تحریر : روبینہ فیصل
29 May 2025
آٹھ مارچ بیس تئیس کو ظل شاہ کی شہادت کی خبر نے ایک ایسی گہری مایوسی میں دھکیل دیا جس کا تجربہ مجھے کبھی ساری عمر نہیں ہوا تھا ۔
میں جس ملک میں رہتی ہوں اور جیسا میرا دل ہے میں اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ ایک سپیشل ضرورت والے بچے کو ریاست ہی اس بے دردی سے قتل کردے گی میرا انسانیت ، “ریاست ایک ماں ہوتی ہے” ایسے تمام الفاظ پر سے مکمل اعتبار ٹوٹ گیا ۔۔
میں آپ کو سچ بتارہی ہوں ظل شاہ کا اپنی ہی ریاست کے ہاتھوں بہیمانہ قتل دیکھ کر “انسانیت ابھی زندہ ہے کا گُمان ۔۔مکمل طور پر ٹوٹ گیا ۔۔ اندر جیسے سب کچھ ٹوٹ گیا ہو ۔
آپ کے ذہن میں سوال آسکتا ہے کہ دنیا میں تو اتنا ظلم ہوتا ہے کوئی ہیرو شیما کی بات کرے گا کوئی ف لسطین کی کوئی ک شمیر ک کوئی بنگلہ دیش کی کوئی بلو چ ستان کی کوئی اف غنس تان کی وزیر ست ان کی ۔۔ وہ سب بجا ہے اس پر ہم مذمت کرتے ہیں ہم کڑھتے ہیں ہمارا دل روتا ہے مگر یقین مانئیے کچھ معصوم موتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے ، وہ بس یوں لگتا ہے جیسے اپنے گھر کے صحن میں کسی خونی رشتے کا لاشہ پڑا ہوا ہے ۔۔۔ظل شاہ کی موت بھی کچھ ایسی ہی تھی ۔ میرے معدے میں بالکل ویسی ہی گانٹھ سی بندھ گئی جیسی میری اپنی بہن کی موت کے بعد محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
وقت تو گزر گیا ، ستم تو ڈھ گیا اب دل کو سکون کیسے آئے ؟ ۔
اُن امید بھرے دنوں میں زمان پارک میں میلے کا سامان لگا رہتا تھا ۔ خان صاحب کے گرد پروانے اکٹھے ہوئے رہتے تھے ، کوئی سڑکوں پر مجنونانہ رقص کررہا ہوتا تھا تو کوئی پولیس شیلنگ میں دیوانہ وار خان کے نعروں پر جھوم رہا ہوتا تھا ۔۔ آنکھیں بے خوف و خطر تھیں ۔۔ ان نوجوان دلوں میں جنون تھا ، ضد تھی ، عزم تھا کہ وہ اس بوسیدہ نظام کی دیوار کو ڈھا دیں گے ، وہ اپنے محبوب لیڈر پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔۔۔
پولیس کی حراست میں ظل شاہ اسی سحر میں ہوگا ، وہ معصوم دل تھا اس پر عقیدت کا رنگ گہرا چڑھا ہوا تھا ، وہ بھولا بھالا سا ، اپنے محبوب لیڈر اور پاکستان کی محبت میں مست یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کا پاکستان ہی اس کو مار دے گا ، اس کا وطن اس کی کھوپڑی اور اس کی ٹانگوں دونوں کو توڑ دے گا ۔۔ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اس کی موت اس امید کی موت ہوگی جو سب نوجوانوں کے دلوں میں جاگی ہوئی تھی کہ وہ ملک کے اندھیرے ختم کر کے روشنی کی کرن بن کر بکھر یں گے اس کی بجائے ان کا خون جا بجا بکھیر دیا گیا اور ان کی لاشوں کو ان کی ماؤں کے سامنے بے کفن بچھا دیا گیا ۔۔ ماؤں اور بچوں کی آنکھوں کے غم اور خوف نے کتنے بہادر دل جوانوں کو توڑ دیا اور ریاست کا ننگا ناچ جاری رہا ۔۔۔ اور ظل شاہ جسم اور روح کو چھلنی کروا کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلا گیا ۔
