ولی کا مزار اور زمین پر سوئے انسان!(دلی سفرنامہ ۵) 

Published on (January 03, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
ولی کا مزار اور زمین پر سوئے انسان!(دلی سفرنامہ ۵)
دلی پر ایک خاص قسم کا صوفیانہ رنگ چھایا نظر آتا ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے جو نظر آرہا ہے ، وہ نہیں ہے ، اس کے در پردہ کچھ ہے ۔ ایک اسرار ہے ، ایک ان کہی کہانی ہے ۔ کوئی سیاح اسے کھوجتا ہو گا ، کوئی کھوج کر آگے نکل جاتا ہو گا ، دنیا کو بتا نا بھول جاتا ہو گا ،کوئی دنیا کو بتاتا بھی ہو گا توپو را سچ نہیں ، دلی کا پورا سچ کہنا بہت مشکل ہے ، دلی کی ہواؤں میں ایک سحر ہے ۔ وہ آپ کو جھکڑتا ہے ۔ آپ سے کہتا ہے” بوجھو تو جانیں ؟”یہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کناٹ پلیس سے خواجہ نظام الدین اولیا ء کے مزار کی طرف ٹیکسی کا سفر شروع ہوتا ہے ۔ کناٹ پیلس کا جہاں اور تھا یہاں کا اور ۔ پرسراریت دلی کی ترقی میں تھی یا ترقی میں پوشیدہ غربت میں ؟
حضرت نظام الدین اولیاء برصغیر کے صوفی بزرگ ہیں ۔ جن کا ایمان تھا کہ خدا بھی انسان میں ہوتا ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا مذہب انسان اور انسانیت ہوتا ہے ۔مزار کے باہر سائیکل رکشہ نظام الدین اولیاء کی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ایک انسان اپنی ٹانگوں کے زور پر دوسرے انسانوں کی سواری بنا ہوا ہے ۔
یہ ہے سائیکل رکشہ ۔میں نے اس منظر کو اکیسویں صدی کے تناظر میں دیکھا ۔ اس صدی میں جہاں مجھے یہ پیغام دیا جارہا کہ انسان کو اب مذہب اور عقیدے کو چھوڑ کر امن کی بات کرنی ہے ۔ مگر اس صدی کا جو سب سے بڑا المیہ ہے اس سے سب آنکھیں چرا رہے ہیں ۔ کیونکہ قانون اور پالیسیاں بنانے والوں کے حق میں یہ بات نہیں جاتی ۔ وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ اگر انسان کو مذہب اور زبان اور رنگ کے فرق سے بے نیاز کر کے ایک کر بھی دیا جائے تو پھر بھی کام نہیں بنتا ۔ یہ کشتی اس وقت پار لگے گی جب تک کم خو راکی سے پیداہونے والی قبض اورکثیر الخوراکی سے جنم لینے والے پیچش کا علاج نہیں ہوجاتا ۔ انسان نعروں سے ایک نہیں ہو سکتے ۔ سب مذاہب میں سے انسان کی فلاح ، برابری اور مساوات کے سبق نکال کے دیکھیں تو سب کا پیغام ایک سا ہے ۔ مذہب کو روز مرہ زندگی سے جدا کرنے کی ضرورت نہیں رہ جائے گی ۔ یہی پیغام صوفی بزرگ دیتے آئے ہیں ۔ وہیں باتیں مذہب کہتے ہیں ۔
