نقاب اور کینڈا 

Published on (October 16, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
نقاب اور کینڈا
زنیرا اسحاق ،ایک پاکستانی خاتون 2008میں نقاب پہنے کینڈا مستقل رہنے کے لئے اپنے چار بچوں اور شوہر کے ساتھ تشریف لاتی ہیں ۔ کینڈا ایک خوبصورت اور پر امن ملک ہے ۔ جس میں مساوات بھی ہے ، آزادی بھی ہے اور ابھی تک امن بھی ہے ۔ یہ امن کب تک برقرار رہے گا اس کا فیصلہ حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ عوام کی حکمتی تدبیروں پر بھی ہے۔
ابو جی گھر میں سب بچوں کے لئے آم لے آئے ،یہاں تک گھر میں خوشی لانا ابو کے اختیار میں تھا ، سب بچوں میں برابر کے آم تقسیم بھی کر دئے ، یہ بھی ابو کے اختیار میں رہا ،مگرکون بچہ کیسے کھائے گا ،یہاں معاملہ بچوں کے اختیار میں چلا گیا ۔ کھا کہ لطف لیں گے یا کھٹا میٹھا ہونے کا گلہ کریں گے؟چوس کے کھائیں گے یا کاٹ کے ؟ کھا کے گھٹلی کوڑے کی ٹوکری میں پھینکیں گے یا وہیں فرش پر؟۔۔ ابو نے آم لانے کی خوشی کے ساتھ تقسیم کرنے اور کھانے کے اصول بھی بتا دئے ۔۔آگے معاملہ چلا گیا ذاتی پسند کا ، ایک بچہ اڑ گیا کہ گھٹلیاں تو فرش پر ہی پھینکے گا ، اس نے صرف اپنے دل کی سننا سیکھا تھا ،باپ نے تھک کر کہا اچھا جاؤ جو مرضی کرؤ ۔ یہ سنتے ہی جو بچے گھٹلیوں کے لئے ٹوکری ڈھونڈ رہے تھے ، وہیں سے بیٹھے بیٹھے نشانہ لگانے لگ گئے اور فرش گند گی سے اٹ گیا ۔۔ ڈھٹائی نے ماحول کے توازن کو منٹوں میں خراب کردیا ۔
کہاں پیدا ہونا ہے یہ آپ کے اختیار میں نہیں ہے، مگر جب ہجرت کر کے آپ کسی دوسرے ملک میں رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ آپ کے اختیار میں ہو تا ہے ۔ آج کی دنیا پچھلے پندرہ سالوں میں ٹیکنالوجی کی بدولت بہت بڑی چھلانگ لگا چکی ہے اور سمٹ کر �آپ کی مٹھی میں آگئی ہے جسے کھولتے ہی دنیا کے کسی بھی ملک کے اندرونی حالات ، واقعات ، روایات ،حکایات اور نظریات سب آپ کے سامنے پل جھپکتے حاضر ہو جاتے ہیں ۔ یہاں آپ کی ذاتی پسند اور ترجیحات کا سوال اٹھتا ہے جس کا جواب آپ کو خود دینا ہے ۔ آیا جو میری شخصیت ہے وہ اس ملک کے ساتھ جہاں کی سہولتیں میں اٹھانے جا رہی ہوں میچ بھی کرتی ہے یا نہیں ؟ مجھے سعودی عرب جانا چاہیئے یا کینڈا ۔؟ اور جب آپ کینڈا کے حق میں فیصلہ دے کر یہاں تشریف لے آتی ہیں۔ پھر اس آزاد ، امن پسند ، مختلف تہذیبوں کے گہوراے ملک کے جب مستقل شہری بننے کے وقت آپ کو کہا جاتا ہے کہ شہریت کا حلف اٹھائیں اور اس حلف کو اٹھانے کے لئے آپ کو چہرے سے نقاب ہٹاناپڑے گا، کیونکہ یہ ایک سنجیدہ اوتھ ہے جس میں حلف لینے والے کا چہرہ دیکھنا ضروری ہے ۔ ایک قانونی تقاضا ، جسے آپ کینڈا میں داخل ہونے سے پہلے جانتے ہیں لیکن آپ اڑ جاتے ہیں ۔۔حالانکہ یہاں آپ کو اپنی مذہبی ، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیاں اپنی مرضی سے نبٹانے کی کھلی چھٹی ہے ۔ کوئی آپ کے راستے میں رکاوٹ نہیں ۔ آپ ایک ایسے ملک سے آئے ہیں (چاہے انڈیا ہے یا پاکستان یا بنگلہ دیش )، جہاں اقلیتوں پر ظلم کرنے کو ظلم نہیں بلکہ رواج کہا جاتا ہے ۔ جہاں کبھی جانور کے لئے اور کبھی بے جان صٖٖفحات کے لئے لوگ سنگسار کر دئے جاتے ہیں ۔
