ملت کے ستارے اداروں کو مہتاب بنا سکتے ہیں ؟

Published on (June 03, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
ملت کے ستارے اداروں کو مہتاب بنا سکتے ہیں ؟
: معز ز خواتین و حضرات آج کی تقریب کوئی الوادعی تقریب نہیں ہے یہ ایک شام ہے اس انسان کے لئے جواہلِ ٹورنٹو کے دلوں میں بستا ہے اور دلوں میں بسنے والوں کو الوادع نہیں کہا جاتا ۔۔عمران علی ٹورنٹو میں ساڑھے پانچ سال تک ڈپٹی قونصل جنرل کے فرائض نبھا چکے ہیں ۔۔ اور 2012 -2013تک قونصل جنرل بھی رہے ہیں۔۔ پاکستان میں جہاں سوشل سروسز میں سول سروسز والی شان و شوکت اور دبدبہ آگیا ہے وہاں پر جب ہم ایک سول سرونٹ کو سوشل سروس بڑی عاجزی سے کرتے دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ معجزے اکیسویں صدی میں بھی ہوتے ہیں ۔۔۔۔سٹیج پر آنے کی دعوت دوں گی سول سروس کے معجزے عمران علی کو ۔۔۔۔
لوگوں سے کچھا کچھ بھرا ہوا ہال ایک دم یوں کھڑا ہو گیا جیسے میرے یہ الفاظ کوئی ریموٹ کنٹرول ہوں اور ان کا مطلب ہو کہ جو انسان اب سٹیج پر آرہا ہے اسکے لئے کھڑے ہو کردیر تلک تا لیاں بجانی ہیں ۔اسی لئے تو چار پانچ سو لوگ کھڑے ہو کر دو تین منٹ کے لئے تالیاں بجاتے رہے ۔۔ میری آنکھیں اہلِ ٹورنٹو ( پاکستانی کمیونٹی ) کو کسی زندہ انسان کو اتنی عزت دیتے پہلی دفعہ ہی دیکھ رہی تھیں اس لئے بھیگ گئیں ۔اور یہ مائک سے نکلے الفاظ کا ریموٹ کنڑول نہیں تھا۔ ہم فنکشن پلان کرتے ہوئے سب چیزیں آرگنائز کر سکتے تھے لیکن لوگ یوں بے ساختہ کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے رہیں گے یہ کسی کے بس میں نہیں تھا ، کسی بھی جلسے میں ہم لوگوں کی تعداد محنت کر کے بڑھا سکتے ہیں مگر ان کے جذبات نہیں ۔۔
سوال اٹھتا ہے کہ پاکستانی قونصلیٹ ٹورنٹو کے ایک رخصت ہونے والے ڈپٹی قونصل سے لوگوں کو کیا محبت ہو سکتی ہے ؟ کہ تین سو والے ہال میں پانچ سو لوگ بھر گئے ۔اس کا جواب اس وقت سمجھ میں آیا جب اپنے سوال لوگوں کے آگے رکھے ۔ اور ان کے جواب نشر کرنے اس لئے ضروری ہیں کہ ہمارے نظام میں سچ ، ایمانداری اور فرض شناسی کھو گئے ہیں ۔ جب اچھا کام کرنے والوں کو مل کر سب خراجِ تحسین پیش کریں گے تو شائد یہی ستائش دیکھ کر نظام سے مایوس لوگ اس باکرداری کی واپسی کا سفر اختیار کرنے کا سوچ لیں جو نسلوں پہلے طر کر کے بے کرداری کی منزل تک پہنچ چکے ہیں ۔ اس کے لئے ایک با قاعدہ جدو جہد کی ضرورت ہے اور اس شام کا اہتمام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا ۔ ورنہ روایتی اور ذاتی مفادات میں بندھی الوداعی تقریبات ، خوش آمدیدی یا خوش آمادی تقریبات ، دیکھ کر مجھ جیسا بندہ صرف ابکائی محسوس کر سکتا ہے ۔ اپنی ذات کو پیچھے رکھ کر بہت سے لوگ اس تقریب کو منعقد کرنے میں میرے ساتھ تھے اور ان سب کا بھی ایک ہی مقصد تھا کہ اچھے آفیسر ز جنہیں ہمارا پاکستانی نظام عبرت کی نشانی بنا دیتا ہے ٹو رنٹو کے لوگ اسے ایک ایسی قابلِ تحسین مثال بنا کر رخصت کریں کہ نئے آنے والے اس کی تقلید کرنے میں فخر محسوس کریں ۔
