وہ لڑکی

“وہ لڑکی “
“وہ لڑکی” 1857میں دلی کی گلیوں میں بچھے
لہو کی خوشبو سے نمودار ہو ئی تھی
ان خون آلود حالات نے اس کی نسل کو بغاوت نہیں
مصلحت اور سیاست کا اسیر بنانا چاہا تھا
اس کے بزرگوں نے اسبابِ بغاوت ہند لکھ کر
اس کے جرم کی صفائی دے ڈالی تھی
وہ اس جرم سے ابھر کر نکلی تھی
اور پھر باسٹھ سال بعدوہ سیاست کا سبق بھول کر
مصلحتوں کے حلقے توڑ کر کچھ دیر کے لئے ہی سہی
مگر پھر سے انقلاب کی راہ پر چل پڑی تھی
وہ سوچ رہی تھی حکمرانوں کی قدم بوسی کرتے کرتے
چھ دہائیاں بیت چکی ہیں اب بہت ہو گیا
اب 1919آچکا تھا
اب تو ان زنجیروں کو جنہوں نے ہواکے پاؤں باندھ دئیے تھے
کاٹا جا سکتا تھا
اسی لئے وہ جلیانوالہ باغ میں گئی تھی
سالوں کا خوف اس کے اندر چپک کے بیٹھا تھا
وہ جو اڑنا چاہتی تھی، رینگ رہی تھی
اور ابھی وہ گھٹنوں سے پورا سر اٹھا بھی نہیں پا ئی تھی
کہ پھر سے گرا دی گئی
جنرل ڈائر کے سپاہیوں کی گولی اس کے پیٹ کے پار ہوئی تھی
وہ حاملہ تھی۔۔۔خوف اس کی بچہ دانی سے چپک گیا تھا
جبر کی اس گولی کے بعد اس نے جو بھی بچہ پیدا کیا
وہ خوف سے لتھڑا ہوا تھا
اس کی مزاحمت اس کی کوکھ میں ہی مار دی گئی تھی۔
وہ کئی سالوں تک ایسے بچے پیدا کرتی رہی جو جنم کے بعد بھی آنکھیں موندے پڑے رہتے تھے
ان پر اپنی بیداری کا خوف طاری رہتا تھا۔۔۔یوں
ہندوستانی اور کتے بہت دیر تک ریستورانوں کے باہر کھڑے رہے
اور رعایا پر امن رہی
دلی کی گلیوں اور جلیانوالہ باغ میں بکھرا سرخ خون
آنے والی نسلوں کے لئے عبرت کا نشان بنا کر
سیاہ ہو نے کے لئے وہی چھوڑ دیا گیا
انقلاب فاختہ بن کر ادھر اُدھر چھپ چھپ کر اڑتا پھرا
اورراوی ہر طرف چین لکھتا رہا۔۔۔
عورت کا معکوس سفر جاری تھا
وقت کا پہیہ الٹا چل رہا تھا
وہ، جو ایک بار پھر سے عورت سے لڑکی بن چکی تھی
دوبارہ امن اور جنگ کی ایسی سر حد پر لا کھڑی کر دی گئی
جہاں اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی ماں کے پستان کاٹ دئیے گئے
اور کئی عورتوں کی شرم گاہوں میں جبر کے خنجر اندر تک اتار دئیے گئے،
اس یقین کے ساتھ کہ انقلاب کا اسقاط صدیوں تک رہے گا،
نومولود گھٹنوں کے بل چلتے رہیں گے
اور بڑی طاقتیں چین کی بانسری بجاتی رہیں گی
اور اسی کو امن کہا جائے گا۔
وہ لڑکی تاریخ کے اس ستم کو جب پھلانگ کر آگے بڑھی
تو وہ سرحد کے اُس پارکھڑی تھی جہاں اسے وہم ہوگیا کہ
وہاں برا بری اور امن کا دریا بہتا تھا۔
اب وہ دائرے میں گھوم رہی تھی
اور ایک دفعہ پھر سے عورت بن رہی تھی۔۔۔
اور دیکھ رہی تھی۔۔۔
جس انقلاب کو مصلحت کی چادر اوڑھا کر آئینی جنگ میں تبدیل کیا گیا تھا
وہ بھی ایک بارپھر سے دائرے میں گھوم رہا تھا
طاقت کا گھوڑا بے لگام تھا اور کیڑے مکوڑے مصلحت، مصلحت پکاررہے تھے
خون سے اٹی گلیاں اسے یہ سوچنے پر مجبور کر رہی تھیں؛
زنجیریں سے آزاد پاؤں کے ساتھ چلنے کے اس خواب کی وقعت کیا ہے؟
سب گنوا کے بھی یہ خواب ایسا خواب ہے جو ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بے تعبیرا کھڑا رہتا ہے
اور ڈو مو ر ڈو مور پکارتا رہتا ہے۔
جنرل ڈائر کا صفحہ پلٹا تو جنرل ٹکا خان کا باب کھل گیا۔۔
صفحے پلٹنے پر بھی الفاظ کی ترکیب اور جملوں کی ساخت وہی رہی
نئے باب میں بھی پرانا مضمون ہی دہرایا گیا
اورآزادی مانگنے والے سوال پوچھتے رہے۔۔۔
آزادی کے، برابری کے اس خواب کی کوئی تعبیر ہے بھی کہ نہیں؟
اس سوال کی کشکول اٹھائے وہ گلیوں گلیوں گھوم رہی ہے
اس کا کاسہ خالی ہے کیونکہ اس میں ڈالنے کے لئے کسی کے پاس جواب ہی نہیں
1971 سے گزر کر وہ پھر سے لڑکی بن گئی ہے
جہاں وقت بہت بدل چکا ہے،
سائنس اور امن نے بہت ترقی کر لی ہے
لیکن وہ لڑکی ماضی کے انہی شہروں میں کھڑی ہے
ٹھہرے وقت کے پل پر چلتی ہو ئی وہ وہیں پر حنوط ہے
اس کے نئے وجود پر ایکسپائیرڈشیلنگ کی جا رہی ہے اور
آنسو گیس کا دھواں خوف کی میل لئے اس کی آنکھوں سے بہہ رہا ہے
اور یہ 25مئی 2022ہے،
اس کے وطن کے سپاہی اس کے گھر کی چھت کود چکے ہیں۔۔۔
باہر گلیوں میں لاٹھی چارج اور چیخوں کی آوازیں ہیں۔۔۔
اس کے دیکھتے ہی دیکھتے لاہور جبر کے دھوئیں میں غائب ہو گیا ہے
وہی شناسا سی زنجیر اس کے پاؤں میں ہے اور
وہ پھر سے دلی کی گلیوں میں کھڑی ہے جہاں۔۔۔۔۔
اس کا جسم کانپ رہا ہے اور وہ لرزتے ہا تھوں سے
اپنے جسم کی طرف اشارہ کر کے بتا رہی ہے
“میرے ہی رکھوالوں نے مجھے یہاں یہاں سے چھوا ہے۔۔۔ “
اس سمے لڑکی کی آنکھوں میں آنسو اور ان سب عورتوں کی تصویریں بھری ہوئی ہیں
جنہیں سالوں پہلے کبھی دہشت کے نام پر اورکبھی ہوس کے نام پر۔۔
بالکل اسی طرح چھوا گیا تھا
فرق صرف یہ ہے کہ اب کہیں جنرل ڈائر نظر نہیں آرہا ہے
اب کہیں ٹکا خان بھی نہیں ہے۔۔۔
اب نفرت اور خوف کے اس نئے باب میں،
پرانے مضمون کو تھامے جنرل باجوہ کھڑا ہے۔
مگرلڑکی وہی ہے۔۔۔۔ سالوں پرانی وہی عورت۔۔۔وہی بچی، وہی ماں۔۔۔
انہی جانے پہچانے زخموں کے ساتھ،آنکھوں میں خوف لئے
اب اس کی کوکھ پھر کئی سالوں تک ایسے بچے اگلتی رہے گی
تمام عمر منجمند رہنے والے بچے۔۔
حرارت سے محروم بچے
بے حس بچے،ظلم سہہ کر خاموش رہنے والے بچے
جوپیدا تو ہو جائیں گے مگر آنکھیں موندے پڑے رہیں گے
جو نیند سے جاگ تو جائیں گے مگراپنا لحاف نہیں چھوڑیں گے
وہیں پر بے سدھ پڑے رہیں گے
کہ ان کو اپنے کندھوں پر کسی بھی لٹی ہو ئی عصمت اور پلوں سے گر کر مرتے ہو ئے
ماؤں کے لخت ِ جگر کا بوجھ نہیں ڈھونا ۔۔۔۔
کہ ان کے رہنماؤں نے
یک دفعہ پھر سے انقلاب نہیں انتخاب کا راستہ چن لیا ہے۔۔۔
ایک دفعہ پھر سے مصلحت اور سیاست ہو گی۔۔۔
ایک دفعہ پھر سے آئینی اور قانونی جنگ ہو گی۔۔۔۔
اور اس دھرتی پر قانون ایک دفعہ پھر سے
ضرورت سے ز یادہ اندھا اور بہرا ہوجائے گا۔۔
اور ملک میں امن و امان قائم رہے گا اور یہ سلسلہ دور تک چلتا جائے گا۔۔۔
کئی صدیوں تک۔۔۔۔۔
اور “وہ لڑکی” ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی دائرے میں گھومتی رہے گی۔
(روبینہ فیصل)

