!!میمونہ کے لئے نہ سہی مریم نواز کے لئے ہی سہی 

Published on (February 18, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
!!میمونہ کے لئے نہ سہی مریم نواز کے لئے ہی سہی
مصیبت ساری نام میں ہے ۔ جب غریب پھل فروشوں کی مائیں ان کے نام راجہ رکھنے لگ جائیں گی تو وہ اپنے آپ کو سچ مچ کا راجہ سمجھنے لگ جائیں گے ۔ اسی لئے دینہ ( جہلم ) کے پھل فروش راجہ اشرف محمود کی موٹر سائکل کو جب ایک پولیس جیپ نے ٹکر ماری تو وہ راجہ اپنا حق سمجھتے ہوئے یا اپنے آپ کو پولیس کی طرح ہی ایک انسان سمجھتے ہوئے ان کی اس حرکت پر ناراضگی کا اظہار کر بیٹھا ۔ راجہ جیسے لوگوں کے تو اصل نام تک کھو جاتے ہیں ، کرمو گامو یا چھوٹا کہلائے جانے والے اپنے وجود کی بقا کے لئے آواز اٹھانے کی بات کریں تو ان کے لئے یہ قیامت کا دن ہی ہونا چاہئے ۔ سو اس راجہ کو پولیس نے اس جرات پر اتنا مارا اتنا مارا کہ بس مار ہی دیا ۔ میڈیکل کے 25ممبرز نے تشد د سے موت کی تصدیق کی ۔ مگر نتیجہ کیا نکلا ؟
آج ۱۱ سال بعد بھی اس کی لاچار غریب بہن جو لوگوں کے کپڑے سی کر گذارا کر تی ہے آج بھی اس مقتول بھائی کی موت کا انصاف مانگنے لاہور ہائی کورٹ آتی ہے ۔ کیس کی پیروی نہ کر سکیں، اس لئے اس غریب خاندان کا کیس پنڈی سے لاہور منتقل کر دیا گیا ہے ۔ غریب جس کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو وہ بسوں کے کرایے کہا ں سے نکالے ۔؟تو تھک ہی جائے گا ؟ لیکن بہادر میمونہ ( راجہ کی بہن ) جھک نہیں رہی ۔ممتاز علوی کی تحریر کا شکریہ جس سے پتہ چلا کہ اس کیس کی پیروی کی سزا بوڑھا باپ بھی بھگت چکا ہے ۔ اسے 21ستمبر 2014کو گھر کے سامنے ہی گولی مار دی گئی تھی ۔ گھر بھی ملبے کا ڈھیر بنا یا جا چکا ہے ۔ تین بہنوں اور ایک پاگل ماں پر مشتمل یہ خاندان اب ٹینٹ میں زندگی گذار رہا ہے ۔ چھوٹی بہن چار پانچ بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر کیا کما لیتی ہو گی ؟ ایک بہن کو اس جرم میں طلاق دے دی گئی کہ وہ اپنے والد کو اس کیس کی پیروی کرنے سے روک نہیں سکی ۔ اب وہ بھی طلاق کا ٹیکہ ماتھے پر لگائے دماغی توازن کھو چکی ہے اور اسی ٹینٹ کے نیچے ایک ہی آس کے ساتھ زندہ ہے کہ بھائی کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانا ہے ۔ باپ گولی لگنے کے بعد معجزاتی طور پر زندہ ہے مگر ایک لاش کی طرح بستر پر معذوری کی حالت میں شائد اس لئے بچ گیا ہے کہ بیٹیاں بالکل ہی تنہا نہ رہ جائیں ۔ جو دھرتی انہیں انصاف تو نہیں دے رہی مگر باپ کا سایہ اٹھنے کے بعد ان عورتوں کو نگل ضرور لے گی ۔ ابھی بھی ان بہنوں کو پولیس بلیک ملینگ کر رہی ہے ان پر تشدد ہوتا ہے مگر ۱۱ سال سے یہ جھک نہیں رہی ہیں۔ آج بھی یہ بھائی کی اور اب باپ کی خون میں ڈوبی تصویریں اٹھائے گھوم رہی ہیں ۔