جیسے تھوڑے پانی کی مچھلیاں سمندر میں چھوڑ دی جائیں تو غوطے کھانے لگتی ہیں اسی طرح گھٹن ذدہ ماحول سے آئے شہری آزادی کے نام پر دھنا دھن مچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آپ بھی یہی فیصلہ کرتی ہیں مگر یاد رکھئے انسانی حقوق کے نام پر آزادی کو پامال کرنا بہت آسان ہے ، امریکی تاریخ دان ولیم جیمز ڈیورنٹ نے کہا تھا :
“آزادی کی پہلی شرط ہی اس کی حدود ہیں ” ۔
لیکن یہ بات ہم دوسروں کو سمجھاتے ہو ئے یاد رکھتے ہیں ،اپنے پر بات آئے تو بھول جاتے ہیں ۔ ہم آزادی ِ اظہار کے نام پر مذاہب اور مذہبی شخصیات کے مذاق اڑانے کو تو آزادی کا ناجائز ستعمال کہتے ہیں مگر آپ کسی ریاست کے اندر اس کے مفید اور بے ضرر قوانین کو ،اپنی آزادی کے نام پر ماننے سے انکار کر دیں وہ آپ کو جائز لگتا ہے ۔
بات تو پرانی ہے مگر اس وقت تک استعمال ہو گی جب تک اس سے ذیادہ بہتر بات کوئی نہیں کہہ دیتا کہ ۔۔
when in rome,do as the romans
نقاب اتارنے کی شرط کو جب سے کینڈا کی عدالت نے غیر قانونی قرار دیا ہے ۔ میرا دل کر رہا ہے میں بھی کچھ باتوں پر کینڈا کی حکومت سے پنگا لے لوں ۔۔ جب میں ڈرائیور لائسنس یا ہیلتھ کارڈ کے لئے تصویر اتراوانے جاتی ہوں تو وہ مجھے مسکرانے سے منع کرتے ہیں۔ سنجیدہ منہ کے ساتھ میری تصویر بہت بری آتی ہے اس لئے میرا پوری بتیسی نکال کر تصویر کھنچوانے کو دل کرتا ہے ۔۔ کیا مجھے کینڈا میں اپنی مرضی کے پوز کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی اجازت بھی نہیں؟ مانا یہاں مسجدوں کی تقد یس پاکستان سے بھی ذیادہ ہے ،مانا یہاں میں چاہے بکنی میں گھوموں یا حجاب میں کوئی مجھے نہیں ٹوکتا ، مانا دن کو چہل قدمی کرؤں یا رات کے اندھیرے میں،کوئی مجھے خوفزدہ نہیں کرتا ۔۔پھر کیا ہوا ؟ مگر میں ہنس کر تو تصویر نہیں کھنچوا سکتی ۔میرے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں، چلو ، عدالت کا دروازہ کھٹکھاؤ ۔۔
مسزاسحاق کو ایک واقعہ سنانا چاہتی ہوں ، آج سے پندرہ سال پہلے جب ہم اس طلسماتی ملک میں آئے تو ایک روز میری بیٹی جو کہ صر ف ایک سال کی تھی نے ، کار میں قہ کر دی ، ہم نے اتر کر جلدی سے اس کی قمیض اتروائی ، جیسا کہ پاکستانی کلچر ہے چھوٹے بچے بچیاں بغیر قمیض کے پھریں تو کوئی مضائقہ نہیں لگتا ، مگر یہاں ایک گوری ادھیڑ عمر کی خاتون بھاگی ہو ئی میرے پاس آئی اور بولی cover her chest it looks inappropriateا( بچی کا سینہ ڈھانپ دو ، یہ غیر مناسب لگتا ہے )۔۔