کیا حلالہ حلال ہے ؟

Published on (November 18, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
کیا حلالہ حلال ہے ؟
یہ موضوع کوئی نیا نہیں ہے اور یہ موضوع میرا ہے بھی نہیں مگر انسان کبھی کبھار کچھ باتوں کو دیکھ کر اتنامجبور ہوجاتا ہے کہ وہ بات اس کے دائرے کی ہو یا نہ ہو اسے بولنا پڑتا ہے ، اس کی کھوج کر نی پڑتی ہے ۔ ایسا ہی ایک موضوع ہے طلاق اور حلالہ ۔
ایک قصہ سنئے ،یہیں ، ٹورنٹو ،کینڈا کا ہی ہے :
شوہر تھکا ہارا گھر آیا اور بیوی کی چخ چخ سے تنگ آکر ایسا غصے میں آیا کہ اسے یکا یک یہ محسوس ہونے لگا کہ اب اس لڑاکا عورت کو طلاق دئے بغیر گزارا نہیں ہو گا لہذا فٹ سے،تین دفعہ طلاق طلاق طلاق ۔۔۔۔ اور بیوی وہیں سر پکڑ کردھڑام سے زمین پر آرہی ۔۔۔ للہ یہ کیا ہو گیا ۔۔
شکر ہے چپ ہو ئی ۔۔ شوہر یہ سوچتا ہوا کمرے سے سکون سے نکل گیا ۔
پندرہ منٹ بعد گیارہ سال کا بیٹا ابو کے پاس آیاکہ اسے سکول کے پر و جیکٹ کے لئے آئل کلرز درکار ہیں۔۔ابو حضور اب پندرہ منٹ پہلے والے غصے کے طوفان سے نکل چکے ہیں بلکہ سب کچھ بھول بھال کر ٹی وی پر کر کٹ میچ دیکھ رہے ہیں ۔ بیٹے کو کہا ۔جاؤ اپنی ماما کو بلا لاؤ ، چلتے ہیں ۔۔ چھوٹی بیٹی بولی میں بھی ساتھ چلوں گی ۔۔ کیوں نہیں سب چلیں گے ۔۔
ابو سب نہیں جاسکتے ، اتنے میں بیٹا ماں کو پوچھ آیا تھا ۔۔ کیوں نہیں جاسکتے ؟
ماما کہہ رہی ہیں اب وہ آپ کی بیوی نہیں رہی ہیں اور آپ ان کے لئے ۔۔۔ بھول گیا ۔۔ کچھ ہو گئے ہیں ۔۔۔ strangerشائد۔۔
شوہر نے سوچا ۔۔ نامحرم کہا ؟
بھاگم بھاگ بیوی کے پاس پہنچا ۔۔ وہاں بیگم نے رو رو کے آنکھیں سرخ کر رکھی ہیں ۔۔ نکل جائیں میرے کمرے سے آپ میرے لئے نامحرم ہیں ۔ بیگم کے آگے ٹی وی ڈراموں کے ایسے سارے سین تیزی سے چل رہے تھے اور ڈائلاگ دھڑا دھڑ منہ سے نک رہے تھے ۔
ہیں ؟ ۔۔۔ شوہر کے منہ سے اتنا ہی نکلا ۔۔ میں غصے میں تھا میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔
آپ کا مطلب جو بھی تھا ، یہاں کہانی ختم ہو گئی ہے ۔۔۔ میں آپ کے اوپر حرام ہو گئی ہوں ۔
شوہر کے ہاتھوں کے سارے طوطے اڑ گئے ۔۔ بیوی کو اپنے طور پر منانے کی پوری کوشش کی مگر اس نے کہا مجھے گناہ پر آمادہ نہ کریں ۔۔
ہم کون سا ٹھیک والے مسلمان ہیں ، نہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور میں تو روزے بھی نہیں رکھتا ۔۔ تو پھر یہ کیا ۔۔شوہر نے ورغلانے کی اپنی سی پوری کوشش کی ۔
آپ مجھے گناہگار نہ کریں ،ہاں آپ کے ساتھ کسی مسجد کے امام کے پاس جا سکتی ہوں اگر وہ کہہ دیں تو کوئی حرج نہیں ۔۔ بیوی باقاعدگی سے پاکستانی ڈرامے دیکھتی تھی اس لئے طلاق اور اس کے سابقوں لاحقوں سے واقف تھی ۔
