مجسمہ ساز کی تلاش 

Published on (February 27, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
مجسمہ ساز کی تلاش
لوگ زندگی میں اچھی زندگی کے لئے گاؤں سے شہروں اور شہروں سے بڑے ملکوں میں ہجرت کرتے رہتے ہیں کچھ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں اور کچھ کو بڑے شہریا ملک نگل لیتے ہیں ۔ ینگو ورما کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔
ینگو ورما کون تھے ؟ مختصر تعارف تو یہ ہے کہ ایشیا کے ایک عظیم مجسمہ سا ز اور پینٹر ۔ دلی کالج آف فائن آرٹس سے گریجویشن کی ۔ پھر جرمنی چلے گئے وہاں پڑھا ، پڑھایا اور مجسمہ سازی اور پینٹنگ میں ان تھک کام کیا ۔ پھر مستقل کینڈا آگئے ۔ اور ٹورنٹو شہر جسے land of opportunitiesکہا جاتا ہے ینگو ورما جیسے established artist کو یہاں ایک بھی موقع نہ مل سکا ۔ اور دنیا بھرسے کامیابیاں اکھٹی کرنے والا آرٹسٹ کینڈا میں بغیر پہچان کے 30دسمبر 2014 کوخاموشی سے اس دنیا سے چلا گیا ۔
دلی میں تھے تو اس وقت کے صدر ذاکر حسین نے جامعہ ملیہ پر مرزا غالب کا مجسمہ بنانے کا پر وجیکٹ انہیں دیا ۔ نیپال اور جرمنی میں آپ کے ہاتھوں کے بنائے مجسمے آپ کے فن کی عظمت کا پتہ دیتے ہیں ۔یورپ میں مجسمہ سازی کا بے تحاشا کام کیا ۔ ایک دن جب وہ اپنی مجسموں کی تصویروں کی البم ہمیں دکھا رہے تھے تو میں شروع میں سمجھی شائد یہ فوٹو گرافی ہے غور سے دیکھا تو حیرت ہوئی کہ وہ مجسموں کی تصویریں تھیں ۔ اتنے بولتے زندہ آنکھوں والے مجسمے ؟یہ خدائی نہیں تھی تو کیا تھا ؟ میں نے مرعوب ہو کر کہا آپ تو تقریبا خدا ہی ہیں ۔ لمبی داڑھی کے نیچے سے پوپلے منہ کے ساتھ با آواز بلند قہقہ لگایا اور کہنے لگے ایک مسلمان لڑکی سے یہ سن کر میں تو ڈر ہی گیا ہوں ۔
ڈاکٹر طاہر قاضی اور نزہت صدیقی صاحبہ نے جب پہلی دفعہ میرا ان سے تعارف کروایا تو مجھے ایک لمحے کے لئے بھی ان کے اصلی آرٹسٹ ہونے پر شبہ نہیں ہوا کیونکہ ان کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ دنیا میں کوئی اور کام بھی کر سکتے تھے ۔ خالص اور کھرے فن کار بہت کم ہیں ،جیسے ہر کام میں دو نمبری آگئی ہے اس نازک کام کو بھی آلودہ کر دیا گیا ہے ۔ آپ دنیا کا کوئی بھی مشکل سے مشکل کام ایک متوسط ذہانت اور محنت کے ساتھ کر سکتے ہیں ۔ آپ سائینس دان بن سکتے ہیں آپ ڈاکٹر ، انجئیر وکیل، پروفیسر، صحافی حتی کہ کھلاڑی بھی بن سکتے ہیں لیکن آرٹ وہ میدان ہے جس میں خدا کا آرٹسٹ سے ڈائریکٹ رابطہ ہوتا ہے ۔ اور جب تک یہ رابطہ نہ ہو ایک آرٹسٹ اصلی آرٹسٹ نہیں ہوتا وہ چربہ ہوسکتا ہے ، پبلک ریلشنگ کا ماہر ہونے کی وجہ سے کامیاب بھی ہو سکتا ہے مگر آرٹسٹ نہیں ہوتا ۔