اردو زبان و مہجری ادب

Published on (April 18, 2021)
 اردوکانفرس میں موجود تمام احباب اور دیکھنے اور سننے والوں کو سلام!!
 اردو زبان و مہجری ادب کے حوالے سے یہ سہ روزہ کانفرس بہت بامعنی اور بامقصد ہے، اس کے لئے خواجہ اکرام صاحب اور ان کے تمام ساتھی مبارکباد کے مستحق ہیں  مگر اب مہجری ادب کے ساتھ ساتھ کرونائی ادب پر کانفرس ہو نا ضروری ہے۔ اردو ایک زندہ زبان ہے اور یہ مستقبل میں بھی زندہ رہے اس کے لئے ایسی کانفرسیں اور ادبی تقریبات کا منعقد ہو تے رہنا ضروری ہے کہ یہی سب کچھ اردو زبا ن کوآکسیجن مہیا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر خواجہ اکرام صاحب اردو رولڈ ایسوسی ایشن انڈیا کے روح رواں ہیں اور اس وقت اردو زبان کے ڈاکٹر کا کردار ادا کر رہے ہیں، اور خاص بات یہ ہے کہ وہ دنیا میں ہر جگہ اردو بولنے والوں کو ایک برادری کہتے ہیں، حالانکہ ہم سب اردو ادب کے مریض ہیں جنہیں صحت مند اور زندہ رکھنے کے لئے ڈاکٹر صاحب جی جان سے لگے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ سب مریضوں کی آپس میں بھی ملاقاتوں کا بند و بست رکھتے ہیں اور مجھ جیسے سوشل نیٹ ورکنگ کے ہنر سے نا آشنا لوگوں کو بھی اس لوپ میں رکھتے ہیں۔ شکریہ ڈاکٹر صاحب۔
ادب کیا ہے؟ اورکینڈا میں اردو ادب، خاص کر کہ اردو فکشن میں کیا ہو رہا۔۔ میں اس پر کچھ بات کر وں گی ۔
پہلے ہم کینڈا میں اردو ادب پر جو نمایاں کام ہو رہا ہے اس کی بات کر لیتے ہیں۔ اور پھر قارئین اس کام کو ادب کے معیارات کے کینڈے میں خود رکھ کے دیکھ لیں۔ میرے خیال میں تو کینڈا میں اردو ادب کا سفر جاری و ساری ہے اس کی رفتار اور معیار کا فیصلہ تو وقت کر ے گا مگرجو مجھے معلوم ہے وہ سامعین کے لئے حاضر ہے۔
 ایک انسان کے ذاتی حالات اور خیالات ہوتے ہیں اورایک جہاں وہ رہ رہا ہو تا ہے وہاں کے اجتماعی حالات اور خیالات،ان دونوں کے ملاپ سے جو واقعات ظہور پذیر ہو تے ہیں، ان سب کو الفاظ میں قید کر نے والا ادیب یا شاعر اگر دومختلف جہانوں کا باسی ہو تو ایک منفرد ادب تشکیل پا تا ہے۔ ویسے تو ہڈ بیتی اور جگ بیتی ایک جگہ اکھٹی ہوجائیں اور لکھنے کا ہنر بھی آتا ہو تو، ادبی پارہ شاہکارہوسکتا ہے۔پاکستان، انڈیا یا بنگلہ دیش میں بیٹھا کوئی ادیب کتنا ہی منجھا ہوا لکھاری کیوں نہ ہو، وہ کینڈا کی کہانی ساؤتھ ایشئین کینڈین رائٹر سے زیادہ بہتر نہیں لکھ سکے گا۔ لیکن پاکستان انڈیا میں کھیلے جانے والے گلی ڈنڈے کو ملک سے باہر بیٹھا ادیب باآسانی لکھ لے گا، محترم خلیل الر حمن نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا کہ اگر کوئی بر صغیر سے باہر بیٹھ کر گلی ڈنڈے کے کھیل پر لکھنا چاہے گا تو نہیں لکھ سکتا، ان سے معذرت کے ساتھ کہ بات یہ ہے کہ ایک تارک الوطن ادیب کی اور کوئی خوبی ہو یا نہ ہو مگر وہ دو دنیاؤں کو اپنے فرسٹ ہینڈ تجربے کے بل بوتے پر جانچ سکتا ہے اور اس پر لکھ بھی سکتا ہے۔
