تمام تہذیب،تمام اخلاقیات میرے لیے اور آپ جناب عالی

میں ایک عام پڑھی لکھی اوور سیز پاکستانی ہوں۔10 اپریل 2022سے پہلے تک میں نیوٹرل تھی۔ میں کسی ایک شخص کو پسند یا نا پسند کر نے پر تو یقین رکھتی تھی مگر شخصیت پرستی کو بری نظر سے دیکھتی تھی۔ 25مئی  2022سے پہلے تک میں میرے اندر غم و غصہ ضرور تھا مگر میں نے خود احتسابی کے تحت اس کے حدود قیود مقرر کر رکھے تھے۔ مجھے بدزبانی بالکل پسند نہیں تھی۔ مجھے گالی گلوچ سے باقاعدہ نفرت تھی۔ مجھے باڈی شیمنگ سے گھن آتی تھی۔یہ سب میرے اندر کیسے اتر آیا کیونکہ۔۔۔۔۔ مجھے انسانوں میں کسی بھی سطح پرغیر مساوی سلوک پسند نہیں ہے۔ میں بنیادی انسانی حقوق کی شدت سے قائل ہو ں۔ مجھے غلامانہ سوچ اور رویوں سے شدید قسم کی نفرت ہے۔میں انسان کی خودی کی قائل ہو ں۔ میں کسی کا حق نہ مار سکتی ہوں نہ کسی کو اپنا حق مارنے دے سکتی ہوں۔۔ اور جب یہ سب نہ رہا تو میں بھی وہ نہ رہی جو تھی۔۔۔

10اپریل اور 25مئی کے بعد جب ہماری پاک زمین پر ملکی اور قومی حمیت و غیرت کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے اٹھایا گیا،عام انسانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی گئیں اور ستم بالائے ستم اِ س سب کے دوران انسانی حقوق کے چمپئین لکھاری دم سادھے پڑے رہے، اینٹی اسٹبلشمنٹ کی بین بجا کر اس پر جنتا کو مست کر نے والے مداری دانشور اندھے اور بہر ے بن گئے تو ہر ذی شعور انسان کے اندر ایسی تبدیلی آگئی جس کا اسے احساس بھی نہ ہوا۔

 مجھے بھی تب اندازہ ہوا،جب مختلف فنکشنز میں مختلف لوگوں نے مجھے یہ احساس دلا کر گلٹ میں مبتلا کر نے کی کوشش کی کہ آج کل آپ کی فیس بک پوسٹس آپ کے معیار کی نہیں ہو تیں۔ میں نے سوچا میرا معیار کیا تھا جس سے میں نیچے اتر آئی ہوں۔۔ تو میرا معیار وہی تھا انسانوں میں برابری کا سلوک اور خودداری۔۔ میں تو آج بھی اسی پر قائم ہوں۔ ہاں طریقہ اظہار ضرور بدل گیا ہے اور اس کی بھی وجہ بڑی مضبوط ہے۔۔ اور وہ ہے بڑے بڑے جید عالم فاضل لوگوں کی قلعی کھلنا۔۔اس بات نے مجھے اندر باہر سے مایوسی سے لتھڑ دیا ہے کہ یہ سب بڑے بڑے نظریات پر باتیں کرنے والے، تاریخی اور عالمی تناظر میں حالات و واقعات کا جائزہ لینے والے سب جھوٹے تھے۔

 جب ایک شخص کے بغض میں علم و فضل کے بڑے بڑے مینارگرتے دیکھے تو اخلاقیات کس طرح بچ سکتی تھی۔ جب یہ سمجھ آئی کہ ہزاروں لاکھوں فالورز کو ڈگڈگی پر نچانے والے یہ دانشور خود کسی ایک فرد یا اشرافیہ پارٹی کی ڈگڈی پر ناچتے ہیں تو پورے وجود کو ایک متلی جیسی کیفیت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اس خیال نے کہ یہ نظریاتی لوگ کسی ایک شخص کے بغض میں، ان سب اشرافیہ کی کرپشن، پاکستان کے ساتھ سالوں کے کھلواڑ کو بھی معاف کرنے کو تیار ہیں تو جی بجھ ہی گیا۔۔ اور تب سمجھ آئی کہ اب منہ سے گالی بھی نکل جاتی ہے، بد زبانی کرنے کو بھی دل کرتا ہے اور اس شخص کے لیے متعصب ہو نے کو بھی دل کرتا ہے جس نے مجھے لفافہ دے کر خریدا نہیں، جس نے مجھے ڈرایا دھمکایا نہیں بلکہ جس نے معصومیت سے اپنا کل اثاثہ، ساڑھے تین سال حکومت کی کل کمائی، فقط ایک ڈائری کواٹھایا اور وزیر ِ اعظم ہاؤس کو خیر باد کہتے ہوئے ہم سے فقط یہ سوال کیا کہ کوئی رہ تو نہیں گیا جو میرے خلاف نہ ہو۔ یہ سوال اصل میں قدرت نے اس سے کرایا تھاکیونکہ وہ چاہتی تھی کہ پیارے پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کا یہ جعلی ڈرامہ آر یا پار ہو جائے، جعلی دانشوروں کے چہروں سے نقاب اتر جائیں اور جمہوریت جمہوریت کے راگ الاپنے والوں اور پاک فوج کو برا بھلا کہنے والوں کی اصلیت عام لوگوں کے سامنے بھی آجائے۔

