کون بنے گا نیا کروڑ پتی ؟

Published on (October 16, 2014)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
کون بنے گا نیا کروڑ پتی ؟
سیاست کا نیا استاد ؟بلاول بھٹو یا بلاول زرداری ؟؟
بے نظیر کی کوئی مجبوری رہی ہوگی انہوں نے1987 میں آصف زرداری سے شادی کے بعد اپنے مغربی دوستوں کو لکھا تھا کہ” تم لوگ پاکستان کی سیاست یا روایت کو نہیں سمجھتے اس لئے اس شادی کو بھی نہیں سمجھ سکو گے” وہ تو مغربی دوست تھے ،بے نظیر کے اس فیصلے کو پاکستانی عوام اور پیپلز پارٹی کا کارکن بھی نہیں سمجھ پایا تھا ۔ بے نظیر سے حادثاتی شادی سے لے کر پاکستان کا حادثاتی صدر بننے تک ۔کیا آصف زرداری کی قسمت ہی ان کی مہربان دیوی تھی ؟ اس پر بلاول بھٹو کوسیاست کا استاد بننے سے پہلے تحقیق کرنا ہوگی ۔
سیاست کیا ہے ؟ ہم سے سیکھو ۔۔بلاول بھٹو کو صرف سنو تو پھر بھی کچھ الفاظ سمجھ میں آجاتے ہیں ۔ لیکن اگر اسے بولتے ہوئے دیکھ لو تو پھر آپ صرف اسے د یکھ کر خدا کی قدرت پر حیران ہی ہوسکتے ہیں کچھ سننے یا سمجھنے کی حالت میں نہیں رہتے ۔ سیاست سیکھانے کا یہ مشورہ صرف عمران خان کو دیا جارہا تھا مگر میرا خیال ہے بلاول کے ابو سے ہم سب بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ماسوائے سیاست کے ۔ سیاست کے معنی شائد ابھی بلاول ہاؤس یا سرے محل کی دیواروں سے گذرے نہیں ۔ بلاول بابا آپ کو نہیں پتہ آپ کے ابو کتنے ٹیلنڈہیں ۔اور آپ کو کس نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کرنے کے لئے سیاست آنی چاہیئے ۔نا ۔۔نا ۔۔ یہ غلط فہمی دور کر لیں ۔
چھوٹے بابا کیا آپ کو پتہ ہے آپ کے ابو جی 1983میں نوابشاہ میں ڈسٹرکٹ کونسل الیکشن میں بھی ہار گئے تھے ۔ ہاں اس سے پہلے وہ سالگرہ فلم میں ہیرو کے بچپن کا کردار بخوبی نباہ چکے تھے ۔ ان کی بنیادی خوبی اداکاری ہے اور آپ کو کس نے کہا سیاست کرنے کی چیز ہے یا سیکھنے کی ۔۔ اصل میں تو اداکاری کرنے کی چیز ہے اور ان لوگوں کو واقعی ہی سیکھنی چاہیے جنہیں نہیں آتی ۔ ۔ کوئی ٹیچر باہر سے رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ ٹیچرز سے تو آپ کے ابو کو ویسے ہی بہت نفرت ہے۔اسی لئے آج تک صرف ان کے ہائی سکول کا نام پکا پتہ ہے ۔ وہاں کے کلرک نے بھی کچھ اچھی خبر نہیں دی ہوئی ۔ذرا تصدیق کر لیجئے اس نے تو کہا ہے کہ آپ کے ابو جی ہائی سکول میں ہی فیل ہوگئے تھے ۔ سینٹ پیٹرک ہائی سکول کراچی سال 1973-1974ریکارڈ چیک کرنا مشکل نہیں ہوگا ۔ایسا کرنا آپ کے ہی فائدے میں ہے کیونکہ ایک دفعہ یہ ثابت ہوگیا کہ ابو نے میڑک بھی نہیں کیا اور پھر بھی پورے پاکستان پر پورے پانچ سال صدارت کر گئے تو یہ تو اس سے بھی بڑا اعزاز ہے جو بھٹو خاندان کے پاس ہے “پہلا جمہوری خاندان اور جمہوریت کی راہ میں شہید ہونے والوں کا خاندان” ۔۔ مگر دیکھو کیا ملا اس خاندان کو ؟ زرداری ؟
