HARD TIMES

Published on (July 23, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
HARD TIMES
مغرب جب صنعتی انقلاب کی طر ف جا رہا تھا تو اس کے قلم کاروں کے ہاتھوں میں قلم تھا اور وہ مشین سے ذیادہ تیز چلنے لگ گیا ۔معاشی تبدیلی تو آرہی تھی مگر وہ سماج اور ثقافت پر کیا رنگ لا رہی تھی اس پرسوچنے والوں کے کان کھڑے ہوگئے تھے۔ مشینوں سے اٹھنے والے کالے دھویں نے سماج کے بادلوں پر بھی کثافت اکھٹی کر دی ۔ سمجھنے والے سمجھ رہے تھے ، لکھنے والے لکھ رہے تھے ۔ مگر پرانی قدریں متروک ہونا ناگزیر تھیں جیسے انسان کی جگہ مشینوں نے لے لی تو انسان کے دل کی جگہ بھی مشین اگنے لگ گئی ۔ مشینوں سے فصلوں کی کاشت تو دس گنا بڑھ گئی مگر دلوں میں مشین لگنے سے اخلاقی اقدار اور ایک دوسرے کا احساس سو گُنا کم ہو گیا ۔
چارلس ڈکنس جب hard timesلکھ رہا تھا تو شائد اسے بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ ہارڈ ٹائم اب کبھی بھی لوگوں پر سے نہیں ٹلنے والا ۔یہ بڑھتا جائے گا ۔ لکھنے والے لکھتے گئے ،ہونا تو یہ چاہیے تھا دنیا کے بڑے سر جوڑ کے بیٹھ جاتے ،ہاتھ تھام کے گرتی اقدار کی دیوار کو تھا لیتے ۔ مگر ہوا کیا ؟ سرمایہ دارانہ نظام جس کی بنیاد نا انصافی ہے اس کا راج چلنے لگا ۔
survival of the fittestکی جنگ جیتنے کے لئے ملک ، شہر ، بستیاں ،محلے اور اشخاص آپس میں دست و گریبان ہوتے چلے گئے ۔ کامیابی کو مادیت سے اس طرح منسوب کر دیا گیا کہ الگ ہونے کا تصور ہی نہیں رہا ۔ دل کے سکون کو کامیابی کی کتاب سے نکال دیا گیا ۔ ان کی ایسی پکی طلاق ہوئی کہ آج انسان مادی کامیابیوں کی سیڑھیاں طے کر کہ سب سے اونچی منزل پر پہنچ کر بھی رات کو ڈپریشن کی گولی کھائے بغیر نہیں سو سکتا ۔ اگر کامیابی مادہ سے ہی منسلک ہوتی تو آج امیروں کے دم سے نفسیاتی کلینک نہ آباد ہوتے ۔ غریب تو سارا دن اپنا اور بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطر ننگی زمین پر ننگے پاؤں مشقت کرتا ہے اور رات کو اپنا ہی پسینہ اوڑھ کے سوجاتا ہے ۔
غریب اور امیر کے اس فرق کو سرمایہ دار جو اب سیاست دانوں کا روپ دھار چکے ہیں ، نعرے کے طور پر استعمال تو کرتے ہیں مگر اس کو مٹانے کو کوئی تیار نہیں ۔ بڑے ملک ہیں یا چھوٹے ملکوں کے بڑے لوگ سب اس فرق سے خوش ہیں ۔ اور اسے بڑھتا دیکھنے کے خواہش مند ہیں ۔ یہ گھناؤنی نفسیاتی خواہش ،اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی خلیج صنعتی انقلاب کی بالکل جائز اولاد ہیں ۔ جب مشینوں نے انسانوں کو کھا لیا تو بچے کھچے انسانوں کے دل کی جگہ مشین نے لے لی ، جو بے حس اور سرد ہوتی ہے ۔
