!!چمکتا ہو ا ستارہ

Published on (March 24, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
!!چمکتا ہو ا ستارہ
محمود خان نے max khanکے جنازے میں آئے ہوئے لوگوں کو بتایا کہ” تین مہینے پہلے میرے بیٹے نے مجھے کہا تھا میرے جنازے پر ہر مذہب ، ہر فرقے اور مختلف سیاسی نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگ آئیں گے ،ان سب کا بہت والہانہ استقبال کرنا ۔کوئی اپنے آپ کو بیگانہ محسوس نہ کرے ” .سیالکوٹ کے چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمود خان نے اپنے بیٹے میکس خان کو کتنی بڑی سوچ سے نوازا ہوا تھا ۔
اور میکس خان کے جنازے پر ISNAمسجد میں دیکھنے والوں نے یہی دیکھا ۔ ہر مذہب ،ہر قوم اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے لوگ ایک مسجد کی چھت کے نیچے ایک مسلمان ، پاکستانی کینڈین کونسلر اور لبرل جماعت کے کامیاب الیکشن nomineeکی اچانک موت پر دلوں میں ایک سا دکھ اور آنکھوں میں ایک سے آنسو لئے کھڑے تھے ۔ ایک طرف کینڈا کی بڑی سیاسی” لبرل” پارٹی کا لیڈر justin trudeau ،موجود تھا تو دوسری طرف ٹورنٹو کے سابقہ مئیر راب فارڈ جیسی متنازعہ شخصیت بھی وہاں وجو د تھی ۔
اووک ول کے مئیر Rob burtonنے اپنی تعزیتی تقریر میں میکس خان کا بچپن کا ایک واقعہ دہراتے ہو ئے بتا یا کہ جب خان آٹھ سال کا تھا تو ان کے گھر کے باہر کسی نے کوئی” متعصب لفظ” لکھ دیا ، ننھے بچے نے جب وہ لفظ پڑھا تو اس کا دل بہت دکھی ہوا ،اس نے اپنے والدین کو بتایا اور ان کی راہنمائی چاہی ۔ ماں نے پاس بٹھایا اور کہا ” اس سے لڑنے کا طریقہ نہ جوابی نفرت ہے اور نہ تشد د کی راہ ، اس کا جواب دینا ہے تو اچھی مثال بن کر دو “۔
میکس نے یہ بات پلے باندھ لی اور ساری عمر اس کی عملی تصویر بن کر جئیا ۔ اور مرنے سے پہلے بھی یہی فکر کہ جب جنازے پر مختلف طرح کے لوگ اکھٹے ہوں گے تو سب اپنائیت محسوس کریں ۔ یہ تھا نفرت کا جواب ، جس نے خان کی شخصیت کو ایسا وسیع سمندر بنا دیا تھا کہ سب ثقافتیں اور مذاہب جبر سے نہیں بلکہ پیار سے اپنے اندر سمو لئے تھے ۔ اور ایک پاکستانی مسلمان کینڈین کے لئے اووک ول کا مئیر کہتا ہے کہ “ہم ان والدین کے شکر گذار ہیں جن کی ایسی تربیت نے کینڈا کی ساکھ میں اضافہ کیا “۔
Max Khanکی یہ تربیت اور یہ کردار کینڈا یا دنیا میں کہیں بھی بسنے والے پاکستانیوں اور مسلمانوں کے لئے مشعلِ راہ ہے اور ہر اس انسان کے لئے زندگی گذارنے کا پرسکون راستہ ہے جنہوں نے انسانوں کو مذاہب اور قومیتیوں میں بانٹ کر اور ان کی بنیاد پر محبتیں اور نفرتیں کر کے دنیا کو ایک مقتل گاہ بنا دیا ہے ۔ خان interfaith (مذاہب کے تقابلی جائزے ) مباحثوں میں شرکت کرتا اور لوگوں کو بتاتا کہ اسلام کی تعلیمات میں تشدد نہیں بلکہ امن وآشتی کا پیغام ہے ایسا کر کے اس نے نہ صرف ایک مسلمان بلکہ انسان ہونے کا فرض بنھایا ۔ اپنی شناخت بھی ایک مسلمان کی حیثیت سے برقرار رکھی اور کینڈین سیاست میں مسلمانوں کی آواز بھی بنا ۔
