گئے برس کے تحفے۔

Published on (January 08, 2016)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
گئے برس کے تحفے۔
نئی صدی کے سولہویں سال میں داخل ہو نے سے پہلے زمانے بھر میں پچھلے سال کے جائزے لئے گئے ۔رخصت ہونے والے کو تحائف سے نوازا جا تا ہے اس کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں دسمبر کا مہینہ کر سمس کا اور چھٹیوں کا مہینہ ہو تا ہے ۔
مگر پاکستان کے حوالے سے دیکھیں تو دسمبر کا مہینہ، اس میں ہونے والے کرب ناک واقعات کی وجہ سے بہت دکھ کا باعث ہو گیا ہے ۔ 16دسمبر ایک ناگ کی صورت اختیار کر گیا ہے ، ہر سال لوگوں کو ڈستا رہے گا ۔پشاور کے شہید بچوں کے والدین اور بہن بھائی کیلنڈر میں اس تاریخ کو دیکھ کر سوچتے رہیں گے کاش یہ مہینہ، یہ دن کیلنڈر میں کبھی ہوتے ہی نہ۔
جاتے سال کے یہ تحفے حکمرانوں کی نااہلی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتے تھے ۔ مگر افسوس تو یہ ہو تا ہے کہ ان نالائقوں کو زخموں پر پھاہے بھی نہیں رکھنے آتے ۔ میں نے پشاور سکول کے بچوں کے والدین کے جتنے بھی انٹرویو سنے اس سے یہی اندازہ ہوا کہ ان کے زخم تازہ ہیں ، ان میں سے خون رِس رہا ہے اور مسیحا کہیں نہیں ہے ۔ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بہتے زخموں کو ، آنسوؤں میں بہتے چہروں کو تھا مے ہو ئے ہیں ۔ بچوں کی جدائی کا صدمہ اور اربابِ اختیار کا ظالمانہ رویہ ،اسے برداشت کرتے کرتے ان کے چہرے جھریوں سے بھرے اور آوازوں میں تھکان بھر گئی ہے ۔ان کی زندگیاں مستقل آگ بن چکی ہیں ۔
ایک والد نے میرے دل کی بات کہی ،”کیسا فخر ، کیسی قربانی ، ہم نے بچہ سکول بھیجا تھا ، میدانِ جنگ میں نہیں “۔۔ میں میڈیا والوں کے بے حس سوالوں اور حکمرانوں کے بے حس رویوں کو دسمبر کے مہینے کا اپنی عوام کے لئے تحفہ سمجھوں گی ۔ تحفہ انسان اپنی حیثیت کے مطابق دیتا ہے اور ان سب کی حیثیت بے حسی ، بے رخی اور خود غر ضی ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ والدین نے نفرت اور حقارت بھرے لہجے استعمال کئے ، کیونکہ خودادر انسان آنسو بھی اس کے سا منے بہاتا ہے جس میں آنسوؤں کو سمجھنے کی صلاحیت ہو تی ہے ۔ پشاور کی عوام غیور اور شائد سمجھ عقل میں سب سے آگے ہے ۔
عقل سے پیدل مخلوق جو اپنے آپ کو قوم کا لیڈر کہلاتی ہے ، اسے نہ دکھ بانٹنا آتا ہے اور نہ خوشی ۔ ان کی خوشیاں بھی اپنی ذات سے وابستہ ہیں اور غم بھی اپنے ہی کچن سے شروع ہو کر اپنے ہی بیڈ روم میں ختم ہو جاتے ہیں ۔انہیں نہ پتہ ہے کہ ہیروز کیا ہو تے ہیں اور ملک کی پہچان میں ، لوگوں کی ذہنی تربیت میں اور انہیں شعور دینے میں اپنے ہیروز کا کیا کردار ہو تا ہے؟
