کہاں گئے وہ پیارے لوگ ؟میرے لوگ؟

Published on (December 27, 2016)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
کہاں گئے وہ پیارے لوگ ؟میرے لوگ؟
شائد شیکسپیئر کا قول ہے کہ:”جب میں مر جاؤں تو مجھے رونے کے لئے بہت سارے لوگ نہیں چاہیں ، مجھے صرف ایک ایسا انسان چاہیئے جو مجھے روتا دیکھے اور مر نے کے لئے تیار ہو جائے ۔”
ہٹس اور ریٹنگ کا زمانہ ہے ۔ایسے میں یہ بات کم لوگوں کی سمجھ میں آئے گی ۔ کوالٹی کو بھول کر سب quantityکے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ خلوص نہیں ، سب کو ہجوم چاہیئے ۔ اور خدا شکرخورے کو شکر دیتا ہے جسے جو چاہیئے اسے مل ہی جا تا ہے اس لئے سچی محبت اور خلوص ناپید ہو نے کا گلہ جائز نہیں رہا۔ہجوم اکھٹا کرنے کے شوق نے سچی محبت کو قتل کر دیا ہے ۔ اکثرلوگ غرض کی خاطر دوستی اور محبت کا جھوٹا ڈھونگ رچاتے ہیں اور غر ض پو ری ہو جانے پر آپ کو اپنی زندگی کی کتاب سے کسی ردی کاغذ کی طرح پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں ۔ایسے لوگ نہیں بلکہ دسمبر کے اس اداس کر دینے والے مہینے میں مجھے وہ سچے لوگ یا د آرہے ہیں ، جو اپنی ذات میں خود بھی تنہا تھے ، مگر ان میں سچ اور پیار کا سمندر تھا۔۔آگے چل کر ان کا ذکر کرتی ہوں ۔۔۔کیونکہ اُن کی یاد کی شدت اتنی ذیادہ ہے کہ میرا کلیجہ منہ کو آرہا ہے کیوں نہ آئے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مجھ سے بے غرض پیار کیا اور مجھے تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی مگر سچ سے روشناس کروایا ۔ مگرپتہ نہیں تھا جب وہ بچھڑ جا ئیں گے تو یہی دنیا جو دو دو کوڑی کے کاموں اور نظریوں کے لئے انسان کو استعمال کر تی ہے اور جو ان کے کام کا نکلتا ہے اس کے ہیرے پھیرے لیتی ہے ، اور جو مطلب کا نہیں رہتا اسے جھٹک کر آگے بڑھ جاتی ہے اور انسان اپنی بنیادی ضرورت یعنی ،خلوص کی تلاش میں نامرادرہتا ہے ایسی دنیا میرے آگے بھی اژدہے کی طرح منہ کھولے نگلنے کوکھڑی ہو جائے گی۔
سفید اور سرد دسمبر نے ان سب مطلبی چہروں کو میرے سامنے لا کھڑا کیا ہے،جنہوں نے نظریات کی جنگ کو اتنا اہم جانا کہ میرے چھوٹے سے اختلاف پر ،میرے خلوص کو سولی چڑھا دیا ۔ ایسے لوگ میں نے یادوں سے کھرچ دیے ہیں۔
خود اس نے تعلق ہی کوئی جب نہیں رکھا
پھر میں نے بھی اس شخص سے مطلب نہیں رکھا (جمال)
اور صرف وہ لوگ یادوں میں بسا لئے ہیں جو تعداد میں ایک دو ہی تھے ، ،اور بہت کم عرصہ میرے ساتھ رہے مگر کھرے کھوٹے رشتوں کا فرق سمجھا گئے ۔ ورنہ میں توتمام عمر مفادات اور نظریات کی خاطر بنائے گئے جھوٹے خلوص کے رشتوں کو ہی اس زمین کا سچ سمجھ لیتی اور ایسے مفاد پرستوں کے ہاتھوں کھلونا بنی رہتی۔ وہ کسی خون کے رشتے کے بغیر میرے لوگ تھے کیونکہ، وہ میری کئیر کرتے تھے اور اپنی زندگی مجھ سے شئیر کرتے تھے۔اور اب ان کے جانے کے بعد انہی دو باتوں کا کال پڑ گیا ہے ۔
