پاک سر زمین۔۔۔

Published on (June 04, 2018)

فضل کا پورا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا جو منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا، وہ دیکھنے سے پہلے اسے خود موت کیوں نہ آگئی۔لاہور سے گوجرانوالہ پہنچے ا سے ابھی اتناہی وقت ہوا تھا جتنا بس کے اڈے سے اس کے گھر تک آنے میں لگتا تھا یعنی پندرہ منٹ۔ وہ ہر ہفتے کے آخر میں اپنے گھر آجا تا تھا۔لیکن آج پتہ نہیں کیا ہوا تھا، ابھی تو بدھ کا ہی دن تھا کہ بنک میں روٹین کے فرائض ادا کرتے ہو ئے اچانک اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگ گئے اور دل نے یوں ٹھاہ ٹھاہ سینے کی دیواروں سے ٹکریں مارنی شروع کر دی تھیں جیسے آج وہاں سے نکل کر ہی دم لے گا۔بنک مینجر نے اس کی یہ حالت دیکھی، تو اسے چھٹی لے کر گھر جانے کا مشورہ دیا تھا۔ وہ اسی برانچ میں تین سال سے ٹی بوائے کی حیثیت سے کام کر رہا تھا۔ سب آفیسرز اور مینجر اسے اس کی کم گوئی اور محنتی  طبیعت کی وجہ سے پسند کرتے تھے اور اس لئے اس کا خیال بھی رکھتے تھے۔ پہلے وہ چھٹی لینے والی بات ٹالتا رہا کیونکہ بچپن سے ہی اس کے باپ نے اسے فرض شناسی اور محنت کی تربیت دی تھی اور ابھی تک خود گھر میں اس کے بیوی بچوں کی رکھوالی کسی کڑک فوجی کی طرح کرتا تھا،اسی لئے وہ گھر کی فکر سے آزاد ہو کر یہاں تندہی سے اپنے فرائض انجام دینے کے قابل تھا۔۔ مگر آج وہ سمجھ میں نہ آنے اور نہ ختم ہو نے والی بے چینی سے گھبرا کر بنک سے کہیں دور بھاگ جا نا چاہتا تھا۔ ایک دو مرتبہ گھر فون کیا، مگر کسی نے اٹھایا نہیں جس سے اس کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہو گیا اور پھر مجبوراً  اسے چھٹی لینی ہی پڑی۔اور اب یہاں، بس کے اڈے سے گھر پہنچنے تک۔۔یہاں۔یہاں اس گلی میں جہاں اس کا بچپن بھاگتے دوڑتے گذرا تھا،جہاں ایک برگد کا بوڑھا درخت اس کے گھر کے باہر کسی شفیق بزرگ کی طرح ہمیشہ سایہ کیے رہتا تھا اور جس کی چھاؤں میں اس کا باپ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر حقہ پیتا تھا، اور پرانے وقتوں کو یا د کیا کرتا تھا۔۔ اسی درخت کے پاس، اس کے اپنے گھرکے آگے اور اس کی آنکھوں کے عین سامنے اسی کے محلے کے جانے پہچانے لوگ جن میں آج کچھ اجنبی چہرے بھی نظر آرہے تھے، سب ایک ہجوم کی صورت، اس کے باپ کو اندھا دھند پیٹ رہے تھے بلکہ روئی کی طرح دھنک رہے تھے۔ ایسے تو صرف اس نے اپنی مر حومہ ماں کو بچپن میں رضائیوں کو سردیاں شروع ہو نے سے پہلے دھنکتے دیکھا تھا،اور اب بالکل اسی طرح لوگ ایک انسان،جو کہ اس کا باپ تھا، اسے ایسے دھنک رہے تھے۔۔ لوگ کسی جیتے جاگتے انسان کو کسی بے جان چیز کی طرح کیسے مار سکتے ہیں؟ کیا اس ہجوم کے سینے میں دل نہیں ہے؟

اس کے ابا کی چیخیں اس کے کانوں تک پہنچ رہی تھیں وہ ایسی جگہ کھڑا تھا، جہاں اسے اتنے سارے لوگوں کے گھیرے میں بھی اپنا باپ دکھائی دے رہا تھا۔”میرے ابا میرے ابا۔۔۔”وہ چیخنا چاہ رہا تھا، لیکن یکا یک اسے لگا اس کی آواز حلق سے باہر نہیں آرہی۔
اور اسی وقت ایک غضب ناک آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔۔
“مومنو!! ہاتھوں سے نہیں، لاتوں سے نہیں، اس شیطان کو پتھروں سے مارو،بالکل اسی طرح جیسے حج کرتے ہو ئے شیطان کو کنکریاں مارنے کا حکم ہے، سمجھو،گوجرانوالہ میں بیٹھے تمھارا حج ہو جائے گا۔۔”

یہ سنتے ہی ہجوم تو جیسے پاگل ہاتھی کی طرح بے قابو ہو گیا۔ پتھر، اینٹیں، جو ہاتھ لگا،لوگ اس کے باپ کی طرف اچھالنے لگے یہاں تک کے اس کے ساتھ کھڑے ایک پندرہ سولہ سال کے لڑکے نے زمین پر گرے ہو ئے پھلوں کے سوکھے چھلکے مٹھی میں بھر کر اس کے باپ کی طرف یوں زور سے اچھالے جیسے انہی سوکھے چھلکوں سے کنکریوں جتنا ثواب لیناچاہ رہا ہو۔ اور پھر اس کے دیکھتے ہی دیکھتے، ایک بھاری اینٹ اس کے باپ کے ماتھے پر جا لگی اور خون ایک فوارے کی صورت باہر کو ابل آیا۔ اب فضل کے کانوں تک باپ کے چیخنے کی آواز بھی نہیں پہنچ رہی تھی۔شائد ہجوم کا شور  زیادہ طاقتور ہو گیا تھا یا اس کے باپ کی آواز بالکل ہی کمزور ہو گئی تھی؟ یا پھر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس کے کان صرف ہجوم ہی کی آواز سن پا رہے ہوں اور صرف باپ کی آواز کے لئے بہرے ہو گئے ہو ں۔گونگا تو وہ پہلے ہی ہو چکا تھا، اب کیا وہ بہرہ بھی ہو گیا تھا بلکہ شائد اس کے پو رے بدن پر فالج گر گیا ہے کیونکہ وہ جس جگہ سے باپ کو ہجوم سے پٹتے دیکھ رہا تھا،وہیں پر اس کے قدم زمین نے جکڑ رکھے تھے، نہ آگے ہو رہے تھے اور نہ پیچھے۔