اپنی مرضی کا اظہار کرنا ، اپنے مطابق جینا ،بات کرنا اور زندگی گزارنا ، یہ سب پاکستان جیسے ملک میں ایک “ مہنگی ترین عیاشی “ بن کر رہ گیا ہے جسے کوئی افورڈ نہیں کر سکتا ، حتی کہ وہ بھی نہیں جنہوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہوا ہے جن کے پاس اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں دولتوں کے انبار ہیں وہ بھی ریاست کے غلام ہیں اور اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لے سکتے یہ غلامی خان کے سچے فالورز نے قبول کر نے سے انکار دیا اور بے شک قید کر دئیے گئے مگر ان کے ضمیر آزاد رہے ، وہ سچے لوگ بیڑیوں میں بھی نعرہ حق بلند کرتے رہے ۔۔
اسی لیے ظل شاہ سکول صرف ظل شاہ نہیں بلکہ ایسی تمام آزاد روحوں کو نہ صرف خراج عقیدت پیش کرنے کو بلکہ خودی ، شعور اور بلند کرداری کو فروغ دینے کے لئے بنایا گیا ہے ۔۔۔
میرے والدین کا تعلق شعبہ تدریس سے رہا ہے ۔ جب ہم بچے تھے ہم نے اپنی ماں کو ہمیشہ بچوں کو تعلیم دیتے دیکھا ۔۔ بچوں کو پڑھانا نہ صرف ان کا ذریعہ معاش تھا بلکہ ان کا عقیدہ بھی یہی تھا ۔۔ وہ آج بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ نسلوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا ہر انسان کا نصب العین ہونا چاہیئے ۔ بچوں کو تعلیم دلوا تو بس پھر ان کو سارے کام آجاتے ہیں یہاں تک کہ سر اٹھا کر جینا بھی آجاتا ہے ۔ تعلیم نہیں ہوگی تو شعور نہیں ہوگا شعور نہیں ہوگا تو بس شور ہوگا اور اس شور کا حصہ بن کر انسان کی نہ اپنی شناخت رہتی ہے نہ وہ اپنی نسلوں کو کوئی شناخت دے سکتا ہے ۔۔۔
انسان کی بنیادی شناخت اس کا انسان ہونا ہے اور ہر ایک انسان کے پاس وہ حقوق ہیں جو رب نے تمام انسانوں کو یکساں دے کر دنیا میں بھیجا ہے اور کوئی بھی جمہوری پڑھی لکھی ریاست یہی حق اسے پہنچانے کی ذمہ دار ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو خاموش رہ کے سہنا غفلت اور جاہلت کی علامت ہے ۔ اور معاشروں کی بدحالی اور گراوٹ کا پہلا مرحلہ ۔۔۔
تعلیم اس پہلے مرحلے کو سمجھنے میں آسانی دیتی ہے اور جس تعلیم نے یہ آگاہی نہیں دی اس سے بہتر جاہل رہنا ہے ۔
انسانوں کو درد مندی بھی اللہ تعالیٰ کا خاص تحفہ ہوتی ہے ۔۔
عماد بزدار نے اس نیک کام کے لئے اپنی آبائی زمین وقف کی ۔ وہاں کمروں کی تعمیر کا کام شروع کروانے لگے تو مجھے پہلی دفعہ پتہ چلا کہ وہاں تو پانی ہی نہیں ہوتا ۔۔
