کون جیتا کون ہارا   ---    1965؟

Published on (September 04, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
کون جیتا کون ہارا   —    1965؟

   کس کا یقین کیجئے،کس کا نہ کیجئے یقین
لائے ہیں بزمِ یار سے لوگ خبر الگ الگ
1965کی پاکستان اور ہندوستان کی جنگ کو پورے پچاس سال گذر چکے ہیں ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دونوں ممالک نے اس جنگ سے کچھ سبق نہیں سیکھا ہے ۔ مسئلہ کشمیر بھی وہیں پر ہے اور لائن آف کنٹرول کے دونوں پار انسانی جانیں بھی بغیر کسی قصور کے لقمۂ اجل بن رہی ہیں ۔ آج بھی اس جنگ کو لے کر بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات میں سچ نہیں نظر آتا ، حقائق چھپائے گئے ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستان جس جنگ کی یاد کو جیت کے طور پر مناتا ہے وہ اصل میں اس کی شکست تھی ۔ انڈیا کے ٹیلی ویژن چینلز پر خاص کر کہ زی ٹی وی ، جیو کے تعاون سے،س چیز کو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان یہ جنگ ہار گیا تھا ۔
دوسری طرف ، پاکستان 6ستمبر، کو یومِ دفاع کے طور پرمناتا ہے ۔ شہیدوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے ۔میجر عزیز بھٹی شہید کی بہادری کی کہانی ہم بچپن سے ہی پڑھتے آئے ہیں ۔ اس کہانی میں آج بھی کوئی جھوٹ نہیں ۔ لاہور کو بچانے والے مجاہد ، غازی اور شہید دن رات دشمن کے خلاف لڑتے رہے اور انہوں نے انڈین آرمی کا لاہور جم خانہ میں شراب لنڈھا کر جشن منانے کا ارادہ ملیا میٹ کر دیا ، اس میں کوئی شک نہیں ۔۔۔۔اس لئے اگر پاکستان اسے یومِ دفاع کے طور پر مناتا ہے تو کیا غلط کرتا ہے ۔ پاکستانی فوج کے جوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر پاکستان کے دل کو بچایا اور پاکستان کو بچایا ۔ ان کا دفاع مکمل تھا ۔ اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے ۔
میجر عزیز بھٹی کو جب کمانڈنگ آفیسر نے پیغام بھجوایا کہ پانچ دن اور پانچ راتوں سے لڑ رہے ہو ، اب پیچھے آجاؤ اور تھوڑا آرام کر لو تو انہوں نے کہا “مجھے واپس نہ بلایا جائے ،میں پیچھے نہیں ہٹوں گا ، میں اپنے وطنِ عزیز کو بچانے کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دوں گا “۔
پاکستانی شہیدوں کے جذبے اور قربانیوں کی کوئی کہانی جھوٹی نہیں ہے ۔ نہ 1965میں اور نہ 1971میں ۔ جہاں تک ہار جیت کا تعلق ہے تو اتنا مجھے پتہ ہے کہ وہ جذبے کبھی نہیں ہارے جنہوں نے اپنی مٹی کے اوپر خون پانی کی طرح نچھاور کر دیا ۔ انہیں کوئی مائی کا لال کبھی بھی نہیں ہرا سکا ۔۔ نہ دشمن کی فوج اور نہ اپنی فوج کے اعلی افسر ۔۔۔۔
جھوٹ کی کہانیاں کیا ہیں ؟ آگے پڑھئے :
