چھ ہجرتوں کا بوجھ

نومبر 2020 کے دن تھے جب میرے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو میرے سامنے وہ مسافر کھڑا تھا جس کی پیدائش کے وقت نجومی نے پیشن گوئی کی تھی کہ اس بچے کے ہاتھ میں دنیا بھر کا سفر ہے۔ وہ بنجارہ سفر کرتا ہوا میرے دروازے تک آگیا تھا۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میں ایک ایسے انسان کے ساتھ مل رہی تھی جو تاریخ کے ان ابواب کا اہم اور چشم دید گواہ تھا جنہیں پرا پیگنڈا کی دھول نے تاریخ کے اوراق سے مٹا ہی دیا تھا مگر یہ اُس مسافر کی بدقسمتی تھی کہ وہ ایسی خون آلود تاریخ کا نہ صرف گواہ تھا بلکہ اس کا شکار بھی تھا۔

عظمت اشرف اپنی سوانح عمری “ریفیوجی” تھامے میرے سامنے کھڑے تھے۔ یہ کرونا کے آغاز کے دن تھے۔ ان کا آدھا چہرہ ماسک میں چھپا ہوا تھا اور آدھے چہرے سے جھانکتی ہوئی ان کی آنکھوں میں ایک گہری خاموشی اور کر ب تھا جس کو میں اس وقت تو نہیں سمجھ پائی مگر آج جب(کوئی ایک سال بعد) ان کی آپ بیتی کو اپنے اوپر بیت چکی ہوں تو نہ صرف ان آنکھوں کے کرب کی وجہ جان چکی ہوں بلکہ حیران ہو ں کہ انہوں نے زندگی کے ایسے خونی باب کو الفاظ میں کیسے ڈھال لیا؟۔ ان یاداشتوں کو لکھنے کے لئے خون کے اس دریا،جس میں ان کے کتنے ہی پیارے ڈوب گئے تھے، پھر سے کیسے پار کر لیا؟ اتنی ہمت کہاں سے آئی ہو گی؟

نومبر 2020 کے دن تھے جب میرے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو میرے سامنے وہ مسافر کھڑا تھا جس کی پیدائش کے وقت نجومی نے پیشن گوئی کی تھی کہ اس بچے کے ہاتھ میں دنیا بھر کا سفر ہے۔ وہ بنجارہ سفر کرتا ہوا میرے دروازے تک آگیا تھا۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میں ایک ایسے انسان کے ساتھ مل رہی تھی جو تاریخ کے ان ابواب کا اہم اور چشم دید گواہ تھا جنہیں پرا پیگنڈا کی دھول نے تاریخ کے اوراق سے مٹا ہی دیا تھا مگر یہ اُس مسافر کی بدقسمتی تھی کہ وہ ایسی خون آلود تاریخ کا نہ صرف گواہ تھا بلکہ اس کا شکار بھی تھا۔

عظمت اشرف اپنی سوانح عمری “ریفیوجی” تھامے میرے سامنے کھڑے تھے۔ یہ کرونا کے آغاز کے دن تھے۔ ان کا آدھا چہرہ ماسک میں چھپا ہوا تھا اور آدھے چہرے سے جھانکتی ہوئی ان کی آنکھوں میں ایک گہری خاموشی اور کر ب تھا جس کو میں اس وقت تو نہیں سمجھ پائی مگر آج جب(کوئی ایک سال بعد) ان کی آپ بیتی کو اپنے اوپر بیت چکی ہوں تو نہ صرف ان آنکھوں کے کرب کی وجہ جان چکی ہوں بلکہ حیران ہو ں کہ انہوں نے زندگی کے ایسے خونی باب کو الفاظ میں کیسے ڈھال لیا؟۔ ان یاداشتوں کو لکھنے کے لئے خون کے اس دریا،جس میں ان کے کتنے ہی پیارے ڈوب گئے تھے، پھر سے کیسے پار کر لیا؟ اتنی ہمت کہاں سے آئی ہو گی؟

