مہاجر مہاجر مہاجر 

Published on (September 22, 2014)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
مہاجر مہاجر مہاجر
بار بار کہنے سے کوئی عمر بھر کے لئے مہاجر نہیں ہو جاتا ۔ یہ ایک ذہنی کیفیت ہے جسے اپنے مفادات کے لئے معصوم ذہنوں پر طاری کر دیا گیا ہے ۔ سوال اٹھتا ہے:
کیا پنجاب میں مہاجر اس لئے نظر نہیں آتے کیونکہ وہاں بھٹو کا کوٹہ سسٹم نہیں؟ تو پنجابی مہاجروں نے یہ شور کیوں نہیں مچا یا کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب بڑے صوبہ تھا، اور پاکستان بننے میں پنجابیوں نے جانوں اور عزتوں کے نذرانے سب سے ذیادہ دئے تھے تو پنجابی کو قومی زبان کیوں نہیں بنا یا گیا ؟کیا آج تک پنجابیوں نے اپنی قربانیوں کا معاوضہ مانگا ؟ کیاانہوں نے کہا اردو کو قومی زبان بنا کر پنجاب کے ساتھ نا انصافی کی گئی ؟ ہم نے تو پنجاب میں رہتے ہو ئے کھبی لفظ مہاجر ہی نہیں سنا تھا کیونکہ پنجاب میں آکر مہاجرین ،مقامی لوگوں سے ذیادہ مقامی ہو گئے ہیں۔۔کیا ان کی زبان اور ان کی تہذیب ایک تھی ؟ مہاجر تو مہاجر ہی ہو تا ہے ، زبان ایک ہو ، پھر بھی اپناآبائی لہجہ ، اور ثقافت کچھ نہ کچھ م ساتھ اٹھا لاتا ہے ۔مگر ۔۔۔
روم میں رہنا ہے تو وہی کرؤ جو رومن کر تے ہیں ، پنجابی مہاجروں نے رونے نہیں روئے بس اپنے آپ کو وہاں ضم کر لیا ، اسی لئے آج پنجاب میں لفظ مہاجر غائب ہے ۔ کیا ہم آج کینڈین شہری اس لئے نہیں ہیں کہ ہم نے یہاں کے نظام میں ، سوال اٹھائے بغیر خود کو جذب کر لیا ہے کیا ہم کینڈا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے لئے یہ یہ کیا جائے یا یہاں کے مقامی لوگوں کے لئے یہ یہ نہ کیا جائے ورنہ ہم ناراض ہو جائیں گے؟۔۔ہم حکومت سے مطالبے نہیں کر تے بلکہ اس کا مفید حصہ بننے کی کوشش کر تے ہیں ۔یہاں کی زبان اور ثقافت سیکھنے کے لئے سر توڑ کوشیشیں کرتے رہتے ہی کیونکہ اچھی طرح پتہ ہے کہ یہ نہ کیا تو ،خود بخود نہ چاہتے ہو ئے بھی تھرڈ کلاس سیٹزن بن جائیں گے ،جن پر یہاں کا سسٹم ترس کھا کر ویلفئیر تو دیتا رہے گا ، مگر تنخواہ نہیں دے گا ۔
سوال یہ اٹھتا ہے کیا پاکستان نے مہاجروں کو اچھے طریقے سے خوش آمدید نہیں کیا ؟ ہاں اچھے سے کیا کیونکہ لیاقت علی خان جو کے خود مہاجر تھے اور چاہتے تھے کراچی میں مہاجر اچھے سے سیٹل ہوجائیں ،ان کی فلاح کے لئے سب کیا ۔۔ 1947میں پناہ گرین آئے ، اس کے بعد 1958تک ہندوستان سے مہاجرین اپنی رضا ومنشا سے آئے ۔ حتی کے تعداد اتنی ذیادہ تھی کہ جواہر لال نہرو بھی مسلمانوں کی اس ہجرت سے پریشان ہو گئے تھے ، کیونکہ پڑھے لکھے مہا جرین کو کرا چی میں اپنا مستقبل ذیادہ تابنا ک نظر آتا تھا اس لئے سوچ سمجھ کر انہوں نے کراچی آنے کا فیصلہ ،ہندوستان میں مشکلیں اور پاکستان میں مواقع نظر آرہے تھے ۔
