کینڈین بچے کا اپنی پاکستانی ماں سے مکالمہ

Published on (September 30, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
کینڈین بچے کا اپنی پاکستانی ماں سے مکالمہ
کتنے خوبصورت گھر ہیں ۔۔بچے کی آنکھیں حیرت سے باہر کو ابل رہی تھیں ۔۔
ماں نے چونک کر دیکھا اوہ ہاں ۔۔ بہت پیارے ہیں ۔۔کہا تو سہی مگر کھسیانی سی ہو گئی اگلے سوال سے ڈرتی تھی مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ۔بچے کا اگلا سوال آکر رہا ۔۔
کیا پاکستان میں سب گھر ایسے ہی ہوتے ہیں ؟ بچہ ابھی تک قیمتی ٹائلز ، فرنیچر اور گھر کی آرائش کے سحر میں تھا ۔
ہوتے ہیں ۔۔ سب ۔۔ لیکن کچھ ۔۔ نہیں سب ہی ۔۔ ماں کی ہکلاہٹ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔
نہیں ماما ،جب بھی آپ لوگ پاکستانی ڈرامہ دیکھ رہے ہوتے ہیں گھروں کی تعمیر ، ان کی سجاوٹ سب یوں لگتا ہے جیسے جنت کے ڈیزائن ہوں ۔۔ سب ڈراموں میں اتنے بڑے بڑے خوبصورت گھر ۔
ہاں بیٹا ،پاکستان میں بہت پیارے گھر ہوتے ہیں ۔ بہت بڑے بڑے ۔ماں نے بچے کی کم علمی سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ۔
کیا ہم کینڈا میں ایسا گھر بنا سکتے ہیں ۔۔ بچہ خواب کو حقیقت بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا تھا ۔۔
“نہیں مشکل ہے ۔۔ پاکستان جیسی تعمیراتی اور آرائشی چیزیں یہاں کہاں دستیاب ۔۔ روکھے پھیکے فرنیچر اور بے رنگ مکان ۔۔کہاں پاکستان اور کہاں کینڈا کے گھر ۔۔۔” ماں کو ایسی باتوں میں مزا آنے لگ گیا تھا ۔
“ماما کیا سب لوگوں کے پاس ایسے ہی گھر ہوتے ہیں ۔۔۔ کینڈا میں روکھے پھیکے ہیں تو سب کے ہیں ۔ بے رنگ ہیں تو ایک جیسے ۔۔ کیسی یک رنگی لگتی ہے ۔۔ کیا پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے ۔۔”
اب ماں کی بازی پلٹ چکی تھی سچ بولنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔۔ نہیں سب کے پاس نہیں ۔۔
“پھر ڈراموں میں وہ گھر کیوں نہیں دکھائے جاتے جو دوسروں کے پاس ہیں ۔۔ ڈراموں میں سب کے گھر ایک جیسے بڑے بڑے اور سجے سجائے کیوں ہو تے ہیں ۔۔”
“پتہ نہیں”، ماں کی آواز میں جھنجلاہٹ عود آئی ۔۔
اچھا ماما گھروں کو چھوڑیں ، کیا پاکستان میں سب عورتیں ایسے ہی میک اپ کئے ، فینسی کپڑے پہنے گھروں میں رہتی ہیں ۔۔
“ہاں ذیادہ تر ۔۔ ماں کے پاس کوئی سچا جواب نہیں رہ گیا تھا ، ہوا میں تیر چلانے کی باری تھی ۔
“مطلب کچھ کے پاس کپڑے نہیں ہو تے یا اتنے اچھے نہیں ہوتے ،یا گھروں میں وہ نارمل رہتی ہیں ، یا وہ گھروں میں ہی نہیں رہتیں کچھ اور کام بھی کرتی ہیں ۔۔ ”
“دماغ نہ کھاؤ ۔۔ ظاہر ہے وہاں بھی عورتیں جاب کرتی ہیں ۔۔ پڑھتی بھی ہیں ، غریب بھی ہو تی ہیں ، متوسط طبقہ بھی ہو تا ہے ۔۔ ماں حقیقت سے قریب جواب دینے لگی ۔
