چاندنی چوک اور میناروں کا اسرار

Published on (February 04, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
چاندنی چوک اور میناروں کا اسرار
سجاد باقر ضوی نے امیر خسرو اور غالب کو برصغیر کی تقریبا سو سالہ مسلم تہذیب کا استعارہ قرار دیا ہے ۔اول الذکر عروج کا موخر الذکر زوال کا ۔میں ان دونوں کی آخری آرام گاہ دیکھ کر دل میں اداسی بھرے یہی سوچتی رہی” مر کہ بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں۔ مزارِ غالب کی خستہ خالی کا پڑھ کر مجھ سے غالب کے خطوط اور” دستبو”ڈائری کے بارے میں سوال پوچھے گئے ۔ جوان نسل کا غالب کے سیاسی نقطہٗ نظر کے بارے میں سوال اٹھنا جائز ہے ۔ مسلم تہذیب یا مغل سلطنت کا عروج وزوال اور بساط دلی ہے اور غالب دلی ہے ۔ اسی لئے مولانا حالی نے غالب کی موت کو دلی کی موت کہا تھا ۔ غالب کے خطوط نوحہ ہیں او ر اس زمانے کا عکس ہیں ،جن میں غالب لوگوں کی اور اپنی حالت پر نوحہ کناں ہے ۔ 1857جسے انگریز فوجی بغاوت کہتے تھے ،اس وقت جو ہندوستانیوں نے گوروں کا اور اس کے بدلے جس طرح ہندوستانیوں کا خون بہا یا گیا غالب اپنے خطوط میں کیسے تذکرہ کرتے ہیں ؟
ایک نمونہ :
“کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں اپنی تباہی کے غم میں مرتا ہوں ۔جو دکھ مجھ کو ہے اس کا بیان تو معلوم مگر میں اس بیان کی طرف اشارہ کرتا ہوں :انگریز کی قوم میں سے جو ان روسیا کالوں کے ہاتھوں سے قتل ہوئے اس میں کوئی میرا امید گاہ تھا ،کوئی میرا شفیق کوئی میرا دوست اور کوئی میرا یار اور کوئی میرا شاگرد۔ہندوستانیوں میں کچھ عزیز دوست ،شاگرد ،معشوق سو وہ سب کے سب خاک میں مل گئے ۔ایک عزیز کا ماتم کتنا سخت ہوتا ہے ۔جو اتنے عزیزوں کا خاتم دار ہو اس کو زیست کیوں نہ دشوار ہو ۔ہائے اتنے یار مرے کہ جواب میں مروں گا تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہوگا ۔”
دستبو کے بارے میں تفتہ کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں :
“اس تحریر کو جب دیکھو گے تب جانو گے۔اہتمام اور عجلت اس کے چھپوانے میں اس واسطے ہے کہ اس میں سے ایک جلد نواب گورنر جنرل بہادر کی نذر بھیجوں گا اور ایک جلد بذریعہ ان کے جناب ملکہ انگلستان کی نذر کروں گا ۔اب سمجھ لو کہ طرزِ تحریر کیا ہوگیااور صاحبانِ مطبع کو اس کا انطباع کیوں نا مطبوع ہوگا ؟”
پھر غالب مجرو ع کو خوشخبری سناتے ہیں کہ چھپنے کی اجازت بخوشی مل گئی ہے ۔ پروفیسر کبیر احمد جائسی کا غالب لی ڈائر ی پر تبصرہ نہ جانے کتنا جائز ہے مگر حاضرِ خدمت ہے تاکہ لوگ جان سکیں کہ کیا غالب نے یہ روزنامچہ لکھ کے سرسید احمد خان یا کارل مارکس جیسی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا تھا یا صرف ان کی ذاتی بقا کی جنگ تھی ۔ جائسی لکھتے ہیں :
“غالب نے یہ کتاب صرف اس لئے تصنیف کی ہے کہ باغیوں کی مذمت اور انگریز مقتولوں پر نوحہ خوانی کر کے وہ خود کو انگریزوں کے بہی خواہوں میں شمار کرا لیں تاکہ انکو مورثی جائداد واپس مل سکے جس کو مدتوں پہلے وہ رو پیٹ چکے تھے اور حکام تک رسائی ہوجائے تاکہ بدلے ہوئے حالات میں بھی وہ ویسے ہی معزز رہیں جیسے مغلیہ عہدِ حکومت میں تھے ۔مگر لوگوں کی نظروں میں بھی رہنے کے لئے دہلی کی بربادی کا بھی جگہ جگہ ذکر کیا ہے “.
