چمکتا بھارت اور کالے چہرے ؟ 

Published on (October 22, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
چمکتا بھارت اور کالے چہرے ؟
ہمیشہ سننے میں یہی آیا کہ پاکستان کو کلمہ پڑھوا کر مسلمان کر دیا گیا ہے اس لئے انتہا پسندی چھت پھاڑ کر نعرے مارتی ہے اور لوگوں کو سنگسار کر دیتی ہے ۔ اور پاکستان کے آئین میں ایسی شقیں ہیں جن کی وجہ سے وہاں رہنے والی اقلیتیوں کو آئین نے ہی دوسرے درجے کا شہری بنا دیا ہے ۔ انڈیا کے پاس فخر کرنے کو سیکولر آئین مو جود ہے ۔ مگر وہاں بھی ہندؤ مذہب کی بے حرمتی پر لوگ اسلامی طریقے سے سنگسار ہو رہے ہیں ۔ ہندوستان میں محمد اخلاق کا گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر پتھروں سے قتل اور اس کے بعد بھی اسی طرح کے تواتر سے واقعات کا ہونا ،پولٹیکل سائنس ، سوشل سائنس اور تاریخ کے معصوم طالبعلموں کے ذہن میں ایک سوال اٹھاتا ہے کہ کیا آئین کو سیکولر رکھنے سے مذہب کے نام پر لوگوں کا استحصال ختم ہو جاتا ہے ؟ کیا صرف جمہوریت کا راگ الاپنے سے تمام انسان برابر ہو جاتے ہیں ؟
آج جن ممالک کو ہم ترقی یافتہ اور مہذب کہتے ہیں انہوں نے اپنی عبادت گاہوں کو ملکی معاملات سے مکمل طور پر طلاق کروا دی تھی، اکثر لوگ سیکولر سے مراد لادینیت لیتے ہیں، ایسا نہیں ہے ۔ مذہب کاریاستی معاملات سے مکمل طور پر اخراج سیکولرازم ہے۔ بھارت نے تقسیم کے بعد آئین کو سیکولر کر کے بہت اچھا کام کیا ۔مگر عملی طور پرہندوستان میں ہوا یہ کہ ریاست مذہب کو علیحدہ کرنے کی بجائے تمام مذاہب کو خوش کر نے کے چکر میں لگی رہی۔ ہندؤ ؤں کی 80% آبادی کو خوش رکھنے کے لئے گاؤ ماتا کو ذبح کرنے اور اس کا گوشت کھانے پر جرمانے اور قید کی سزائیں لکھ دی گئیں ۔ مگر اس متضاد رویے کا جواب نہیں دیا کہ اگر گائے اتنی ہی مقدس ہے کہ ا سکا گوبر پیشاب سب محترم اور اس کا گوشت کھانے کے شبے میں ایک انسان ہی جان سے مار دیا جاتا ہے تو اس کی ایکسپورٹ میں انڈیا پہلے نمبر پر کیسے ہے ؟ اور اگر یہ ممانعت صرف مقامی باشندوں تک ہے تو ایکسپورٹ ہونے والی گائیں کیا مقدس نہیں ہیں ؟ یا ان کے کاروبار میں ملوث لوگ پابندی توڑنے کا باعث نہیں بن رہے ؟ کر کٹ کی گیند میں گائے کی کھال کیوں استعمال ہو تی ہے ؟
ملک کے تمام شہریوں کے لئے ایک سا قانون ہو نا چاہیئے مگر ہندوستان میں ایسا نہیں ہے ۔ طلاق دینے کا طریقہ کار اور شادی کی عمر سب شہریوں کے لئے ایک جیسی نہیں ہے۔۔ آپ سیکولرازم اور جمہوریت کی ملمع کاری تو کر چکے مگر اسے نبھانے میں کس قدر ناکام ہیں ۔ ایک مسلمان بچی کی شادی کی عمر ۱۳ سال ہے جو کہ انڈیا کے عام قانون سے ہٹ کر ہے ۔ ایک مسلمان مرد اپنی بیوی کو زبانی طلاق دے کر ا ور alimony کے نام پر ٹھینگا دکھا سکتا ہے جو کہ انڈیا کے عام قانون سے متصادم ہے ۔
