لے سانس بھی آہستہ۔۔۔۔

جائز ناجائز، حلال حرام، جھوٹ سچ کی بحث کو ایک الگ سطح پر لے جاتا ہوا مشرف عالم ذوقی کا ناول “لے سانس بھی آہستہ “بے شک اکیسویں صدی کا ایک بہت بڑا ناول ہے۔ ہمیں اس ناول میں مذہب اور اخلاقیات کی ایسی دیوار نظر آتی ہے جو کسی انسان کے اندر کبھی بھی کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔سیدھے سادے خط ِ مستقیم پر چلنے والے انسان، راستہ بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور وجہ کوئی بہت ہی حیران کن بہت ہی غیر زمینی ہو سکتی ہے یا بہت عام سی۔۔
مشرف ذوقی کے اس ناول میں ایک ایسا جہاں آباد ہے جہاں تہذیبیں ٹوٹ پھوٹ کر یا تو مٹ رہی ہیں یا ایک صورت سے دوسری میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ حالات و واقعات کی تبدیلی پاکستان بننے اور ہندوستان ٹوٹنے کی ہو یا بنگلہ دیش بننے اور بابری مسجد کے مٹنے کی ہو۔ عالمگیرسیاست کے نقوش ہوں یا حویلیوں کا زوال ہو۔۔ ذوقی کے اس ناول میں ایک جہان آبا د ہے۔ اس ناول میں یہ المیہ بہت ابھر کر سامنے آتا ہے کہ جہاں انسان ترقی کر کے نہ جانے کہاں کا کہاں پہنچ گیا ہے۔ سائبر ورلڈ جہاں ہمیں ترقی یافتہ ہو نے کی دلیل دیتی نظر آتی ہے وہیں اسی سائبر ورلڈ پر انسان ایک جانور کی صورت کھڑا ہے۔کیسی ترقی اور کہاں کی ترقی؟ جب انسان ہی انسان نہ رہا۔اور انسان ایک سطح پر جانور ہی رہا۔
میں نے بہت عرصے بعد شائید زمانہ لبعلمی کے بعد کوئی ناول ایک ہی نشست میں ختم کیا ہو۔ ناول کا انداز انتہائی دلچسپ اور تجسس سے بھر پو ر ہے۔ ہر کردار آنکھوں کے آگے آکر کھڑا جا تا ہے۔ اور موضوع۔۔۔۔۔۔۔۔۔موضوع تو ایسا کہ ناول نگار نے ابتدا میں ہی لکھ دیا کہ ایسی بھیانک کہانیاں کبھی کبھار ہی جنم لیتی ہیں۔
اس ناول میں پاکستان بننے کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کا المیہ یوں لکھا ہے کہ وہ یہ فیصلہ ابھی تک نہیں کر پا رہے کہ تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہ جانا ٹھیک فیصلہ تھا یا پاکستان چلے جانے کا۔۔ اور کرداروں کی بے بسی یوں نظر آتی ہے کہ وہ ان دونوں صورتوں میں جو بھی نتیجہ اخذ کرتے ہیں وہ خسارے کا ہی ہے۔
میرا نہیں خیال کہ incest relationship پر اس طرح اردو زبان میں کبھی کوئی ناول لکھا گیا ہو۔ ایک مجبور باپ کا المیہ جو اپنی دماغی معذور بیٹی نگار کی ماں یعنی اپنی بیوی سے اس کی ہر بات کو ماننے کا وعدہ کر لیتا ہے۔دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اثرات نئے پیدا ہو نے والے بچوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہے ہیں وہ ہمیں چیختی چلاتی، مسلسل روتی ہو ئی بچی نومولود نگار، جو کبھی چپ ہی نہیں کر تی، کی صورت اس کہانی میں دکھائے گئے ہیں۔اس سے زیادہ اس کہانی کو یہاں بیان کر نے کی مجھ میں طاقت نہیں۔ میری بے ہو شی کا عالم دیکھئے کہ میں اس ناول کو پڑھنے سے پہلے یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ انڈیا میں رہنے والے اردو زبان کے یہ عاشق لوگ کیا کیا عمدہ تخلیقات کر رہے ہیں۔ یہ اردو کے تنقید نگاروں کی کوتاہی ہے یا پبلشرز کی کہ ایسی ادبی کتابیں بھی قاری سے دور ہیں۔ مجھ جیسے کتنے ہی کم علم اور سست ہو ں گے جو ایسے ناول پڑھنا چاہتے ہیں اور یہ سوچ کر ٹھنڈی آہ بھر کر بیٹھ جا تے ہیں کہ شائید اردو میں اچھا کام ہو ہی نہیں رہا کیونکہ ہم جب بڑے قد کاٹھ والے تنقید نگاروں کو یہ کہتے سنتے ہیں کہ ادب میں اب ٹھہراؤ آچکا ہے اور کوئی بھی معیاری کام نہیں ہو رہا تو قاری سوچتا ہے اچھا ایسا ہی ہو رہا ہوگا تو کیوں وقت اور پیسہ بر باد کروں۔
۔۔ ادب کو گروپ بندیوں نے کتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ تب ہو تا ہے جب اردو لٹریچر کا قاری مایوس ہو کر سائیڈ پر بیٹھ جاتا ہے ، ان جھگڑوں نے قاری کو مایوس کر نے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ پبلشرز کے ذاتی مفادات اور یہ ادبی گروپ بندیاں۔۔ یہ سب” ادبی
ایمانداری” سے اس قدر خالی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔
ایک اچھی تخلیق اور قاری کے درمیان مت آئیے، اگر آپ تنقید نگار کے منصب پر بیٹھے ہیں،اور آپ کے سامنے کوئی معیاری کام آتا ہے وہ دشمن کا بھی ہو تو خدارا ا سکا نام لیجئے اس پر بات کیجئے اور اگر آپ کا دوست ہے اور غیر معیاری کام کر رہا ہے تو اس کو پر موٹ نہ کریں۔۔ یہ وہ بے ایمانی ہے جو کسی بھی دوسری بے ایمانی کی طرح قابل مذمت ہے بلکہ باقی سب سے کہیں زیادہ۔۔۔۔
اس ناول کو پڑھنے کے بعد نفسیات کی کئی گھتیاں سلجھتی اور کئی الجھتی ہیں۔ تہذیبوں کی اکھاڑ پچھاڑ کے بعد فرد اور معاشرے کی کہانی کیسے ایک دوسرے کو متاثر کر تی ہے، یہ سب اور بہت کچھ۔۔ ناول پڑھیے اور سر دھنئے۔۔ ذوقی صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن یہ ناول بہت عرصے تک انہیں زندہ رکھے گا کہ تخلیق کار مر بھی جائے تو ایسی لازوال تخلیق میں زندہ رہتا ہے۔۔۔

روبینہ فیصل

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Rubina Faisal is an illustrious short story writer, novelist, political analyst, television anchor, and documentary producer from Toronto. She has hosted 250 episodes of her weekly television program from Rawal Tv (Mississauga). Her programmes have covered Pakistani and Canadian politics, the South Asian diaspora in Canada, human rights abuses globally and in the South Asian context, history, foreign policy, Afghanistan and Kashmir.