لیکن پھر اسے احساس ہوا کہ وہ مکمل بہرہ نہیں ہوا، اسے صرف باپ کی چیخیں نہیں سنائی دے رہی تھیں، اور وہ ابھی تک وقتا فوقتا مولوی کی گرج دار آواز سن سکتا تھا، جس میں وہ مسلمانوں کو با ر بار ان کے مومن ہو نے کی نشانیاں بتا رہا تھا۔مولوی،وہی مولوی جو اس کے دونوں بیٹوں کوتقریباً  دو سال سے پڑھانے آرہا تھا، فضل کے گھر کے بیرونی دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا اور وہیں سے ہجوم کو گرمانے والے اعلانات کر رہا تھا۔
پھر یکا یک ہر طرف پولیس سائرن کی آواز گونج اٹھی۔”پو لیس آگئی پولیس آگئی۔۔”
” پو لیس کے پہنچنے سے پہلے اس مردود کو اوپر پہنچا دو۔۔۔۔ “مولوی صاحب پورے پھیپھڑوں کے زور سے چلائے۔
“مر گیا ہے شاید مولوی صاحب۔۔ یہ تومر گیا ہے۔۔۔۔”
مر گیا ہے، مر گیا ہے۔۔ کا شور چاروں طرف مچ گیا۔۔ فضل کے کانوں میں جیسے کسی نے گرم کر کے سیسہ ڈال دیا ہو۔۔
مر گیا مر گیا۔۔۔۔ میرا باپ مر گیا؟ اس نے کسی سے پو چھنا چاہا۔۔۔۔ بین ڈالنے چاہے لیکن آواز نے نکلنے سے پھر انکار کر دیا۔
بے بسی کہ ایسی بے بسی۔۔۔ گالوں پر آنسو پھسلے تو اسے احساس ہوا کہ وہ ابھی زندہ ہے، ابھی صرف اس کا باپ مرا ہے۔ تو کیا مر گیا میرا باپ؟ ایسے؟ اس طرح، لوگوں کے مکوں،لاتوں، پتھروں اور گالیوں سے۔۔۔کیوں؟ کیوں مرا ایسے؟۔۔۔۔
وہ “کیوں “کو منہ میں بھر کر لوگوں پر داغننا چاہتا تھا، اپنے باپ کو ان سب کے پنجوں سے چھڑانا چاہتا تھا مگر وہ اب زمین پر کسی ڈھیر کی طرح پڑا تھا اورلوگ ابھی تک جوتوں کی نوکیں اس کے باپ کے کمزور مردہ سینے میں چبھو رہے تھے۔
پولیس نے وہاں پہنچتے ہی لوگوں کو منتشر کر نے کے لئے لاٹھیاں برسانی شروع کر دیں ۔ یہ دیکھتے ہی سب مومن تتر بترہو نے لگے مگر وہاں سے ٹلے نہیں۔بڈھے کے زمین دوز اور غیر متحرک ہو نے کے بعد ایمانی جوش ذرا کم ہو اتھا مگر ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
“مر گیا ہے، سر۔۔ “ایک کانسٹیبل کی آواز ساری گلی میں کسی کالے بادل کی طرح پھیل گئی۔ اسی وقت فضل کی نظر اپنی بیوی یاسمین پر پڑی۔ وہ گھر کے دروازے میں مولوی کے پیچھے، آدھا چہرہ ڈھانپے، کھڑی تھی۔ اس کی آنکھیں سپاٹ تھیں، فضل کو لگا وہ بھی بے جان سی کھڑی ہے بالکل اسی کی طرح۔ وہ بھی تواسے اپنا باپ ہی سمجھتی تھی۔ بچے؟۔۔میرے بچے؟ ایکدم اسے اپنے بچوں کا خیال آیا۔۔

میرا باپ تو میرے بچوں کے سر کا سایہ تھا،ان لوگوں نے اس قدر بے رحمی سے اس کا، اس کی بہنوں کا، اس کی بیوی کا اور اس کے بچوں کا سایہ، کیسے چھین لیا؟ کس نے انہیں یہ حق دیا تھا؟ اور کیوں؟ کیوں کیا یہ سب؟اس کے باپ کی تو پو رے محلے میں شرافت اور محنت کی وجہ سے بڑی عزت تھی۔ جب وہ تینوں بہن بھائی چھوٹے چھوٹے تھے اور ان کی ماں مر گئی تھی تو ان کے باپ نے ان کی خاطر دوسری شادی نہیں کی تھی اور خود کو نوکری اور گھر تک محدود کر دیا تھا۔ آج جس دروازے کے آگے اس کی خون آلود لاش پڑی ہے، کل اسی دروازے سے تو اس نے اپنی دو بیٹیوں کو باعزت طریقے سے رخصت کیا تھا، اسی دروازے سے تو فضل کی دلہن یعنی اپنی بہو کو بیاہ کر لایا تھا۔۔آج اس دروازے کی اتنی ہمت کہ اپنے بنانے،سنوارنے، تھامنے والے کی لاش سمیٹے کھڑا ہے۔۔۔۔لعنت ہو اس دروازے پر، ان لوگوں پر۔۔”غم کی جگہ غصہ لینے لگا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ ابھی تک ہجوم نے فضل کو نہیں دیکھا تھا۔ایسے اندھے پن کی وجہ، ابھی تک فضل کو سمجھ نہیں آسکی تھی۔
“ا س کا کوئی مرد رشتے دار ہے؟کوئی بیٹا ویٹا۔۔یعنی پتر شتر؟ ۔۔” پولیس انسپکٹر نے اس کی بیوی کی طرف دیکھتے ہو ئے ہجوم سے پو چھا، جو اب دائرے سے ہٹ کر کونوں کھدروں میں لگے کھڑے تھے۔ اب اس کے باپ کے مردے کے پاس صرف وہی انسپکٹر اپنے دو سپاہیوں کے ساتھ کھڑا تھا اور جیسے اس نے فضل کے دل کی بات پڑھ لی تھی۔
“دیکھیں بی بی!! ہم تو فون سنتے ہی بھاگے آئے تھے۔ہمیں پتہ ہے ایسے موقعوں پر لوگ کتنے جذباتی ہو جاتے ہیں۔ قرآن  اور اونچی شان والے نبی کے لئے کون گستاخی برداشت کرے گا۔ ہتھیلی پر جان لے کر نکل پڑتے ہیں سب کے سب، سب کام دھندہ چھوڑ کے۔۔ہم بھی پہنچ گئے لیکن دیکھیں ہمارے آنے سے پہلے ہی جان لے لی۔۔ بڈھے کی۔۔ لو بتاؤ ذرا، ہمیں اپنا کام کر نے دیتے، قانون ہے نہ توہین مذہب کا۔۔”
“سر جی توہین رسالت کا بھی۔۔۔” ایک سپاہی نے لقمہ دیا۔۔۔
انسپکٹر اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔ “ہے کو ئی مرد رشتہ دار۔۔۔؟”لوگوں کی طرف دیکھ کر پورے زور سے چلایا۔
“یہ ہے یہ ہے نا۔۔ یہ اس مردود کا بیٹا۔۔” وہ جو سمجھ رہا تھا کہ وہ اس اندھے ہجوم کی نظروں سے اوجھل تھا، تو وہ اس کا وہم تھا،انہیں اس کے ہو نے کی خبر تھی، مگر وہ اسے نظر انداز کئے ہو ئے تھے۔ ہجوم پاگل نہیں تھا، ہجوم کو سب پتہ تھا کب کیا کرنا ہے۔ جیسے ہی پو لیس کے سامنے اسے حاضر کرنا تھا، اسے دھکے دیتا پو لیس کے سامنے لے آیا۔۔