جب بھی دنیا سے اعتبار اٹھنے لگتاتھا ، اور دل میں ویرانی بسیرا کرتی میں انہیں کال کر تی: “ینگو صاحب ،مجھے دنیا سے دور، تنہا رہنے کا طریقہ بتائیں ، مجھ سے سب ہینڈل نہیں ہو تا ،میں اس دنیا میں فٹ نہیں بیٹھ رہی ، میں بہت بے وقوف ہوں “دوسری طرف سے اس بوڑھے اور تنہا مجسمہ ساز کی چہکتی ہو ئی آواز ابھرتی ، جس نے نجانے خود دنیا کے کیسے کیسے رنگ دیکھ کر گوشہ نشینی کا یہ راستہ اختیار کر لیا تھا ،”تو ابھی آجائیں ،میں نے دال بنائی ہے ۔کھانا کھاتے ہیں مل کے “۔میں جو ڈرائیونگ چور ہوں ، کھبی چلی جاتی ، کھبی نہ جاتی ۔۔ جب چلی جاتی تو اپنی کاپی پنسل بھی ساتھ لے جاتی ۔ ان کے پر سکون حجرے میں کچھ لکھنے کی کوشش کرتی ،ان کی کوشش ہو تی مجھ سے باتیں کریں ۔ میں صرف ان کی موجودگی سے ہی خود کو توانا محسوس کر نے لگ جاتی ، باتیں ایک اضافی عمل لگتا ۔۔ وہ مجھے اس موڈ میں دیکھ کے میرے آگے خامشی سے کھانے پینے کی چھوٹی چھوٹی چیزیں( نمکو ، بسکٹ ) رکھتے جا تے ، پھر میرے سامنے فرش پر بیٹھ جاتے اور اپنی کالی پنسل سے سادہ صفحے پر لائنیں گھسٹینے لگ جا تے ( یہ لفظ وہی استعمال کرتے تھے ) ۔۔اپنے بہت ہی قدیم طرز کے ٹیپ ریکارڈر پر بہت ہی کلاسکیل سے گانے لگا دیتے ، میں پوچھتی کچھ ہلکا پھلکا نہیں ہے؟ہنسنے لگ جاتے ۔۔” نہیں میڈیم ۔”۔۔
اتنا بڑا آرٹسٹ ،دہلی کی جامعیہ یو نیورسٹی میں ابھی بھی ان کے ہاتھ کا بنا غالب کا مجسمہ ایستادہ ہے ۔ان کے گھر میں احمد فراز کا مجسمہ بھی پڑا رہتا تھا ، اور مسسز ساگا کی سابقہ مئیر کا بھی ۔۔وہ مجھے اپنے یورپ میں کی گئی مجسمہ سازی کی تصویریں دکھا تے ۔میں ان کے چھوٹے سے گھر میں بیٹھ کر، باہر کی ایک جمع ایک ، دو، کر نے والی دنیا کو بھول جاتی ۔ اور وہ میرے آگے پیچھے کسی خدمت گذار کی طرح گھومتے رہتے ، میں لاکھ کہتی چائے میں بناتی ہوں ، وہ کہتے تم بس صوفے پر جا کر بیٹھ جاؤ ، اور لکھو ۔۔۔ اب ایسے لاڈ اٹھانے والا کوئی نہیں ۔
ان کی پسند یدہ مٹھائی لئے میں دسمبر کی انہی تاریخوں کو انکے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھارہی تھی ۔۔اور وہ شائداسی وقت ہسپتال میں زندگی کو الوادع کہنے کی تیاریوں میں تھے۔
” ینگو صاحب ،آپ میرے لوگ تھے اورآپ ہی مجھے اکیلا چھوڑ گئے مگرآپکویہ جان کے بہت خوشی ہو گی کہ آپ کی طرح اب مجھے بھی تنہا رہنا آگیا ہے ۔ میں نے بھی دنیا کے سب رنگ دیکھ کر خود میں جینا شروع کر دیا ہے اورآپ ہی کی طرح بہت پر سکون ہو گئی ہوں ۔وہ نامعلوم دائرے جو آپ کاغذ پر بناتے رہتے تھے ، وہ سب دائرے میرے اندر بن گئے ہیں ۔اور میں خود سے ہی باتیں کر تی اور خود کو تلاش کر تی ہوں ۔”