جو بات غیر فطری ہے اور ٹھونسی جارہی ہے وہ ہے سرمایہ دارانہ نظام کا زنگ آلود خنجر، جو انسانوں کی گردنوں پر دھیرے دھیرے چلایا جارہا ہے ۔ گردنیں کٹ رہی ہیں اور کہا یہ جاتا ہے کہ سب مذہب اور رنگ کی بنیاد پر ہورہا ہے ۔نظام الدین اولیا کے پیر و مرشد داتا فرید نے کہا تھا “اسلام کے پانچ نہیں چھ رکن ہیں ایک ہے روٹی “۔ اس کی تفریق پیدا کر کے ہم باقی کے پانچ ارکان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔
دیوار پر خواجہ سید نظامی نے علامہ اقبال کا ایک معروضہ نصب کروایا ہو اہے:
ہند کا داتا ہے تو تیرا بڑا دربار ہے
کچھ ملے مجھ کو بھی اس دربار گوہرِ بار سے
محوِ اظہارَ تمنائے دلِ ناکام ہوں
لاج رکھ لینا کہ میں اقبال کا ہمنام ہوں
بھلا ہو دونوں جہاں میں حسین نظامی کا
ملا ہے جن کی بدولت یہ آستاں مجھ کو
نظام الدین اولیا بہت سخی بزرگ تھے ، منوں کے حساب سے کھاناپکتا تھا ، لنگر چلتا رہتااور ہزاروں بھوکے کھانا کھاتے تھے ۔ مرتے وقت بھی انہوں نے وصیت کی تھی جو کچھ خانقاہ سے نکلے ایک ایک دانہ غریبوں میں بانٹ دیا جائے ۔
ایک دن انہوں نے کہا” جتنا غم مجھے ہے اتنا کسی اور کو نہیں ہو سکتا ، لاکھوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں اور اپنا دکھ کہتے ہیں ۔ اور وہ سب میرے دل پر اکھٹا ہوجاتا ہے ۔ وہ کیسا انسان ہوسکتا ہے جس کے سامنے دوسروں کے دکھ ہوں اور وہ اطمینان سے اپنے مشاغل اور خوشیوں میں مصروف رہے “۔
ایک اورروایت ہے کہ قطب الدین مبارک شاہ سلطنتِ دلی کے سلطان کے دربار میں ہفتے میں ایک دن سب علماء اشرفا حاضر ہوتے تھے ۔
ایک دن سلطان نے نظام الدین کو حکم بھیجا کہ اس ہفتے وہ بھی حاضر ہوں ۔ امیر خسرو نے پیغام پہنچایا ۔جو خود بھی حضرت کے مریدوں میں سے تھے ۔ حضرت نے حکومتِ وقت کے اس بارعب حکم کو جھٹلا دیا ، حاضری کے مقررہ دن سے ایک دن پہلے اپنی والدہ کی قبر پر گئے ۔ شاگرد خوفزدہ تھے کہ بادشاہ اس حکم عدولی پرقتل کروا دے گا ۔ انہیں تسلی دی اور کیا ہوا ؟ مقررہ دن سلطان کے دربار میں بغاوت ہوگئی اور اس کا اپنا سر قلم کر دیا گیا۔
یہ معجزے نہیں بلکہ یہ عزتِ نفس کو بلند رکھنے کی وہ معجزاتی طاقت ہے جو آپ کو کبھی نہیں جھکا سکتی ۔ ہاں اور یہ وہ نادیدہ طاقت بھی ہے جو صاف دل اور صاف نیت کے لوگوں پر ظلم کرنے والوں کو اسی دنیا میں ذلت دیتی ہے ۔ جو اپنے دل میں انسانیت کی محبت رکھتا ہو ، کسی کا برا نہ چاہتا ہو ،اسکا انتقام وہی منصف ، وہی حفاظت کرنے والی ان دیکھی ہستی لیتی ہے ،جس کے کندھوں پر یہ کائنات قائم ہے ۔
مزارمیں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتا ر کر ہاتھوں میں پکڑ لئے ۔ میرے ہمراہ بہت ہدایات تھیں ۔ مزار میں چور اچکے پھر رہے ہوتے ہیں ، پرس نہ لے کر جانا ، موبائل نہ پکڑنا اور کیمرہ دھیان سے استعمال کرنا ۔لیکن مجھے وہاں چور نہیں بے چارگی اور غربت بکھری نظرآئی ۔
