی لڑکیوں کو مار کٹائی، سخت سزائیں دینے کی ضرورت پڑتی ہے وہ ذرا برا بر نہیں ہچکچاتی ہے۔
جبر کا نظام دو ہی چیزوں سے چلتا ہے ایک بے جا، اندھی اور مکروہ سختی دوسرا مذہب کا ہتھیار، اس ناول میں بھی ہر پابندی اور ہر گراوٹ کو بائبل کی آیتوں سے جوڑا گیا ہے۔ ہینڈ میڈ کا ہندی یا اردو مطلب داسی، باندی، لونڈی کچھ بھی کہہ لیں۔ ان داسیوں کو ٹریننگ کے بعد کمانڈز اور ان کی بیگمات کو سونپ دیا جاتا ہے۔ ان اشرافیہ کے گھروں میں مہینے میں ایک خاص تقریب ہو تی ہے، جس میں ان ہینڈ میڈز کو، ان کے زرخیزی کے دنوں میں کمانڈر اور اس کی بیوی کے بیڈ روم میں پہنچا دیا جاتا ہے ۔ وہاں داسی،کمانڈر کی بیوی کی ٹانگوں کے دمیان لیٹ جاتی ہے تاکہ وہ دونوں عورتیں اس وقت ایک جان محسوس کریں اور کمانڈر بائبل کھول کر مخصوص آیات پڑھتا ہے (جینیسس سے وہ حصے جو حضرت یعقوب، راحیل اور لیہ کی کہانی بیان کرتے ہیں، جہاں بانجھ پن اور خادماؤں کے زریعے اولاد پیدا کر نے کا ذکر ہے) یہ آیا ت گلیڈ کے نظام کو جواز دینے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس کے بعد کمانڈر اپنی داسی کے ساتھ بغیر اسے چھوئے، بغیر دیکھے مباشرت کرتا ہے ۔۔ اسی طرح جب داسی کا حمل ٹھہر جاتا ہے تو بچہ پیدا ہو نے تک وہ اسی گھر میں ٹھہرتی ہے اورجب وہ درد ِ زہ میں مبتلا ہو تی ہے تو کمانڈر کی بیوی اس کے ساتھ بیٹھ کر درد کا دکھاوا کرتی ہے۔ گلیڈ میں اس رسم کو شریک درد کہا جاتا ہے۔ہینڈ میڈ کے بطن سے بچہ پیدا کروا کر کمانڈر کی بیوی کو سونپ دیا جاتا ہے اور ہینڈ میڈ کی گود سونی ہو جاتی ہے اور اسے پھر کسی دوسرے بانجھ گھرانے میں بھیج دیا جاتا ہے، یہ تقرریاں اس وقت تک جاری رہتی ہیں جب تک ہینڈ میڈ اس قابل رہتی ہے۔ داسیوں کے نام ان کے کمانڈرز کی نسبت سے رکھے اور بدلے جاتے ہیں۔ جیسے مر کزی کردار آفریڈ سے پہلے اس گھر میں جہاں کمانڈر کا نام آفریڈ اور اس کی بیوی سرینا جوئی ہے کوئی اور آفریڈ تھی۔ جب گھر بدلتا ہے تو ان کا نام بھی بدل جاتا ہے۔ کوئی کسی کو کس نام سے یاد رکھے، اس ریاست میں یہ ممکن ہی نہیں تھا۔ الفریڈ اپنے سے پہلے آنے والی الفریڈ کا ایک خفیہ پیغام، جو کہ اسے اپنے کمرے کی تفصیلی تلاشی کے بعد الماری کے نیچے لکھا نظر آتا ہے۔ اس ساری بے بسی اور بچارگی کے بعد، وہ پیغام جو کہ لاطینی زبان میں ہے ایک امید ایک ربط کی صورت نظر آتا ہے۔بعد میں جب کمانڈر اصول یا قانون توڑتے ہو ئے الفریڈ سے علیحدگی میں اپنی سٹڈی میں ملنا شروع کرتا ہے تو وہ اس سے اس فقرےNolite te bastardes carborundorum(dont let the bastrads grind you down)
کا مطلب پو چھتی ہے۔ الفریڈ جو کہ لاطینی بھی جانتا ہے اسے فقرے کا مطلب بتاتا ہے چلیں میں اپنی زبان میں آپ کو ترجمہ کر دیتی ہوں “بسنتی ان کتوں کے سامنے مت ناچنا ” ۔۔۔