جب ایم اے میں تھے تو ہارڈ ٹئمز کی sissyمیرا پسندیدہ کردار ہوتی تھی ۔ سرکس والے کی بیٹی ، گرل نمبر ۲۰ ،مسٹر gradgrindکے سکول میں جس کا اصول ہے ” now,what i want is,facts”ایسے سکول میں گرل نمبر ۲۰ جو آرٹ اور نرمی کی علامت ہے بھٹکی ہوئی روح کی طرح ہے ، ناکام اور نالائق ۔ جسے ہر وقت سخت مزاج پرنسپل کے طعنے سننے پڑتے ہیں جو سارا دن سرکس کے گھوڑوں کے ساتھ رہتی ہے مگر جب سکول میں گھوڑے کو define کرنے کو کہا گیا irony یہ کہ وہ یہ نہیں کر سکی۔
tom بے ایمانی کی علامت اورایک اور جذبات سے عاری کردار ، bounderbyصنعت کار جس کا کام صرف پیسہ بنانا ہوتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں ایک اور علامتی کردار سٹیفن کا جو ایمانداری اور وقار کی علامت ہے ۔ چارلس ڈکنز نے صنعت کار اور مزدور کے اختلافات ، معاشرے میں گرتے معیارات اور کرداروں کے ذریعے بدلتی دنیا کے اطوار کو سمجھنے اور سمجھانے کی جو کوشش کی ہے اس میں وہ سٹیفن کا انجام بلیک ہول میں گر کر مرنے تک تو حقیقت پسندانہ کر رہا ہے مگر sissyکی محبت اور قربانی کی فلاسفی کی جیت اور gradgrindکا جھکنا یہ بس خوش خیالی ہے ۔
اگر ایسا ہوتا رہتا تو آج دنیا اخلاقی طور پر تباہی کے دہانے پر نہ کھڑی ہوتی ۔ لوگوں کو تو عملی طور پر یہ سبق ملا کہ کبھی ناکام نہ ہونا ، چور ہوجاؤ ، غاصب ہوجاؤ ، چغل خور ہوجاؤ ، قاتل ہوجاؤ مگر ناکام نہ ہونا ۔ کامیابی کا مفہوم بھی بدل گیا اور لوگوں کی زندگیاں بھی ۔
مغرب کے لکھنے والے اور سوچنے والے ،پالیسیاں بنانے والے اور ان پر عمل کروانے والے ادارے متحرک ہیں اس لئے صنعتی انقلاب کے اس برحق بچے کو کچھ انہونی رسموں جیسے کہ چائلڈ ٹیکس بینفٹ ، بے روزگاری ،معذوری بینیفٹس ،فری میڈیکل ، ایک جیسی مفت تعلیم جیسے اقدامات کر کے ،یعنی سرمایہ دارانہ نظام کی دال میں سوشلزم کا تڑکا لگا کر لوگوں کی civic senseکو بھی مرنے نہیں دیا ۔
مگر پاکستان میں sissy and stephen مکمل طور پر اندھے گھڑے میں گر چکے ہیں ۔tom اور bounderbyدندناتے پھر رہے ہیں ۔ پاکستان کا چارلس ڈکنز شوکت صدیقی خدا کی بستی میں یہی ہارڈ ٹائمز بتا چکا ہے ۔ معاشی ترقی کی اندھا دھند دوڑ میں اخلاقیات پوری دنیا میں معیار کھو بیٹھی ہے مغرب جسے بے شرمی کا موجد سمجھا جاتا ہے وہاں شرم کی وجہ سے اسے لبادوں میں لپیٹ دیا گیا ہے مگر اسلامی جمہوریہ میں بد تہذیبی اور بے حسی ننگا ناچ ناچ رہی ہیں۔ ورنہ یوں نہ ہوتا کہ سب ادارے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کچھ نہ کرنے کا سمجھوتہ کر لیتے ۔
اب کوئی یہ نہ کہے کہ کراچی میں آپریشن ہو رہا ہے ، عدالتیں فیصلہ دے رہی ہیں ، نیب کام کر رہا ہے ، اور پولیس بھی کارکردگیاں دکھا رہی ہے ۔ میڈیا بھی آذادہے اور سماجی خدمت کی تنظیمیں بھی دھڑا دھڑ کام کر رہی ہیں ۔جمہوریت بھی ملک میں راج کر رہی ہے اور شفاف سڑکوں پر میڑو بھی چھکا چھک دوڑرہی ہے ۔