“لیکن آپ جو ڈرامے دیکھتی ہیں ان میں تو سب میں عورتیں میک اپ کر کے ،مہنگے کپڑے پہن کر ،گھر میں گھومتی رہتی ہیں ۔ کوئی ساس ہوتی ہے یا بہو ، کوئی بڑے بھائی کی بیوی اور کوئی چھوٹے کی ، کوئی شوہر کی بہن یا باپ کی لاڈلی بیٹی ۔۔بس غیر فطری سا ماحول ہو تا ہے ۔وہ سوتی ہیں ، اٹھتی ہیں ، چائے پیتی یا پلاتی ہیں ۔یا ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتی ہیں ۔۔ کیا پاکستان کی ترقی کا یہی راستہ ہے جس پر ساری عورتیں چل رہی ہیں ؟ دیکھنے والوں کو اس میں سے ہی ملک کے لئے اور اپنے کچھ اچھا ڈھونڈنا ہے ۔۔ اس utopiaجیسی حالت سے ؟
اماں غصے سے مجھے ایسے نہ دیکھیں میں نے جو کچھ وہاں کے ڈراموں اور مارننگ شوز میں دیکھا اس سے میں نے یہی جانا کہ :
پاکستان میں لڑکیوں کے صرف رشتے دیکھے جاتے ہیں ۔ وہ تیار ہو کر گھومتی رہتی ہیں ۔ شریف ہوں تو ماں باپ رشتے دیکھتے ہیں ۔ تیز ہوں تو خود دیکھ لیتی ہیں ۔ پورے پورے ڈرامے رشتے دیکھنے دکھانے میں گذر جاتے ہیں ۔ پھر اس لڑکی کی شادی کسی ایک لڑکے سے ہو جاتی ہے ۔ وہ لڑکا یا تو اس سے محبت کرنے لگتا ہے یا نہیں ۔ کرنے کی صورت میں اس کی ماں بہن پرابلمز شروع کر دیتی ہیں اور بیوی سے محبت نہ کرنے کی صورت میں وہ ایک اور عورت سے محبت کرتا ہے ۔۔ پھر وہ دوسری عورت سے بھی شادی کر لیتا ہے ۔ گھر کے اندر بیوی جسے اس کے ماں باپ نے پیدا ہوتے ہی صرف شادی کے خواب دکھائے ہوتے ہیں وہ خالی ہاتھ بیٹھ کر شوہر کا یا تو انتظار کرتی ہے یا پھر کسی اور کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے ۔۔ اس بنیادی خیال کے گرد ایک ڈرامے کی ساری قسطیں یا سارے چینلز کے سارے ڈرامے گھومتے ہیں ۔
ماما میں کبھی کبھی سوچتا ہوں پاکستان کی زندگی کتنی پر آسائش ہے ۔ آپ کو صرف کھانا ، پینا ، سونا ، محبت کرنا اور شادی کرنا یا ذیادہ سے ذیادہ شادی کو ناکام بنانے والی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے اور کچھ بھی نہیں کر نا ہوتا ۔۔ ”
“بیٹے ایسا نہیں ہے ۔۔ ماں کی آواز میں شکست کی گونج تھی ۔۔
تو پھر کیسا ہے ۔ ان امیر گھروں کے سجے ہو ئے ڈائننگ ٹیبلز دیکھ کر میں سوچتا ہوں کاش میرے آگے بھی کوئی نوکر یا نوکرانی تھوڑی تھوڑی دیر بعد جوس رکھیں ۔ ایسے انواع و اقسام کے کھانے دن میں تین بار ہمارے گھر کی میز پر بھی سجیں ۔۔ ماما کینڈا کی لائف کتنی سخت ہے ۔ آپ لوگ کیوں پاکستان جیسی جنت کو چھوڑ آئے ۔۔۔۔۔
“بیٹا ۔۔۔”ماں اب کشمکش کا شکار ہو گئی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کا دفاع کرے یا پاکستان کے جھوٹے خواب بچے کی آنکھوں میں سجے رہنے دے ۔۔