تو ہے اس کا بیٹا؟ انسپکٹر نے لہجے میں حقارت بھرتے ہو ئے کہا۔
فضل نے زور زور سے ہاں میں سر ہلایا، کیونکہ اسے ڈر تھاکہ آواز تو نکل نہیں رہی، کہیں ایسا نہ ہو کہ سر بھی نہ ہلے۔
“اتنی زور سے کیوں سر ہلا رہا ہے، بڑے فخر کی بات ہے یہ کوئی۔۔اس جیسے کا بیٹا ہو نا۔۔؟”انسپکٹر نے اس جملے کے بعد لوگوں کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھا۔لوگ خاموشی اور حقارت سے بس اسے گھورتے رہے۔ اس سے انسپکٹر کو یہ اندازہ ہو گیا کہ ہجوم کا جوش بڈھے کے مرنے کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ہے اور اب وہ اس کے گھر، مال یا بچوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔اس یقین دہانی کے ساتھ ہی اس نے بھی مرنے والے کے بیٹے کے ساتھ سلوک کو نرم رکھنے کا سوچا۔۔۔بلاوجہ اپنا جی کیوں جلانا، ویسے بھی اس نے تازہ تازہ کہیں سے پڑھا تھا کہ زیادہ غصہ کر نے والے جلدی مر جاتے ہیں اوراپنی جان تو اس کو تھی ہی بڑی پیاری۔۔
ہاں بھئی کہاں سے آرہے ہو؟ اب انسپکٹر کی آواز میں پہلے والی سختی اور حقارت نہیں تھی۔
“لا۔۔لا۔۔۔لاہو۔۔۔لاہور۔۔۔۔کسی نئے نئے بولنے والے بچے کی طرح اس نے اٹک اٹک کر” لاہور” کہا۔
“تجھے پتہ ہے یہاں کیا ہوا ہے؟ انسپکٹر نے دیدے چاروں طرف گول گول گھما ئے۔
“نہ۔جی۔۔۔نہ۔۔۔۔۔اس نے خوفزدہ نظروں سے لوگوں کو دیکھتے ہو ئے کہا جیسے انہیں یقین دلا رہا ہو کہ اس کے باپ کو جس بھی جرم میں ان سب نے مار مار کر مار ہی دیا ہے، اس جرم سے میرا یعنی فضل دین کا کوئی تعلق نہیں۔ وہ توصرف مرنے والے معراج دین کا بیٹا تھا اور باقی وہ کچھ نہیں جانتا،اسے لگا ہجوم اس کی لاعلمی اور معصومیت پر یقین رکھتا تھا اسی لئے اسے بس ٹک ٹک دیکھ رہا تھا۔اب لوگوں کے ہاتھ، ٹھڈے اور زبان سب خاموش تھے۔مگروہ ان سب لوگوں سے ڈر رہا تھا جنہیں وہ بچپن سے دیکھ رہا تھا۔جن کے ساتھ وہ کھیلتا تھا، باتیں کرتا تھا یا جن کی نصحیتیں سنتا تھا اور اب وہ انہی سب سے خوفزدہ تھا اور یہ خوف کبھی کبھار غصے کی شکل بھی لے رہا تھا مگر وہ غصہ کرنے کی
پوزیشن میں نہیں تھا تو وہ بس خوفزدہ ہی رہا۔۔
اسے مزید ڈرانے کے لئے، شائد،یا ہجوم کو ٹھنڈا ہو تے دیکھ کر، مولوی صاحب پھر چلائے: لٹکا دو اس ملعون کو درخت سے۔۔الٹا۔۔”
“نہ جی۔۔بس کریں مولوی صاحب۔۔مولوی صاحب قنون زندہ ہے ابھی اور آپ کے سامنے وردی پہنے کھڑا ہے۔
کفنانے دفنانے کا انتظام کرو بیٹا جی۔۔” انسپکٹر نے ایک ہی سانس میں مولوی اور فضل کو ہدایات دیں۔
“انسپکٹر صاحب کوئی کفن دفن نہیں،لٹکا ئیں گے شاخ پر الٹا، اس کی لاش کو۔۔تاکہ آئندہ سے کوئی لعنتی ایسی گستاخی کر نے کی جرات نہ کرے۔۔ “مولوی کے ساتھ کھڑے اس کے ایک چمچے کی آواز لگانے کی دیر تھی کہ ہجوم میں پھر بھنبناہٹ شروع ہو گئی۔
“لٹکائیں جی لٹکائیں۔۔۔ دفنانا کیوں؟گدھوں کو نوچنے دیں۔۔ ”
“لٹکائیں لٹکائیں۔۔۔”۔ہجوم چیخنے لگا،ایک دم سے جیسے مرے ہو ئے جوش کو پھر سے ایک نئی دلچسپی،ایک نیا مقصد مل گیا ہو اور وہ پھر سے جی اٹھا ہو ۔
“چپ کر و۔۔۔خبردار۔۔ دوڑو یہاں سے، میں تم سب کو الٹا لٹکا دوں گا۔۔ بھاگو یہاں سے۔”۔ انسپکٹر نے اپنی جیب میں ابھرے پستول کو تھپکتے ہو ئے ہجوم کو دھمکایا۔
“ابے تو کچھ پھُٹ،گونگا بنا کھڑا ہے۔۔وارث ہے نا اس بڈھے کا اور جانتا بھی نہیں کہ اس نے کیا کیا تھا؟انسپکٹر نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑتے ہو ئے کہا۔ دفنا دے جا کے اسے اب۔۔چپ چاپ۔۔۔نماز ِ جنازہ تو کوئی نہیں پڑھائے گا اس کی، مولوی صاحب کی تو آنکھوں کے سامنے اس نے پاک کتاب کے صفحے آگ میں پھینک دیے  تھے۔کسی عام انسان کے سامنے یہ کیا ہو تا تو شائد لوگ بتانے والے پر شک کرتے مگر اب تو شک و شبے کی گنجائش نہیں مولوی صاحب کی چشم دید گواہی کے بعد۔۔ اور تیری بیوی یعنی کہ بڈھے کی بہو کی آنکھوں کے سامنے سب ہوا ہے۔۔۔ تو بھائی اٹھا اسے اور اس سے پہلے کہ لوگ اسے لٹکا دیں، جا کے دفنا آ۔۔۔۔۔۔۔چل ہمت کر۔۔۔پاگل ہو گیا تھا شائد تیرا باپ۔۔۔”
فضل کی آنکھوں میں مرچیں جلنے لگیں، اس کے سینے میں سانس رکنے لگا: “انسپکٹر صاب۔۔وہ پاگل نہیں تھا،بالکل ٹھیک تھا، ابھی پچھلے ہفتے ہی تو میں اسے مل کے گیا تھا، بلکہ ہفتہ بھی کیا دو چار دن پہلے۔۔۔”
“چپ کر بے پاگل نہیں ہوا تو کیا کافر ہو گیا تھا؟پھر تو لوگوں نے ٹھیک کیا، میں ایویں پرشان ہو رہا تھا کہ پگلے کو مار دیا۔۔”
“نہیں نہیں میرا ابا کافر نہیں تھا، نمازیں پڑھتا تھا, روزے رکھتا تھا ابھی تک,پورے کے پورے،اس عمر میں بھی، پچھلے سال ہی تو عمرہ کر کے آیا تھا۔۔ رو رو کے اللہ کے گھر جانے کی خواہش کرتا تھا۔۔ اللہ نے بھی سن لی تھی۔۔ہماری ماں اور باپ دونوں تھا۔” فضل بین ڈالنے لگا۔