ہم نے اقربا ء پروری اور مستحقین کی حق تلفی با رہا دیکھی ہے ۔ تو سوچئے صدیق سالک کے پریشر ککر کے ایماندار ہیرو کی طرح بُو دیتے نظام سے تنگ آکر پاگل ہونے اور جنگل کی طرف نکل جانے والا افسر کون ہے ؟
“میں چائے کے تیرتے ہوئے پتے کو دیکھنے لگا ۔یہ دوسرے پتوں کی طرح ڈوب کیوں نہیں گیا ؟کیا یہ اپنا مقدر دوسرے پتوں سے مختلف رکھنا چاہتا تھا یا گرم پانی کی سطح پر تڑپ تڑپ کر احتجاج کرنا چاہتا تھا ؟میں نے جاپانی سا خت کی خوبصورت پیالی میں سنہری چمچ ہلایا تاکہ یہ تنہا پتہ بھی اپنے ہم نسلوں کے ساتھ زیرِ آب چلا جائے لیکن وہ ایسا سخت جان تھا جونہی میں چمچ ہلانا بند کرتا وہ پھر ابھر کر سطح پر تیرنے لگتا ۔خا صا ڈھیٹ پتہ تھا یا شائد دلیر بھی” ۔۔۔۔ (پریشر ککر ۔۔صدیق سالک ) ۔
نظام سے ٹکرانے کے کے لئے دلیر بھی ہونا پڑتا ہے اور ڈھیٹ بھی ۔ عمران علی جیسے آفیسر جو شائد ڈھیٹ تو نہیں ہوتے مگر دلیر ہوتے ہیں ۔ جو ڈھیٹ ہو وہ تو بچ جائے ، جو فقط دلیر ہو اور حساس ہو اس کو بچانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ جن لوگوں کے آپ کام آتے ہیں وہ بے نام بے آواز لوگ ہوتے ہیں ۔ جن سے آپ ٹکراتے ہیں وہ نام والے اور آواز والے طاقتور لوگ ہوتے ہیں ۔ ایماندار افسر کا پاش پاش ہونا بہت آسان ہوجاتا ہے ۔ اس تقریب میں عام لوگوں کو آواز عطا کی گئی ، انہوں نے آکر بتایا کہ کیسے ایک پاسپورٹ ، ایک ویزہ ، ایک چھوٹی سی مدد نے کیسے ان کی زندگیاں بدل دیں ؟ کسی کو deport ہونے سے بچایا ، کسی کو بروقت ویزہ لگا کر مری ماں یا باپ کا منہ دیکھنے کا موقع دیا ۔پاکستانی سٹوڈنٹس کے لئے آسانیاں پیدا کیں ، بچوں والوں کو قونصلیٹ آفس میں سہولت دی ، بوڑھوں کے لئے آفس کام میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ ڈیڈ باڈیز کی پاکستان منتقلی میں مدد ، کینڈین بارڈر ایجنسی کے ساتھ اپنے لوگوں کی سہولت کے لئے کام۔ بے اولاد فیمیلز کو اور بن ماں باپ کے بچوں کو پاکستانی ریڈ ٹیپ سے گذرنے میں آسانی پیدا کر کے ملوانا اور یہی افسر جب واشنگٹن ڈی سی میں ہوتے ہیں تو وہاں نو گیارہ کے بعد قیدی پاکستانیوں کو وطن واپس جلدی لے جانے کے لئے ڈپلومیسی وار لڑتے ہیں ۔ ہتھکڑی لگے پاکستانیوں کے ساتھ ۹ فلائٹس جن میں۲۰۰۰ قیدی پاکستان خود جاتے ہیں ۔