سب ہینڈ میڈ، ایک جیسے کپڑے پہنتی ہیں اور ان کے سروں پر بڑے بڑے ٹوپے ہیں اور ان کو گردن کو مکمل جھکا کر چلنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔
۔دن میں ایک دفعہ انہیں جوڑی کی صورت بازار جانے کی اجازت ہو تی ہے۔ اس واک کے دوران وہ اس دیوار کے پاس سے بھی گزرتی ہیں جہاں نافرمانوں کی لاشیں سر عام لٹکائی جاتی ہیں۔۔ دو دو کی صورت چلنے والی ہینڈ میڈز نہیں جانتی کہ دوسری جو ساتھ ہے وہ جاسوس ہے یا دوست۔ سب ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کوئی کسی پر بھروسہ نہیں کرتا۔ جبر کے نظام کی یہ بھی ایک خوبی ہے کہ جد و جہد اور مزاحمت کو ختم کر نے کے لئے ایک دوسرے سے مشکوک کر دیا جائے۔ایسی شک بھری اس فضا میں کون جبر کے خلاف اکٹھا ہو؟۔اور جبر کا نظام اسی صورت ختم ہو سکتا ہے جب اس کے خلاف ساری عوام اٹھ کھڑی ہو۔ ورنہ یہ سلسلہ دراز رہتا ہے۔
آپ یقینیا اس خلاصے سے پاکستان کی موجودہ صورتحال کو با آسانی ریلیٹ کر رہے ہوں گے۔۔ مذہب کے نام پر انسانوں کو غلامی کی طرف دھکیلنا، بے انتہا ظلم کر کے آوازوں کو دبانا۔۔ اور تیسری بات جو اس ناول میں ہے کہ جابر، اور اس کے پیرو کار یہ بھی کہتے پائے جاتے ہیں کہ ہم ملک کو صاف کر نے آئے ہیں، ہم معشیت کو ٹھیک کر دیں گے، ہم سب ٹھیک کرنے آئے ہیں اور اس کا جواز مذہبی آئیتوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتے ہیں اور طاقت کے استعمال کو جائز بنا دیتے ہیں۔
اس گلییڈ سٹیٹ میں جو ، عام لوگوں خاص کر کے ان خواتین کے لئے منع ہے، جیسے سگریٹ نوشی،شراب نوشی، ہوس، حتی کہ کتاب پڑھنا،وہ سب ان اشرافیہ کے لئے جائز ہے۔ یہ اپنے لئے بلیک مارکیٹ سے ہر چیز حاصل کر لیتے ہیں۔
گو اس ناول کی فضا مایوس کن اور اداس کر دینے والی ہے۔ ہینڈ میڈز کی بے بسی اور جابروں کا ظلم آپ کو رلا دیتا ہے مگر میں نے اس ناول سے ایک خوبصورت احساس بھی کھینچا ہے اور وہ ہے خفیہ مزاحمتی تحریک کا” میڈے” کا لفظ، آفریڈ سے پہلے والی آفریڈ جو اپنی خود کشی سے پہلے الماری پر لاطینی زبان میں مزاحمتی فقرہ کھود جاتی ہے۔۔ کسی ہینڈ میڈ کا باتھ روم میں ” آنٹی لیڈیا بُری عورت ہے” لکھنا۔موئرا کا کردار جو بغاوت اور مزاحمت کی علامت ہے۔۔ اس کی فرار کی کاوشیں۔۔ مزاحمت کی یہ علامتیں کسی خوشگوار جھونکے کی طرح محسوس ہو تی ہیں۔