“ابے چپ۔۔چپ۔۔انسپکٹر نے گھبرا کر لوگوں کی طرف دیکھا۔ اس کا ماتم نہ منا، ورنہ لوگ تجھے بھی چیر پھاڑ دیں گے۔۔ چپ کر۔۔ بالکل چپ، ایک آنسو نہ نکلے۔”انسپکٹر نے سرگوشیوں میں اسے آگاہ کیا۔
یہ سنتے ہی اس کے اوسان خطا ہو گئے اور اس نے آنسوؤں کو وہیں پر روک دیا اورسہم کرلوگوں کو دیکھنے لگا مگر لوگ اب آپس میں باتوں میں مصروف تھے یا کبھی کبھار مولوی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ لیتے تھے۔جو سر پر بندھے سبز رومال کو بار بار ہلا جلا رہا تھا۔ مولوی کا گورا رنگ جوشِ جذبات کی وجہ سے تانبے کی طرح سرخ ہو رہا تھا اور ماتھے پر پسینے کے قطرے مستقل ڈیرا جمائے ہو ئے تھے جنہیں وہ اپنے رومال سے صاف کرتا جا رہا تھا۔
اس مولوی کو اس کے ابے نے ہی تو بچوں کو قرآن ِ پاک پڑھانے کے لئے رکھا تھا،کوئی دو سال پہلے۔۔فضل کو تو ان معاملات کی خبر ہی نہیں ہو تی تھی، اس کا باپ اور بیوی مل کر یہ سب اندر باہر کی چیزیں دیکھ لیتے تھے۔ انہوں نے ہی اسے بتایا تھا کہ مولوی صاحب دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکول کالج کے بھی پڑھے ہو ئے ہیں۔ اور اپنے شوق سے دین کی خدمت کی راہ پر چل پڑے ہیں اور سکول میں دینیات کا استاد ہو نے کے ساتھ ساتھ،لوگوں کے گھروں میں جا کر قرآن شریف پڑھاتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ ساتھ بڑی عمر کی لڑکیوں اور عورتوں کو بھی تجوید کے ساتھ قرآن سکھاتے ہیں۔ایسی جوانی میں اللہ کی راہ میں خود کو وقف کردینا،بڑی بات ہو تی ہے۔اس لئے توسب اہل ِ محلہ ان کو کو بڑی احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور بیٹیوں،بہنوں اور بیویوں کو ان کے سامنے جانے یا ان سے سبق لینے سے نہیں روکتے تھے۔ اور آج اسی دیندارمولوی کی گواہی۔۔ وہ اس کے آگے کچھ نہ سوچ سکا۔ اس واقعہ نے اس کی سوچ سمجھ،سب چھین لی تھی۔ وہ کسی لاش کی طرح کھڑا تھا۔
اس کی بیوی اسے کتنا کہتی تھی کہ روز کے روز لاہور گوجرانوالہ آنا جانا کر لیا کرو۔ ابا جی سے اب اتنی ذمہ داریا ں پو ری نہیں ہو تیں۔ اور میں بھی رات کو اکیلی۔۔۔

اکیلی؟کہاں اکیلی۔۔ ابا جی اور میرے دو جوان پتر تیری رکھوالی کے لئے ہو تے ہیں نا؟ڈرتی ہے کیا؟
نہیں ڈرتی ورتی کسی سے نہیں ہوں۔۔ میں تجھے ڈرنے والی لگتی ہوں؟وہ تنک کے کہتی تھی۔۔
اور ساتھ ہی شرما کر کہتی تھی تیرے بغیر بہت مشکل لگتا ہے،دن کو تو انسان مصرو ف رہتا ہے۔۔ رات کو سمجھ ہی نہیں آتی۔اور اتنا تھکنے کے بعد بھی نیند نہیں آتی۔۔ سمجھ نا۔۔۔ وہ اسے احمقوں کی طرح گھورتا دیکھ کر جھنجلا جاتی تھی۔۔تو بس بدھو ہی رہنا۔
بس یہی احساس ِ جرم تھا فضل کا، کہ وہ بیوی کے حقوق ٹھیک سے پو رے نہیں کر رہا تھا۔۔ویک اینڈ پر گھر آتا بھی تو بچوں کو وقت دینے کی فکر میں رہتا، اور رات کو تھک ہار کر سو جا تا تھا۔۔ شروع شروع میں وہ بہت لڑنے لگی تھی۔ پھر اللہ بھلا کرے بڑی صابر عورت نکلی، بس اس چیز کو بھی خاموشی سے برداشت کر گئی اور وہ جب گھر آتا تو اس کے کھانے پینے کا خوب خیال رکھتی اور خوش رہتی۔۔ سب کتنے خوش تھے۔۔ اس کا ابا بھی پہلے سے زیادہ عبادت کر نے لگ گیا تھا۔ بچے پڑھائی میں ٹھیک، بیوی مطمئن بلکہ خوش دکھائی دیتی تھی۔۔ سب کتنا اچھا چل رہا تھا۔۔اور ایک دم سے اتنا ڈروانا واقعہ اس کی آنکھوں کے سا منے ہو گیا۔۔ ابا نے قران ِ پاک کے صفحے کیوں جلائے؟ ابا تو نعتیں اور قوالیاں سنتا تھا تو عقیدت سے بھیگ جا تا تھا۔ ابا۔۔۔۔تو کیا ابا واقعی پاگل ہو گیا تھا؟ کیا یاسمین جو شروع شروع میں مجھے کہا کرتی تھی اور بعد میں کہنا چھوڑ گئی تھی کہ ابا پر گھر کی ذمہ داری اس عمر میں نہ ڈال۔۔۔ واپس آجا یا کر، یا گوجرانوالہ ٹرانسفر کرا لے۔۔ سال ڈیڑھ سے تو وہ بالکل چپ تھی۔ بالکل مطمئن۔۔۔اس کا مطلب کہ اباسب سنبھال رہا تھا،پھر شائد اس کا دماغ جواب دے گیا۔۔ کیا میں نے یاسمین کے ساتھ ساتھ ابا پر بھی ظلم کر دیا تھا۔۔ گھر سے دور رہ کے۔۔ابا کو آرام نہیں دے سکا۔۔ ابا میرا ابا،پاگل ہو گیا تھا۔۔۔ ہائے اوہ ربا۔۔
سوچ سوچ کے اس کا دماغ پھٹنے لگا تھا۔۔کاش وہ باپ کے بوڑھا ہونے اور بچوں کی ضرورتوں کے بڑھنے سے اتنا خوفزدہ نہ ہو تا کہ اپنے آپ کو مشین بنا کر نہ رکھ چھوڑتا، بلکہ بیوی، بچوں اور ابا کو وقت دیتا۔۔ پتہ نہیں کیا ہو گیا مجھ سے۔۔ بیوی بچے میرے تھے، بار ابا پر ڈالتا رہا۔۔۔ ابا۔۔ہائے میرا ابا۔۔ وہ گھٹنوں میں سر دبا کر اونچی اونچی رونے لگا۔۔۔۔
مولوی اس کے قریب ہو کر آہستہ آہستہ بولنے لگا،اس کی آنکھوں میں اب ہمدردی تھی:
دیکھ فضل، وہ میرے بھی باپ جیسا تھا،مگر پاگل ہو گیا تھا، کوئی وجہ ہی نہیں تھی طیش میں آنے کی، آیا ہے بچوں کے سامنے سے قرآن ِ شریف اٹھایا ہے اور اس سے پہلے کہ میں مقدس کتاب کی حفاظت کر سکتا، صفحات شہید کر دیے  اور ایک پل میں باورچی خانے جا کر آگ میں بھی جھونک دیئے۔ اتنی پھرتی بھر گئی تھی بڈھے میں کہ ہمیں سنبھلنے کا بھی موقع نہ ملا۔۔ زوجہ تمھاری تو میرے چیخنے کی آوازوں پر بچاری نہ جانے کہاں سے دوڑی آئی۔ اسی نے آگ میں ہاتھ ڈال دیا، صفحے اٹھا لیئے کچھ،میں تو ایسی توہین برداشت نہ کر سکتا تھا،تو میں نے اسے دھکے مار کر گھر سے باہر کیا، اور پلک جھپکتے ہی لوگ نہ جانے کہاں سے اکٹھے ہو گئے۔۔پھر لوگوں کے دل میں جو آئی،انہوں نے کیا۔۔ سرخرو ہو ئے سب کے سب۔۔ تو بھی عقل کر ایسے انسان کا ماتم نہ کر بلکہ شکر کر کہ تیرا گھر پاک ہوا۔۔۔نجاست سے۔۔۔
فضل خاموشی سے سنتا اور سسکیاں بھرتا رہا۔۔۔
مولوی بولتا رہا:مقصد یہ نہیں تھا میرا،مقصد یہ تھا کہ بس۔۔۔بہرحال خوشی اس بات کی ہے میاں جان کا نقصان اپنی جگہ مگر ایک بات تو طے شد ہو گئی کہ ایمان زندہ ہے، اہل ِ محلہ کا۔۔۔اور تمھاری گھر والی کا بھی۔۔
پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے اونچی آواز سے بولا: تم لوگوں نے قانون ہاتھ میں لے لیا ہے، مگر یہ زمین ہے ہی پاک لوگوں کی۔ پہلے اسلام پھر کچھ اور۔۔یہی ہے پاکستان،اسی لئے بنا تھا اور جانتے ہو اللہ کے دربار میں بھی سرخرو ہو تم سب، روز ِ قیامت خود پیارے پیغمبر جنت کے دروازے پر آکر تم لوگوں کا استقبال کریں گے اور جس کے پتھر سے یہ شیطان جہنم رسید ہوا ہے، اسے اونچی سرکار والے کے پاس بیٹھنے کی سعادت نصیب ہو گی۔میرے آقا اُسے گلے لگاکر شکریہ کہیں گے۔
سب انسپکٹر نے انسپکٹر کے کان میں کہا؛”سر جی رکوائیں تقریر۔۔ لوگوں کی پھرکی پھر نہ گھوم جائے، اور اس کا گھر اور بچے ہی نہ جلا دیں۔۔”
“پاگل ہے تو؟ دیکھ نہیں رہا اسلام کا عشق سر چڑھ کر بول رہا ہے۔اسے روک کر میں نے اپنی جان نہیں گنوانی۔۔ مولوی گھر والوں کے خلاف نہیں بول رہا۔۔ انہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔انہیں بچا گیا ہے۔”
اور مولوی کہے جا رہا تھا: آج کی مثال رہتی دنیا تک زندہ رہے گی۔ گوجرانوالہ کے اس چھوٹے سے محلے کی مثال اسلامی تاریخ میں دہرائی جائے گی۔ کیسے قرآن  ِ پاک کی حرمت کے لئے ایک شیطان بڈھے کو، محلے کے نوجوانوں نے پتھروں سے ہی مار دیا۔۔اسلام زندہ باد،اہلیان ِ گوجرانوالہ زندہ باد۔۔ زندہ باد۔۔۔زندہ باد۔۔ محلہ نعروں سے گونجنے لگا۔
مولوی صاحب!! جنازہ نہیں کوئی پڑھے گا؟فضل نے آخری کوشش کر ڈالی۔۔
جا۔۔دفنا آجا کر چپ کر کے۔۔ کو ئی نماز نہیں کوئی جنازہ نہیں۔۔ شکر کر اندر جا کے اپنی بیوی کا۔۔ اس نے میرا ساتھ دیا، تیرے بچے۔۔بھی سمجھدار ہیں۔۔بچ گیا تیرا گھر۔۔ورنہ انہوں نے جلا دینا تھا۔۔مولوی نے جلالی آواز سے اسے ڈانٹتے ہو ئے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے کہا۔
جا جا کے دفنا آ۔۔۔۔۔۔۔۔دور ہو جا اسے لے کے۔۔۔۔
اور پھر اسے نہیں پتہ کب کیسے اور کہاں وہ اپنے باپ کو جا کر دفنا آیا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسمین کا رنگ ابھی تک لٹھے کی طرح سفید تھا اور وہ کھوئی کھوئی ادھر سے ادھر پھر رہی تھی۔۔جب دونوں کمرے میں اکیلے ہو ئے تو فضل اس کی طرف لپکا اور بے تابی سے اسے لپٹ گیا:
یاسمین یہ سب کیا ہو گیا؟ بتا مجھے ابا کو کیا ہو گیا تھا؟کیوں اس نے یہ سب کیا؟لوگوں کو کیسے پتہ چل گیا؟
وہ پتھرائی ہو ئی بس خاموشی سے اسے دیکھتی گئی۔۔
بچے کہاں ہیں یاسمین۔۔ بچے کہاں تھے اس وقت جب ابا کو یہ دورہ پڑا تھا۔۔ مولوی صاحب پڑھا رہے تھے انہیں؟ مولوی صاحب کے آگے سے قرآن ِ پاک اٹھایا؟ بچے کہاں تھے؟ ابا کو بچے بھی نظر نہ آئے۔۔۔۔
وہ ابھی بھی چپ رہی۔۔۔۔۔
اس سے مایوس ہو کر وہ بچوں کو آوازیں دینے لگا۔۔ وسیم ندیم۔۔کہاں ہو تم باہر آؤ۔۔
سامنے سٹور کا دروازہ کھلا اور دو ڈرے سہمے، ۷اور ۸ سال کے بچے بھاگ کر آ ئے اور اس کی ٹانگوں کو چمٹ گئے اور حلق پھاڑ پھاڑ کر رونے لگے۔ اس نے ان دونوں کو سینے سے بھینچا اور ان کے ساتھ مل کر رونے لگا۔۔ باپ کے ماتم کے لئے بس یہی دو ننھے منے سینے میسر تھے، جن کے ساتھ لپٹ کر وہ رو سکتا تھا۔وہ گھر کی چار دیواری کے اندر ان دو معصوموں کو سینے سے چمٹائے بغیر کسی خوف کے اونچی اونچی روتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اس واقعے کو ہفتے سے زیادہ ہو گیا تھا۔یاسمین کا سسر منوں مٹی تلے چلا گیا تھا، مگر ابھی بھی اسے کبھی کبھار لگتا کہ وہ دروازہ کھول کر ایکدم سے گھر کے اندر آگیا ہے۔وہ جا جا کر دروازے کی کنڈی چیک کرتی رہتی۔
فضل اس کی اس حالت کو دیکھتا تو سوچتا، کتنا پیار کرتی تھی یہ ابے کو ابھی تک اس کی منتظر رہتی ہے۔فضل نے واپس لاہور نہ جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ابھی تو وہ چھٹی پر تھا، لیکن اس نے یاسمین کے کہنے پر ہیڈ آفس کو گوجرانوالہ ٹرانسفر کی درخواست بھی بھیج دی تھی جس میں ابے کے مرنے کے بعد گھر کی مجبوریوں کی لمبی لسٹ تھی۔وہ تو بیوی بچوں کو بھی لاہور لے جانا چاہتا تھا کیونکہ اب اسے اس گھر سے، دروازے سے، گلی سے اور سامنے کھڑے درخت سے وحشت ہو نے لگی تھی۔