وائٹ ہاؤس میں پوری فیملی کی پکنک یا اپنی بیٹیوں کی شادی میں ، اپنی اماں سے مودی کو ملوا کر ہی صرف سفارت کاری نہیں ہوتی ، اس کے لئے کچھ اور ٹھوس اقدامات کر نے پڑتے ہیں ۔آپ اپنے آپ کو قوم کا لیڈر کہنے کی بجائے صرف نانا ، دادا ، مر یم کے ابو ، حسن کے ماموں اور حمزہ کے تایا جیسے عظیم عہدوں تک ہی محدود رکھیں تو ذیادہ بہتر ہے ۔ اگر آپ قوم کے تھوڑے سے بھی لیڈر ہو تے تو آپ 25دسمبر کو اپنے اور مو دی کے کانوں پر غبارے باندھ کر اپنی سالگرہ کا کیک کاٹنے تک محدود نہ رکھتے ۔ آپ کم از کم قائدِ اعظم محمد علی جناح کا نام ان کی سالگرہ پر ہی لے لیتے ۔ آپ نے شائد امریکہ کے کہنے پر ہندوؤں کے تہوار دیوالی پر ہو لی کھیلنے کی جو فرمائش کی تھی ، وہ کرسمس پر مسیحی برداری کے سا تھ جا کر کھڑے ہو کر پوری کر سکتے تھے ۔ مگر اس دن تو آپ کی بغل میں رام رام ہو رہا تھا ۔ اور ہاتھوں میں اپنی سالگرہ کا کیک کاٹنے کی چھری ۔۔آپ کو کیا پتہ پاکستان کے قائدِ اعظم کی سالگرہ ہے ، آپ کو کیا پتہ کہ ایسے موقعوں پر اقلیتوں کو کس اپنائیت کا احساس دلوانے کی ضرورت ہو تی ہے ۔
میری آنکھیں ترستی ہی رہ گئیں اورمجھے کہیں بھی قائدِ اعظم کی ذات سے متعلق کوئی درس ، کوئی سبق کوئی واقعہ عوام الناس کی خدمت میں پیش ہو تا نظر نہیں آیا۔ جب ہر طرف قائد اعظم کی ذات کو لے کر زہر اگلنے کا رواج پنپ چکا ہے ،اور وہ لوگ ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ذیادہ تندہی سے جُتے ہو ئے ہیں ایسے میں ہمارا میڈیا اور حکمران کمبل منہ پر ڈالے صرف اپنی اپنی ذات میں گھسے ہو ئے ہیں۔
اس دن ہر طرف مودی نواز ملاقات کے ڈنکے بج رہے تھے اور میں اس پتلی تماشہ ( جس میں دونوں پتلیوں کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھی ) کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ اب دیکھو انڈیا میں دھماکہ کہاں ہو گا ۔۔ اور پٹھان کوٹ کی صورت میں جواب آگیا ۔۔ ہم عوام کی نظر کالی اور زبان کالی تر ہو چکی ہیں ورنہ ان بچاروں کا کوئی قصور نہیں ہے ۔
قائد اعظم کا ڈرائیور تھا محمد حنیف آذاد ، سعادت حسن منٹو کی کتاب میں اس پر ایک مضمون ہے جس میں وہ قائد اعظم کے متعلق اس وقت کی باتیں بتاتا ہے جب وہ ان کا ڈرائیور تھا ۔ اور یہ مضمون پاکستان بننے ، اور قائد اعظم کی وفات کے بعد جب لیاقت علی خان وزیرِ اعظم تھے تب لکھا گیا تھا ۔ اس کا آخری پیرا گراف قارئین کے لئے :