ہمارے ملک کو (جس میں ہر عام انسان شامل ہے چاہے وہ ایک عام فوجی ہے یا ایک عام شہری ہے)کو چند عسکری،سیاسی اور بیوروکریسی اشرافیہ نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ یہ اس میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے۔۔ مئی2022 کے بعد سمجھ آئی کہ یہ تو عمران خان کی اس جرات کو معاف نہیں کر سکتے کہ اس نے اشرافیہ کے اس ٹرائیکا کو توڑنے کی کوشش ہی کیوں کی۔۔ وہ ہوتا کون تھا ایک عام خاندان سے اٹھ کر سیاست میں آنے کی جرات کر نے والا۔۔ پاکستان کے لیے ورلڈ کپ جیتا تو بس کھلاڑی ہی رہتا، شوکت خانم اور نمل بنا دیا تھا تو بس سوشل ورکر ہی رہتا۔۔ اس کی اتنی جرات کہ وہ اپنی حد سے باہر نکل کر سیاست میں آئے اور نہ صرف آئے بلکہ اس کا حاکم بن جائے اور ان پر مسلط ہو جائے۔

 عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جس میں، جمہوریت کا قتل، سیلیکٹڈ، سیلیکٹڈ کا شور نہ سنائی دیا ہو۔ لاڈلا کے نعرے دن رات کانوں میں گونجتے تھے۔ انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ یہ ان سب کے ساتھ ہو کیا گیا ہے۔ اگر آرمی چیف پہلے کرپٹ سیاستدانوں کے سروں پر ہاتھ رکھتے تھے تو اب وہ ایک ایماندار بندے کو لانے کا گناہ کیسے کر سکتے ہیں۔۔ ان دانشوروں نے عمران خان کے دور حکومت میں نظریات، جمہوریت، اینٹی اسٹبلشمنٹ کا نعرہ پکڑ ا ہوا تھا تو ہم تب یہ کہتے تھے کہ جب سالوں سے یہی ہو رہاتھا اور اب بھی یہی ہوا اور آگے بھی یہی ہو گا تو شور صرف اب کیوں؟۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ شور صرف ایک ایماندار، محنتی اور پاکستان کے ساتھ مخلص انسان کو لانے کی وجہ سے تھا؟ اور وقت نے ہمارے اِس سوال کا جواب” ہاں ” میں دے کر ہمیں مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں لا پھینکا۔۔ اور شاید اسی وجہ سے اخلاقیات کا دامن ہمارے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے  اور ملک کی اس بر بادی کو دیکھ کر ہر وقت گالیاں بکنے کو دل کرتا ہے۔ “ہم” کا صیغہ اس لیے کہ اس میں بہت سے میرے جیسے خواتین و حضرات شامل ہیں۔

جو بزرگ کالم نکار آپ کو ماضی میں اینٹی اسٹبلشمنٹ پر لیکچر دیتے نہ تھکتے تھے، جو ملک کی ہر بیماری کی وجہ فوجی اشرافیہ کو بتا تے تھے، جو عمران خان سے نفرت کی وجہ ہی یہی بتاتے تھے کہ اسے فوج لائی تھی، اور وہ سیلیکٹڈ تھا جسے آپ نے ایک دن بھی چین سے کام نہ کرنے دیا تھا، اب وہی کالم نگار ایسی تحریریں لکھ رہے ہیں جن میں اس بات کا ماتم کیا جارہا ہے کہ؛

“عساکر کی عزت نہیں کی جارہی اور ایک شخص کی محبت میں عساکرر کو رگڑا جا رہا ہے۔۔وہ بھی اس وقت جب عساکر نیوٹرل ہونے کافیصلہ کر چکے ہیں۔۔۔”

 ان بزرگ دانشوروں کو انسان اب کتنی اخلاقیات میں رہ کر جواب دے؟ میں اپنی ڈیسنسی کا اچار ڈالوں یا مربہ۔۔میں کیا کروں جب تعصب، جانبداری، بغض اور منافقت، وہ بھی صرف ایک بندے کے خلاف اس قدر بڑھ جائے؟ یعنی ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ وہ عساکر نیوٹرل رہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو اب ان کو کیوں گالیاں دی جا رہی ہیں۔۔