گاؤ کشی کی پابندی کا قانون اور سزائیں بھی مختلف ریاستوں میں مختلف ہیں ۔ آپ کیرالہ میں بیٹھ کر بیف سٹیک کے مزے اڑا سکتے ہیں مگر یہی کام آپ مہاراشٹر میں بیٹھ کر کرنے کی گستا خی کریں گے تو گائے کے ساتھ ساتھ آپ کی قربانی بھی ہو جائے گی ، اس کے علاوہ گائے کو رونے والا سارا ہندوستان ہو گا مگر آپ کے بارے میں کہا جائے گا کہ گوشت کھانا تھا تو پاکستان چلے جاتے۔ حالانکہ انڈیا کے وزیرِ ثقافت یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ گائے کا گوشت کھاناہے تو کیرالہ چلے جاؤ ۔ انڈیا کی انتیس ریاستوں میں سے چوبیس میں تو گائے کے گوشت پر پابندی ہے ۔ یہ ایک الگ بحث ہے ۔
قانون سب کے لئے ایک جیسے ہوں تو جمہوریت اور سیکوارزم کی خوبصورتی اور فوائد سے ہر ہندوستانی ویسے ہی مستفید ہو جیسے کینڈا میں بیٹھ کر ہم ان مغربی سوغاتوں کے زیرِ سایہ ایک خوش اور مطمئن زندگی گذار رہے ہیں ۔ انڈیا نے اپنے تاریخی پسِ منظر کو بھلا کر مغربی اصطلاحیں تو استعمال کر لیں مگر اتنے سال گذرنے پر بھی رویے نہیں بدل سکے ۔ آئین کو چاہے کلمہ پڑھا دیں یا مندر میں لے جائیں یا مکمل طور پر دین سے الگ کر دیں ، عوام کے خون میں شدت پسندی عدم انصاف اوغیر مساوی رویوں سے آتی ہے ۔ جب ایک پڑھا لکھا ہندؤ آج بھی مسلمان کو ملیچھ سمجھے گا ۔ گاندھی جی جیسا لیڈر بھی یہ کہہ گیا کہکہ “نومسلم لوگ ایک قوم ہونے کا دعوی کیسے کر سکتے ہیں ،وہ یہ کیسے بھلا سکتے ہیں کہ تاریخی لحاظ سے ان کے اباؤ اجداد ہندو تھے اور ان میں سے بیشتر کا تعلق نچلی ذاتوں سے تھا ۔ اور ایک منخرف گروہ” قوم” ہونے کا دعوی کیسے کر سکتی ہے” ۔ پھر بھی گاندھی جی اور نہرو کے زمانے میں انڈیا نے ہندو شناخت کو چھپا کرسیکولرہونے کا بھرم حتی المکان نبھایا ۔۔بابری مسجد کا سانحہ اور گجرات کے واقعات کو اکا دکا کہہ کر نظر انداز کر کے آگے بڑھ بھی جائیں تو آج 2015میں انڈیا جہاں کھڑا ہے اور ہندؤ مذہبی جنون کے آگے ریاست جس طرح بے بس کھڑی نظر آتی ہے اس سے سمجھنے والے آنے والے انڈیا کو سمجھ سکتے ہیں ۔
“گھر واپسی “اور دھرم جگرن سمیتی کی قسم کہ ہندوستان کو 2021میں ہندو مہاشٹرا بنا دیں گے اس لئے یہاں اگر رہنا ہے تو ہر مسلمان اور عیسائی کو ہندؤ ہو نا پڑے گا ، مقبوضہ کشمیر میں انجئینر راشد کے چہرے پر شیو سینا کے غنڈوں کی طرف سے سیاہی پھنیکنا اور کرکٹ بورڈ کے دفتر پر پاکستانی عہدے داروں کی آمد کے بعد حملہ کرنا ، پاکستان کے سابقہ وزیرِ خارجہ خورشید قصوری کی کتاب کی انڈیا میں رونمائی کے موقعے پر جس طرح تقریب کے منتظم کا منہ کالا کیا گیایوں محسوس ہو تا ہے جیسے “مودی الحق” انڈیا کے چہرے سے دوغلے پن کا پردہ اٹھانے کی ٹھان چکے ہیں ۔ اچھوت اور ذات پات کی جو باتیں لوگ اچھالتے نہیں تھے اب ہندو طالبان کی وجہ سے زبانِ عام ہیں ۔