اور جب ایک کھرا آرٹسٹ مقبول و معروف نہیں ہوتا ہے تو حقیقت میں یہ اس کی ناکامی نہیں ہے یہ اس معاشرے کی بدقسمتی ہوتی ہے جو اس ولی کوپہچان نہیں پاتے ۔ یہ گمنام ولی تاریخ کے دھاروں سے نکل کر وقت کی لامحدودیت میں کھو جاتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ کب دوبارہ وقت انہیں ان کو قبر سے نکال کر آپ کے سامنے زندہ کھڑا کر دے ۔ ینگو ورما ایک ولی تھی ۔
میں نے ینگو صاحب کا جب انٹرویو کیا تو اسی احساس نے مجھے گھیر لیا ۔وہ کہہ رہے تھے کینڈا نے مجھے ایک آرٹسٹ کی حیثیت سے قبول نہیں کیا ۔ ان کی بات ایک نفع نقصان کی بیلنس شیٹ بنانے والا نہیں سمجھ سکتا تھا ۔ اور مجھے جب سمجھ آئی تو یہ پہلا انٹرویو تھا جسے کرتے ہوئے میں گھبرا گئی ۔ مجھے لگا یہ جو عاجزی سے مجھے بار بار میڈم کہنے والا ایک ناتواں ، تھکا ہوا بوڑھا انسان اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر ہمارے آگے رکھ رہا ہے ۔ جس کے چھوٹے سے فیملی روم میں ایک صوفہ پڑا ہے ۔ جس پر ہمیں بٹھا کر خود سامنے زمین پر بیٹھ گیا ہے یہ دھرتی پر پیدا ہونے والے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی طرح ایک عام انسان نہیں ہے ۔ میری ہتھلیاں پسینے سے بھیگ گئیں ۔اسی لمحے ینگو ورما صاحب بولے میڈیم کیا میں آپ کا مجسمہ بنا سکتا ہوں ؟ میری گھبراہٹ ہنسی میں بدل گئی ۔ میں نے اس چھوٹے سے گھر میں جا بجا ایک فن کار کو بکھرے دیکھا ۔ اس گھر میں ینگو ورما کا ماضی ذیادہ رہتا تھا ۔ اس انٹرویو میں انہوں نے اپنی جد وجہد کی کہانی سنائی ۔ اب جو کینڈا کے چھوٹے سے ویلفئیر کے گھر پر آ کر ختم ہو چکی تھی ۔ ینگو ورما صاحب اپنے حصے کا کام بہت سال پہلے مکمل کر چکے تھے ۔ وہ اس کام کو سراہے جانے کے انتظار میں تھے ۔ اس کے بدلے پیسوں کی بات ہوتی تو وہ جھنجھلا جاتے۔
تو ینگو صاحب ہم اگر یہ احمد فراز کا مجسمہ لینا چاہیں تو کیا ہدیہ ہو گا ۔ عمران علی ڈپٹی قو نصلر نے پوچھا ۔
یہ بے مول ہے ناگواری سے کہا
اور میں اس دن اس نتیجے پر پہنچی ینگو صاحب کو اپنے آرٹ کے بدلے پیسے نہیں چاہیں ۔ تو انہیں کیا چاہیئے تھا ؟ انہیں ستائش، آرٹ گیلیریز میں اپنے آرٹ کی نمائش ، وہ عزت چاہیئے تھی جس کے وہ سچے حق دار تھے ۔ وہ ویلفئیر کے پیسوں پر گزر بسر کر سکتے تھے ۔مٹی کے کھلونے بنا کے خود کو بہلانے والا چھوٹے سے گاؤں کا ضدی بچہ قناعت کی دولت سے مالا مال تھا ۔دولت کمانی ہوتی تو آباؤ اجداد کے سونے کے بزنس سے بھاگ کر اپنے آپ کو مٹی میں نہ رولتے ۔ کہتے تھے ڈیزائن کی ہنر مندی تو جینز میں تھی لیکن سنار نہ بن سکے ۔عاجزی اور “میں”دونوں ایک جگہ اکھٹے ہوجائیں تو ساری زندگی انسان کشمکش کا شکار رہتا ہے ۔ اور یہ کشمکش ساری عمر کو کھا جاتی ہے ۔ ان کی کبھی نہ ختم ہونے والی تلاش نے انہیں انڈیا میں شہرت اور قبولیت پا کر بھی یورپ کا رخ کرنے پر مجبور کیا ۔ کہتے تھے انڈیا میں ہوتا تو کبھی ایسے زندہ ماڈلز کے بے لباس مجسمے نہ بنا سکتا تھا ۔