دانشوروں کو ابو الکلا آزاد کی یہ پیشن گوئی تو یاد ہے جس میں انہوں نے ہندوستانیوں کو پاکستان جلد ہی ٹوٹنے کی بشارت دی تھی اور ہندوستانی مسلمانوں کو نصحیت کی تھی کہ پاکستان نہ جانا ، نہ ادھر کے رہو گے نہ اُدھر کے ۔۔۔ مگر انہی دانشوروں کو قائد اعظم کی بصیرت ماننے میں ہچکچاہٹ ہے ، جس کے مطابق ہندوستان میں مسلم اقلیت میں ہونگے اور ہندو انہیں اپنے اطوار کے مطابق زندگی گذارنے پر اس طرح مجبور کریں گے کہ وہ اُف بھی نہیں کر سکیں گے اور کیا ایسا نہیں ہو رہا ؟مسلمان رام دین بن کے رہ گئے ہیں یا شاہ رخ خان کی طرح گھروں میں مورتیاں رکھتے ہیں اور خود کو شاہ سے ذیادہ شاہ کا وفادار ثابت کر نے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہتے ہیں ۔ ساری عمر کے مہمان اور کیسے ہو تے ہیں ؟
کوٹہ سسٹم ، مہاجرین کو نیچے گرانے کے لئے نہیں بلکہ مفلوک الحال سند ھیوں کو ان کے برا بر لانے کے لئے لایا گیا تھا ۔ تو کیا پڑھے لکھے مہاجر وں کی سوچ بھی سرداروں، نوابوں اور وڈیروں جیسی ہے ؟ یعنی گرے ہوئے کوپستی سے اٹھانے کی کوشش نہ کر ؤ ؟ اور سب سے بنیادی بات بھٹو ، اسے صرف دس سال کے لئے لائے تھے تاکہ اس دوران دیہاتی اور شہری تعلیم نظام یکساں کر دیا جائے ، پھر سب ایک جیسے کھلاڑی ، میدان میں ایک دوسرے کے مقابل اتریں۔ ورنہ تو دیسی گھی کھانے والے اور تیل کھانے والے کو لڑوا کر آپ کس حیران کن نتیجے کی تو قع رکھیں گے ؟ آسائشوں والے غریبوں کو کچلتے رہیں گے ۔میرٹ پر لڑوانے کے لئے تیاری کے مواقع بھی تو ایک جیسے فراہم کئے جائیں ۔۔
اور کیا برا کیا پاکستان نے مہاجروں کے ساتھ ، سب سے بڑے شہر میں آباد ہو ئے ،جہاں پو رے پاکستان کی صنعتیں ، کاروبار کے مواقع تھے ۔ پورٹ سٹی ۔۔دنیا کی بڑی یو نیورسٹی ۔۔کیا پاکستان نے آپ پر کچھ بند کیا ؟ سارے ملک کی انوسٹمنٹ تو کرا چی میں جائز مگر اس سے کمائی جانے ولای رقم پر کہا جائے کہ یہ صرف ہمارا حق ؟
بات تو سوشلزم کی کرنا مگر جب اداروں کو قومی تحویل میں دے دیا گیا تو اسے بھی مہاجروں کے خلاف سازش کہنا اور اس کے بعد پاکستان کو گالی دینا ۔۔یہ غداری نہیں تو کیا وفاداری ہو تی ہے ؟
آج ذاتی مثال نہ دوں گی تو لوگ کہیں گے پنجابی ہے ، اس نے کیا کھویا ہو گا ؟۔
