قرض

Published on (September 23, 2014)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
قرض
پاکستان میں مئی 2013کے الیکشن ختم ہوئے ۔ بہت سارے دوست اکھٹے بیٹھ کر نتائج دیکھ رہے تھے ۔ ووٹرز تحریک انصاف کے لئے نکلے ، جیت مسلم لیگ نون گئی وہ بھی بھاری اکثریت سے ۔ بات عقل میں نہیں آرہی تھی ۔ دل کی تسلی فقط اسی فقرے میں تھی کہ یہ ہے NROکی توسیع ،یہ تو ہونا ہی تھا اور اگر یہی ہونا تھا تو الیکشن کا ڈرامہ کیوں ، اس بات پر عمران علی اور میری دھواں دھار بحث شروع ہوگئی ۔ وہ مجھے قائل کر رہا تھا کہ پاکستان 2008کے بعد والا ایک تبدیل شدہ پاکستان ہے اور میں بضد کہ تبدیلی تو ابھی آنا تھی ۔ پہلے سے ہی اس پر چور پڑ گئے ۔ اور اس سسٹم کے تحت کبھی بھی پاکستان تبدیل نہیں ہوسکتا ۔ ہم باقاعدہ لڑ رہے تھے ۔مسلم لیگ نون کے جیتنے کا غم و غصہ اور سونے پر سہاگہ کہ عمران میری پسندیدہ دکان سے مٹھائی بھی بھاگ کے لے آیا تھا ۔ زخموں پر نمک چھڑکا گیا تو گویا قیامت ہی آگئی ۔آگ اگلتی آنکھیں ،کاٹ دار جملے ،غصہ تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ،ایسے میں اچانک میری نظر عظمی عمران پر پڑی ۔ اس کی آنکھوں میں خوف اور شدید پریشانی کے آثار ۔ اس کی ایسی شکل دیکھ کرانتہائی غصے میں بھی میری ہنسی نکل گئی ۔ تو اس کی آنکھیں ایک دم اطمینان سے بھر گئیں ا ور ڈانٹ بھرے انداز سے بولی “تم بھی نا ۔۔”۔
پچھلے سال کی چھوٹی عید ہی کی تو بات ہے ہم سٹیزن شپ جج رفیق روکڑیا صاحب کے collinwoodsفارم ہاؤس پر پکنک کے لئے اکھٹے ہوئے تھے ۔ سب بچے ہمارے ساتھ تھے سوائے میرے بڑے بیٹے کے ، ابھی ہم سب ادھر ہی تھے کہ گھر فائربر یگیڈ کا فون آیا کہ آپ کے گھر میں آگ لگ گئی ہے ،بیٹا ٹھیک ہے ۔ ہم میزبانوں کو مطلع کر کے باہر کو بھاگے دیکھا عمران اور عظمی بھی ہمارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں ۔ ہم سب گھر پہنچے تو کچن جل کر خاک ہو چکا تھا ، اندھیرے اور بو کی وجہ سے اندر داخل ہونا ممکن نہیں تھا ۔ سب تو ہو ہی جانا تھا ، مگر رات کے لئے عظمی نے کہا ہماری طرف چلو میرے اپنے رشتے دار سب پاکستان تھے ۔ اور اس رات عظمی نے ہمیں اپنے گھر رچمنڈ ہل میں مہمان کیا ۔ تکیئے کمبل سب کا بھاگ بھاگ کر انتظام کر رہی تھی ۔ میرے بچوں کے مزاج جانتے ہوئے اگلے دن ناشتے میں ان کی پسند کے مطابق انہیں ناشتہ کروایا ،ایک ایک چیز کا دھیان رکھا ۔ پندرہ دن جب تک کام ہوتا رہا ہماری ضرورتوں کے لئے فون کرتی رہی ۔ اللہ جنت میں اس کے درجات بلند کرے ۔
عظمی کو کینسر کے مرض کے ساتھ میں نے دوسال سے لڑتے دیکھا ۔ گو کہ وہ پانچ سال سے اس میں مبتلا تھی ۔ اور بس مجھے ایک گمان تھا کہ خدا
اسے اس کی پانچ سال کی بچی کے لئے سات ،آٹھ یا دس سال اور دے دے گا ۔ مگر ایسا نہ ہوا ۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے مٹھی میں سے ریت کی طرح بہت تیزی سے پھسل گئی ۔
