کون؟ Disable

Published on (June 10, 2016)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
کون؟ Disable
انہوں نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پرانی طرز کا اٹیچی کھو لا ۔ میں نے حیرانگی سے انہیں دیکھا ، اور اتنی ہی دیر میں انہوں نے اپنے دو بیٹوں اور دو بہوؤں کی مدد سے بے شمار میڈلز ، ٹرافیاں اور سر ٹیفکٹ نکال کر انٹرویو کی میز پر سجانے شروع کر دئے ۔ آپ پلیز یہ سب کیمرہ مین سے کہیں فوکس کر کے دکھا دیں ۔۔یہ سب میری عمر بھر کی محنت ہے ۔
یہ ایک جسمانی معذور کینڈین پاکستانی کے جیتے ہو ئے انعامات تھے ۔ مسعود عالم صاحب نے جب مجھے محمد علی رفیق کی ایک خبر کا لنک بھیجا تو میں نے سرسری طور پر یہی دیکھا کہ کوئی کینڈین پاکستانی ہے جس نے کینڈا میں ہو نے والے بیڈ منٹن کے میچز میں ڈبل میں دو سلور اور سنگل میں ایک بر ونز جیتا ہے ۔۔مگر پہلی نظر میں یہ دیکھنا بھول گئی کہ خبر میں صرف بیڈ منٹن نہیں بلکہ پیرا بیڈ منٹن لکھا ہوا تھا ۔ یعنی معذور لوگوں کی گیم ۔۔
میں نے جب محمد علی رفیق عرف بابو جی کو اپنے سامنے بھاگتے دوڑتے دیکھا تو ، میں نے بالاخر پو چھ ہی لیا کہ آپ کی معذوری ہے کیا،مجھے تو کچھ نظر نہیں آرہا ؟ تب انہوں نے بتایا کہ جب وہ اٹھارہ مہینے کے تھے تب ان کی بائیں ٹانگ پولیو کی وجہ سے کمزور ہو گئی تھی ۔
کمزور ٹانگ کے ساتھ آپ چلنا ہی سیکھ لیتے تو بہت کارنامہ ہو تا ،آپ نے تو بھاگ دوڑ مچا دی ۔۔ میں نے حسبِ عادت فقرہ چست کر دیا۔
میری بات سن کر وہ مسکرائے ،مگر گالوں پر نمکین پانی پھیل گیا ۔۔
اُن بہتے آنسوؤں کو انہوں نے صاف نہیں کیا ،اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بہت باغیرت اور ہمت والے انسان ہیں کیونکہ جو لوگ اپنے آنسو چھپانا چاہتے ہیں ،ان کے آنسو اگر غلطی سے بہہ نکلیں تو وہ انہیں صاف کر نے سے کتراتے ہیں کہ بے رنگ آنسوؤں کی نسبت اس عمل میں دیکھے جانے کا چانس ذرا ذیادہ ہو تا ہے ۔وہ بو لتے گئے :
“جب لڑکے مجھے پیچھے دھکیل کر آگے نکل جا تے تھے ، جب گھر میں بھائی بھی بچارہ سمجھ کر بس بیٹھ جانے کا مشورہ دیتے تھے اور ٹیچرز بھی گیم پیر یڈ میں مجھے کلاس میں جا کر آرام کر نے کا مشورہ دیتے تھے ، تو اس سے میری کمزوری میرے اندر ایک پھوڑا بن کر دکھنے لگتی تھی ۔ اور میں اکیلا پن محسوس کر تا ۔ میرا کوئی دوست نہ بنتا تھا ، کلاس 9میں ایک دوست بنا ، میں خوش ہو گیا ، ہم جب بھی کوئی چیزیں خریدتے میں اس کے پیسے دیتا ، معذوری کے ساتھ ساتھ میں نے آٹھ مہینے سے ہی باپ کے چلے جانے کے بعد یتیمی بھی دیکھی تھی ۔ جسمانی محرومی سے ذیادہ میں پیار کا بھوکا تھا ، مگر ایک دن جب اسی دوست نے مجھ سے بھاری رقم مانگی جو میں نہ دے سکا تو اس نے مجھے کہا میں تم جیسے معذور کو وقت دیتا رہا ہوں تم مجھے پیسے بھی نہیں دے سکتے ۔۔ اس دن میرا دل ٹوٹ گیا اور میں نے زندگی بھر کھبی دوست نہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ۔ گو بعد میں زندگی میں دوست نما اساتذہ بھی ملے اور دوست بھی مگر لڑکپن کا وہ زخم دل میں خوف سا بن کے عمر بھر بیٹھا ہی رہا ۔
پھر سائیکل اور موٹر بائک پر کپڑے کا بز نس شروع کیا ۔ وہاں بھی میرے “خاص جوتے” کی وجہ سے جو میں دکانوں کے باہر اتار نہیں سکتا تھا ، مشکل بنی ۔پھر ایک عید کا دن تھا ، میں سارا دن گھر پر تنہا تھا ۔ماں اور بھائی سب باہر گئے ہو ئے تھے ۔ میں بھوکا بیٹھا رہا ۔۔ مگر جب اس رات کی صبح ہو ئی تو سورج صرف آسمان پر نہیں میرے اندر بھی طلوع ہوا ۔۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس معذوری کو شکست دوں گا ۔۔میں نے فزیو تھراپی سیکھی اور اپنی تھراپی خود ہی کر نے لگا ۔ میں 10 کلو میڑ روزانہ بھاگتا ، مشقیں کرتا اور پھر میں نے جوڈو کرا ٹے سیکھنے شروع کئے ۔۔کمزور ٹانگ کو ایک خاص پو زیشن پر ایڈجسٹ کر کے جب میں نارمل ٹانگ سے کک مارتا تو اس کی مضبوطی اور سختی مدِ مقابل کو ششدر کر دیتی ، میں نے اس میں بھی بہت سے ایوارڈ جیتے ۔پھر میں نے پاور لفٹنگ اور یو گا بھی شروع کر دیا ۔
اس کے بعد میں نے بیڈ منٹن کی طرف دھیان دینا شروع کیا ، اور بہت سے نیشنل ، انٹرنیشل مقابلوں میں حصہ لیا ۔ اور پاکستان کا نام روشن کیا شومئی قسمت اسی دوران میرا ایک اور حادثہ ہو گیا جس میں میری 14پسلیاں اور ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔۔ میں نے سوچا خدا بھی میری ہمت کو توڑنے کا ارادہ باندھے بیٹھا ہے ، مگر میں پھرحالات سے ٹکرا گیا ۔ اپنے آپ کو پھر سے کھڑا کیا ، مگر پھر ملائیشیا میں ٹریننگ کے دوران میرا ایک گھٹنا بھی ٹو ٹ گیا ۔۔
مگر رو بینہ جی جو اس دن کا سورج میرے اندر اُگا تھا ، وہ ان سب اندھیروں سے بہت ذیادہ روشن تھا ۔ اس کی روشنی نے مجھے مایوس ہی نہیں ہو نے دیا ۔ میں نے لوگوں کی اس نفرت کو ، ہمدردی کو ، حقارت کو محبت اور فخر میں بدل دیا ۔ میں نے اپنی کمزوری کا ڈھنڈوارا پیٹ کر لوگوں کی ہمدردی اور پیار نہیں بٹورا بلکہ اپنی محنت سے ، مقام اور نام بنا کر یہ محبت اور عزت حاصل کی ہے ۔۔”
بابو جی نے انسان کی عزت اور غیرت کو ترجیع دی ، اسی لئے انہوں نے اپنے جیسے جسمانی معذوروں کو معذوری کے باوجود سر اٹھا کر جینے میں انفرادی سطح پر مدد کی ، ان کی فلاح کے لئے تنظیم ایسے بنائی کہ وہ خیرات پر نہیں بلکہ خود پر انحصار کریں۔