ان کی آوازوں پر کان دھرنے ہونگے اگر انصاف نہ ملے اور ظلم بڑھتا جائے تو اپنا شکار خود بھی کر لیتا ہے ۔ اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کیا جائے صر ف یہ سوچ کر کہ کل کو جب یہ میرے پاس نہیں ہونگے اور کسی دوسرے کے پاس ہونگے تو وہ انہیں ایسے ہی برے طریقے سے استعمال کرے گا اور جو شکنجہ میں دوسروں کے گلے میں کستا ہوں وہ خاموش آہوں اور سسکیوں کی وجہ سے وقت میرے گرد کس دے گا ۔ اس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ نیویارک کی پاکستان کے 1999والے مارشل لاء کی سیلیا ڈگر کی رپورٹ نکال کر دیکھیں جس میں 500گھروں کی غریب اور میلی بستی کو فوجی بغاوت سے چند گھنٹے پہلے صرف اس لئے ملیا میٹ کر دیا گیا تھا کہ جب شاہزادوں کی سواریاں گزرتی تھیں تو وہ غربت کا نظارہ ان کی آنکھوں کے لئے زحمت تھا ۔ اس سے پندرہ منٹ کی دوری پر بنی گالہ جس کا سیوریج راول جھیل میں گرتا ہے اور پورے پنڈی اسلام آباد کو کثافت دیتا ہے مگر کیا فرق پڑتا ہے ان کے محلات آج بھی کھڑے ہیں ۔
وہ جھونپڑیاں گرا دی گئی تھیں ۔ ایک بوڑھی عورت نے کیپٹل ڈیلوپمنٹ اتھارٹی کے ایک اافسر کی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا میں یہاں ایک صدی سے آباد ہوں میرا گھر نہ توڑو ، اس افسر نے غصے سے اسے دھتکارے ہوئے اس کے گھر کے ملبے کی طرٖف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا جاؤ اپنا کوڑا یہاں سے اٹھا کر لے جاؤ ۔ان بچاروں کو تو عدالت جانے کا بھی نہیں پتہ ہوگا ۔ مگر جب نوازئیدہ بچے جب کھلے آسمان کے نیچے رو رہے ہونگے تو اس وقت کے قوم کے سربراہ میاں صاحب جیل کی سلاخوں تک پہنچ چکے تھے ۔ اور جب انہیں جہاز میں ہتھکڑی لگا کر بٹھایا گیا تو سنا ہے کہ ان کی آنکھوں کے آگے فیصل آباد کا وہ بزنس مین آگیا تھا جسے ذاتی عناد پر بغیر کسی قصور کے ہتھکڑیاں لگوا کر گلیوں میں سرِ عام رسوا کیا گیا تھا ۔اس نے بھی انصاف نہ ملنے کی امید کی وجہ سے کسی عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا ہو گا ۔ اور اگر سپریم کورٹ پر خود ہی حملہ نہ کروایا ہوتا تو نوا ز شریف کو بھی فوج لپیٹ نہ سکتی تھی ۔ آپ کے پاس جب طاقت تھی آپ نے عدالت کو مضبوط نہیں کیا ۔ بلکہ کمزور کرنے کی کوشش کی ۔ آپ کے پاس جب اختیارات تھے آپ نے غریب کو کچلا تو جب آپ کے پاس سے طاقت کسی اور نے اسی طریقے سے چھین لی تو آپ کے پاس دہائی دینے کو بھی کچھ نہیں ۔
