یہ گرواٹ ایک دن کا قصہ نہیں ہے ۔

Published on (February 12, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
یہ گرواٹ ایک دن کا قصہ نہیں ہے ۔
پاکستان کے معروف اداکار سہیل احمد جنہیں صرف کامیڈین نہیں کہا جاسکتا۔اور آجکل دنیا بھر میں اردو زبان سمجھنے والے انہیں عزیزی کے نام سے جانتے ہیں ۔ ٹاک شو میں وہ بعد میں آئے ،پی ٹی وی کے فشار سے شہرت پانے کے بعد اس قابل اداکار نے سٹیج ڈراموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور اخلاقی حدود کے اندر رہ کر بڑے بڑے مزاحیہ لیکن اصلاحی ڈرامے عوام کو دئے ۔ ان میں سے ایک ڈرامہ ہے “ڈبل سواری” ۔اس کی مختصر کہانی یہ ہے کہ ڈاکو، سہیل احمد کو جو کہ سُنار کا کردار کر رہا ہے ، اسے تاوان کے لئے اغوا کر لیتے ہیں ۔وہاں قوی صاحب پہلے سے پاگلوں والے حلیئے میں موجود ہیں اوروہاں کھڑی گاڑی جو سٹارٹ نہیں ہورہی کو دیکھ کر بول رہے ہیں کہ پاکستان بھی ایسے ہی ہوگیا ہے ، انجن خراب ہوگیا ہے ۔۔وغیرہ وغیرہ ۔ان پڑھ مگر امیر سُنار حیرت سے اسے دیکھتا ہے اور اپنے اغوا کرنے والوں سے پوچھتا ہے کہ یہ پاگل بابا کون ہے ؟ اسے بتایا جاتا ہے کہ اسے بھی تمھاری طرح اغوا کیا گیا تھا ۔ تاوان نہ دینے کی صورت میں سالہا سال سے یہیں بند ہے ۔اور اگر تم نے بھی بات نہ مانی تو تمھارا بھی یہی حشر ہو جائے گا ۔ سہیل احمد خوفزدہ نظروں سے انہیں دیکھتا ہے مگر دھمکی نما انداز میں کہتا ہے :
“دیکھو !! یہ تو پڑھا لکھا بندہ تھا پاگل ہو کر فلسفہ بول رہا ہے ۔ اللہ کی قسم مجھے پاگل کیا تو میں نے لکشمی چوک میں ننگے ہو کر گالیاں دینی ہیں “۔
ہال قہقوں سے گونج اٹھا ۔ بالکل اسی طرح کے قہقے مجھے متحدہ قومی موومنٹ کے جلسے میں اس وقت سنائی دیے جب الطاف صاحب تحریک انصاف کے دھرنوں کو چکلہ ،انکی خواتین کو رنڈیاں اور نائکہ کہہ رہے تھے ۔ ٹیلی فونک خطاب کی وجہ سے پتہ نہیں وہ کپڑے پہنے ہوئے تھے یا نہیں مگر سہیل احمد کی اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ میں پڑھا لکھا نہیں اس لئے پاگل ہو کے مجھ سے کسی مہذ ب بات کی امید نہ رکھنا ۔ پاکستان کے لیڈروں سے ہم لوگوں نے بری سے بری امید بھی رکھی مگر وہ ہر امید سے آگے نکل گئے۔
حال ہی میں کراچی میں ادبی میلہ ہوا ۔تقریبا سوا لاکھ لوگ شریک تھے ۔ عورتیں بھی ہونگی ، کم بخت کہاں جائیں پاکستان کی نصف سے ذیادہ آبادی ہیں ۔ کسی لڑکی نے کسی لڑکے کو کارڈ بھی دے دیا ہوگا ۔ سوری کسی رنڈی نے کسی لونڈے کو کارڈ بھی دے دیا ہوگا ۔ آخر میں نگہت چوہدری کا ڈانس بھی تھا ،علی سیٹھی کی گلوکاری بھی تھی ۔ رنڈیاں جھوم رہی تھیں ، بشری انصاری بھی قہقے لگا کر لوگوں کو متوجہ کر رہی تھی ۔ آپ کے نام کی یونیورسٹی بن رہی ہے وہاں ڈکشنری بھی آپ ہی کی ہوگی اس کے حساب سے تو الطاف صاحب یہ ادبی میلہ نہ ہوا یہ تو چکلہ ہوا۔