یاسمین نے کہا تھا کہ وہ اس گھر کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی، یہاں بیاہ کر آئی تھی، یہیں سے جنازہ اٹھے گا میرا۔۔۔ ”
وہ خاموشی سے مان گیا تھا۔۔ ابا کو بغیر نماز کے دفنانے کے بعد اس کی سوچیں ویسے ہی مر چکی تھیں۔ وہ ابھی تو بس صرف سانس لے رہا تھا۔۔پتہ نہیں جینا کب شروع ہو۔یا وہ کبھی بھی اب جی نہیں سکے گا؟ بچے بھی اب سہمے سہمے رہتے تھے، ہنسنے کھیلنے کی آواز ایک خواب بن کے رہ گئی تھی۔ ایک یاسمین ہی تھی جو بہت جلدی اس صدمے سے باہر آگئی تھی اور سارے گھر کا نظام اور ان تینوں کو سنبھال رہی تھی۔ فضل اور بچوں کو اچھے اچھے کھانے بنا کر دینے لگی تھی۔فضل کے آگے پیچھے گھومتی رہتی۔بچوں کو ضرورت سے زیادہ پیار کر نے لگی تھی اور ا س بات پر دل ہی دل میں اللہ کا لاکھ کروڑ شکر کرتی کہ اس دن بچوں کو محلے میں کھیر بانٹنے بھیج دیا تھا۔ورنہ اگر ہمیشہ کی طرح انہیں گھر کے ہی کسی اور کمرے میں چھپن چھپائی کے نام پر چھپا دیتی تو شائد اس کے سسر کے اچانک آجانے پر اور شور مچانے پر، وہ کچھ سن یا کچھ دیکھ لیتے اور کسی کے سامنے سسر کا ایک بھی لفظ بھول چوک یا معصومیت میں دہرا دیتے تو غضب ہو جاتا،صادق اور وہ اتنے آرام سے بچ نہ پاتے۔ اللہ بھی پردے رکھنے والا ہے۔صادق (مولوی)ٹھیک ہی کہتا تھا۔
یاسمین کو تو اب یہ یاد بھی نہیں تھا کہ اس کے اورصادق مولوی کے جسمانی تعلقات کا آغاز کب اور کیسے شروع ہو گیا تھا۔ اسے بس یہ یاد تھا کہ فضل کی غیر موجودگی یاگھر میں موجود ہو نے کے باوجود، تھکے تھکے اور اس سے دور رہنے کی وجہ سے، اس کے جوان جسم میں چیونٹیاں سی رینگتی رہتی تھیں اور جب ایک دفعہ مولوی کو پانی کا گلاس پکڑاتے ہو ئے، اس کا ہاتھ مولوی کے نرم ہاتھ سے ٹکرایا تھا، تو اس لمس نے اسے رات بھر مسرور کئے رکھا تھا۔ مولوی نے بھی پانی پیتے ہو ئے اس کی خاموش پیاس کو محسوس کر لیا تھا۔ اسی لئے، اس کے بعد وہ جب بھی اس کے سامنے جاتی مولوی کی گہری نظریں اسے اپنے جسم کے آر پار محسوس ہوتیں۔چیونٹیاں رینگنا چھوڑ کر رقص کر نے لگتی تھیں۔اب مولوی چائے کا کپ یا گلاس اس کے ہاتھ سے لیتے ہو ئے اس کا ہاتھ بہت دیر تک دبائے رکھتا اور وہ بھی چھڑانے کی کوشش نہ کرتی۔ شروع شروع میں گھبرا کر بچوں کو نیچی نگاہوں سے دیکھ لیتی تھی لیکن ہمیشہ انہیں سپارے کے صفحوں میں گم دیکھ کر اس نے یہ احتیاط بھی چھوڑ دی۔
مولوی راکھ کے ڈھیر کے نیچے سے چنگاریوں کو ہوا دینے میں مصروف رہا۔۔وہ ایک جوان اور مکار مرد تھا جسے لوگوں کی نفسیات سے بخوبی واقفیت تھی اور وہ لوگوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا بھی خوب جانتا تھا۔ اور عورتوں کے معاملے میں تو اس کو خاص مہارت تھی،جس احترام کے منصب پر وہ فائز تھا، اس سے فائدہ اٹھانا، اس کا معمول تھا، کسی بھی طاقتور انسان کی طرح۔۔۔ اس کے ہاتھ میں کسی بھی بڑے افسر یا نواب جتنی طاقت تھی۔اور لوگوں کے گھروں میں جا کر قرآن پڑھانے کا سلسلہ اس نے کچھ عرصے سے شروع کر رکھا تھا۔ مولویوں کے بچوں کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ کے چند واقعات منظرِ ِ عام آنے کے بعد اب لوگ، گھروں میں اپنی آنکھوں کے سامنے ہی بچوں کو پڑھا نا چاہتے تھے۔۔ اسے بچوں سے کوئی ایسی دلچسپی تھی بھی نہیں بلکہ وہ اپنے دل میں ایسے جنسی مریضوں کے لئے نفرت محسوس کرتا تھا اور خود اس نے بڑی لڑکیوں،اور عورتوں کو بھی تجوید سکھانے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔۔ مگر یاسمین کی قربت کے بعد یہ سب کوششیں اب اسے فضول لگنے لگی تھیں کیونکہ اس کے ساتھ بات اوپری اوپری نظر بازی اور چھیڑ چھاڑ سے بہت آگے نکل چکی تھی تواسے اور کیا چاہیئے تھا۔۔ مفت میں یہی بہت تھا۔وہ یاسمین کے جسم کی خاموش فریا د بہت پہلے سے ہی سن چکا تھا۔ بدن بولی پڑھنے کا ماہر جو تھا تو پھر اسے مایوس کیسے کرتا۔۔بچوں کو آگے پیچھے کرنا اس ذہین عورت کے لئے کو ئی بات ہی نہیں تھی۔کسی نے صحیح کہا ہے کہ جب عورت دھوکہ دینے پر اتر آئے تو مرد سے  زیادہ فنکاری دکھا سکتی ہے۔۔ عورت کے چلتر ایویں تو نہیں گیتا شیتا میں ہوتے۔جنت سے بھی تو اسی کے دماغ نے نکلوایا تھا۔۔ہائے عورت۔۔ اسی وجہ سے تو مولوی شادی کے بندھن میں نہیں بندھنا چاہتا تھا۔کون اس بدبخت کی رکھوالی کرے۔۔کام ویسے بھی چل ہی رہا تھا۔۔اور اب تو۔۔یاسمین کے ملنے کے بعد سب ہرا ہی ہرا تھا۔