2006 اکتوبر ،میں پہلی دفعہ max khan نے oakvilleکے وارڈ 6کے کونسلر کے الیکشن سے فتح حاصل کی تھی ۔ یہ راستہ آسان نہیں تھا ۔ مخالفوں کی طرف سے کافی الزامات کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہا گیا کہ وہ وارڈ 6کا رہائشی ہی نہیں ہے ۔ چونکہ خان بنیادی طور پر ایک وکیل تھا ۔اپنا کیس بہت سکون سے اور صبر سے صحیح ثابت کیا ۔ اور شائد ماں کی کہی گئی وہی بات کو پھر سامنے رکھتے ہوئے سیاست میں بھی اپنی محنت ، ایمانداری اور لگن سے ایسی اچھی مثال قائم کی کہ اسی حلقے سے تین دفعہ مسلسل کامیابی حاصل کی اور اکتوبر کے حالیہ کونسلر کے الیکشن میں تو 85.5%ووٹ حاصل کئے ۔ ابھی لبرل پارٹی کی طرف سے فیڈرل الیکشن ٹکٹ جیتا اور اب اووک وول سے آٹوا کا سفر جاری کرنے ہی والے تھے کہ موت کے بے رحم فرشتے نے آ لیا ۔ ایک اچھے مسلمان اور ایک اچھے انسان کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی نیک نامی کمائی ۔ اسی لئے اس کے ساتھی سیاست دان نے تعزیتی تقریر میں کہا “ان میں وہ سب خوبیاں تھیں جو ہم ایک اچھے سیاست دان میں دیکھنا چاہتے ہیں ، اس نے اپنے کام میں بہت عاجزی سے کام لیا ۔اپنی ذات سے بالاتر ہو کر یہ سوچا کہ لوگوں کے لئے کیا اچھا کرنا ہے کبھی یہ نہیں کہتا تھا کہ میں کتنا اچھا ہوں ہمیشہ یہ بتاتا تھاکہ تم کتنے اچھے ہو “۔
باپ نے اپنی تقریر میں کہا “گو کہ وہ کم عرصہ زندہ رہا مگر سو سال جتنا کام کر گیا” ۔ یہ نہ تھکنے والا چیتا جب 46سال کی عمر میں اپنے چاہنے والوں کو چھوڑ کے چلا گیا ہے تو لوگ حیران ہیں کہ کیا کسی کے جانے سے اتنا بڑا خلا بھی محسوس ہو سکتا ہے ؟وہ ایک کامیاب وکیل ، کامیاب سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سوشل ورکر بھی تھا ۔ damoffنے بتایا کہ ٹیری فوکس رن کو ہمیشہ سپورٹ کرتا ۔ چونکہ وہ خود کینسر کے مرض کو تین دفعہ شکست دے چکا تھا اس لئے کینسر کے لئے ہونے والے کام کی ہمیشہ مدد کی ۔ ایک وکیل کی حیثیت سے فلاحی تنطیموں کے لئے وکالت بھی فری کرتا ۔ damoffبتاتی ہے کہ جب خان کیمو تھراپی کے لئے ھسپتال بیٹھا تھا ، میں اس سے ملنے گئی تو وہ اس وقت بھی اپنے لئے نہیں بلکہ لوگوں کے لئے سوچ رہا تھا ۔ اس وقت وہ سوچ رہا تھا سنئیرز کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے ؟ اس وقت بھی اس کی پریشانی اپنا کینسر نہیں بلکہ لوگوں کے مسائل تھے”.