اگر پاکستان نہیں جیتا تو انڈیا کی جیت بھی بس اتنی سی ہے جتنی Dennis Kux نے کہی :
India won simply by not losing”
لاہور کا دفاع تو جوانوں نے جان پر کھیل کر کر لیا مگر ایسا نہیں کہ انڈیا نے بس یونہی منہ اٹھا کر لاہور پر حملہ کر دیا ہو ۔۔ اس کے آغاز کی کہانی
رن آف کچھ سے شروع ہوتی ہے جب انڈین ، پاکستانی فوجیں آمنے سامنے آکھڑی ہو تی ہیں ۔ پاکستانی فوج سے پسپائی کے بعد انڈین آرمی خاموش نہیں بیٹھی ۔
انڈین آرمی کی اس شکست پر پاکستان کے اس خیال کو تقویت ملی کہ 1962کی چین کے ساتھ ہمالیہ جنگ نے انڈین آرمی کو کمزور کر دیا ہے ۔ اور شائد اب کشمیر کا مسئلہ کسی پر امن طریقے سے حل ہو جائے ۔ مگر اس پر نہرو کی قلابازیاں وہی پرانے جیسی رہیں ۔۔
مت بھولیں 10مئی 1954کوانڈین کونسل آف سٹیٹس کو خطاب کرتے فرماتے ہیں کہ انڈیا ،یمانداری اور خلوص سے کشمیر میں ظلم ختم کرے گا اور وہ دنیا میں اپنی اچھی ساکھ کو خراب نہیں کر نا چاہتا ۔ کشمیر ا سکا حصہ نہیں ہے ۔ کبھی کشمیری لوگوں کی استصوابِ رائے دہی کی حمایت کر تے رہے اور کبھی کہہ دیتے :
“کشمیر میں استصواب رائے دہی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، میں اس موضوع سے اکتا چکا ہوں ۔۔ جس سے اب کسی کو بھی دلچسپی نہیں ہے (1961)۔”
پھر 1963میں پاکستان کے وزیرَ خارجہ سے دلی میں ملے تو کہا “کشمیر کا فیصلہ اس کے لوگوں کی مرضی کے مطابق ہو گا ۔”
نہرو کے حاملہ عورتوں والے mood swingsکشمیر کے مسئلے کو پر امن حل سے دور لے کر جا رہے تھے ۔
مگر پاکستان نے ایوب خان ، یحیی خان اور موسی خان کی حماقتوں کی وجہ سے فوج کے ذریعے بھی کشمیر کو حاصل کرنے کا آخری موقع گنوا دیا ۔1965کا جبرالٹر آپریشن اور grand slam جو عام نوعیت کے نہیں تھے ، ، جنہیں انڈین جنرل نے بھی ذہین آپریشن کہا اور میجر جنرل اختر ایک قابل ، دور اندیش اور جان پر کھیل جانے والے آفیسر کے زیرِ نگرانی تھے ، کیوں ناکام ہوئے ؟ آئیے دیکھتے ہیں ۔
میجر جنرل اخترحسین ملک کو آپریشن جبرالٹر کی ذمہ داری سونپی گئی جس کے تحت تقریبا 30000 نوجوان مقبو ضہ کشمیر میں داخل کر دئے گئے ۔ کم وقت ہونے کی وجہ سے عام کشمیریوں کو فوجی ٹریننگ اور اسلحہ دیا گیا ۔۔” یہ کہہ کر جن پر اعتبار نہ ہو ان کی خاطر پھر لڑنا کیوں؟” ، ان کے ہاتھوں میں ہتھیار پکڑائے گئے ۔ دوسری طرف کے کشمیر ی جو پاکستان سے محبت کرنے والے تھے،انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔اگست کے پہلے ہفتے جب فوج انتہائی راز داری اور سرعت سے CFL کراس کر گئی اور ایک بھی کیس ہندوستانی فوج سے نہیں پکڑا گیا ۔
چونکہ مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا اس لئے وہیں سے انڈین آرمی کو مخبری کر دی گئی ۔