پھر ان کا سفر شکل سے نکل گیا ۔ انہوں نے ایک نامعلوم سفر کا راستہ اختیار کر لیا ۔ میں نے پوچھا دائرے کیوں چھوڑ دیئے ۔ لکیروں سے کیوں باہر نکل آئے کہنے لگے ساری عمر دائرے اور لکیروں کو کھوج کے دیکھ لیا بس اب وہ دیکھنا ہے جو نظر نہیں آتا ۔ کائنات کی جو توانائی ہے جسے سب مختلف نام دے کر پوجتے ہیں اسے کھوجنا ہے ۔ پہلے کوئی ایسا چہرہ دیکھتا تھا تو دل میں اپنے آپ سے پوچھتا تھا کیا میں اس چہرے کی عبادت کر سکتا ہوں ؟ جواب ہاں میں آتا تو پھر اس چہرے سے پوچھتا تھا کیا میں آپ کا مجسمہ بنا سکتا ہوں؟ کوئی مہربان ہاں کر دیتا تھا تو اس خدا کا شکر ادا کرتا تھا جس نے مجھے اپنی indirectعبادت کا موقع دیا ہے ۔ اور اب میں formکے چکرسے نکل گیا ہوں ۔ اب یہ بچوں کا کھیل لگتا ہے ۔ لیکن آپ نے مجھے پوچھا تھا کہ آپ میرا چہرہ بنانا چاہتے ہیں۔ ہاں تو میں نے یہ کب کہا کہ سچائی چہروں سے نکل گئی ہے ۔میں تو اپنی تلاش کے سفر کا بتا رہا وہ لا محدود ہوگئی ہے مگر آپ کا چہرہ میں آج بھی بنا سکتا ہوں ۔
ینگو صاحب شائد یہ نہیں جانتے تھے کہ کچھ چہرے اپنی ہی تلاش میں ساری عمر بھٹکتے رہتے ہیں انہیں کوئی بھی نہیں بنا سکتا ۔ ینگو صاحب خود ان میں سے ایک تھے ۔ سب دوستوں کے پیار کے باوجود وہ تنہا کیوں ہوگئے تھے ؟ اس کا جواب ان کی شخصیت میں ہی چھپا ہوا تھا ۔ عاجز تو تھے مگر انا پرست بھی تھے ۔ ایسے لوگوں کی اپنے دوست بھی مدد نہیں کر سکتے ۔ ڈاکٹر سہیل ،ڈاکٹر قاضی اور باقی بہت سے دوست سب کوشش کر تے تھے۔ عمران علی نے ان کی تنہائی کے خیال سے انہیں کیبل لگوا کر دینے کی کوشش کی تو کیبل والے کو انہیں سمجھاتے سمجھاتے دانتوں پسینہ آگیا ۔ میں نے ان کی تحفتا دی پینٹنگ کو فریم کروایا تو فریم کی عام کوالٹی دیکھ کر افسردہ سے ہوگئے ۔
25دسمبر کو ہم ان کا دروازہ کھٹکھتاتے رہے ۔ پہلی دفعہ میری نظر گھر کے باہر ایک تختی پر پڑی جس پر لکھا تھا “یہاں ایک بوڑھا آدمی رہتا ہے “۔باہر کھڑے ہو کر فون بھی کیا ۔مگر خلافِ معمول نہ فون اٹھایا گیا نہ دروازہ کھلا ۔ اور پھر کچھ دن بعد ہی پتہ چلا کہ وہ معلوم سے نامعلوم کے سفر کی طرف نکل گئے ہیں ۔ ہم سے پہلے شائد ایمبولنس آگئی تھی ۔ ان کی تلاش شائد اب مکمل ہوجائے مگر میں ایک ایسے دوست کی کمی ہمیشہ محسوس کروں گی جس نے اپنی تنہائی کے باوجود مجھے کبھی تنہا نہیں ہونے دیا تھا ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of