اوہ !! میوزیکل کنسرٹ میں تو حشر ہی برپا ہوتا ہوگا ۔ سول سوسائٹی والے بھی آئے دن لڑکے لڑکیاں اکھٹے ہو کر کچھ نہ کچھ احتجاج کا بہانہ بناتے رہتے ہیں ۔ کھلے عام فحاشی اور جناب آپ کس کس چکلے کو روکیں گے ؟؟ سنا ہے نائن زیرو سے آدھی رات کو بھی کال آجائے تو مردو خواتین بھاگے بھاگے وہاں پہنچ جاتے ہیں ،بس ایسے ہی ذہن میں آرہا تھا کہ خواتین کیا کہہ کر آدھی رات کو گھر سے نکلتی ہونگی کہ کیا کرنے جا رہی ہیں ؟ اور کہاں جا رہی ہیں ؟
ایک ہوتی ہے اجتماعی ذیادتی ، لڑکی ایک اور بہت سے لڑکے ۔لیکن الطاف صاحب نے مختلف کام کیا ہے ۔آپ اکیلے نے پورے پاکستان کی لڑکیوں کو اجتماعی طور پر نہ صرف ریپ کیاہے بلکہ ان کے منہ پر تیزاب بھی پھینک دیا ہے ۔آپ اپنے آپ کو لیڈر کہتے ہیں ، لیڈر باپ ہوتا ہے اور آپ نے اپنی ہی بیٹیوں کو سر عام رسوا کیا ہے ۔ کون یہ الفاظ اپنے کالم میں لکھ سکتا تھا ؟ سوچا جب الیکڑونک میڈیا اسے بغیر سنسر کے دکھا رہا ہے تو پرنٹ میڈ یا بھی چھاپے گا ، جب سیاسی لیڈر یہ الفاظ استعمال کر رہے تو صحافی کیوں نہیں کر سکتے بلکہ عام لوگوں کو آپ نے یہ راہ دکھائی ہے کہ عورت کو جب دل کرے گالی دے دو ۔ آپ نے اسی چکلے میں موجود کسی مرد “کو بھڑوا “کیوں نہیں کہا ؟ یہ ہے آپ کی لبرل ازم ؟شریعت کے نام پر عورت پر ظلم کرنے والوں پر آپ وقتا فوقتا لعنتیں ڈالتے رہتے ہیں ، عورت کو آزادی کا سبق دیتے ہیں ۔ مگر ایسی ننگی گالی دے کر جو نفسیاتی زنجیر آپ نے عورت کے پیر میں ڈالنے کی کوشش کی ہے وہ کسی مُلا کے بس کی بھی بات نہیں تھی ۔
ملک ریاض بحریہ والے کے ہاتھوں حیدر آباد میں الطاف حسین یونیورسٹی کا قیام قابلِ ستائش ہے ۔ اگر ملک صاحب کسی اور نام سے یونیورسٹی بناتے تو حیرت ہوتی ۔ وہ بھی چونکہ اتنے ہی پڑھے لکھے ہیں اس لئے مایہ کو مایہ ملے کر کر لمبے ہاتھ ۔ شوکت صدیقی کے ناول ” خدا کی بستی “کو خدا کے واسطے سکول نصابوں کا حصہ بنا دیا جائے یا کم از کم پاکستان میں کھوکھلے ٹاک شو کر نے والے کبھی کبھا ر ادب کے ان فن پاروں سے لوگوں کو روشناس کروائیں ۔کوئی تو کچھ کرے ۔ اس ناول کو پڑھ کر آپ جان جائیں گے آپ ڈائنا سور سے چھپکلی کیسے بنے ۔ ملک ریاض ایک دن میں پیدا نہیں ہوا ۔ پچاس کی دہائی میں جو بیج بوئے جارہے تھے وہ آج توانا درخت بن چکے ہیں اور کوئی مضائقہ نہیں جب یہ وطن ملک ریاض کے حوالے کر دیا جائے جو درخت کاٹ کاٹ کر کالونیاں بنا رہا ہے ۔