ایک اور عظیم،باپ جیسی ہستی ،وہ بھی میرے لوگ تھے ۔
ڈاکٹر ریاض خان زرعی یو نیورسٹی فیصل آبا د کے ڈین رہ چکے تھے ۔ قائد اعظم سے انہیں ہاتھ ملانے کا شرف حاصل تھا ۔ میرے کالم پڑھتے تھے ۔ اور ایکدن جب کینڈا اپنی بیٹی کے پاس آئے تو اسے کہنے لگے ،”مجھے روبینہ فیصل سے کسی طرح ملوا دو ۔۔”ڈھونڈتے ڈھانڈتے مجھ تک پہنچے ۔انہیں ٹھیک طرح سے سنائی نہ دیتا تھا ۔ مگرانہوں نے مجھے پاکستان کے لئے اپنی قربانیوں اور پاکستان سے ملنے والی نا انصافیوں کی ایک ایک بات سنائی ۔۔بعد میں بھی اپنی زندگی کی ذاتی کہانی ، اپنے دکھ ، خوشیاں اور فخر سب ای میل کرتے رہتے تھے ۔ کہتے تھے تمھیں سب بتا کر دل ہلکا ہو جاتا ہے ۔ ایک دن ان کی سگی بیٹی اپنی سہیلیوں کو کہہ رہی تھی” مجھے روبینہ سے جلن ہو نے لگ گئی ہے کیونکہ ابو مجھ سے ذیادہ اسے پیار کر نے لگ گئے ہیں، کمپیوٹر ایک دن بھی خراب ہو جائے تو کہتے ہیں میں روبینہ کو کیسے ای میل لکھوں گا ؟ “۔
اور پھر ایک دسمبر وہ بھی مجھے چھوڑ گئے ۔۔جب ان کی اہلیہ سے بات ہو ئی توکہنے لگیں:
” انتہائی بیماری میں بھی کہتے تھے کہ کاش میں جاتے جاتے ایک دفعہ اپنی روبینہ بیٹی سے مل لوں “۔
میں ای میل میں ابو جان کی بجائے انکل لکھ دیتی تو ناراض ہو جاتے ،کیونکہ جب سے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر گئے تھے ،کہہ گئے تھے کہ”مجھے ، میرے باقی بچوں کی طرح،ہمیشہ ڈیڈی کہنا “۔ای میل کا لیٹ جواب دیتی تو لکھتے “بوڑھا باپ اپنی بیٹی کی ای میل کا انتظار کرتاہے،لاپرواہی نہ کیا کرؤ ، روزانہ ای میل لکھا کر ؤ”
اور میں روزانہ ای میل لکھنے کا وعدہ بھول جاتی ،مگراب کتنی ای میلز ہیں جو لکھی پڑی ہیں ۔کہاں بھیجوں ؟ اب کوئی ان کا منتظر نہیں ۔۔۔سب ضرورتوں سے بندھے رشتے باقی ہیں ، جو ضرورت پوری ہو تے ہی دھتکارکر آگے بڑھ جاتے ہیں ۔مگر وہ اپنے ہاتھوں سے دال ، روٹی پکا کر میری منتظر آنکھیں ۔۔اور بسترِ مرگ پر بھی میری ای میل کی منتظر آنکھیں ؟کہاں ہیں ؟
میرا وہم ہے یا حقیقت ، دسمبر کا یہ یخ بستہ مہینہ اپنے ساتھ پرانا سال ہی نہیں بہت سے پیارے لوگ لے جاتا ہے ۔ اسی مہینے نے میری بہن بھی مجھ سے چھین لی تھی ۔۔اسکا بے جان جسم مگر منتظر آنکھیں ، میری موجودگی کو کمرے میں محسوس کرتے ہی ، دنیا سے رخصت ہو گیا تھا۔۔۔ جمال احسانی نے بھی ایسے ہی خالی پن سے گھبرا کر کہا ہو گا :
ہے کہیں کوئی مسیحا تو سنے
زیست بیمار پڑی ہے مجھ میں

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of