انسان دلی میں گھوم رہا ہو اور چند چیزیں اسے آزاد کر دیں،یہ ناممکن ہے ۔ غالب ہی نے دلی کی شادمانی کو یاد کرتے ہوئے لکھا تھا :
بھائی کیا پوچھتے ہو کیا لکھوں دلی کی ہستی منحصر کئی ہنگاموں پر تھی ۔لال قلعہ ،چاندنی چوک ،ہر روز مجمع جامع مسجد کا ،ہر ہفتے سیر جمنا کے پل کی ،ہر سال میلہ پھولوں والوں کا ۔یہ پانچوں باتیں اب نہیں پھر کہو دلی کہاں ؟
ہم نے سوچا دلی میں دوسری رات چاندنی چوک ، جامع مسجد کو دیکھ لیں ۔ دلی کی میڑو کا سفر کیا ۔ سوچا غالب ہوتا تو شائد پوچھتا جمنا کے پل کی سیر نہ کی اور میڑو پر چڑھ بیٹھے ۔ دلی کی ہولناک فٹ پاتھ پر سوئی زندگی اور دوسری طرف ترقی یافتہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بھاگتی ہوئی میڑو ۔ میڑو انسانوں سے بھری ہوئی تھی ۔جب کسی سٹاپ پر رکتی تو اترنے والوں کی تعداد کم ہوتی اور چڑھنے والوں کی تعداد دیکھ کر ہم اپنی آنکھیں بند کر لیتے ۔ ہمارا سانس بند ہونا شروع ہوچکا تھا ۔ مگر جب ہم اپنے سٹاپ پر اترے تو ارد گرد بیٹھے کھڑے سب لوگ ہمارے دوست بن چکے تھے ۔پورے سفر کے درمیان ہم بھی ہنستے رہے اور وہ انجان شہر کے اجنبی لوگ بھی اپنوں کی طرح ہمارے ساتھ شریک رہے ۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ چھوڑ کر ہم ان سے رخصت ہوئے ۔
جامع مسجد میں حاضری دی خوبصورت محرابیں اور صاف ستھری مسجد دیکھ کر دل کو یہ سکون ہوا کہ یہاں بسیرا کرنے والوں کی غرض غربت نہیں عبادت ہے ۔ مسجد کے مینار دلی میں بارعب طریقے سے سر اٹھائے کھڑے تھے ۔ انہیں کوئی ڈر نہیں تھا کہ حکومت ہندؤوں کی ہے یا مسلمانوں کی ،انہیں اپنے اسرا ر اور اس طلسم پر اندھا یقین ہے ، جو ان کی وجہ سے دلی کی فضا میں پھیلا ہوا محسوس ہوتا ہے ،ان چیزوں میں سے ایک جو دلی میں گھومتے ہوئے آپ کو اپنے سے آزاد نہیں ہونے دیتیں ۔
وہیں مجھے فون آیا کہ میری پی آئے کی فلائٹ جو دلی سے لاہور جا رہی تھی سواریاں صرف تین یا چار ہونے کی وجہ سے کینسل ہوگئی ہے ۔ میں مسجد کے صحن میں حیران پریشان کھڑی تھی ۔ کیا دلی سے لاہور جانے والوں کی تعداد اتنی کم ہے ؟ یا پی آئی اے کے سفر کا کوئی رسک لینے کو تیار نہیں ؟ان سوالوں کے جواب مسجد کی محرابوں یا میناروں کے پاس نہیں تھے ۔ پھر سوچا غالب ہوتا تو کیا کہتا ۔۔الہامی شعر لکھتا ؟ کسی سچے دوست کو سچا خط لکھتا یا ڈائری میں دنیا داری لکھتا ؟اس زمانے کی طرح آج بھی ہم الجھے ہوئے ہیں ۔ بصیرت کو بصارت چاٹ رہی ہے ۔ اور رہ جاتی ہے ہماری خالی جھولی ۔