ایک بالکل مختلف دنیا اور اس کے مختلف چیلنجز ہونے کے باوجود کینڈا کے شاعروں ادیبوں نے لکھاتو صرف سر سے نہیں اتارا یا ثقافت اور زبان کی رسم کو ہی نہیں نبھایا بلکہ خوب لکھا۔ ان کو اس بات کا ادراک بہت اچھے سے ہے کہ زبان ایک کمیونٹی، ایک نسل، ایک قوم کی تاریخ اوراس کی ثقافت کی امین ہو تی ہے۔ غریب الوطنی میں بھی انہوں نے اپنی زبان کو غریب الوطن نہیں ہو نے دیا اور اپنے تئیں ہر ممکن کوششوں سے اس کوآباد رکھا۔ ایسی کوششوں میں پہلا نام، اس کانفرس میں کلیدی خطبہ پیش کر نے والے ڈاکٹر تقی عابدی صاحب کا ہی لوں گی۔ ڈاکٹر تقی عابدی نے اردو زبان کے لئے جتنا بھی تحقیقی اورعلمی کام کیا ہے اسے ہم بڑے آرام سے کسی بھی بڑے برصغیر کے اردو کے محقق اور تنقید نگارکے کام کے مقابلے میں پیش کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر تقی تو کینڈا میں اردو ادب کے صرف ایک کھلاڑی ہیں، یہاں اردو ادب کے کئی اور مشا ق کھلاڑی موجود ہیں۔ جن میں سے ایک سیدہ نزہت صدیقی صاحبہ ہیں۔ ادب میں امن کی بات کر نے والے بہت ہیں مگر جس طرح امن کی بات کرتے ہو ئے وہ وطن اور مذہب کی ہر لکیر پار کر چکی ہیں اس وسعت نظری کی مثال خال خال ہی ملتی ہے، ان کی نظم “شناخت” کی چند آخری سطور دیکھئے؛
مرا وطن کائنات ہے، کائنات سے کم کہیں نہیں ہے
کہ میری میں کی شناخت اب کائنات ہے
کائنات سے کم کہیں نہیں ہے
  پھر اور ستارے دیکھئے جن میں سے کچھ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں جیسے کہ اکرام بریلوی، سلطان جمیل نسیم، رضا جبار،رحیم انجان اور جو حیات ہیں ان میں سے فیصل فارانی،نسیم سید اور شکیلہ رفیق، بلند اقبال اور جاوید دانش ہیں۔ یہ سب  مانے تانے افسانہ نگاراور ناول نگار ہیں اور یہ اسی سر زمین پر بڑے بڑے شاہکار تخلیق کر تے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ایک اور نام دیکھئے،ڈاکٹر خالد سہیل۔۔۔ ایک ادیب اور نفسیاتی ڈاکٹر ہیں اور وہ ادب اور نفسیات کو جس طرح کبھی ساتھ ساتھ چلاتے ہیں اور کبھی الگ الگ کر کے دکھاتے ہیں، یہ بھی ادب کا ایک منفرد راستہ ہے جو انہوں نے اندر اور باہر کے انتشار کو اکھٹا کر کے چنا ہے۔ محمد احمد رضوان، مرزا یاسین بیگ اور سید حسین حیدر، ایک کونے میں بیٹھ کر جس طرح مزاح تخلیق کر رہے ہیں، جب کبھی غیر جانبدار ہو کر دیکھا جائے گا تو ان کا کام بھی برصغیر کے کسی بھی مستند مزاح نگار سے کم نہیں ہو گا۔ پھرحال ہی میں شاہد اختر صاحب نے دنیا کے ادب سے منتخب کہانیوں کو اردو میں ترجمہ کر کے اردو کی دنیا کو ایک تحفہ دیا ہے۔