یاسمین کے سسر کا خوف، بہرحال دونوں کے سر پر تلوار بن کر لٹکتا تھا۔۔لیکن جلد ہی مولوی نے بچوں کو سپارہ پڑھانے کا وہ وقت مقرر کر لیا جب بڈھا باہر دوستوں کے ساتھ حقہ پینے اور تاش کھیلنے کے لئے نکلتا تھا۔وہ ایک سیدھا سادا آدمی تھا۔ ساری عمر حق حلال کی کمائی بچوں کو کھلائی۔،عزت کمائی اور بیوی کے مرنے کے بعد بھی شور شرابہ کئے بغیر اپنے بچے پالتا رہا۔محلے میں اس بات کو بڑے فخر سے بتایا جاتا تھا اوربچے بھی اسی لئے اس کی بہت قدر کرتے تھے خاص کر کے اکلوتا بیٹا، فضل، وہ تو بیوی بچوں سے دور اتنی محنت کر بھی اسی لئے رہا تھا کہ باپ کو اس بڑھاپے میں ہی کم از کم گھر بیٹھ کر سکون سے دو وقت کی روٹی نصیب ہو۔لیکن بڈھے کو سکون راس نہیں تھایاسمین نے زمین کو ناخنوں سے کھرچتے ہو ئے سوچا اسی لئے تو اس دن جب اس کے اور صادق کے آدھے کپڑے زمین پر اور آدھے ابھی بدن پر ہی تھے کہ وہ اچانک آگیا تھا۔۔پتہ نہیں گھر کا بیرونی بڑا دروازہ بند دیکھ کر اس نے کھٹکانے کی بجائے، بیٹھک کے دروازے سے چپ چاپ آنے کی ضرورت کیوں محسوس کی تھی؟۔۔شائد اس نے بچوں کو پڑوسیوں کے گھر کھیر بانٹتے دیکھ لیا ہو۔۔
اس دن کتنی مشکل سے اس کے ذہن میں بچوں کو گھر سے باہر بھیجنے کا یہ آئیڈیا آیا تھا۔ صبح سے وہ کھیر بنا رہی تھی او ر اس نے اپنے سسر کو بتایا تھا کہ اس نے فضل کے لئے منت مانی ہے تو وہ خوش ہو رہا تھا کہ وہ کیسی وفا شعار بیوی ہے جو اپنے شوہر کی صحت اور سلامتی کے لئے کچھ نہ کچھ نذر نیاز کر تی رہتی ہے۔۔۔ان سب جھوٹوں اور محنتوں پر اس کے سسر نے اچانک چھاپہ مار کر پا نی پھیر دیا تھا۔ اس کا تو کچھ نہیں گیا۔۔ البتہ خود جان سے چلا گیا۔۔اس نے نفرت سے سوچا۔
بچوں کو بھیج کر اس نے بڑے دروازے کی کنڈی اچھی طرح لگا دی تھی اوربچے تو اب پندرہ بیس منٹ سے پہلے نہیں آنے والے تھے اس لئے وہ وقت ضائع کئے بغیر صادق کی باہوں میں پہنچ گئی تھی۔ اور وہ دونوں ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے میں بری طرح گم ہو گئے اور دونوں کو ہوش بڈھے کی چیخ سے ہی آیا تھا۔۔:
“او کم بختو!! بد بختو!! بیڑہ غرق۔۔۔۔ رب کا قہر ٹوٹے۔۔۔۔۔ ” کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ مولوی نے اسے جلدی سے پرے دھکیل کر اپنی شلوار اوپر چڑھتے ہوئے، اسے قمیض پہننے کا کہا اور منٹ کے سویں حصے میں میز پر پڑے سپارے اٹھائے، کچھ صفحے جلدی جلدی پھاڑے اور باورچی خانے کی طرف بھاگ پڑا تھا :
“چولہا جلا جلدی۔۔ یاسمین۔۔۔ چولہا جلا۔۔”
وہ کسی پتلی تماشے والی پتلی کی طرح مولوی کے پیچھے اندھا دھند بھاگتی ہوئی باورچی خانے جاپہنچی،اور چولہے میں آگ جلا دی اورمولوی نے فورا صفحے آگ میں جھونک دیے  تھے۔۔بڈھا ہانپتا ہوا، گالیاں دیتا، ان کے پیچھے پہنچ چکا تھا۔۔
“کم بختو یہ کیا کر رہے ہو۔۔ خنزیرو!!میرا گھر جلا دیا، میرا بیٹا جلا دیا قرآن بھی جلا دیا،سب جلا دیا۔۔۔”الفاظ گلے میں اٹک گئے. ایک ہی لمحے میں وہ زندگی کے دو مکرو ہ ترین مناظر دیکھ چکا تھا، اس کا جسم وہیں کھڑے کھڑے شل ہو گیا۔اور مولوی چیتے کی رفتار سے اس کی طرف لپکا،اسے دھکے دیتا باہر لے گیا، اس کے ہاتھ میں ادھ جلے صفحات تھے اور گلی میں آتے ہی اس نے شور مچا دیا تھا۔۔
“لوگو!! دیکھو!! قیامت کا منظر دیکھو۔۔ اس بڈھے نے صفحات شہید کر دیے ، جلا دئیے۔۔ بڈھا پاگل ہو گیا ہے۔۔اور خدایا!! میری گنہ گار آنکھوں نے کیا سیاہ منظر دیکھ لیا۔۔ دیکھو لوگو دیکھو۔۔ جلا دیا اس نے۔۔ قرآن جلا دیا۔۔ مارو،پکڑو۔۔روزِ حشر   سوہنے رب کو کیا منہ دکھاؤ گے کہ اس کی کتاب کی حفاظت نہ کر سکے۔۔۔۔۔راہگیر رکنے لگے، گھروں کے دروازے کھلنے لگے۔۔۔
اور اس کے بعد وہ سب ہوا جو فضل نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔ جسے دیکھنے کے لئے یاسمین کے پاس آنکھیں نہ رہی تھیں۔۔ وہ سسر کو لوگوں سے اس طرح پٹتے دیکھ کر بے جان سی کھڑی تھی اندر سے پتے کی طرح لرز رہی تھی کہ اگروہ پکڑی جاتی تو کیا یہ لوگ اس کا بھی یہی حال کرتے؟اسے اور صادق مولوی کو زنا کے جرم میں ایسے ہی سنگسار کیا جاتا؟ اس تصور سے ہی اس کی ٹانگوں سے جان چلی گئی۔۔
مگر اللہ کا شکر ہے وہ بال بال بچ گئی تھی۔۔ اللہ نے پردہ رکھ دیا تھا۔۔مولوی کی ہوشیاری کام آگئی تھی۔
“ہاں جی!! ہاں جی!! ابا جی نے جلا دیا، ابا جی پر دورہ پڑا تھا۔۔”وہ بس یہی دہراتی رہی ہر سوال کے جواب میں بس یہی دہراتی رہی۔
“اس پاک بی بی کے تو ہاتھ بھی جل گئے صفحے آگ سے نکالتے ہو ئے۔”مولوی کے اس انکشاف کے بعد عورتوں نے بڑھ کر اس کی جلی ہو ئی انگلیاں دیکھیں۔ جو صرف راکھ سے سیاہ تھیں، مگر اس وقت سب کو جلی ہو ئی ہی نظر آئیں۔۔