میں اس پروگرام کو منعقد کرنے کے بعد خود حیران رہ گئی اور میرا سوال کیا ایک انسان اپنے ادارے کو بدل سکتا ہے؟ ،وہ تو بغیر جواب کے رہ گیا مگر ایک انسان اپنے اسی ادارے ، اسی نظام میں رہ کر کیا کیا کر سکتا ہے ، اس کے جواب نے میری آنکھیں حیرت سے کھول دیں ۔” وہ پتہ اپنے ہم نسلوں کے ساتھ ڈوبنا نہیں چاہتا ، وہ تیرتا رہتا ہے” ،۔ سنہری چمچے سے چائے ہلاتے جاؤ ،وہ وقتی طور پر ڈوبتا ہے پھر ابھر آتا ہے ۔ مگر اس میں سے بھی المیہ یہ نظر آتا ہے کہ ایک فردِ واحد اپنے طور پر جتنے بھی ہاتھ پاؤں مار لے وہ ملت کا ستارہ اپنی چمک ایک خاص حد تک ہی پہنچا سکتا ہے ۔ ملت کو چمکانے کا کام سیاسی لیڈروں کا ہوتا ہے ۔ اداروں کو مضبوط کئے بغیر آپ ایک ستارے کی چمک سے ملک کی تقدیر روشن نہیں کر سکتے ۔ یہ تو ایک سول سرونٹ کی کہانی ہے دیکھا جائے تو پاکستان کی زمین نے ہر شعبے کے آسمان پر بڑے بڑے نامور ستارے پیدا کئے ہیں ۔مگر وہ صرف اپنی حد تک چمک کر بجھ گئے ۔ اور ان سب کا انجام اپنی حد تک تو ٹھیک رہا مگر مجموعی طور پر وہ کچھ نہ بدل سکے :
میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
مرجھا کے آگرا ہوں مگر سرد گھاس میں
یہ جواب ہے اس شعر کا جو ہم نے بینر پر ایک انسان کے لئے لکھا تھا :
جس میں بھی ڈھل گئی اسے مہتاب کر گئی
میرے لہو میں ایسی بھی اک روشنی تو ہے
پاکستانی نظام میں ایک انسان جتنا بھی دلیر ہو ، جتنا بھی روشن ہو اس کی legacy اس کے جاتے ہی ختم ہو جاتی ہے ،کیوں ؟
سکواش کا سپاہی ہاشم خان کیا ہوا ؟مجھے جہانگیر خان اور جان شیر یاد آتے ہیں ، ان کے جانے کے بعد سکواش کا کیا ہوا ؟ ہماری فلم انڈسٹری ایک زمانے میں عروج پر تھی ،، نور جہاں اور اس وقت کے پتوں نے خود تو ہم نسلوں سے اوپر تیر کر دیکھ لیا مگر یہ روشنی کسی اور کو مہتاب کیوں نہ کر سکی ؟ سائنس کے میدان میں بات ڈاکٹر عبداالسلام پر ہی کیوں رک گئی ؟کشتی گاما پہلوان اور بھولو ، جھارا پہلوان کے بعد کہاں گئی ؟ ابرار حسین شاہ کا باکسنگ رنگ کہاں گیا ؟ حسن سردار ، اختر رسول ، کلیم اللہ ، سمیع اللہ کہ روشنی کیوں ختم ہوگئی ؟
جس کو ہم اداروں کا زوال کہتے ہیں ان کے چمکتے ستارے کیوں مستقل روشنی پھیلانے میں ناکام رہے ؟ ایک فرد فرد ہی رہا ادارہ نہ بن سکا ؟ سوال اٹھتا ہے ایک انسان اپنی ذاتی زندگی کے آسائش قربان کر کے کیا صرف اپنی ذاتی شہرت تک ہی محدود رہتا ہے ؟ کیا ایسے انسان اداروں کا نصیب بدلنا نہیں چاہتے یا بدل ہی نہیں سکتے ؟ کیا لوگوں کی محبت اور ذاتی شہرت اسے خود غرض بنا دیتی ہے اور یہ خود غرضی اسے مطمئن کر دیتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ فرض ادا ہو گیا ۔۔۔۔۔کیا فر ض ادا ہو گیا ؟

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of