رفیع مصطفے صاحب کا ایک اہم ناول  “اے تحیر عشق”، یہ  دوہجرتوں کو لپیٹے ہو ئے ہے، وہ اسے اردو انگریزی دونوں زبانوں میں لکھ چکے ہیں۔ آج چونکہ شاعری میراموضوع نہیں مگر یہ فخر بھی شامل کر لوں کہ ایک سے بڑھ کر ایک اردو شاعر اس دھرتی پر موجود ہے۔، یقیناان سب ادیبوں، شاعروں کا تخلیقی کام دنیائے اردو ادب کو کینڈا کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے۔ یہ میرا گھمنڈ نہیں بلکہ فخر ہے کہ ٹورنٹو میں اردو ادب کے ہر میدان میں بہت اعلی پائے کا تخلیقی کام ہو رہا ہے۔او اگر کبھی مستقبل میں برصغیر میں اردوادب کو سرحدی تعصب سے بالاتر ہو کر پر کھا گیا اور کسی نے غیر جانبدار ہو کر ادبی خدمات کا اعتراف کر نے کا سوچ لیا تو ٹورنٹو میں ہو نے والے کام سر ِ فہرست ہو گا۔
ایک سمارٹ فون میں سمٹ جانے والی دنیا یوں تو صرف جہازوں اور بحری جہازوں کا پیٹ بھرنے کو، جسمانی طور پر سرحدیں پار کر لیا کرتی تھی مگر ان کرونائی دنوں میں پھر سے ایک کوزے میں بند ہو گئی ہے،جہاں وہ کہیں آئے جائے بغیر خود ایک مکمل دریا بن چکی ہے۔دیکھا جائے تو دنیا کے وسائل ایک دوسرے کے محتاج ہو ئے تو اس کے مسائل آپس میں جڑ گئے تھے اور پھر ان کے حل بھی اکھٹے تلاش ہو نے لگے۔ میکسم گورکی نے کہا تھا کہ” انسان کے ماحول کے ٹکراؤ سے ہی انسان کی تشکیل ہو تی ہے.” اور پھر آپس میں تہذیبوں کے ٹکراؤ  سے ایک نئی حقیقت جنم لیتی ہے، اور اسی سے سوچ کے ٹھہرے پانی میں ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے اور یہی ارتعاش ارتقا کی پہلی منزل ہے اس پس ِ منظر میں دیکھیں توکینڈا کا اردو ادب کا تخلیق کار، اپنے کینوس پر اپنا ماضی، اپنے حال میں ڈھالتے ڈھالتے مستقبل کی ایک نئی تصویر بنا رہا ہے۔ اور وہ اردو ادب میں ایک ایسا مواد شامل کر نے کا باعث بن رہا ہے جو کے اس کے قاری کو کینڈا میں پچاس سو سال بعد یہاں کے عام لوگوں کی تاریخ جن میں ان کے مسائل، وسائل، کشمکش، طر ز ِ حیات، مذہبی روایتوں سے آشنا کر ے گا۔ آج یہاں کا بیٹھا ادیب اپنے منصب کو پہچان کر، اردو ادب سے جڑے مخدوش مالی حالات، پبلشرز کے چیلنجز، قاری کی عدم دستیابی اور فوری حوصلہ افزائی کی کمی کو بھول کر بر صغیر کے ا ردوادب میں خاطر خواہ اضافہ کر رہا ہے۔ کنیڈا کے ادیبوں کا  اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے زبان و اسلوب اور موضوع و ہیئت  دونوں اعتبار سے اس صنف کو کافی آگے بڑھایا ہے۔ ان میں زندگی کے کئی رنگ شامل کئے ہیں جو مشرق و مغرب کے درمیان کی وسعتوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔
اب دیکھتے ہیں کہ ادب ہو تا کیا ہے۔