24اگست کو انڈیا نے حاجی پیر پاس جہاں سے فلٹریشن ہو رہی تھی سیل کرنے کا فیصلہ کیا ، اسی دن جنرل ملک نے ہائی کمان سے grand slamکی اجازت طلب کی اور سستی کا یہ عالم تھا کہ اجازت آتے آتے ہفتہ سے ذیادہ دن ہو گئے ، پاک فوج کی یکم ستمبر کو اکھنور کی طرف پیش رفت ہوئی مگرانڈین آرمی کو پاکستانی ہائی کمان کی سستی کی وجہ سے اپنے آپ کو منظم کرنے کا وقت مل چکا تھا ۔
اسی آپریشن میں دوسرا گناہ ،جس کا آج تک پاکستانی فوج نے کبھی مناسب جواب نہیں دیا ۔ اکھنور جب فتح ہونے کے قریب تھا ، تو ایک دم سے ،بغیر کوئی وجہ بتائے 12th div of the pak army ،کے کمانڈر جنرل اختر حسین کو واپس بلا لیا گیا اور ان کی جگہ جنرل یحیی خان کو بھیج دیا گیا ۔۔ جس پر ہندوستانی صحافی ایم جے اکبر لکھتے ہیں :An inexplicable change of command took place “”
اور یہ بات آج تک وضاحت طلب ہے ،میجر جنرل اختر حسین سے ذاتی دشمنی نبھائی یا یحیی خان کو ہیرو بننے کا موقع دیاگیا تھا ، کیا تھا ایوب خان کے دماغ میں ، اس کا کورٹ مارشل ہو نا ضروری تھا۔لیکن وہ کون کرتا اگلا کرپٹ جنرل ؟ یا ذوالفقار علی بھٹو جو آخری دم تک یہی کہتا رہا کہ میرے ذرائع کے مطابق انڈیا جنوبی پنجاب پر حملہ نہیں کر ے گا ۔ اور جب انڈین فوجیں لاہور ، سیالکوٹ اور قصور تک پہنچ گئیں تو جبرالٹر آپریشن ڈیزائن کرنے والوں نے اس پہلو پر نہ سوچا تھا اور نہ کو ئی تیاری کی تھی ۔ لہذا اگر میجر عزیز بھٹی شہید جیسے مجاہد اپنی جان پر نہ کھیل جاتے تو آج لاہور انڈیا کا حصہ ہو تا ۔
امریکی امداد اور وعدے بھی کھوکھلے نکلے ۔ امریکہ نے غیر جانبدار رہ کر پاکستان سے دھوکہ کیا ۔ اور جو یہ کہا جا تا ہے کہ مسلمان ممالک ایران اور انڈونیشا نے پاکستان کی مدد کی مگر چین کا کردار اہم رہا اس نے نے انڈیا کو ڈرا یا دھمکایا اور پاکستان کو اسلحہ بھی دیا ۔ چین کے ڈر سے انڈیا جیتی جنگ ( پاکستان اپنا 80% اور انڈیا صرف 20% جنگی سامان استعمال کر چکا تھا(، تاشقند کی میز پر ہار آیا ۔ ڈر کر پیچھے نہ ہٹتا تو لاہور فتح کر چکا تھا ۔۔ اور پاکستان نے جو علاقے جیتے وہ بھی اسی تاشقند کی میز پر ہار آیا ۔ سو یہ بحث کے کون جیتا کون ہارا ,انتہائی فضول ہے ۔ دونوں خالی ہاتھ رہے ۔ فوج کے بہادر جوان زندگی سے ہارے اور جیتا ان کا جذبہ ۔۔۔۔
ان کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ قوم سے سچ بولا جائے ۔ میجر عزیز بھٹی شہید موجودہ آرمی چیف کے چچا تھے ۔ وہ اپنے چچا کو اسی طرح خراج تحسین پیش کر سکتے ہیں کہ وہ تمام جنگی مجرموں کے نام اور کام عوام اور فوجی جوانوں کے سامنے لے آئیں ۔ تاکہ مستقبل میں فوج ایسی نڈر ہو کر غلطیاں نہ کرتی رہے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of