دونوں بھاگے بھاگے مولوی صاحب کے پاس جاتے ہیں ۔مولوی صاحب ساری بات سن کے اپنی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ طلاق ہو گئی اور اب تم لوگ اکھٹے نہیں رہ سکتے یہ بہت بڑا گناہ ہوگا ۔ تم دونوں ایک دوسرے کے لئے نا محرم ہو گئے ہو ۔۔
مگر مولوی صاحب ہم تو سارا دن کتنے نامحرموں سے باتیں کرتے ہیں ، ساتھ کھاتے پیتے اٹھتے بیٹھتے ہیں ۔۔ اکھٹے ہی رہتے ہیں ۔۔تقریبا ۔۔
یہ شرعی مسئلہ ہے تم یا تو خود بول لو ، یا میری بات سن لو ۔۔۔ مولوی صاحب کے چہرے پر ناگواری دیکھ کر بیوی ڈر جاتی ہے ۔۔ نہیں نہیں یہ تو ہیں ہی ایسے ، میں صرف بچوں کی وجہ سے ان کے ساتھ دوبارہ رہنا چاہتی ہوں کوئی حل بتائیے ۔۔
حلالہ ۔۔ بس یہی ایک حل ہے ۔
حلالہ ؟ شوہر چونک کر پوچھتا ہے ۔۔ اپنی ہی بیوی کو حلال بنانے کا طریقہ ؟
تم پھر بولے ۔۔ بولو منظور ہے کہ نہیں ۔۔ ؟
منظور ہے منظور ہے ۔۔ طریقہ بتائیے اس حلالہ کا ۔۔۔
اپنی بیوی کی شادی کسی سے کروا دو اور پھر تمھاری بیوی کا جب اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم ہو جائے تو پھر اس سے طلاق دلوا کر ، پھر سے اپنی بیوی کو نکاح میں لے لینا ۔۔۔
مولوی صاحب غصہ انہیں آیا ، اور کسی غیر آدمی سے شادی کر کے اپنا جسم میں اسے پیش کرؤں ؟بیوی کو اب پتہ چلا ڈرامہ کیا ہوتا اور حقیقت میں اپنے اوپر برتنا کیسا ہو تا ۔۔
نہ کرؤ ۔۔رہو پھر مطلقہ بن کر ۔۔میرے پاس کیا لینے آئے ہو ؟
اسے چھوڑیں مولوی صاحب ، میں اسے سمجھا لوں گا ۔ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ، بچوں کی خاطر ہم دونوں کو یہ کڑوا گھونٹ بھر نا پڑے گا ۔ مگر مولوی صاحب میں ایسا آدمی کہاں سے ڈھونڈوں اور اگر ایسا مل بھی جائے تو کیا گارنٹی کے وہ رات گذارتے ہی میری بیوی کو چھوڑ دے گا ۔۔ طلاق دے دے گا ۔
یاں یہ رسک تو ہو تا ہے اور اگر رسک فری کام کر نا ہے تو میں اپنی خدمات پیش کر سکتا ہوں۔مگر میں اس کام کا معاوضہ لیتا ہوں ، ذیادہ نہیں 5000ڈالر ،مگر سب کام صاف ستھرا ہو تا ہے ۔
بیوی نے شوہر کو شکایتی نظروں سے دیکھا ۔۔ وہ فورا بولا پیسوں کا انتظام ہو جائے گا تم فکر نہ کرؤ بیگم ۔۔
بس یہی انتظام ہے کرنے والا ، جو تم کر لو گے ؟ ۔۔۔۔۔۔ اور شوہر نے بیوی کی اس بے کار بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا ۔۔