میں نے سائکل رکشہ جیسی غیر انسانی سواری میں بیٹھنے سے انکار کر دیا ۔ آٹو رکشہ مشکل سے ڈھونڈا گیا ۔ حیرت کی بات ہے سائکل رکشے آتو رکشے میں تعداد میں بہت ذیادہ تھے ۔ایک اور بات قابلِ توجہ لگی کہ موٹر سائکل پر کوئی بغیر ہیلمٹ کے نہیں ہے ،پیچھے بیٹھی سواری بھی ہیلمٹ پہنے ہوئے ہے ۔ پتہ نہیں کیا طریقہ اپنایا ہوگا جو حکومتِ پاکستان نہیں اپنا سکی کہ اسی بود وباش کے لوگوں کو قانون کی پابندی پر مجبور کیا ہوا تھا ۔ عورتیں بھی موٹر سائکل چلاتی نظر آئیں اور بے دھڑک رات کے اس پہر پیدل بھی گھوم رہی تھیں ۔ لڑکیوں کو جینز اور شرٹ عام پہنے دیکھی اور کوئی انہیں گھورتا نظر نہیں آیا ۔
پرانے چاندنی چوک کی تنگ گلیاں ہوں یا وسیع سڑکیں ، میں نے دلی کی عورت کو بہت اعتماد سے گھومتے پھرتے دیکھا ۔ اور اس سوال کا جواب نہ مل سکا کہ آخر یہ عورتیں کسی بھی لباس ، کسی بھی حلئے ،کسی بھی پہر اتنی پر اعتماد کیوں ہیں ؟وہ ریپ کیسز جو ہمیں سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں اور دلی ان سب میں اول نمبر پر کھڑا ہے وہ کیا افسانہ ہے ؟ کیا وہ خبریں جھوٹی ہیں ؟ یا عورتیں خبر بھول رہی ہیں ؟ یا ان عورتوں کا یہی احمقانہ اعتماد ہے جو انہیں ہوس ذدہ آدمیوں کا باآسانی نشانہ بنا رہا ہے ؟مجھ پر یہ اسرار نہ کھل سکا ۔
ہم کھانا کھانے کے لئے 1913سے قائم شدہ کریم ہوٹل جا پہنچے ۔کئی نسلوں سے چلتا ہوا یہ ہوٹل اب جس نسل کے ہاتھ میں تھا ہم نے اس نوجوان سے ملاقات کی ۔ وہاں اتنا رش تھا کہ بیٹھنے کے لئے ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا ۔ وقفہ انتظار میں ہم نے اس نوجوان سے ہوٹل کے بارے پوچھنے شروع کر دیا ۔ ہمارے ہر سوال کے جواب میں خندہ پیشانی سے مسکرا مسکرا کر جواب دیتا رہا ۔ ایک سا تھی نے کہا آپ کے کھانے ،خاص کر کہ مٹن کڑاھی کی تعریف دور دور تک ہے اور ہمارا یہ اعزاز ہے کہ ہم آپ کے اصلی والے ریستوران میں کھانا کھا رہے ہیں ۔ اس نے مسکرا کر ہمیں دیکھا اور کہا : آپ کو بتاؤں دنیا میں سب سے بہترین گوشت کڑاھی کہاں کی ہے ؟ہم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا او ر جھٹ سے کہا آپ کے ریستوران کی ؟
اونچی سے ہنسا اور بولا؛ نہیں!! لکشمی لاہور کی ۔ میں نے ایسی عمدہ کڑاھی زندگی میں کبھی نہیں کھائی ۔
اور ہم سب نے یوں فخر سے سینہ تان لیا جیسے اس کڑاھی کی ترکیب ہم سے ہی پوچھ کے بنائی جاتی ہے ۔ ۔۔۔
(پچھلے کالم میں آخری شعر کو غلطی سے غالب کا کہا وہ اسد بھوپالی کا شعر تھا ۔ غلطی کی تصحیح کرنے پر ساجد حسن بٹ کی ممنون ہوں)

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of