عظمت اشرف نے مجھے بتایا کہ ہمارے سابقہ قونصل جنرل عمران صدیقی (جو  اس وقت بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ہیں)، اور ہمارے محترم دوست جناب رفیع مصطفے صاحب نے انہیں میرے بارے میں بتایا تھا۔ میں ان دونوں کی تاعمر ممنون رہوں گی کہ ان کی وجہ سے ایسی محترم اور عظیم شخصیت سے میری نا صرف ملاقات ہو گئی بلکہ ان کی تاریخی خود نوشت کے ذریعے مجھے 1971 کی ٹریجڈی کے کئی ایسے پہلوؤں سے بھی آشنائی ہو گئی جو ہم مغربی پاکستان والوں کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھے۔

اس کتاب کو پڑھنے کے بعد۔۔میں دو راتوں سے سو نہیں پائی۔۔ ان مصائب کو فقط سوچ کر۔۔ سوچئیے وہ جو ان مصائب سے گزرے ہوں گے، ان کی آنکھوں میں نیند کہاں اترتی ہو گی۔۔ اسی لئے وہ آنکھیں کوئی عام آنکھیں نہیں تھیں۔۔ میں اس پروقار اور اپنے نام کی طرح عظیم انسان کے آگے شرمندہ ہوں کہ ان کے دکھوں کو پڑھنے اور بانٹنے میں، میں نے پورا ایک سال ضائع کر دیا۔ تاریخ کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھیں گے تو مورخ کے تعصب میں بھٹک جائیں گے، تاریخ کو اُس وقت کے عام انسانوں میں کھوجیں گے تو شائید سچ تک پہنچ سکیں گے۔

 آئیے! 1971 کو فاتح کے پرو پیگنڈہ سے ہٹ کر اس عام انسان کی نظر سے دیکھتے ہیں جس کی آنکھوں کے سامنے سب مناظر بت بنے کھڑے ہیں اور وہ خود بھی اسی وقت میں منجمند کھڑا ہے کیونکہ جو ستم اس پر ٹوٹ چکے ہیں وہ اس کو آواز دیتے ہیں، وہ مڑ کر دیکھتا ہے اور پتھر کا ہو جاتا ہے۔

 آئیے! میں آپ کو اس مہاجر کی کہانی سناتی ہوں جس نے زندگی میں چھ ہجرتیں کی تھیں۔۔ ہر ہجرت کے بعد اس کے ذہن میں سوال اٹھتا تھا؟ میرا وطن کو ن سا ہے۔۔ اور آخر میں جب اسے جواب ملتا ہے تو میں آپ سے پوچھوں گی کہ کیا اس سوال کا یہی جواب بنتا ہے؟

عظمت اشرف کے ابو حیات اشرف انڈیا کے صوبہ بہار کے شہر مظفر پور میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ تقسیم ہندوستان کے بعد صوبہ بہار میں مسلم کش فسادات پھوٹے تو 1952 میں اس کی آگ ان کے گھر تک یوں پہنچی کہ ان کی چھوٹی بچی جو صرف دو سال کی تھی سخت بیمار ہو گئی۔ باہر کرفیو  کی وجہ سے بچی کو طبی امداد نہ مل سکی اور وہ ماں کی گود میں ہی اس دنیا کو الواداع کر کے چلی گئی۔ عظمت اس وقت ماں کے پیٹ میں تھے۔ دو بڑے لڑکے حشمت اور اقبال بھی اتنے چھوٹے تھے کہ وہ اس تکلیف کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ حیات اشرف پر اس سانحے کا بہت اثر ہوا اور انہوں نے ہندوستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان کے خاندان نے انہیں ایسا کر نے سے بہت روکا مگر وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔

1953 کو ایسٹ پاکستان ریلوے کی EPR میں سوار ہو کر، اپنی جمع پونجی سرحد پار کرنے کے لئے انڈیا کے باڈر پر کھڑے لٹیروں کے حوالے کر کے مشرقی پاکستان میں ٹھاکرگاؤں میں اپنا نیا آشیانہ بنانے کے لئے آ گئے۔ اس چھوٹے سے شہر کا انتخاب انہوں نے عقل مندی اور دور اندیشی سے کیا تھا۔ ایک تو یہ ان کے آبائی گاؤں (انڈیا میں) کے قریب تھا،دوسرا ان کو وہاں نوکری مل گئی تھی۔۔۔  یہ ان کا پاکستان تھا۔۔جہاں سب مسلمانوں نے مل جل کر رہنا تھا اور جہاں ان کو مذہبی بنیاد پر اقلیت ہونے کا اور مارے جانے کا خوف نہیں تھا، یہاں اس زمین کو ان کے بچے اپنا گھر کہیں گے۔۔

حیات اشرف کا خیال تھا کہ ہجرت کر نے والوں کو نئی جگہ پر جا کر وہاں کے رسم و رواج اور ثقافت میں ضم ہو جانا چاہیئے۔ انہوں نے اپنی اس سوچ کو عملی جامہ بھی پہنایا، بچوں کو بنگالی میڈیم سکولز میں داخل کرایا۔ جب وہ چالیس سال کے ہوئے تو انہوں نے نوکری چھوڑ کر بزنس کرنا شروع کر دیا۔ اب ان کے سات بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ جب انہوں نے چاول کی مل لگائی تو لوگوں نے کہا حیات تمہارے پاس ایک چاول کی مل نہیں بلکہ سات سات ہیں۔  اس وقت ان کابڑا بیٹا حشمت ڈاکٹر بن رہا تھا،دوسرا اقبال گریجویشن کر رہا تھا اور ساتھ بزنس میں ان کا کا ہاتھ بٹانے لگا تھا، عظمت اور شاہد ایوب کیڈٹ سکول میں پڑھ رہے تھے، چھوٹے زاہد، ساجد، حامد اور منی  بیٹی ابھی اسی شہر کے سکولز میں تھے۔ 50 اور 60 کی دہائیوں میں صوبہ بہار ہندوستان سے مشرقی پاکستان ہجرت کر کے آنے والوں کے لئے وہ ایک مثال بن چکے تھے، ایک مشعل راہ بن چکے تھے۔ وہ مشرقی پاکستان میں ایک کامیاب، خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ اور ان کے دم سے کئی اور لوگوں کو روزگار مل رہی تھی۔

  ملکی اور سیاسی سطح پر تبدیلیاں آرہی تھیں، ان کے متعلق آپ سب جانتے ہیں، دہرانا فقط ضیاع وقت ہی ٹھہرے گا۔ 1971 کے الیکشن کے نتائج آنے کے بعدشیخ مجیب کو وزیر اعظم بنانے کے بجائے ٹال مٹول شروع ہو گئی۔ الیکشن کے تین مہینے بعد دو مارچ کو قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس طلب کر کے اور پھر اسے ملتوی کر کے یحیی  خان نے ایسی غلطی کی جس کا کفارہ کئی نسلوں کو چکانا پڑا۔۔ اس غلطی نے نہ صرف پاکستان کو توڑنے والوں کی سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا بلکہ لاکھوں بے قصور بنگالی اور غیر بنگالی انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سیاست کی اس بساط پر پٹنے والے مہرے عوام تھے۔۔ بنگالی عوام۔۔ بہاری عوام۔۔

حیات اشرف حیران کھڑے تھے۔۔ مسلمان ہندو کی مذہبی بساط سے وہ نکل آئے تھے۔ اب لسانی بساط بچھ چکی تھی۔ ان کے پرانے دوست انصاری نے،جو ہندوستان سے ہجرت کر کے آیا تھا، وہاں ایک ہندو نے اس کی جان بچائی تھی، یہاں وہ حیات اشرف کو کہہ رہا تھا؛