کینڈا کی تاریخ میں ہو نے والے پہلے پیرا بیڈ منٹن میں پاکستان کا نام روشن کر نے والے یہ جواں دل اتھلیٹ ہم سب کے لئے یوں قابلِ احترام ہے کہ انہوں نے قدرت کی طرف سے آئی ہو ئی کمزوری کو قسمت کا لکھا سمجھ کر رو دھو کر ، خود پر ترس کھا کر قبول نہیں کر لیا ۔ بلکہ قدرت کی اس آزمائش یا چیلنج سے ٹکرا گئے ۔ چلنے پھرنے میں دشواری محسوس کر نے والا لڑکا ، نہ صرف کھلاڑی بن گیا بلکہ اپنے ملک ، بچوں کے لئے قابلِ فخر باپ بنا ۔۔ میں نے اس کے چار بیٹوں میں سے ایک سے پو چھا ،اپنے بابا جان کی اس کمزوری پر کبھی آپ کو کوئی شرمندگی ہو ئی ہے ، کیونکہ بچے اپنے والدین کو مکمل دیکھنا چاہتے ہیں؟ ۔ اس کا جواب تھا ہمارا باپ ہمارا فخر ہے ۔ اور یہ وہ بچے بہوئیں ظاہری طور پر نہیں کہہ رہے تھے ، بلکہ سب کا جو، رویہ بابو جی کی طرف تھا ، اسے دیکھ کر میں نے سوچا اس انسان کو ہم disable، یا محروم کیوں کہہ رہے ہیں ؟ اس نے تو تقدیر کا رخ موڑ دیا ،نہ صرف اپنے آپ کو قابلِ عزت فرد بنایا بلکہ بچوں کو معاشرے میں ایک باعزت پہچان دی ۔ اور اسی کمزوری کے ساتھ دوسروں کا احسا س کر کے ان کی مدد کی ۔۔ بابو معذور نہیں بلکہ معذور وہ حکمران طبقہ ہے جن کے ہاتھوں میں لا تعداد وسائل ہیں مگر انہوں نے اپنی قوم کو ذلت کے سوا کبھی کچھ نہیں دیا ۔ جو کٹورا لے کر انٹرنیشنل مارکیٹ میں نکلتے ہیں ، خیرات اکھٹی کر تے ہیں اور قوم کو مجموعی طور پر جھوٹ اور بے غیرتی کی لت لگا کر خود سونے کے محلات میں رہتے ہیں ۔
محمد علی رفیق جیسے کتنے ہی بچے پاکستان میں آج بھی پولیو کی وجہ سے معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں اور کتنوں میں تقدیر بدلنے کی بابو جیسی ہمت ہو گی ؟
جاہل ملاؤں کے پولیو ویکسین کے خلاف فتوے جن کے مطابق ان میں کبھی سور اور کبھی شراب ملی ہو تی ہے اور کبھی یہود و نصار کی ان کی نسل کشائی کی کوئی سازش جھانک رہی ہو تی ہے ۔ ملا کو تو جاہلیت کی وجہ سے معاف بھی کر دیں مگر ان کو بے لگام رکھنے اور خود بے خبر رہنے والے حکمرانوں کی کوئی معافی ہے ؟ اسامہ بن لادن کے لئے ڈاکٹر شکیل آفریدی کا پو لیو ویکسنیشن کی آڑ میں کیا گیا ڈرامہ ، لوگوں کی بے اعتمادی کو بڑھا گیا ہے ،اور وہ فلاحی ادارے جو ایسے لوگوں کی مدد کے لئے بنائے جاتے ہیں اور حسبِ عادت سب مال ایڈمنسٹریشن خرچوں کی مد میں ہڑ پ جاتے ہیں ،وہ سب سے ذیادہ قابلِ لعنت ہیں ۔۔
ان معذور حکمرانوں کی اصلاح کے لئے کوئی ادارہ بن جائے تو پاکستان میں شائد نہ کو ئی معذوری اور نہ کوئی معذور باقی رہے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of