اگر سب ادارے کام کر رہے ہیں تو نتائج کدھر ہیں ؟ الیکشن میں دھاندلی ہوئی یا نہیں ؟ ہوئی تو کرنے والوں کو لٹکایا جائے ، نہیں ہوئی تو الزام لگا کر شور مچانے والوں کو جیلوں میں بند کیا جائے نہ کہ اسمبلیوں سے تنخوائیں دی جائیں۔ کراچی میں آپریشن ہو رہا ہے تومجرموں کو سزائیں کیوں نہیں دی جارہیں ؟
جس ملک میں ایک عوامی لیڈر کو قتل کے جرم میں پھانسی پر لٹکا یا جا چکا ہو ، اس ملک میں باقی کے قاتل ، غدار اور کرپٹ کیوں دنداناتے پھر رہے ہیں ۔ مثال سامنے ہیں ان پر عمل کریں ۔ نیب نے کرپٹ لوگوں کے نام دئے ہیں تو وہ آزاد کیوں پھر رہے ہیں ؟ آپ کے وزیرِ اعظم چندے کا ہار ہڑپ کر جاتے ہیں ۔ آپ کے صحافی ہر بات کو چوبیس گھنٹے کا مصا لحہ لگا کر بھونتے رہتے ہیں اور شب ڈھلتے ہی کھا پی کر ہڑپ ۔ کون پیچھا کرے گا ؟ کس کا فرض ہے یہ دیکھنا کہ چور چور کا شور بھی پڑ گیا ، چور پکڑا بھی گیا ، مگر کیا چور کو سزا بھی ہوئی ؟
دھوکہ دینا ، جھوٹ بولنا ، غبن کرنا یہ وائٹ کالر کرائمز ہیں ان کو کرنے والوں کو کالر سے پکڑ کر گھسٹینا چاہیے ۔جب جرائم اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اخلاقی گرواٹ دن بدن بڑھ رہی ہے تو سزائیں بھی ایسی ہی تجویز کی جائیں ۔
بڑے ملکوں نے آپ کی دنیا کو تیسری دنیا کہا ہے ۔ تیسری دنیا کے تیسرے درجے کے شہری پہلے درجے کے شہریوں کے جرائم کا حساب لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ، اس لئے وہ وہی جرائم کر کے پہلے درجے میں شامل ہو جاتے ہیں اور یا پھر پکڑے جاتے ہیں ۔غربت کی حالت میں ہی پکڑے جائیں تو سرِ بازار منہ کالا کر کے گدھوں پر بٹھایا جاتا ہے ۔ یہ طریقہ بھی پرانا ہوگیا ہے اب ذرا سی چوُک پر گدھوں کو آپ کے سر پر بٹھا دیا جاتا ہے ۔ وہ آپ کے گلے میں مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ اور کئی قسم کی کمر توڑ غلامی کی زنجیریں ڈال دیتے ہیں ۔
اس خوف سے ہی لوگ تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے ہیں کہ وہ سٹیفن کی طرح اندھے گڑھے میں نہ جا پڑیں ۔ کیونکہ ان کے نزدیک اندھا گڑھا اب جرائم کا ارتکاب” نہ کرنا “نہیں بلکہ کر کے “نہ بچنا “ہے ۔
جب جرم کرنے والے صرف” بچ جانے” کے فن کے زور پر آئیڈیل زندگی گذار رہے ہوں تو غریب کا دل کرتا ہے وہ بھی جھوٹ بولے ، غبن کرے ، دھوکہ دے ،کسی کو مار دے ،کسی کا پرس چھین لے ۔ ان سب کاموں کو کرنے کے بدلے میں جو دکھ کا احساس کسی انسان کے دل کو ہوسکتا ہے وہ ختم ہو گیا ہے اور اس طرح یماندارسٹیفن گڑھے میں ہی گرتے رہیں گے؟

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of