دوسری طرف دیکھو زرداری کتنا کامیاب انسان اسے کیا ملا بھٹو کا نام اور اس کی پارٹی آپ سمیت ۔۔ آپ بند کریں ناموں کی یہ آنکھ مچولی بلاول بھٹو کیا ہے ؟ بلاول زرداری کسی سے کم ہے کیا ؟
اچھا اور سنیں لندن سکول آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی ایک ایجوکیشن کی ڈگری ہے جو ابو نے دعوی کر رکھا ہے وہ بھی ذرا دیکھ لیں کدھر الماری میں پڑی ہے ۔ڈگری کا جھوٹ تو کوئی بھی ایرا غیرا بول سکتا ہے آپ کے ابو نے اپنی بائیو گرافی میں لندن کے ایک pedinton schoolسے بھی کچھ ڈگری لینے کا ذکر کیا ہے ۔ وہ سکول ہی لندن میں کسی کو نہیں مل رہا ۔ اگر آپ لوگوں کو سیاست سیکھانے کے ساتھ ساتھ وہ بھوت سکول بھی ڈھونڈ دیں تو عمران خان کیا پوری قوم آپ کا احسان نہیں بھولے گی ۔
1999میں امریکی سینٹ میں آپ کے ابو یعنی کہ آصف علی زرداری صاحب کی financial ہشیاریوں کو “بنکوں کی کمزوریاں اور ان کے ذریعے خرد برد کیسے کی جاتی ہے” کیس ہسٹری کے طور پر سٹڈی کیا گیا تھا ۔ تو آپ اور آپ کے ابو دنیا کو یہ ہنر بھی سکھا سکتے ہیں ۔ آپ کے امی ابو پر سوئس حکومت کی طرف سے بہت دفعہ جرمانے اور قید کی سزائیں ہوچکی ہیں ۔ ایک دفعہ سوئس کمیشن نے کوئی 8.6ملین کا جرمانہ کیا تھا ۔ ایک دفعہ معمولی سا پچاس ہزار ڈالر کا ۔فرانس پولینڈ اور سوئیٹز لینڈ سب کے بنک آپ کے ابو کی جیب میں ہیں ۔ عدالتوں سے سزائیں اور استثنی یہ سب آپ کے ابو کے بائیں ہاتھ کے کھیل ہیں ۔ جو لوگ آپ کو یہ بتاتے ہیں نہ کہ آپ کے ابو کو پولو ، گالف یا گھوڑے دوڑانے کا شوق ہے ۔یا کوئی یہ بتا دے کہ جوانی میں انہوں نے اپنے گھر ڈسکو قائم کر رکھا تھا ۔ ان میں سے کسی کو بھی آپ کے ابو کے صحیح مشغلے اور ہنر کا اندازہ ہی نہیں ۔
اس بات کی کھوج لگائیں آپ کے ابو کو مسٹر 10% ، اور پھر مسٹر 100%کیوں کہا جانے لگا ؟ سٹیل مل کی ڈیل میں آپ کے ابو کو 40ملین کمیشن کیسے ملی ؟1988میں بنکوں میں لوگ بھرتی کرکے غیر محفوظ قرضے نکلوا کر جائیدائیں اور بزنس کیسے کھڑے کیے گئے ؟اور جب آپ کے ابو آپ کی امی جان کے دوسرے دورِ حکومت میں سرمایہ کاری کے وزیر بنے تو انہوں نے کیا کیا گُل کھلائے ؟ فرنچ فائیٹر جیٹ ،پولینڈ کے ٹریکٹر درآمد کرنے پر اور کسٹم ڈیوٹی پر چیک رکھنے کے لئے SGCکو کانٹریکٹ دینے اور وہاں سے کمیشن لینے پر کیسے سودے بازیاں کی گئیں ۔قوم کو سکھانے کی یہ چیزیں ہیں ۔