اور انہی کے ہم نام ڈاکٹر ریاض جو زراعت کے سائنس دان تھے ۔ جنہیں امریکہ انڈیا اور کینڈا نے شہریت کی پیشکش کی مگر وہ زراعت پر ، درختوں کو بچانے پر ، پانی کے استعمال پر کتابیں لکھ لکھ کر اسی مٹی میں مل گئے جسے وہ باغ و بہار کرنا چاہتے تھے ۔کیونکہ قائد اعظم نے ان کا ہاتھ تھام کے کہا تھا کہ میری امید میرے نوجوان ہیں ۔ ان کی موت پر شائد ایک لائن بھی کسی اخبار میں نہ چھپی ہو ۔ زراعت کے اوپر جتنی بھی ریسرچ تھی میرے جیسے ایک اور بے اثر انسان کے حوالے کر گئے،شائد ان کا سچ پر یقین نہیں گیا تھا ۔
شوکت صدیقی نے خدا کی بستی میں ایک جگہ لکھا ہے:
“وہ ہزاروں روپے جو اس نے اپنی خوشیاں نیلام کر کے کمائے تھے ، اولاد کی تعلیم پر لگا دیئے اور اس کی تعلیم یافتہ اولاد اور ان پڑھ نیاز میں کوئی فرق نہیں تھا ۔سلمان سوچا کرتا کہ یہ بد قسمت بوڑھا کس قدر احمق ہے ۔اس سے ذیادہ سمجھدار تو نیاز کا باپ تھا جس نے اسے کوئی تعلیم نہیں دلائی۔اپنی گاڑھی کمائی کا ایک پیسہ اس پر صرف نہیں کیا ۔نیاز کو بھی اس سم سم کی تلاش تھی جس کی تلاش میں اس کے بہن بھائی سرگرداں تھے۔لیکن نیاز نے اس سم سم کا سراغ لگا لیا تھا ۔ ان پڑھ کباڑیا تین گریجویٹوں سے بازی لے گیا ۔کوٹھی ،کار اور بنک بیلنس ۔جیت کے تینوں کارڈ اس کے پاس تھے ۔وہ بڑا آدمی بن چکا تھا ۔اور وہ تینوں ابھی تک جیت کے ان تینوں کارڈوں کے خواب ہی دیکھ رہے تھے” ۔۔
ایک جگہ اور لکھتے ہیں :
اس کے بہن بھائی اس لئے اسے حقیر اور کم تر سمجھتے تھے کہ اس نے کوئی عہدہ کوئی منصب ہتھیانے کی کوشش نہیں کی ۔بنک بیلنس کیوں نہ بڑھایا ؟ ان کے نزدیک عوام کی خدمت محض مسخرا پن تھا ۔ سراسر حماقت تھی ۔ اس لئے کہ وہ بلندی کی طرف دیکھ رہے تھے ۔انہیں مطلق احساس نہ تھا کہ نیچے کروڑوں ننگے بھوکے ،کیڑے مکوڑوں کی مانند رینگ رہے ہیں جو ان ہی کی طرح انسان ہیں ۔۔۔۔
یہ رحجان ، یہ تربیت بہت پرانی ہونی شروع ہوچکی تھی ۔ آج آپ کے سامنے جو بے حسی ہے اپنے جیسے انسانوں کو کیڑا سمجھ کر کچل کر بلندی پر جانے کی خواہش یہ آج کی بات نہیں ہے ، پرانی ہے اور اب پک کے پختہ ہو چکی ہے ۔ ورنہ پشاور کے معصوم پھولوں کا خون ، بارہ مئی کے زندہ جلا دئے جانے والے بے بس وکیل ، شکار پور کے شہدا اور بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں زندہ جلنے والے غریب مزدوروں کا خون ،تکلیف اور بے بسی ایسے ہی رائگاں نہ جاتی ، صرف ایک سیاسی مہرہ اور دوسرے کو نیچا دکھانے کا آلہ نہ بنتی ۔
قتیل آزادیاں جن کو نہ بھائیں
انہیں قوموں کے ہم بھی فرد نکلے

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of