یمانداری ایک اقلیت ۔۔اور اس کا استحصال ۔

Published on (December 02, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
www.rubinafaisal.ca
ایمانداری ایک اقلیت ۔۔اور اس کا استحصال ۔
آج سوشل میڈیاپر ایک قصہ پڑھا ؛ ۔۔۔میری واحد نیکی :
“ایک عورت سڑک کے کنارے گود میں بچے کو لئے کھڑی رو ہی تھی ،میں نے پو چھا کیا بات ہے ،وہ بولی بچہ بیمار ہے ڈاکٹر کی فیس اور دوا کے پیسے نہیں ہیں ۔ میں نے جیب سے ۱۰۰۰ کا ایک نوٹ دیا اور کہاجاؤ ڈاکٹر کو فیس دو اور دوا لو اور باقی پیسے واپس لا دو ۔ وہ گئی اور کچھ دیر بعدواپس آئی ۔ 800روپے واپس دئے اور ساتھ دعائیں دیں ۔ میں مسکرایا ، اس کا شکریہ ادا کیا “۔اخلاقی سبق : نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی ۔اس عورت کو بچے کے علاج کے لئے پیسے مل گئے اور میرا جعلی نوٹ چل گیا” ( آصف علی زرداری کی کتاب “میرا بچپن “سے اقتباس )۔
۔ یہاں عمران خان صاحب ہو تے تو کہتے جعلی نوٹ ہی نہیں جعلی ووٹ بھی چل رہے ہیں لیکن میرا کینوس ذرا وسیع ہے, میں یہاں کہوں گی جعلی نوٹ چلاتے چلاتے ، اور جعلی ووٹ ڈالتے ڈالتے ہم جعلی انسان بھی چلانے لگ گئے ہیں ۔ ۔
ایک صاحب ہیں جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمیں تاریخ سے اور موجود دور سے اپنے بچوں کے لئے ایسے رول ماڈلز پیش کرنے چاہیئے جو ایماندار ، محنتی ، انصاف پسنداور پروقار ہوں ، مجھے ان کی معصومیت پر بہت ہنسی آتی ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ہم ایسے انسانوں کو اپنی جوان نسل کے سامنے رول ماڈل بنا بنا کر پیش کریں گے تو بچے ویسا ہی بننے کی کوشش کریں گے اور بالاخر رفتہ رفتہ ہم اپنی نسل کو سدھارنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔۔وہ اس خوش فہمی کے زیرِ اثر بہت اچھے اچھے اقوال زریں بتاتے رہتے ہیں، اور میں فقط اتنا سوچتی ہوں کہ انہیں عقل کب آئے گی؟
پاکستان میں اقبال ڈے کی چھٹی ختم ہوجاتی ہے اورٹورنٹو میں پاکستان قونصلیٹ سے اقبال ڈے کا دعوت نامہ چلا آرہا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ” اقبال ڈے جو ش و خروش سے منایا جائے گا اور جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں کہ اس روز پاکستان میں چھٹی ہو تی ہے” ۔ ہائے رے یہ کج ادائی ۔۔ پاکستان سے باہر پاکستان کی نمائندگی کر نے والا قونصلیٹ انجان ہے کہ علامہ اقبال اب صرف پاکستان کی ملکیت نہیں رہے بلکہ امریکہ سے لبرل ازم کا ٹیکا لگواتے ہی آپ کے ملک کے وزیرِ اعظم اس تنگ نظری سے نکل چکے ہیں، اور انہوں نے علامہ اقبال کو گوئٹے ، ہومر ، دانتے، فردوسی ، سعدی ، شیکسپئیر اور غالب کی طرح آفاقی بنا دیا ہے اور اب آپ بھی انہیں پاکستانی کوزے میں بند نہ کریں ، وہ ساری دنیا کے شاعر ہیں اس لئے یا تو آپ ان کی برتھ ڈے ساری دنیا کے ساتھ منائیں اور یا پاکستان کی سطح پر بھی یہ سرکاری چھٹی بند کریں ۔ علامہ اقبال کو آپ نے لبرل ہو تے ہی دنیا کے حوالے کر دیا اور فوری طور پر چھٹی بند کر دی ، بچے بچارے اداس ہوگئے کہ ہر سال اس دن گھر بیٹھ کر مزے کرتے تھے اب سکولوں کو جانا پڑے گا ۔ مگر بچوں مایوس نہ ہوں عنقریب آج کے پاکستان کے حساب سے کسی نئے رول ماڈل کی برتھ ڈے پر چھٹی کا اعلان ہو گا، اور آپکے رول ماڈل کی تعریف ہے” کامیاب انسان “۔
کرشن چندر کے الفاظ میں پہلے بھی بہت دفعہ دہرا چکی ہوں مگر کیا کرؤں کسی اور نے اس صورتحال کے لئے اس سے ذیادہ دل کو لگتی کہی ہی نہیں ۔۔
بشن ملہوترا کی آنکھیں کہہ رہی تھیں :
“آدمی کو چاہیئے کہ وہ اس ناکامی سے بچنے کے لئے کچھ بھی کرے، قتل کرے ، دھوکا دے لے اور اپنے دوست کا گلا کاٹ لے، اپنے بھائی کے گھر گھس کر ا سکی عزت لے لے ،مگر ناکام نہ رہے ۔ اس لئے لازم ہے تم پر کہ تم اس کامیابی کے لئے جھوٹ بولو، چوری کرؤ، ڈاکہ ڈالو ، اپنے ضمیر کو کچلو اور دوسروں کے ضمیر کو دھوکہ دو ۔کچھ بھی کرؤ اس کامیابی کے لئے اپنے آپ کو بیچ دو ، اپنی بیوی کو بیچ دو ، اپنی ماں کو بیچ دو مگر ناکام مت رہو ۔ کیونکہ اگر تم ناکام ہوئے تو وہ لوگ تمھیں بیج نہیں دیں گے ، پھول نہیں دیں گے ،دھرتی نہیں دیں گے اور سورج تم سے چھین لیں گے اور تم کُوڑے کے ڈھیر پر ڈال دئے جاؤ گے۔کیوں کہ تم ناکام ہو ۔ یہ دنیا ایک قاتل کو معاف کر سکتی ہے ایک ناکام کو نہیں”
سچے رول ماڈلز بننے یا ڈھونڈنے کا دائرہ کامیابی اور ناکامی کی پرکار سے بنایا جاتا ہے، اس لئے جو دنیاوی طور پر ناکام ہے اس کا مقام کوڑے کا ڈرم ہے دنیا کی سٹیج نہیں ۔ ایسے لوگوں کو اپنے سچے لفظوں اورایمانداری کو لے کر دنیا سے کنارہ کش ہو جانا چاہیئے ۔ اگر وہ ا س دنیا میں اپنی انہی حرکتوں کے ساتھ اپنا آپ منوانے کے لئے ادھر اُدھر مارے مارے بھاگے دوڑے پھریں گے تو صرف منہ کی کھائیں گے ۔ ان کی زندگی نہ اپنے لئے نہ کسی اور کے لئے نہ خوشی کا ، نہ محبت اورعزت کا باعث ہو سکتی ۔ اس لئے بہتر ہے کہ وہ اپنا منہ چھپا کر رکھیں۔
علامہ اقبال کے سرکاری چھٹی سے رخصت ہو تے ہی ، پاکستانی قوم کو ایک سمت مل گئی ہے ۔ اور زرداری کی کتاب کا اقتباس مذاق نہیں ہے آج کی حقیقت ہے ۔ زرداری،نواز شریف اور ان کے وزراء کرام کامیاب انسان ہیں ۔ اور جو کامیاب ہے اس کی بات میں وزن اور اس کی شخصیت میں سچائی خود بخود آجاتی ہے ۔ کون اونچائی تک کیسے پہنچا اس کے بارے میں کو ئی سوال نہیں کرتا ۔ کس کے بنک میں کتنے پیسے ہیں ، اس کے ذرائع کوئی نہیں پوچھتا ۔ سب کی آنکھیں کامیابی کی چمک سے ہی چندھیا جاتی ہیں ۔ اس لئے رول ماڈلزکو سچ ، ایمانداری اور خلوص میں ڈھونڈنے کی بجائے بچوں کو تلقین کی جائے کہ اپنا آپ بیچو یا کسی کو بیچ دو ، ضمیر کو مار دو یا کسی انسان کو ، خود غر ض ہو جاؤ اور اپنی ذات کے آگے جو آئے اسے جلا کے بھسم کر دو ۔۔ بس کامیاب ہو جاؤ ۔ تمھارے پاس عہدہ اور دولت ہو نا چاہیئے پھر اس دنیا میں مقام تمھار اہے ۔ آج کا پاکستان زرداری اور نواز شریف کے الائنس سے بننے والا پاکستان ہے ۔ اس سے پہلے بھی ایسے ہی ناجائز الائنس ہو تے رہے ہیں ۔ سچ اور ایمانداری ایک اقلیت بن کر رہ گئے ہیں اور اقلیتوں کا استحصال کون سی نئی بات ہے ۔ اس لئے پیارے بچوں اپنے آپ کو اکثریت میں شامل کر نے کے لئے مشرف بہ کر پشن ہو جاؤ ۔۔ سب بھلا ہی بھلا ۔
ایک ادکارہ تھیں جس نے اپنے سارے کپڑے اتار کر اپنی سڈول بازو پر ISIکا ٹیٹو چھپوا کر اسے عزت بخشی تھی ۔ دنیا نے دیکھا اس اداکارہ نے کیسی عزت پائی ۔ میں اس دن عش عش کر اٹھی جس دن پاکستان کے سارے ٹی وی چینلز نے اپنی روٹین کی خبریں روک کر ان محترمہ کی شادی کی نیوز اپنے ناظرین تک پہنچائی ۔۔عزت اور ذلت کبھی خدا کے ہاتھ میں تھی ، اب میڈیا کے ہاتھ میں ہے ۔ سو میڈیا سے ایسی پذیرائی دیکھ کر کس کم بخت لڑکی کا دل نہ کرے گا کہ وہ اس اداکارہ کو اپنا رول ماڈل بنا لے ۔
پھر آجکل ایک اور سمگلر حسینہ کو جس طرح عدالتی کاروائیوں میں جاتے ہوئے خضوع و خشوع سے دکھایا جاتا ہے اور ان کے بناؤ سنگھار کی تفصیل جس طرح بتائی جاتی ہے اور ان کے چاہنے والے جیسے جوق در جوق اکھٹے ہو جاتے ہیں،یو نیورسٹی میں گیسٹ سپیکر بھی بن جاتی ہیں تو کون کم بخت چاہے گا کہ وہ راتوں کو جاگ جاگ کر اپنا کئیرئیر بنانے کے لئے کتابوں کو رٹے اور چند ہزار کی بے عزتی کی نوکری کرے۔۔ سب کا ہی دل منی لانڈرنگ اور اس کے بدلے ملنے والی عزت کے لئے مچلے گا ۔۔
اچھا کیا ایسے ملک سے علامہ اقبال کے فلسفے کو ان کی سالگرہ سمیت نکال باہر کیا کیونکہ اب الفاظ کی حرمت کا نہیں ، “کامیابی “کا زمانہ ہے ۔ اُس اداکارہ ، اِس ماڈل اور سیاست کے ایوانوں میں بیٹھنے والے خواتین و حضرات ،اپنے قلم کا سودا کرنے والے صحافی اور دانشور سب کامیاب ہیں ، دنیا انہیں جانتی ہے ۔ خلوص اور سچ لکھنے والے چند ہزار روپوں اور اپنے الفاظ کی قدر و قیمت کے لئے ترستے مر جاتے ہیں ۔ پلیز رول ماڈلز نصاب میں بھی بدل دئے جائیں تاکہ idealistکی پکی موت واقع ہو جائے،ورنہ بچارے یونہی سسک سسک کر ذہنی مریض بنتے رہیں گے اور لوگ انہیں پاگل کہہ کر پتھر مارتے رہیں گے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of