نک اس ناول میں ایک اور پیچیدہ اور اہم کردار ہے جو بظاہر کمانڈر کے گھر کا ڈرائیور ہوتا ہے۔ جب آلفریڈ کمانڈر کے ساتھ حاملہ نہیں ہو تی تو، اس کی بیوی اسے کہتی ہے کہ اس سے تم حاملہ نہیں ہو گی لہذا تم کسی اور کے ساتھ کوشش کرو، اس سے پہلے آلفریڈ کسی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے، اور ڈاکٹر اس کے چیک اپ کے بعد بتاتا ہے کہ اگر وہ چاہتی ہے تو وہ اس کے ساتھ مباشرت کر کے اسے حاملہ کر سکتا ہے کیونکہ ایسا وہ پہلے بھی بہت سی ہینڈ میڈز کے ساتھ کر چکا ہے۔ اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ یہ ان کے کمانڈر کا بچہ نہیں ہے۔۔ آلفریڈ ایسی سہولت لینے سے انکار کر دیتی ہے اور اب جب کمانڈر کی بیوی اسے کہتی ہے تو وہ اس سے پوچھتی ہے کہ کیا وہ ڈاکٹر کے بارے بات کر رہی ہے تو بیوی جواب دیتی ہے نہیں وہ نک کا کہہ رہی وہ قابل اعتبار ہے ۔اور جب بیوی اس کو نک سے ملواتی ہے تو اس کے بعد نک اور آلفریڈ کے درمیان ایک محبت سی پیدا ہو جاتی ہے۔اور وہ بعد میں خود بھی چھپ چھپ کر ملنے لگتے ہیں۔۔ اس ریاست میں نک کا کردار محبت اور پراسرایت لئے ہو ئے ہے۔
ایک طوائف خانے میں، جہاں کمانڈر، آلفریڈ،کو اپنی بیوی سے چھپ کر ایڈونچر کر انے لے کر جاتا ہے (یاد رہے یہ سب غیر قانونی ہے)، وہاں اسے سستے کپڑے اور گھٹیا میک اپ کئے اپنی دوسست موئرا نظر آتی ہے جو وہاں سے فرار ہو چکی تھی اور اب یہاں ایک طوائف بن چکی ہو تی ہے۔اسے دیکھ کر آلفریڈ کو محسوس ہو تا ہے جیسے موئرا نے شکست تسلیم کر لی ہو، اس میں زندگی کی رمق، مزاحمت کی آگ سب کچھ بجھا ہوا نظر آرہا تھا۔ اسے یقین نہیں آتا کہ یہ زندگی اور بغاوت سے بھری ہو ئی وہی لڑکی ہے؟
آخر میں دکھایا گیا کہ آلفریڈ کی کسی نافرمانی کی وجہ سے، اس کو ایک کالا ڈالہ پکڑنے آگیا ہے تو وہ سوچتی ہے کہ یہ وقت دیکھنے سے پہلے بہت سے ایسے طریقے تھے جو وہ کر سکتی تھی، دوسروں کو مارنے کے، خود کو مارنے کے، لیکن اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔۔ اس ایک لمحے اسے طاقتور کی طاقت کا اندازہ ہو تا ہے۔۔ اور وہ تب سوچتی ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔۔
اس ناول کا اختتام مبہم رکھا گیا ہے ۔۔ اسے قارئین کے تخیل پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ طاقت کے نظام میں فرد کی بقا غیر یقینی ہو تی ہے۔ مزاحمت کی کہانیاں ادھوری رہ جاتی ہیں۔۔۔ مگر پھر بھی بے جا اور ناجائز طاقت کی اطاعت کی بجائے مزاحمت ہمیشہ پر کشش لگتی ہے۔ پاکستان کے پس منظر میں دیکھیں تو وہاں بھی جھک جانے اور مفاہمت اور مصالحت کی بجائے جبر کو للکارنے والے کتنے حسین لگتے ہیں، چاہے ان کی للکار ایک دیوار پر نعرہ لکھنے کی ہو، ایک گانا گانے کی، ایک کلپ، ایک خبر، ایک سچ، ایک لفظ، ایک فقرہ، ایک طنزیہ مسکراہٹ یا فقط ایک چہرے کی جنبش ہی کیوں نہ ہو ۔ جبر کے نظام کے آلہ کار اور سہولت کار کس قدر بد صورت لگتے ہیں۔ مزاحمت زندہ باد

ہو سکے تو یہ ناول ضرور پڑھیں