رات پھیل چکی تھی ۔خواجہ نظام کی زندگی کی خو ا ہش تھی،” میری خانقاہ سے کوئی غریب بھوکا نہ جائے” ۔ انسانوں کی برابری اور عزتِ نفس کی بات کرنے والے بزرگ کے مزار پر سب چادریں تو خر ید خرید کر چڑھا رہے تھے مگر وہاں پیٹ ننگے اور بھوکے پڑے تھے ۔بے جان قبر کے نیچے لیٹے صوفی کی تڑپ کوئی نہیں سن رہا جو چلا چلا کہ کہہ رہا ہے ، اللہ کے واسطے میری قبر پر چادر نہ چڑھاؤ ، اگر بتی خوشبو کے لئے خریدتے ہو ، یہ نہ خریدو بلکہ یہ جو لنگڑا بچہ قبر وں کے گرد کتے کی طرح گھوم رہا ہے اسے انسانی زندگی دلا دو ۔مزار تک کا راستہ زمین پر سوئے انسانوں سے بھرا پڑا ہے :
انہی انسانوں پرچل کر آسکو تو آؤ
میرے مزار کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
میں نے دیکھا کتےُ بچ بچ کر چل رہے ہیں تاکہ کسی سوئے ہوئے انسان پر ان کا پاؤں نہ پڑ جائے ۔ ایک پھٹا ہوا کمبل ہے اس کے اوڑھنے والوں کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے جسم نظر آرہے ہیں ۔ وہ ایک جوان عورت اور دو ننھے بچے ہیں ۔ کوئی اونچے سے تھڑے پر سویا ہوا ہے ۔ اور میں سوچ رہی ہوں یہ کروٹ لے گا تو زمین پر گر جائے گا لیکن شائد وہ میری سوچ سے ذیادہ ٹرینڈ ہے کیونکہ وہ کروٹ ہی نہیں لے رہا ۔
کسی کو تھڑا بھی نصیب نہیں سب قطار میں زمین پر سوئے ہوئے ہیں ۔ دل کر رہا ہے شام کو کان سے پکڑ کر لاؤں جو حضرت اولیاء کے مزار کے اندر نہیں آیا ۔ گلیاں بڑی تنگ ہیں ۔اور اس کی ٹیکسی اندر نہیں آسکتی ۔ ٹیکسی کو باہر لاوارث بھی نہیں چھوڑ سکتاکوئی لے نہ جائے ،پوچھنا چاہتی ہوں اسے یہاں تو سیکورٹی اتنی سخت ہے لاوارث انسانوں کو کوئی نہیں لے کر جاتا ، تمھاری ٹیکسی کو کون لے جائے گا ؟۔
برصغیر کے سب سے بڑے انسان دوست صو فی بز رگ کی درگاہ پر انسان اپنی سب سے بدتر حالت میں پڑا ہے ۔
امیر خسرو حضرت کے شاگرد ، عظیم موسیقار اور محبت کے شاعر انہی کے قدموں میں دفن ہیں اور باہر تحتی لگی ہے :
“آستانہ شریف میں عورتوں کا اندر جانا منع ہے ”
یہ دیکھتے ہی مجھے پتنگے لگ گئے ،کیوں منع ہے ؟ ۔ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ، میں تو جاؤں گی، میں اڑ گئی ۔
وہاں بیٹھے بزرگ جو مزاروں پر چڑھانے کے لئے چادریں بیچ رہے تھے ، اور کوئی اتھارٹی لگ رہے تھے ، بولے بیٹا آپ اندر چلی جاؤ ۔
۔ مگر یہ لکھا کیوں ہے ؟
ایسے ہی لکھا ہے ۔ عورتوں کو اندر جانے نہیں دیتے ۔
عورتوں کو باہر فٹ پاتھ پر بغیر چادر کے لیٹنے دیتے ہیں ؟ میں سوچ کے رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیج وہ سونی دیکھ کے روؤں میں دن رین
پیا پیا میں کرت ہوں پہروں ،پل بھر سکھ نہ چین

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of