اور مولوی صاحب جن کی وجہ ٗ شہرت ہی یہی speciality تھی اور ان کا نام بھی اسی نسبت سے مولوی حلالہ مشہور تھا ،فبائی اللہ ربکما تکذبن ( اور تم خدا کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ) کی تسبیح با آواز بلند کرنے لگ گئے ۔ اور دونوں میاں بیوی کے دل جو تشویش سے بھرے ہو ئے تھے عقیدت سے بھر نے لگے ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کینڈا میں ذیادہ ترپڑھے لکھے ، پر وفیشنل لوگ ، skilled worker classمیں منتخب ہو کر پہنچتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں اپنا دماغ نہیں کھپاتے ہیں اور اتنا تردد بھی نہیں کرتے کہ ایسے روزمرہ کے مسائل کا حل قران پاک یا سنت سے خود تلاش کریں اور یا کسی عا لم فاضل کے پاس چلے جائیں ۔ مولوی حضرات اور عربی زبان کی عزت کا معاملہ ہمارے ہاں کچھ ایک سا ہی ہے ۔ جیسے عربی سنتے ہی ہم سر پر دوپٹہ یا ٹوپی رکھ لیتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ عربی میں قران پاک کی تلاوت ہی نہیں ان کے گانے بھی ہو تے ہیں ۔ زمین پر گری سگریٹ کی خالی ڈبی پر عربی زبان میں” سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے “بھی لکھا ہو تو اس ڈبی کو بھی عقیدت سے چوم کر ، آنکھوں سے لگا کراونچی جگہ پر رکھ دیں گے ۔ اسی طرح کسی بھی مولوی کو دیکھ کر ہم مودب ہو جاتے ہیں یہ جانے بغیر کہ یہ مولوی کہہ کیا رہا ہے ۔
پاکستانی ڈراموں نے رہی سہی کسر پو ری کر رکھی ہے ، جن میں تین طلاقیں غصے میں اور پھر حلالہ جیسی ( prostituition covered )اتنی عام دکھائی جا رہی ہے کہ انسانی ذہن دنگ رہ جا تا ہے کہ کیا اب پاکستان میں رائٹرز کا یہ معیار رہ گیا ہے ؟ اس طرح کے ڈرامے نہ تو تفریح کا باعث ہے اور نہ ہی کسی سماجی فلاح کا ، بلکہ سست ، کاہل اور جاہل عوام کو بھٹکانے کا ایک اور ذریعہ ۔ کسی بھی عالم سے پوچھیں ، جیسا کہ میں نے طلاق اور حلالہ کا یہ مذاق کینڈا میں حقیقت میں اور پاکستان کے ڈراموں میں کثرت سے دیکھا تو ڈائریکٹر ICIT(institute of contemporary islamic thoughts)ظفر بنگش صاحب سے پو چھا اور انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ ایکدم سے تین دفعہ طلاق دینے سے طلاق نہیں ہو تی ۔ اور حلالہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ہاں اگر کسی کی طلاق ہو جاتی ہے اور اس عورت کی شادی بعد میں کہیں اور ہو جاتی ہے اور وہاں بھی خدا نخوستہ نہیں چلتی تو پھر وہ عورت پہلے والے شوہر سے شادی کی اہل ہو جاتی ہے ۔ مگر یہ نہیں کہ جان بوجھ کر ایک رات نکاح کے بعد گزار کر واپس طلاق لے کے پہلے والے شوہر کے پاس آجائے ۔۔
لہذا خدا کے واسطے “دعا “جیسے ڈرامے لکھنے والے رائٹرز کو ڈرامے لکھنے سے دور رکھا جائے ۔۔ کیوں کے سستی کے مارے لوگ یا تو بھاگ کر مولوی کے پاس جاتے ہیں یا سارا دن ٹی وی ڈراموں سے اخلاقیات اور اسلامیات کے سبق اخذ کر تے رہتے ہیں ۔
انہیں سمجھایا جائے کہ مطلقہ بیوی کو حلال کرنے کا طریقہ جسے حلالہ کہتے ہیں، سرے سے حرام ہے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of