میں نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر بچی کو جلدی سے صاف شرٹ قریبی سٹور سے خرید کر پہنا دی ۔۔یہ قصہ بعد میں کسی کو سنایا تو ان خاتون نے کہا لو یہ بھلا کیا بات ہوئی ، تم نے کہنا تھا آپ کی عورتیں ننگی پھرتی ہیں یہ تو چھوٹی سی بچی ہے ۔۔ تومسز اسحاق میں بھی ضد پر اڑ سکتی تھی کہ آزاد ملک میں یہ میری چوائس ہے مگر مجھے اس سے ذیادہ اس بات کا احساس ہوا کہ ارد گرد کے لوگ بے سکون نہ ہوں ، جو رواج یہاں ہے ،( قانون بھی نہیں) ، مجھے اس کا احترام کرنا ہے ۔
میری ذات ذیادہ اہم ہے یا اردگرد کے لوگ اور ان کا سکون ؟ میں ان کے ملک میں آئی ہوں راحتیں سمیٹنے آئی ہوں تو میرا کیا فرض بنتا ہے ؟ دوسروں کی عزت ہمیں امن کی طرف لے کر جاتی ہے ۔
اور اگر معاشروں میں ذاتی پسند کو گروہوں یا اداروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ زہرِ قاتل ہے ۔ تصور کیجئے اگر کوئی ٹاپ لیس گوری آپ سے یہ ضد کر بیٹھے کہ میں نے میلاد شریف کی محفل میں اسی حالت میں ہی شامل ہو نا ہے۔ گوری چھوڑئیے آپ کی بیٹی کل کو نقاب کے بالکل برعکس چلی جائے اور منی سکرٹ پہننے کی ضد کرے اور کہے اماں یہ میری پسند ہے ۔۔تو آپ تب کس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گی ؟ گھر ہوں یا معاشرے فرد کی اپنی پسند ہی نہیں اس کے کندھوں پرپورے گھر اور معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہے ،یہی انسان کی آزادی ہے ۔
اس معاملے میں ہارپر سرکار کا رویہ بچگانہ اور ردِ عمل شدید ہے جس سے بلا وجہ انسانی حقوق کی پامالی کا تاثر پیدا ہو رہا ہے ۔ کینڈین عدالت نے اس معاملے کو جیسے پار لگایا ہے اسے جاوید چوہدری صاحب reasonable accomadtion” “کہتے ہیں۔ایسی صورتحال کو ذاتی ہمدردی سے نبٹنا ایک الگ بات ہے، جیسے عدالت کے اس فیصلے سے مجھے پاکستانی قونصلیٹ ٹورنٹوکے ایک رحم دل آفیسرعمران علی کی یاد آگئی جو اپنی ذاتی ہمدرد فطرت کی وجہ سے کچھ خواتین کو سر عام تصویر کھنچوانے کے اعتراض کو قبول کرتے ہوئے ، علیحدہ بوتھ میں جا کر تصویر اتروانے کی اجازت فرما دیتے تھے ، بغیر یہ پوچھے کہ بی بی کیا آپ کینڈین ہیلتھ کارڈ یا ڈرائیونگ لائسنس کے لئے تصویر اترواتے وقت بھی علیحدہ بوتھ کا مطالبہ کر تی ہیں ؟ جج ہو یا قونصلیٹ کا افسر وہ ذاتی صلہ رحمی کی وجہ سے کچھ بھی فیصلہ کر سکتا ہے مگربڑے پیمانے پرعوام کی ذاتی پسند اور ناپسند پر ایسے ہی ردِ عمل اور فیصلے ہو تے رہے تو پھرہر شہری کسی نہ کسی ذاتی ضد پر اڑ کر بیٹھ سکتا ہے اور عنقریب کینڈا کے فرش پر ہر طرف گھٹلیاں ہی گھٹلیاں ہوں گی ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of