“اس دھرتی پر بھی وقت پورا ہو گیا ہے۔ اب یہاں بھی تقسیم کی قینچی چلے گی، ہمیں مغربی پاکستان کی طرف نکل جانا چاہیئے۔۔ “

حیات اشرف پر اعتماد تھے؛ “یہ کیسے ہو سکتا ہے، اس گاؤں میں میں نے پیسہ اور وقت لگایا ہے۔ میں اپنی محنت کا پھل یہیں پر گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ کر کہیں اور نکل جاؤں۔ یہ میرا ملک ہے، یہ پاکستان ہے، ہم سب مسلمان ہیں اور جیسے ہی شیخ مجیب وزیر اعظم بنے گا۔ سب کچھ معمول پر آجائے گا۔ “

انصاری نے کہا: “وہ وزیر اعظم بھی بن گیا تو حالات اب کبھی معمول پر نہیں آئیں گے۔۔ وہ یہ ملک توڑ کر دم لے گا۔۔ “

حیات اشرف نے ان کی بات نہیں مانی۔۔ اور اس اندھے اعتماد نے ان کو ایسے اندھے کنوئیں میں گرا دیا جہاں ان کی سب جمع پو نجی جان سمیت گم ہو گئی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے ملتوی ہونے کے بعد عوامی لیگ کے غنڈے بے قابو ہو گئے۔ بنگالی حقوق کا نعرہ  بنگالی عوام کی زبان پر تھا، اور بہاری عوام نے لاکھ ان کا ساتھ دینے اور ان کے ساتھ مل مل کر” جوئے بنگلہ” اور” بنگو بندو  “کے نعرے لگائے مگر بنگالیوں کی یہ بدگمانی کہ وہ پاکستان اور پاک آرمی کا ہی ساتھ دیں گے،ختم نہ ہوسکی۔ ایسٹ پاکستان رائفلز، باغی پولیس، مکتی باہنی، عوامی لیگ کے سچاسبھوک ۔۔ ان سب نے ہر غیر بنگالی کو ختم کر نے کی ٹھان لی اور ان دنوں ان چھوٹے چھوٹے گاؤں کی گلیوں کوچوں نے خون کی وہ ہولی دیکھی جو نسل کشی کے نام پر پہلے ہٹلر نے ہی بس کی ہوگی۔

عظمت اشرف کی یہ کہانی ہم سب کے لئے  پڑھنی اس لئے ضروری ہے کہ یہ وہ سچ تھے جن کو حکومت پاکستان نے بھی نہیں اپنایا تھا۔

 عظمت اشرف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں؛ جب ہر طرف بنگالیوں کی اموات کا ذکر ہو رہا تھا اور انٹرنیشنل میڈیا ان کی ہمدردیوں میں ڈوبا ہوا تھا، ان بہاریوں کی اموات کا ذکر کر نے والا کوئی نہیں تھا جو تعداد میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ عظمت اشرف کے سات بھائیوں اور ایک بہن میں سے صرف تین بھائی بچ گئے تھے۔ ان کے ابو حیات اشرف ان کی بی بی اور ٹھاکر گاوں اور دیناج پور دونوں شہروں میں ان کے پورے کے پو رے کنبوں کو قتل کر دیا۔ پاکستان آرمی جب وہاں پہنچی تو بے گور و کفن لاشوں کے ڈھیر انہیں ملے۔ انہیں دفناتے دفناتے وہ تھک جاتے تھے اور ستم ظریفی یہ کہ ان اموات کا بوجھ بھی  انٹرنیشل پر وپگینڈہ کرتے کرتے پاک آرمی کے ان جوانوں پر ڈال دیا گیا تھا۔

عظمت اشرف وہ تھے جن کا سارا خاندان بلکہ سارا قبیلہ مار ڈالا گیا لیکن اگر ان کا دل کسی کی قبر پر جا کر فاتحہ پڑھنے کو کرے تو ان کے پاس کوئی ایک قبر بھی نہیں۔