 نیوٹرل ہو نا کسے کہتے ہیں؟ کیا اسٹبلیشمنٹ کی پارٹیوں کو(ان کے بارے میں بھی آپ جیسے لوگوں کے علم سے ہی سیکھا تھا) خان کے خلاف تحریک ِ عدم اعتماد میں ووٹ دینے کا حکم دینا،عدالتوں کو رات بارہ بجے کھول کر چوکس بیٹھنے کا کہنا؟  لانگ مارچ سے روکنے کے لیے ڈی جی رینجرز کا عام شہریوں، جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں پر شیلنگ کرنا؟اس طرح کی بے شمار بکواسیات ہیں جو نیوٹرلز کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیتی ہیں مگر فی الحال نیا حکم نامہ آیا ہے کہ پی ٹی آئی کا عوامی جلسہ بھی اب جی ایچ کیو کی اجازت سے  ہو گا۔۔۔ نہیں نہیں وہ پھر بھی نیوٹرل ہیں۔۔ ان کی عزت کی جائے کیونکہ ان کے پاس بیچنے کے لیے ان شہیدوں کی لاشیں ہیں جو ہماری حفاظت کر تے ہو ئے جان سے گزر گئے تھے۔ یہ نیوٹرل میرے ملک کے اس فخر، اس مان اس شان کا بھی سودا کر بیٹھے ہیں جو ان شہیدوں کی وجہ سے ہمیں اپنے دلوں میں محسوس ہوا کرتا تھا۔

اگر ایک ریٹائرڈ فوجی موجودہ آرمی چیف کی غلط پالیسیوں کے خلاف بات نہیں کر سکتا اور اسے یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کوئی پاکستانی ریٹائرڈ بیورکریٹ بھی پاکستانی سیاست دانوں کو، اس نظام کو اپنی تنقید کا نشانہ نہیں بنا سکتا کیونکہ وہ بھی ابھی تک حکومت پاکستان کا پیسہ پنشن کی صورت کھا رہے ہیں اور عمران خان کے خلاف کالم لکھ لکھ کر اضافی رقم الگ سے کما رہے ہیں۔ اگر ریٹائرڈ فوجی بات نہیں کر سکتا تو ریٹائرڈ بیور کر یٹ پر بھی یہ پابندی ہو نی چاہیئے۔ 

اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں مداخلت نہ کر نے کا بھاشن سنانے والے لکھاریوں، دانشوروں کو میرا بھی ایک چیلنج ہے کہ وہ بھی پاکستان میں کمائی گئی ساری دولت بمعہ اپنی اولاد کے اپنے ملک میں رکھیں، یہ نہیں کہ اپنی اگلی نسلوں کو باہر کے ملکوں میں سیٹ کرا کر، خود آخری لمحے تک پاکستان میں رہ کراس کا خون چوستے رہنے کا نام محب ِ وطنی رکھ دیں اور ہمیں اخلاقیات اور حدود سکھاتے رہیں۔

ایڈے ہن اسی وی معصوم نہیں رہ گئے۔۔۔۔ تے تسی وی اپنی ڈگڈگی سائیڈ تے رکھ دیو کہ اب اس پر ناچنے والوں کو ہوش آگیا ہے۔

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Most Popular

اعصاب پہ عورت ہے سوار
Columns
Rubina Faisal

اعصاب پہ عورت ہے سوار

چند سالوں پہلے، ایک گوری لیڈی کونسلر سے، میری ٹم ہارٹنز (کافی شاپ) پر تفصیلی ملاقات ہو ئی۔ وہ نئی نئی کو نسلر منتخب ہو

Read More »
وہ لڑکی ۔ روبینہ فیصل
Poetry
Rubina Faisal

وہ لڑکی

“وہ لڑکی ““وہ لڑکی” 1857میں دلی کی گلیوں میں بچھےلہو کی خوشبو سے نمودار ہو ئی تھیان خون آلود حالات نے اس کی نسل کو

Read More »
ڈرو اس وقت سے۔ روبینہ فیصل
Columns
Rubina Faisal

ڈرو اس وقت سے۔۔۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہندوستان سے بہت سے نوجوان روزگار کی تلاش میں بحری جہازوں کے ذریعے کینیڈا اور سان فرانسسکو چلے جاتے

Read More »

Rubina Faisal is an illustrious short story writer, novelist, political analyst, television anchor, and documentary producer from Toronto. She has hosted 250 episodes of her weekly television program from Rawal Tv (Mississauga). Her programmes have covered Pakistani and Canadian politics, the South Asian diaspora in Canada, human rights abuses globally and in the South Asian context, history, foreign policy, Afghanistan and Kashmir.