آئین میں جو بھی تھا ، پاکستان ضیاالحق سے پہلے ایک خوبصورت ، لبرل اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے والا معاشرہ تھا ۔ اور آج آئین جو بھی ہے انڈیا نریندر مودی کے زیرِ سایہ ایک قدامت پرست ، مذہبی جنونی اور بیمار معاشرے میں تبدیل ہو رہا ہے ۔
مذہب کے نام پر نفرت کی کائی اگانا کس قدر آسان ہے ۔ اور غربت کی مٹی اس پیدوار کے لئے بہت ساز گار ہے ۔ کبھی امیر علاقوں میں لوگوں کو کسی بھی نظرئے یا عقیدے یا مذہب کی وجہ سے ایک دوسرے کو کاٹتے نہیں دیکھا گیا ۔ تو چمکتے ہوئے انڈیا کی یہ بات بھی دھوکہ ہی ہے کہ انڈیا کی معشیت ترقی کر رہی ہے۔ یہ ترقی صرف بالی وڈ کی کمرشل فلموں میں نظر آتی ہے کیونکہ اگر انڈیا کی آرٹ موو یز دیکھی جائیں تو اشتراکی اور جمہوری لبادے کے پر خچے اڑتے نظر آتے ہیں ۔ ایک ہندی آرٹ فلم کا ہی ایک سین ہے کہ ایک گاؤں کا کمی لڑکا سات سال بعد شہر سے نوکری کرنے کے بعد اپنے پنڈ واپس لوٹتا ہے اور آتے ہی جوش کے مارے گاؤں کے مُکھیا کو اور اس کے بیٹے کو اور آس پاس جتنے بھی معززین کھڑے ہوتے ہیں سب کو گلے لگا تا ہے ۔ مکھیا کے چہرے پر حیرت ہے اور وہ پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں میں نے پہچانا نہیں ، لڑکا اسی جوش میں تپتے چہرے کے ساتھ جواب دیتا ہے کیسے پہچانتے میں سات سال بعد تو آیا ہوں ، ساتھ میں وہ اپنے پینٹ شرٹ کو بھی فخر سے دیکھتا ہے یعنی کہ لباس بھی تو بدلا ہو ا ہے ۔ پھر وہ جب اپنا نام بتا تا ہے تو گاؤں کا مکھیا جوتا اتار کر اس کی خوب پٹائی کرتا ہے اور اپنے کارندوں سے کہتا ہے اسے اتنا مارو کے آئندہ سے یہ ملیچھ کسی اعلی ذات کو جھپی ڈالنے کا خواب میں بھی نہ سوچے ۔ سب اس غریب لڑکے کو مارنے لگتے ہیں وہ جوتے کھاتا جاتا ہے اور کہتا جاتا ہے کہ میں نے تو سنا تھا کہ قانون بن گیا ہے کہ سب انسان برا بر ہیں ، کوئی بڑی ذات یا چھوٹی ذات نہیں ہے ۔۔اس بات پر مکھیا اور ناراض ہو تا ہے اور کہتا ہے تیرا کیا مطلب ہے کہ قانون بن جائے گا اور تو ہمارے منہ پر آکر پیشاب کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ چمکتے انڈیا کا کالا چہرہ ہے ۔ جسے بہت سالوں تک بہت کامیابی سے جمہوریت کا لباس اوڑھا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا تھا ۔ مگر مودی صاحب اور ان کے ہندو قوم پرستوں جیالوں سے منافقت ہو نہیں پا رہی اور وہ لباس اتارکے ننگا انڈیا دنیا کے سامنے لے آئے ہیں ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of