بوڑھے کی زبان اس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی، اور اس کا بدن تھر تھر کانپ رہا تھا۔ خوف، غصہ اور نہ جانے کیا کیا تھا، جس سے بس وہ لرزتا ہی جا رہا تھا۔اس نے اپنے بچاؤ کے لئے زبان کھولنی چاہی، مولوی اور اپنی بہو کا گناہ بتانا چاہا مگر اس سے پہلے ہی لوگ اس پر ٹوٹ پڑے تھے۔
“ہاتھوں اور پاؤں کو پلید نہ کر و، پتھر مارو۔۔” مولوی چلا یا۔۔۔”کنکر مارو جیسے حج میں شیطان کو مارتے ہیں۔۔ “یہ سنتے ہی نہ جانے کہاں کہاں سے پتھروں کا سیلا ب امڈ آیا تھا یوں لگ رہا تھا جیسے اس گلی میں اینٹوں اور پتھروں کے خزانے چھپے ہو ئے تھے اورلوگ اتنے سارے لوگ؟کہاں سے آگئے تھے اتنے سارے؟
بوڑھے کا کوئی پرانا دوست اس کی ہمدردی میں چلا اٹھا تھا:
“معاملہ اپنے ہا تھ میں نہ لو پولیس کو اطلا ع کر دو۔۔ایسے وحشیوں کی طرح نہ مارو۔۔وہ توگھنٹہ پہلے میرے ساتھ ہی بیٹھا تھا اپنے پوتوں کو دیکھ رہا تھا خوش ہو کے،کھیر بانٹ رہے تھے محلے میں۔۔اس کے تو پیٹ میں درد اٹھا تھا، کہہ کے گیا تھا کہ ابھی گھر سے فارغ ہو کے آتا ہوں۔ بہو بہت زیادہ کھا نا کھلا دیتی ہے۔۔۔۔ وہ ٹھیک تھا۔ وہ پاگل نہیں تھا۔وہ روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھتا تھا۔۔کوئی پولیس کو بلا ؤ۔۔۔۔ ”
یاسیمن کے کانوں میں بوڑھے سسر کے دوست کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔اتنے دن گزر گئے تھے لیکن یہ آوازیں دیواریں دروازے کود کر اندر آجاتی تھیں۔۔”پوتوں کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا”
“بہو بہت کھانا کھلا دیتی ہے”
“وہ نماز پڑھتا تھا۔۔۔”
اوروہ چیخ مار کر اٹھ بیٹھتی تھی جیسے یہ آوازیں کوئی بھوت ہوں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چالیس دن بعد
یاسمین: فضل! ڈیوٹی کب سے شروع ہے؟
فضل: کل سے جانا ہے۔۔۔۔
یاسمین:اب روز لاہور سے آجا یا کرو گے نا؟
فضل: ہاں جب تک گوجرانولہ برانچ میں ٹرانسفر نہیں ہو تی تب تک تو یہی مشکل کاٹنی پڑنی ہے۔جتنی چھٹیاں پڑی تھیں، ساری استعمال کر لی ہیں، اب تو جا نا ہی ہے۔۔
یاسمین: کتنے بجے تک پہنچ جا یا کر وگے گھر ؟
فضل: جتنی جلدی ہو سکا، مجھے پتہ ہے تم ڈر رہی ہو۔۔ ابا کا بڑا سہا را تھا۔۔
یاسمین: تو کتنے بجے تک؟درزی کا کام اب نہیں سیکھا کرو گے؟
فضل: نہیں اب کچھ سیکھنے کو دل نہیں کرتا۔۔ ابا کے ساتھ ہی سب ہمتیں تھیں،اور ویسے بھی تم لوگوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا، رات سے پہلے پہلے واپسی کر نی ہو گی۔۔
یاسمین: مطلب ۸ بجے سے پہلے پہلے۔۔۔۔۔۔
فضل اسے شفقت سے ساتھ لگاتے ہو ئے: ڈرو نہیں، ۸ سے پہلے پہلے ہی انشاللہ۔۔۔۔اتنا برا ہو گیا ہمارے ساتھ، اب اس سے برا کیا ہو سکتا۔۔۔ تو بس بہا در بن اب۔۔ جب تک گھر نہ لوٹ آیا کر وں، تو نے دروازہ نہیں کھولنا۔۔”
یاسمین آنکھیں چراتے ہو ئے : “مولوی صاحب تو آئیں گے ہی بچوں کو پڑھانے، دروازہ تو کھولنا ہی پڑے گا۔۔”
فضل: “ہاں ان کے لئے تو ظاہر ہے، لیکن انہیں میں کہہ دو ں گا، کہ وہ دستک دینے کے ساتھ ساتھ آواز بھی دے دیا کریں،وسیم کو یا ندیم کو۔ تاکہ تجھے پہچان رہے۔۔ تو گھبرا نہ۔۔ ”
یاسمین،آواز میں پیدا ہو نے والے ارتعاش کو چھپاتے ہو ئے:
“اچھا تو انہیں ۴ سے ۵ کے درمیان کا کہہ دیتی ہوں ,بچے سکول سے آکر کھانا وانا کھا کر بیٹھ جایا کریں گے۔۔ ”
فضل: “ہاں بس یہی عمر ہو تی بچوں کی سیکھنے کی جتنی جلدی قرآن ِ پاک ختم ہو جائے۔۔ ہمارے مرنے کے بعد ہماری روح کو انہوں نے ہی قرآن پڑھ کر بخشوانا۔۔ابا کی روح کو۔۔۔وہ کچھ کہتے کہتے چپ ہو گیا وہ تو چالیسویں پر بھی مسجد میں سپارے نہیں پڑھوا سکا تھا،وہ تو اب محلے  میں ابا کا نام بھی نہیں لیتا تھا۔۔ مولوی صاحب کی وجہ سے اس کی اور اس کے گھر والوں کی جان بخشی ہو ئی  تھی، یہی کافی تھا۔۔اس نے بے بسی کے آنسو ؤں کو چھپانے کے لئے، آنکھوں پر بازو رکھا اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ یاسمین نے سکھ کا لمبا سانس اندر کو کھینچا۔اورصبح ہو تے ہی اس نے وسیم کے ہاتھ مولوی صاحب کو پیغام بجھوا دیا کہ ۴ بجے تک قرآن پڑھانے آجا یا کریں۔
مولوی نے یاسمین کا پیغام ملتے ہی اپنے نائب کو بلا بھیجا اور اسے حکم دیا کہ اس کی تربیت اور خود اعتمادی کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ عصر کی نماز وہ پڑھوائے گا اور باقی نمازوں کی امامت، مولوی صاحب خود کروائیں گے۔عصر کی نماز تقریباً  ۴ بجے ہی کھڑی ہو تی تھی۔

2
Leave a Reply

avatar
1 Comment threads
1 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
AdminRubinaKomal Recent comment authors
  Subscribe  
newest oldest most voted
Notify of
Komal
Guest
Komal

Well written. It is really what i think and believe how can people decide that is it blasphemy or another thing????
Its a very sensitive issue.