“ماما آپ جتنے بھی ڈرامے دیکھتی ہیں ان سب میں یہی ہے ۔۔ وہاں کے بچوں کے پاس محبت کرنے کے سوا کوئی اورکام نہیں ہے ۔ ماما کیا میں بھی پاکستان جا سکتا ہوں ،لگتا ہے اتنی رومانٹک محبت اب صرف وہیں پر رہ گئی ہے ۔ ورنہ تو دنیا میں ہر جگہ بہت مادہ پرستی ہو گئی ہے ۔ محبت جیسی فل ٹائم عیاشی اب صرف وہیں پر ہوتی ہے ۔ماما سوچیں آپ کو وہاں کچھ بھی نہیں کرنا ہوتا ، صرف محبت یا شادی ۔۔ ماما پلیز مجھے وہاں بھیج دیں”
ماما ،کبھی جب ابو کے ساتھ بیٹھ کر پاکستانی ٹاک شو دیکھ لوں تو پھر سے لگتا ہے کہ زندگی احمقوں کی نہیں بلکہ بدعنوان اور بدقماش لوگوں کی جنت ہے ۔ اینکر پروگرام کے شرکاء پر کرپشن ثبوتوں کے ساتھ ثابت کر دیتا ہے اور بدلے میں سیاست دان صحافیوں کو زر خرید ثابت کر دیتے ہیں مگر دونوں پارٹیوں پر ذرا بھی آنچ نہیں آتی ۔ صحافی کسی ایک چینل کے نہیں ہوتے اور سیاست دان کسی ایک پارٹی کے نہیں ہو تے ۔ دونوں دونوں ہاتھوں سے پیسہ لوٹتے ہیں ، شائد ٹی وی ڈراموں میں ان کے بنگلے ، گاڑیاں اور بچے ہی نظر آتے ہیں ۔۔۔
بیٹا پاکستان میں عام لوگ بھی ہوتے ہیں اور عام لوگوں کے مسائل بھی ۔۔ ماں زچ ہو کے کہہ اٹھتی ہے ۔
بچہ حیرت سے ماں کو دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ جاتا ہے ۔۔۔ میں نے کبھی کوئی پاکستانی ڈرامہ، جن کا موضوع عام کسان یا مزدور ہو ، نہیں دیکھا ۔۔۔پاکستان کے عام لوگوں اور ان کے مسائل پر ڈرامے کہاں بنتے ہیں ؟
“ان پر ڈرامے ڈاکومنٹری کی صورت انٹرنیشنل پلیٹ فارمز پر بنتے ہیں اور آسکر ایوارڈ پاتے ہیں” ۔۔۔ ماں کا سر گھٹنوں سے بھی نیچے جھک جاتا ہے ۔۔
وہ ؟۔۔۔۔ عورتوں کے منہ پر تیزاب پھینکنے والی فلم ؟
بچوں کی اور لڑکیوں کی فروخت ،زندہ جلائے جانے والے مزدور ، اپنے بچے بیچتے ماں باپ ، مدرسوں میں پڑھنے والے جہادی بنتے بچے ، بھتہ مافیا ، ٹارگٹ کلنگ ، مذہبی جنون ،لسانی اور گروہی فسادات ، گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد ، سٹریٹ چلڈرن کی دل خراش کہانیاں،سٹریٹ کرائمز کے راز ،فاقوں سے تنگ آکر خود کشی ، انصاف نہ ملنے پر خود سوزی کی کہانیاں وہ ؟ وہ ماما ؟
ہاں وہی ۔۔وہ پاکستان کے بڑے مسائل ہیں ۔۔۔۔ ماں مکمل طور پر پاکستان کے دفاع کی جنگ ہار چکی تھی مگر پاکستان چھوڑنے کے اپنے فیصلے کے دفاع کی جنگ جیت چکی تھی ۔۔۔۔۔
اگر یہ سب پاکستان کے مسائل ہیں تو ڈراموں میں کیوں نہیں نظر آتے ؟پاکستان کے مارننگ شوز میں کیوں نظر نہیں آتے ؟کیوں ان سب کو دیکھ کے یہ لگتا ہے کہ پاکستان دنیا میں سب سے ذیادہ رہنے کے قابل جنت ہے ؟ اور اگرپاکستان کے رائٹر اور دانشور وہاں کے عام لوگ اور ان کے مسائل نہیں دیکھا سکتے تو ماما کیا آپ کے ڈکٹیٹر ضیا الحق نے سچ کہا تھا جب اس نے دانشوروں کو سیم اور تھور کہا تھا ؟

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of