میرے ابو کا قائد ماڈل کے نام سے عبدا للہ پور فیصل آباد میں سکول تھا ، امی ابو کی ، یا کسی بھولے بھٹکے شاگرد کی زبانی ہی اس کی شان و شوکت اور کامیابی کے بارے میں سنا ،اس سکول کی وجہ سے ابو پورے فیصل آباد میں جانے جاتے تھے اور انکی عزت تھی ، کیونکہ ہر دم معیاری تعلیم دینے اور سکول میں مثالی نظم و ضبط قائم رکھنے کے لئے کوشاں رہتے تھے اور ایک دن یہ سکول قومی ملکیت میں چلا گیا ۔۔میرے ابو کو اپنے ہی ہاتھوں سے آباد کئے گئے چمن میں ہیڈ ماسٹر بننے کی آفر کی گئی ، مگر یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ساری عمر اپنا سکول چلایا ، نوکری نہیں ہو سکے گی ۔۔۔ اس کے بعد پرائیویٹ سکول بناتے رہے مگر اس طرح کی کامیابی اور عزت دوبارہ نہ پا سکے ۔۔ ساری عمر ابو نہ پھر کھبی اس پائے کا سکول کھڑا کر پائے اور نہ خود اس غم سے نکل سکے مگر ان کے منہ سے میں نے کھبی پاکستان کے لئے تو دور کی بات کھبی بھٹو کے لئے بھی برے الفاظ نہیں سنے ۔بھٹوکو آج بھی ایک لیڈر کی حیثیت سے پسند کر تے ہیں کہتے ہیں اس نے پاکستان کو آئین دیا اور ایٹمی طاقت بنا یا، ہمارے جنگی قیدی چھڑوا کے لایا ۔ بھٹو کے پاکستان کے لئے کئے گئے بڑے کارناموں کے سامنے اپنے ذاتی نقصان اور دکھ کو کھبی یاد بھی نہیں کرتے حالانکہ اس سے ان کے بچوں کی روزی ہی نہیں بلکہ ان کی عزت بھی جڑی ہو ئی تھی ۔
بعد میں جب کوئی بھی کاروبار سیٹ نہیں ہو سکا تو پھر بھی کسی پر الزام دینے کی بجائے امی ، ابو خود کو حالات کا ذمہ دار سمجھتے اور نہ کسی دوست یا رشتے دار سے اپنے اوپر ہونے والی ذیادتی کا رونا رو کر مدد مانگتے ۔۔ خودادری کے ساتھ سر اٹھا کر جیتے دیکھا ،حالات نے توڑا بھی تو امی کو ہمہ وقت اور ابو کو کھبی کھبار مگر خدا کے ہی آگے جھکتے دیکھا۔
وہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
امی ابو نے باتوں سے نہیں ، اپنے عمل سے یہی سکھایاکہ گھر کی پر یشانی باہر بتانے سے نہ گھر کی عزت باقی بچتی ہے نہ خود انسان کی اوراگر وقتی رحم کھا کر لوگ مدد بھی کر دیں تو اس کے بدلے عزتِ نفس کو گروی رکھنا پڑتا ہے اسی لئے آج بھی حیرت ہو تی ہے جب ان لوگوں کے منہ سے جنہوں نے پاکستان کے اعلی اداروں سے تعلیم حاصل کی ، انگریزی زبان میں فر فر بولنا بھی وہیں سے سیکھا اور پھر اسی سیکھے کو انٹرنشینل میڈیا میں پاکستان کو گالی دینے کے لئے استعمال کر تے ہیں ۔
سوچتی ہوں کیا ان کے ماں باپ اپنے دکھوں کا رونا پو ری دنیا کے سامنے روتے رہتے تھے ؟ کیا انہیں کسی نے نہیں بتایا کہ جب پناہ دینے والے ، پالنے پوسنے والے ، چھت دینے والے گھر کو گالیاں دو تو اس گھر کی عزت تو خراب ہو تی ہی ہے آپ کو بھی دنیا عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی ۔۔
شائد محرومیوں کے رونے رو کر وقتی ترس اور فائدے سمیٹنا ،ایک بیماری ہے جو انفرادی سطح سے لے کر گروپوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ اس بیماری کا علاج کروائیں ، مہاجر مہا جر کا الاپ اب بند ہو جانا چاہیئے۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of