2002میں آپ کی امی نے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ” میرا شوہر کوئی فرشتہ نہیں ہے ۔اس کے مخصوص لوگوں سے تعلقات ہیں جس کی وجہ سے اس کا نام بدنام ہوا ہے ۔میرا خیال ہے کہ میرا شوہر سر پرستی کے بارے میں ایک مختلف نظریہ رکھتا تھا جو آج قابلِ قبول نہیں” بلاول بابا آپ کی امی بھولی تھیں انہیں کیا پتہ کہ یہی تو سب سے قابلِ قبول طریقہ تھا ۔ وہ عوام سے ڈر جاتی تھیں کچھ کچھ خوفِ خدا بھی ہوگا ، اسی لئے کبھی کبھار تسلیم کر لیا کرتی تھیں ۔ مگر جو سیکھنے والا فن ہے آپ کے ابو کی مسکراہٹ اور ڈھٹائی ۔ اس کا بھی پلیز اعلان کر دیں تو پاکستانیوں کی ایک لمبی قطار ہوگی اور آپ کا ادارہ “کرپشن و ڈھٹائی “دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے گا ۔ عمران خان کو بھی داخلہ دے ہی دیجئے گا ان باتوں میں بالکل ہی نکما ہے ۔
کبھی سوچنے کو دل کرے تو اس پر بھی سوچنا کہ آپ کے ماموں نے جو آپ کے نانا بھٹو کا اصل خون تھے آپ کے ابو کی آدھی مونچھیں کیوں کٹوا دی تھیں ۔ کھوج لگانے کو دل کرے تو اس بات کی لگائیے آپ کا جوان اور گرم خون ہے ۔ عمران خان کی طرح آپ بوڑھے نہیں جو سٹیج سے گر جائیں گے تو سٹیج پر ڈٹ جائیں کہ آپ کی نانی نے ، آپ کی ممانی نے آپ کی کزن فاطمہ بھٹو نے آپ کے ماموں مرتضی بھٹو کے قتل کا الزام آپ کے ابو پر کیوں لگایا تھا ؟
یہ سب ہیں سیاست کی قربانیاں جن کے بدلے ابو جی جیل میں رہے ۔ یہ قربانیاں کہاں عمران خان دینے والا ہے ۔ لہذا اسے تو سیاست سکھانے کی آفر نہ ہی کریں تو اچھا ہے ۔ آپ ان قربانیوں کی روشنی میں اس قوم کی تربیت کریں ۔ کیوں کہ اس قوم کے اگلے وزیرِاعظم آپ ہیں ۔اور آپ کے حسبِ ذائقہ ہی قوم کی تربیت ہونی چاہیئے ۔ اسی تربیت کا نتیجہ ہی تو تھا کہ آپ کے ابو پاکستان کی تاریخ کے پہلے جمہوری صدر قرار پائے جنہوں نے اپنی صدارت کی مدت انتہائی کامیابی سے مکمل کی ۔ اور ان سڑکوں پر بالوں سے پکر کر گھسٹینے کے نعرے مارنے والوں نے انہیں اعزاز سے رخصت کیا اور انواع و اقسام سے ان کی تواضع کی ۔ جئے زرداری ۔
جئے بھٹو کا نعرہ آؤٹ آف فیشن ہوگیا ہے۔۔ آپ کے ابو کی سیاست کے سامنے بھٹو کی سیاست تو بالکل عمران خان جیسی تھی ۔۔نکمی ۔۔اسی لئے تو پھانسی چڑھ گئے ۔ امی بھی کوئی ایسی کامیاب نہیں رہیں۔۔اسی لئے تو سڑک پر ماری گئیں اور خون تک دھل گیا ۔ کوئی نشان نہیں ۔نشان ہے تو صرف آپ کے ابو کا ۔۔سرے محل کی صورت کبھی سوئس بنک اکائنٹس کی صورت ، بلاول ہاؤس یا کبھی 334ایکٹر محل کی صورت ۔ بھٹو خاندان صرف لاڑکانہ کا قبرستان آباد کر سکا ۔ بلاول زردار ی بن کر اس قوم کو سکھاؤ پڑھاؤ ،خبردار بھٹو بننے کی غلطی نہ کرنا ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of