عظمت اشرف،71 میں ہی کراچی یونیورسٹی میں تھے، اس لئے بچ گئے۔ وہاں سے اپنوں کی موت کا بوجھ اٹھائے انگلینڈ اور پھر وہاں سے سعودی عرب چلے گئے۔ وہاں انہوں نے کیا محسوس کیا کہ واپس کراچی آنے کو ترجیح دی۔۔ کر اچی۔۔ مگر جب کراچی کے حالات 90 میں بگڑ گئے تو انہوں نے اپنے ابو کی طرح ہجرت کرنے میں دیر نہیں کی اور اچھے حالات کی امید اور انتظار میں اپنی تین بیٹیوں کی زندگیوں پر جوا نہیں کھیلا۔ عظمت اشرف، اپنی سائکی میں بیٹھی اس بات کو جھٹلا نہیں سکے کہ جب زمین تنگ پڑنے لگ جائے اور بروقت ہجرت نہ کی جائے تو دامن خالی اور دل درد سے بھر جاتا ہے۔ وہ اپنے ابو والی غلطی دہرانا نہیں چاہتے تھے۔

 آخری ہجرت کینیڈا کی طرف کرتے ہو ئے، عظمت اشرف خود سے سوال پو چھ رہے تھے۔۔میرا وطن کون سا ہو گا؟

ہندوستان؟ جہاں میں پیدا ہوا؟ مشرقی پاکستان؟ جہاں میں ایک سال کی عمر میں چلا گیا اور وہیں سے گریجوئشن کی؟ کر اچی جہاں باقی ایجوکیشن مکمل کی؟ انگلینڈ، جہاں ہائر ایجوکیشن لی؟ سعودی عرب جہاں بیوی ملی، نوکری ملی مگر مستقل گھرنہ ملا؟ پھر کراچی، جہاں اپنا گھر بنایا،بزنس کیا، نوکر چاکر رکھے، عیش کی زندگی گزاری، لیکن پاکستان میں یہ سب کچھ ہو تے ہو ئے بھی جان و مال و عزت کی خاطر یہ سب چھوڑنا پڑا۔؟ اور اب کینیڈا۔۔ ایک خوبصورت ملک، دنیا میں جنت نما جگہ جہاں انسان برابر ہیں۔۔ کوئی کسی کو مذہبی، لسانی، اور جغرافیائی بنیادوں پر نفرت کا نشانہ نہیں بنا سکتا ہے۔۔

عظمت اشرف خود کو جواب دیتے ہیں کہ میرا وطن وہ ہو گا جس کو میرے بچے اپنا وطن کہیں گے اور جہاں کی سر زمین پر میری قبر پر کتبہ لگا ہوگا اور وہ میرے ماں باپ کی طرح بے نام نہیں ہو گی۔۔۔ میرے بچوں کا جب دل کرے گا وہ میری قبر پر آکر فاتحہ پڑھ سکیں گے، میرے والی حسرت ان کا مقدر نہیں ہو گی۔۔ بس وہی میرا وطن ہو گا!!

4.5 4 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
Nawaz kharal
Nawaz kharal
1 month ago

رلا دینے والی اثرانگیز تحریر ۔۔۔

Khalida Nasim
Khalida Nasim
30 days ago

Wow, that’s all I can say. What a story.
I agree with the last few lines. We tend to live in a stat of nostalgia missing our birth place, our left behind lives but the reality is our place is where we live life the way life should be lived.
Very well written.

Most Popular

Rubina Faisal is an illustrious short story writer, novelist, political analyst, television anchor, and documentary producer from Toronto. She has hosted 250 episodes of her weekly television program from Rawal Tv (Mississauga). Her programmes have covered Pakistani and Canadian politics, the South Asian diaspora in Canada, human rights abuses globally and in the South Asian context, history, foreign policy, Afghanistan and Kashmir.