اگر وہ سیاست ، وکالت اور زندگی کے ہر میدان میں ایک فائٹر ایک ناقابلِ شکست چئمپئین تھا تو موت کے فرشتے کو بھی اس چیتے نے بہت اپنے پیچھے دوڑایااور اسے تین دفعہ شکست دی ر سب سے بڑی خوبصورتی یہ کہ اس مرض سے نہ گھبرایا نہ ڈرا ۔ موت اسے ڈرا نہ سکی ۔ موت کا خوف اس کے چہرے سے مسکراہٹ چھین کے نہ لے جا سکا ۔Sean ‘o”Meareنے کہا” اس کا دل اس کی مسکراہٹ سے بھی ذیادہ بڑا تھا” ۔ موت کے خوف نے نہ دل کو چھوٹا اور خوفزدہ کیا اور نہ مسکراہٹ میں کوئی کمی آئی ۔ آج کسی کی بھی آنکھوں کے سامنے میکس خان کا چہرہ آئے گا تو ہنستا ہوا ۔ موت کے خوف سے کمھلایا ہوا ، ڈرا ہوا ، تھکا ہوا اور سہما ہوا نہیں ،بس چمکتی آنکھوں والا چمکتا ہوا ستارہ سا چہرہ ۔
Max Khanکی ذات جہاں مسلمانوں کے لئے ، پاکستانیوں کے لئے، سب انسانوں کے لئے ، اولاد کے لئے ،سیاست دانوں کے لئے ایک روشن مثال بن سکتی ہے تو وہاں کینسر کے مریضوں کے لئے بھی ایک چراغ ثابت ہوسکتی ہے ۔یہ چراغ روشنی دیتا ہے ، ہمت سے جینے کی اور حوصلے سے بیماری سے لڑنے کی ،آخری دم تک جینے کی ۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ موت کا خوف موت سے پہلے مار دیتا ہے ۔ کینسر کے یا کسی بھی قسم کے موذی مرض کے شکار لوگ جینے کی تمنا چھوڑ دیتے ہیں ۔،ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں ۔ بلکہ صحت مند لوگ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں ۔میکس خان کی ذات جاتے جاتے ایک سبق دے گئی ہے اور وہ یہ کہ جئیو تو سچائی اور حوصلے سے مرو تو ہر آنکھ اشک بار ہو جائے ۔ زندگی میں مادی چیزیں جمع کرنے سے بہت ذیادہ ضروری اور بہتر کے ایسے کام کر لئے جائیں کہ جو گھروں میں سامان نہیں بلکہ لوگوں کی یاداشتوں میں اچھائیاں اور نیکیاں چھوڑ جائیں ۔
سیاست دان کہہ رہے ہمارا اچھا ساتھی چلا گیا ، کمیونٹی کے لوگ کہہ رہے ہماری آواز چلی گئی ، ڈاکٹر کہہ رہے فائٹر چلا گیااور باپ کہہ رہا میرا بیٹا ہی نہیں میرا دوست بھی چلا گیا ۔
سیالکوٹ کا سپوت محمود خان جن کا بیٹا میکس خان ٹورنٹو میں پیدا ہوا، بلاشبہ پاکستانی مسلمان کمیونٹی کا فخر تھا اور یہ قرض ہم یوں ادا سکتے کہ اس کی مثال کو صرف’ ایک” ہی نہ رہنے دیں بلکہ اسے ہزاروں سے ضرب دے دیں کیونکہ ہماری کمیونٹی کو میکس خان جیسے بہت سے لوگوں کی ضرورت ہے ۔ میکس کے جانے سے اپنی کمیونٹی کی بد قسمتی کا جو خیال سب کے دلوں میں سوال اٹھا رہا ہے اس کا جواب وہی ہے جو میکس کی ماں نے سکھایا تھا ۔ اپنے بچوں میں legacy of the max khanکو زندہ رکھیں ۔ستارہ چلا تو گیا مگر اس کی روشنی کو ہاتھوں میں تھام لیں اور ڈوبنے نہ دیں ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of