بو ر نکلوانے کاکام وہم و گمان میں نہیں تھا عماد نے اس میں مدد کی ، وہاں کے مقامی کاریگر ڈھونڈنا ، ان سے کام کروانا ، یہ سب عماد اور پھر علاو الدین کی وجہ سے ممکن ہوا ۔ اور پیسوں کے معاملے میں مسلم ویلفیر کینیڈا ( MWC ) نے مسئلہ حل کردیا ۔ بور نکلوانے سے پہلے اور سولر پینل لگوانے تک سب مشکلات سے گزر کر پتہ چلا کہ فلاحی کاموں کے لیے جس استقامت ، صبر اور درد مندی کی ضرورت ہے وہ ہمارے لوگوں میں ابھی بھی باقی ہے ۔۔ اس پتھریلے علاقے میں بور کا نکلنا ایک معجزے سے کم نہیں ۔ وہاں پر پانی کی فراہمی کر کے ایسا اچھا کام کیا ہے کہ مسلم ویلفیر کینیڈا اور اس میں ہمارا وسیلہ بننے والے محمد عتیق وانی کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔
اب اللہ کے فضل سے ظل شاہ بارتھی سکول میں پانی بجلی سب مہیا ہے ۔
ٹاٹ سے آغاز کیا تھا آج بچوں کے لیے بنچز بھی بنوا لیے ہیں ۔۔
ایک دن سکول میں بچوں کے ساتھ ویڈیو کال کے بعد میں سوچتی رہی اور جو ملتا اس سے ذکر کرتی کہ بارتھی کے بچے عام بچوں سے جو ہم دیکھتے ہیں ان کی نسبت بہت کمزور لگ رہے تھے ۔۔ ہر کوئی سن کر بس سر دھن کر یا تاسف بھرا سر ہلا کر گزر جاتا ۔۔ مگر جب میرے بیٹے عبداللہ نے یہی بات میرے منہ سے سنی تو بڑی آسانی سے بولا ؛ “ mama why don’t you get them lunch everyday “
اس نے سوچا ہوگا ماں کا تو کام ہی کھانا کھلانا ہے اور ماؤں کو اس سے بہتر اور کیا آتا ہے اور ان کے لئے یہ کوئی بہت بڑا کام نہیں ہے ۔۔ بچے کمزور لگ رہے تو انہیں کھانا چاہیئے تو بس کھانا دے دو اس میں کیا مشکل ( ایز ایزی ) ۔۔۔
واہ اتنا آسان حل تو بس اس دن سے ہم نے ظل شاہ سکول میں ہر روز لنچ ( چاول ود چکن یا سبزی یا چنے ) کا آغاز کردیا یوں اب ظل شاہ بارتھی سکول میں بچوں کو کھانا بھی کھلایا جاتا ہے اور پڑھایا بھی جاتا ہے ۔
ہماری ٹیچرز بہت محنت اور جذبے سے پڑھاتی ہیں کیونکہ انہیں بھی پتہ ہے کہ یہ صرف ایک سکول نہیں بلکہ ایک مقصد ہے ایک مشن ہے جمہوری روایات ، انصاف کی بحالی اور انسانی حقوق کی برابری کا مشن ۔۔ علم اور شعور پھیلانے کا مشن ۔۔
ماؤں کے کلیجے بن موت نہ مارے جائیں اس کا پر امن علمی مشن
ہماری آواز عدل علم اور انصاف کی آواز ہے جہاں تک پہنچے
ہماری مائیں زندہ باد
ہمارے بچے پائندہ باد
خوددار اور غیور باپ سلامت رہیں
ہمارا وطن خوبصورت اور خوشحال گھروں سے آباد رہے ۔
جلد ہی سکول میں ایک جھولا اور ایک سی سا بھی لگوا رہے ہیں ۔ تاکہ بچے کھیل سکیں ۔۔ سکول میں ایک چھوٹی سی لائبریری بنانے کا بھی ارادہ ہے جہاں بچے کورس سے ہٹ کر بھی ادبی علمی کتابیں پڑھ سکیں ۔۔ پانی کی فراہمی کی وجہ سے اب بیابان جگہ پر ہریالی بھی اگنے لگی ہے ۔۔ مستقبل میں یہاں اور درخت لگائیں گے ۔
انشاللہ دعا کریں اللہ پاک ہمیں توفیق دئیے رکھے ۔ آمین
(یہ ایک سفر کا محض آغاز ہے سفر طویل ہے )
Rubina Faisal