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Most Popular

اعصاب پہ عورت ہے سوار
Columns
Rubina Faisal

اعصاب پہ عورت ہے سوار

چند سالوں پہلے، ایک گوری لیڈی کونسلر سے، میری ٹم ہارٹنز (کافی شاپ) پر تفصیلی ملاقات ہو ئی۔ وہ نئی نئی کو نسلر منتخب ہو

Read More »
وہ لڑکی ۔ روبینہ فیصل
Poetry
Rubina Faisal

وہ لڑکی

“وہ لڑکی ““وہ لڑکی” 1857میں دلی کی گلیوں میں بچھےلہو کی خوشبو سے نمودار ہو ئی تھیان خون آلود حالات نے اس کی نسل کو

Read More »
ڈرو اس وقت سے۔ روبینہ فیصل
Columns
Rubina Faisal

ڈرو اس وقت سے۔۔۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہندوستان سے بہت سے نوجوان روزگار کی تلاش میں بحری جہازوں کے ذریعے کینیڈا اور سان فرانسسکو چلے جاتے

Read More »

Rubina Faisal is an illustrious short story writer, novelist, political analyst, television anchor, and documentary producer from Toronto. She has hosted 250 episodes of her weekly television program from Rawal Tv (Mississauga). Her programmes have covered Pakistani and Canadian politics, the South Asian diaspora in Canada, human rights abuses globally and in the South Asian context, history, foreign policy, Afghanistan and Kashmir.