ادب کسی بھی زبان میں ہو اور اس کی کو ئی بھی صنف ہو اس کا مقصد ایک ہی ہو تا ہے جیساکہ نامور افسانہ نگار پریم چند نے اپریل 1936 کو انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسے کی صدارت کرتے ہو ئے کہا تھا کہ؛
“ادب اس تحریر کو کہتے ہیں جس میں حقیقت کا اظہار ہو۔ جس کی زبان پختہ، شستہ اور لطیف ہو اور جس میں دل و دماغ پر اثر ڈالنے کی صفت ہو،اور ادب میں یہ صفت کامل طور پر اس حالت میں پیدا ہو تی ہے جب اس میں زندگی کی حقیقتیں اور تجربے بیان کئے گئے ہوں۔”
ارسطو نے کہا تھا روح تین سطحوں پر اپنا اظہار کرتی ہے۔ پہلی سطح نباتات کی ہے، جہاں محسوس کرنے کا عمل ہی اس کا نمایاں ترین ثبوت ہے۔ دوسری سطح حشرات الارض کی ہے جہاں محسوس کرنے کے علاوہ حرکت کرنے کا عمل ایک اضافی وصف کے طور پر موجود ہے۔تیسری سطح، انسان کی ہے جہاں محسوس کرنے اور حرکت کرنے کے علاوہ، سوچ بچار کا عمل بھی موجود ہے۔ اور یہ ادب ہی ہے جو سوچ کی کھڑکی کو کھولتا ہے کہ زندگی محض مادی وسائل کے حصول کا نام نہیں، اس کا مقصد روح کا نکھار، تہذیبی رفعت اور تخلیقی سطح پر زندہ رہنابھی ہے۔۔۔جب فنکار،خیال یا وژن کو اپنی ذات کے ایک حصے سے حاصل کر کے دوسرے تک پہنچا دیتا ہے تو ابلاغ مکمل ہو جاتا ہے۔وزیر آغا نے اس اجتماعی ذہن کو جو قارئین کے بطون میں چھپا ہو تا ہے، زمانے کا نام دیا ہے۔ ذات کا اسرا رہو یا زمانے کا یہ آرٹ اور ادب کے واسطے سے ہی منکشف ہو تا ہے۔ اور میں کہتی ہوں کہ روحیں ریڈی میڈ آرڈر پرنہیں بنی ہو تیں ان کے اپنے اپنے کشف اور ان کے مراحل ہو تے ہیں۔ ادب ان کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اسے کسی سانچے میں نہیں ڈھالا جا سکتا ہے۔ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، ہم جس انتشار کا شکار ہو تے ہیں، ادب ان سب کو الفاظ دیتا ہے۔ اور الفاظ کا نہ کو ئی مذہب ہو تا ہے اور نہ کوئی وطن۔ اس لئے ادب کے کان میں اذان دینے یا اسے بیپٹائز کر نے کی کوشش ایک بھونڈی حرکت کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ادب مقصدیت سے خالی ہو۔ مقصدیت کوئی برائی نہیں ہے مگر اس میں ہنر مندی ہو نی چاہیئے۔ ادب ادب ہی رہنا چاہئے نہ تو اسے اصلا ح کے نام پر منبر سے جاری ہو نے والے خطبے میں بدل دینا چاہیئے اور نہ ہی آزادی اظہار کے نام پر اسے کسی پھکڑ پن یا فخش نگاری کے ساتھ یک جان کر دینا چاہیئے۔ ادب ِ عالیہ کے اپنے تقاضے ہیں ان پر پو را اترنا بہرحال لازم ہے۔
ادب کا زندگی کے ساتھ بڑا گہر ا رشتہ ہے، کہ یہ اس کا آئینہ بھی ہے اور اس کا میک اپ بھی، مطلب ادب آپ کو زندگی کی تصویردکھاتا ہے تو اس زندگی کو بہتر بنانے کی تدبیر بھی بتاتا ہے۔ اسی لئے ادب کا فروغ، ذہنی اور دماغی قوتوں کا فروغ ہے اور قوموں کی ترقی اسی میں پوشیدہ ہے۔ فیض احمد فیض کے الفاظ میں:
“ادب و فن صرف تفریح کا ذریعہ نہیں،وہ ہماری قومی زندگی کا حصہ ہیں۔قومی زندگی کے لئے صنعتی ترقی،نہریں،سڑکیں،سبھی ضروری ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ادب و فن کا ارتقا بھی ضروری ہے۔ہم نے ابھی تک ایک آزاد قوم کی طرح اس کو وہ اہمیت یا مقام نہیں دیا،جس کا وہ مستحق ہے”
    فیض احمد فیض (متاع ِ لوح و قلم)
رسل کہتا ہے: ہم کس طرح زندہ رہ سکتے ہیں یہ بات ہم سائنس سے سیکھتے ہیں مگر ہمیں کیوں زندہ رہنا چاہیئے؟ یہ راز ہمیں ادب بتاتا ہے۔ اور ذرا سوچیئے زیادہ تر لوگ اس “کیوں “کے بغیر ہی جیے چلے جاتے ہیں۔ زندگی کے اس” کیوں “کی تلاش میں جو ادب تخلیق ہو تا ہے اس کے اظہار کے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ کبھی اسے شاعری میں تو کبھی داستان میں، کبھی ناول میں اور کبھی افسانے میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ ایک ادیب کی معاشرے کی طرف ذمہ داریاں ایک عام انسان سے زیادہ ہو تی ہیں، اس کا نقطہ نظر زیادہ پختہ ہو نا چاہیئے کہ وہ زیادہ باشعور ہو تا ہے اور اسے عام لوگوں کو معاشرے کا بلیو پرنٹ دکھانا ہو تا ہے۔
جس طرح قرون ِ وسطی کے یورپ کا ادب، عام لوگوں کی سمجھ سے بالاترمردہ زبانوں میں تھا اسی طرح ہند کا کلاسیکی ادب اور فلسفہ سنسکرت میں تحریر کیا گیا۔ چھال کے صفحات کو رسی میں پرو کر کتاب کی شکل دے دی جاتی اورکتب خانوں میں رکھا دیا جا تا تھا۔ وید ک عہد کا ادب لکڑی کا تھا۔۔۔تحریر سے دور،تقریر کے قریب۔ چھاپہ خانہ مسلمانوں کے ساتھ ہند میں آیا۔ اور جب سلطنت ِ ہندمغلوں کے ہاتھ لگی تو وہ جنگ اور شاعری کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا جانتے تھے۔ گو کہ اس وقت مسلم تعلیم، انفرادی تھی جو صرف اشرافیہ کے حصے میں، نجی معلمین کی صورت ملتی تھی اورعام لوگوں تک تعلیم کی رسائی نہیں تھی مگر پھر بھی اس زمانے میں شاعری خوب پھلی پھولی۔ اور پھر یہ مشاعرے،ہندوستان کی تہذیب کا حصہ بن گئے، اور آج تک ہیں۔ شاہجہاں کے دور حکومت میں اردو کو عوامی سے ادبی درجہ بھی مل گیا تھا۔ بعد میں فارسی زبان  وادب کے فروغ کی کوششیں ہوئیں اوربرطانوی عہد میں انگریز نے اردو کو مزید فروغ دیناشروع کر دیا تھا۔
ادب مختلف دور میں مختلف حالتوں میں موجود رہا ہے جیسا کہ یو نانیوں کے ہاں، ہمیں داستانیں ایلیڈ اور اوڈیسی کی شکل میں ملتی ہیں اور ہندوستان میں گلی کوچوں کے افسانوں کو نسل در نسل دیو مالاؤں کی شکل دے دی گئی تھی۔ مہا بھارت، ایشیا ء کا عظیم ترین تخیلاتی فن پارہ قرار دیا گیا ہے۔ کچھ محققین، اسے ایلیڈ سے عظیم تر نظم کہتے ہیں۔ گیتا، عالمی ادب میں فلسفے کی عالی مرتبہ نظم ہے۔اسے ویدوں کے بعد سب سے زیادہ تکریم دی جاتی ہے۔ اسے حقیقی فلسفی گیت بھی کہا جا تا ہے۔ ہند کی دوسری مشہور ترین داستان رامائن ہے۔ جو مہابھارت کی نسبت، مغرب والوں کو زیادہ آسانی سے سمجھ آجاتی ہے اور یہ نسبتا مختصر بھی ہے۔ رام اور سیتا، شاید افسانوی کردار ہیں مگریولیسس اور پینلوپی کی طرح زندہ انسانوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
ادب وقتی انتشار یا انقلاب کا نام نہیں۔ وقتی جذبات، یا وقتی آفات کو الفاظ میں ڈھال بھی دیا جائے، معنی بھی پہنا دئیے جائیں لیکن وہ ایک ادبی بلبلے کے سوا کچھ نہیں ہو تا۔
ادیب اپنے ماحول کا عکاس ہو تا ہے اور جیسے کہ شکئیسپئر نے کہا تھا  “میں قلم پکڑتا ہوں اور اپنا دماغ لکھنے لگتا ہوں “۔
 ایک سچا  ادیب بیرونی کے ساتھ ساتھ اندر کی دنیا کو بھی کدال سے کھودتا ہے اور باہر نکالتا ہے۔ ماحول ادیب میں جذب ہو تا ہے یا ادیب کے اندر کا ماحول باہر نکل کر خود ماحول کا حصہ بنتا جا تا ہے۔دونوں صورتوں میں راستہ تخلیق کی طرف ہی جا تا ہے اور اس راستے سے انسانی شعور کے ارتقا کا راستہ نکلتا ہے۔
برصغیر کے اردو ادب میں مہجری ادیبوں کا ایک اہم مقام ہے مگر اس کو تسلیم کیسے کرنا ہے اور برصغیر کی مین سٹریم میں ان کے تخلیق کردہ ادب کو کیسے شامل کر نا ہے، ان ادیبوں کی حوصلہ افزائی کیسے کر نی ہے کہ ادب کی جو شمع وہ روشن کئے ہو ئے وہ آگے بھی جلتی رہے، اس سوال پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔اور وہ ساؤتھ ایشئین ادیب جو سرحدوں سے بالاتر اردو ادیب ہی ہیں کہ وہ غیر ملکی زبانوں میں بھی لکھ سکتے تھے مگر انہوں نے اردوکو اپنا کر اردو ادب کو زندگی اور وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔ اب دنیا میں جہاں جہاں اردو لکھنے والے شاعر اور ادیب ہیں،وہ وہاں کے مقامی حالات کو ذاتی تجربے اور مشاہدے سے لکھتے ہیں اور اس طرح صرف برصغیر کے حالات اور واقعات کی بجائے، اردو ادب، دنیا بھر کی تاریخ، رسم و رواج، حالات، ثقافت اور واقعات کو بھی اتنی ہی آسانی سے اپنے اندر سمو رہا ہے۔ ادب کو سرحدوں اور زمانوں کی قید سے نکلنا پڑتا ہے۔ ادب کی اصناف کی اپنی ارتقا کے ساتھ انسان کی سوچ کا عمل بھی چلتا رہتا ہے۔ اس طرح ہیئت اور موضوع دونوں کا ارتقائی عمل چلتا رہتا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ اردو ادب کو مذہب اور وطن کا قیدی بنانے کی کوشش نہ کی جائے اسے ہر دوسری زبان کے ادب کی طرح پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے کیونکہ پانی بہے تو دریا اور سمندر،نہ بہے تو گندا جوہڑ۔
آپ سب کا بہت شکریہ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of