اسی طرح جب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل کہا جاتا ہے تو ہم بھول جاتے ہیں ان سب اموات کو ، استحصال کو جو بھٹو کے ہاتھوں ہوئے ۔ بھٹو صاحب کی بنائی ہوئی ذاتی فوجFSF جس کو بدنامِ زمانہ پولیس آفیسر ز حق نواز ٹوانہ ، مسعود محمود سعید احمد کسی قانون کی پرواہ کئے بغیر چلاتے تھے ۔ مخالفین کو مروانا ، اٹھوانا معمول تھا ۔ گلے کا پھندہ تو احمد قصور ی بنا تھا مگر JI کے ڈاکٹر نذیر احمد جنہیں ان کے کلینک میں مار دیا گیا تھا ،سید اسد گیلانی ،خواجہ رفیق جنہیں پنجاب اسمبلی کے پیچھے جلوس نکالتے مروا دیا گیا تھا ،عبد الصمد اچکزئی جنہیں گھر کے اندر گرنیڈ پھینک کر مار دیا گیا تھا بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مولوی شمس الدین یہ سب قتل آمریت کی عفریت ،ظلم اور نا انصافی کے اس زمانے کے ابواب ہیں ۔ دلائی کیمپ جسے معراج خالد نے اپنی کتاب معراج نامہ میں گوانتا نامو بے کہا ہے اور اس دور میں شاہی قلعہ مخالفین کے لئے تشدد کا استعارہ بن گیا تھا ۔
stanely wolpertکو جے اے رحیم نے بتایا کس طرح اسے ٹانگوں سے پکڑ کر گلی میں گھسیٹا اور FSFکی گاڑی میں پھینکا گیا تھا۔یہ پیپلز پارٹی بنانے والے بھٹو کے سنئیر ساتھی کا حال کیا گیا تھاجس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے کسی بات پر ناراض ہو کر بھٹو کو لاڑکانہ کا راجا کہہ دیا تھا ۔
ضیاالحق نے ظلم کی روایت کو زندہ نہ رکھنے دیا ہوتا تو اس کے ٹکڑے بھی بے نام و نشان ہواؤں میں دھول مٹی کی طرح نہ بکھرتے ۔ بکھرتے تو آج قاتل گرفت میں ہوتے ۔ صدر مشرف نے عدالت کو نہ لپیٹا ہوتا تو آج انصاف کی امید رکھتے ۔ پاکستان میں” عدالتی قتل “نہیں ہوتا بلکہ” عدالتیں” قتل ہوتی ہیں ۔ انصاف کا خون کیا جاتا ہے اور پھر اس” لاش “سے زندگی کی امید کی جاتی ہے ۔
میمونہ جسٹس ناصر المک سے سو موٹو ایکشن کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ اور میں حکمرانو ں سے ،چیف جسٹس سے یہ مطالبہ کرتی ہوں کہ خدا کے واسطے عدالتی نظام کو اتنا بہتر کر دیں کہ آپ کی” طاقت’ جانے کے بعد آپ کو اسی عدم انصاف کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ظلم جو آپ کریں کل کو آپ کے گلے کا پھندا نہ بن جائے ۔
میمونہ کے اجڑے خاندان کے لئے نہیں اپنے خاندان کو میمونہ کا خاندان بننے سے بچانے کے لئے انصاف کو آج بچا لیں ۔ کل مریم نواز میمونہ کی طرح کوئی لاوارث لاش کندھوں پر اٹھا کر انصاف کی بھیک نہ مانگ رہی ہو ۔ یہ کوئی انہونی نہیں ہے۔تقدیر نے دھکا دے کر پھر دوبارہ آپ کو مسند پر بٹھایا ہے , یہ سوچ کر کہ بھٹو کو شائد سمجھنے کا موقع نہیں ملا تھا ۔ آپ کو یہ موقع مل چکا ہے ۔ انصاف کو غریب کی پہنچ میں رہنے دیں ۔ غریبوں کے لئے نہ سہی اپنے آنے والے “بے حال کل” کو بچانے کے لئے ہی سہی.

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of