“وہ (آزاد ڈرائیور )بے حد متفکر تھا، جب میں نے اس سے قائد اعظم کی زندگی کے بارے میں اس کے تاثرات کے متعلق استفسار کیا ، اس کے پاس پان کے لئے بھی پیسے نہیں تھے۔میں نے جب اسکے تفکرات اِدھر اُدھر کی باتوں سے کسی قدر دور کئے تو اس نے ایک آہ بھر کر کہا “صاحب انتقال فرما گئے ۔۔کاش ان کے اس سفر میں میں بھی شریک ہو تا، اور میں آہستہ آہستہ ان کو منزلِ مقصود تک لے جاتا ۔ ان کی نازک طبیعت دھچکوں کو برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔ میں نے سُنا ہے واللہ اعلم درست ہے یا غلط جب ان کا جہاز کرا چی ائرڈروم پر پہنچا تو ان کو گورنمنٹ ہاؤس تک پہنچانے کے لئے جو ایمبولنس تھی اس کا انجن درست حالت میں نہیں تھا ۔ وہ کچھ دُور چل کر رُک گئی تھی ۔اس وقت میرے صاحب کو کس قدر کوفت ہو ئی ہو گی ۔”آزاد کی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو تھے ۔”
قائد اعظم کی گاڑی چلانے والا ان کے گھر میں رہنے والا یہ تنو مند انسان (جس نے مضمون میں لکھا کہ قائد اعظم کیسے ملازموں کا خیال رکھتے تھے اور ان کی اخلاقی تربیت کو بھی مدِ نظر رکھتے تھے)کسی اور ملک میں ہو تا تو اس کی قدر ہو تی وہ یوں ایک پان کو نہ ترستا رہتا ۔وہ تو خود کو قائد کا غلام کہتا تھا مگر خود ، قائد کے ساتھ کیا کیا ؟ وہ ٹوٹی ایمبولنس آج بھی اسی طرح ٹوٹی ہے ۔
آزادنے سوچا تھا خراب انجن کی وجہ سے ایمبولنس کو لگنے والے دھچکوں سے میرے قائد کو کس قدر کو فت ہو ئی ہو گی ۔۔ آج آزاد ہو تا تو پوری ریاست کی خراب مشینری کی وجہ سے اداروں کو لگنے والے دھچکوں اور ان کے تھوڑا فاصلہ طے کر نے کے بعد مکمل طور پر رک جانے کو دیکھ کر سوچتا اچھا ہوا قائد اعظم جلدی چلے گئے ۔ ورنہ ان کی نازک طبیعت یہ سب بر داشت نہ کر پاتی ۔
جاتے سال کے ایک اصلی تحفے کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔ کیونکہ انسانوں کے خون بہانے ، اور انسانی جان کی بے وقعتی اتنی عام بات ہو گئی ہے کہ محسوس ہو تا ہے کہ رواج زندگیاں دینے کا نہیں بلکہ لینے کا ہے ۔ ایسے میں کوئی انسانیت کو بچانے کی بات کرے تو اس خونی صدی کے ہر ذی شعور انسان کو ایسے انسان کا شکریہ ادا کر نا چاہیے ۔ سو ہم سب کینڈا میں اور پو ری دنیا میں بسنے والے پاکستانی ، عمران خان کے مشکور ہیں جس نے پشاور میں شوکت خانم کینسر ہسپتال بنوایا ۔ اور ایک عام مریض بچے سے ہسپتال کا فیتہ کٹوا کر عام انسانوں کو زندگی کے ساتھ ساتھ عزت بھی دی ۔ ورنہ تو عام لوگ خواص کے بچوں کے پروٹوکول کی رسم میں اپنے ماں باپ کے ہاتھوں میں دم توڑ دیتے ہیں ۔ عام انسان کی بے قدر زندگی کو احترام دینے کا شکریہ ۔ عمران خان کا جاتے سال کا یہ تحفہ پوری قوم کو تا حیات یاد رکھنا چاہیئے اور احتیاط کر نی چاہیئے کہ آنے والی نسلوں میں اس کام کو بھی قائد اعظم کی زندگی کی طرح controversialیا نا قابلِ توجہ نہ بنا دیا جائے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of