ڈاکٹرز نے جب اسے بتایا کہ تمھارے پاس ایک سے دو مہینے ہیں تو شا ئد نفسیاتی طور ر پر اتنا بڑا دھچکا وہ برداشت نہ کر سکی ۔ اور جو کام مہینہ دو میں ہونا تھا ایک ہفتہ میں ہی ہوگیا ۔ پتہ نہیں یہ خوش قسمتی ہوتی ہے یا بد قسمتی میں نے آخری سانسیں لیتی عظمی کو دیکھا ۔ وہ عظمی جس نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا ۔ وہ عظمی جو مجھے اور عمران کو سیاست پر لڑتا دیکھ کر سہم جاتی تھی اور اس کی آنکھوں میں وحشت دیکھ کر ہم ہنس پڑتے ۔جو ضد سے احمد کو اپنے گھر اقرا ء کے ساتھ کھیلنے لے جاتی تھی اور وہ عظمی جو کہتی تھی میں نے اقرا کو منتوں مرادوں کے بعد پایا ہے ۔ اور اب اپنی منت دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ کر آرام سے آنکھیں بند کر کے یوں ہی چلی گئی۔
عظمی کی موت سے ایک دن پہلے جب ٹورنٹو جنرل ہسپتال میں اس کی بیٹی اقرا ء کو ملوانے جو پانچ دن سے ماں کے ہسپتال میں رہنے کی وجہ سے میرے پاس رہ رہی تھی لے کر گئی تو عظمی کی آنکھیں نقاہت سے بند تھیں اس سے بولا نہیں جارہا تھا ۔مگر اقرا کی آواز سن کر وہ پورا بولی ۔میری اقرو ۔۔کوئی اقرا کو رپاپ سکل د ے رہا تھا میں نے کہا نہ دیں اسے پہلے ہی زکام ہو رہا۔ اپنی اتنی بڑی درد بھول کر فورا بولی ۔۔اقرا کو زکام ہے ؟ میں نے کہا نہیں نہیں میں کہہ رہی ہو جائے گا ۔۔وہ دن میری زندگی کا شائد دوسرا بدترین دن تھا ، میری ایک دوست جا رہی تھی اور دوسرا دوست انتہائی کرب میں ایک ٹانگ پر کھڑا اپنی شریکِ حیات کا بستر نہیں چھوڑ رہا تھا اور ننھی اقرا میری ٹانگوں کے ساتھ چپکی اس منظر سے دور بھاگ جانا چا ہتی تھی ۔
ایک طرف صفیہ مریم بستر پر بے جان پڑی ہے ۔ اس کے چار بچے ادھر اد ھر خالی خالی نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔ میں خدا کی ستر مائیں ڈھونڈ رہی ہوں ۔ جو ان سب بچوں کو سمیٹ لیں گی ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ بچے ہیں جن کی تقدیر لکھتے وقت خدا نے نہ جانے کیا سوچا ہوگا ۔ مگر یقیناًان سب بچوں کا سہارا خدا ہی ہوگا ۔ اور یہ وہ مضبوط بچے ہونگے جو اس دنیا کو اپنی ماؤں کے خوبصورت رنگ دے کر جائیں گے ۔ ہر ذی روح نے جانا ہے ۔ موت برحق ہے ۔ یہ وہ بچے ہیں جو زندگی کے ابتدائی مرحلے میں ہی موت کے لمس کو محسوس کر چکے ہیں ۔ میں ان کو مستقبل میں مضبوط اور چٹان جیسا دیکھتی ہوں ۔ خدا کے کام میں مصلحت ڈھو نڈنے بیٹھیں تو شائد سمجھ میں نہ آئے۔ آخری لفظ صبر رہ جاتا ۔ ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے خود مختاری کی ۔ اختیار میں ہے تو یہ کہ ایسے بچوں کو ہمدردی نہیں پیار اور مان دینا چاہیئے ۔ کھری محبت جو انہیں اعتماد دے نہ کہ مسکین ہونے کا احساس ۔
عظمی اور عمران جب اپنی ننھی گڑیا میرے حوالے کر کے ہسپتال جاتے تو انہیں میں بغیر کہے شائد یہ یقین دلاتی تھی کہ میں اسے ہمدردی نہیں دے رہی ۔ ایک گھر کا ماحول ، ایک ماں کا غیر مشروط پیار اور بہن بھائیوں سے بھرا گھر دے رہی ہوں ۔ جب وہ واپس لینے آتے تو اقرا کے چہرے پر صدیوں کا اطمینان دیکھ کر عظمی کی آنکھیں میرے لئے تشکرسے بھر جاتیں ۔
آج جو عظمی پر لکھنے بیٹھی ہوں تو یہ قر ض ہے اس اعتماد کا اس پیار کا جو اس نے مجھے دیا اس دن کا جب اس نے ہمارے آگ سے جھلسے گھر سے نکال کر ہوٹل میں نہیں جانے دیا اور اپنے گھر لے گئی اور اپنی بیماری بھول کر اپنی بہنوں کی طرح پیار دیا ۔ وہ قرض ہے اس کی ہنسی کا جو میری الٹی سیدھی باتوں پرہنس کر ڈانٹ دیتی تھی ۔ ایسا تعلق دینے کا کہ دنیا سے جاتے وقت میں بغیر کسی پلاننگ کے اس کے ساتھ کھڑی تھی ۔ اور پھر آخری گھر تک ساتھ میرا جانا ۔۔یہ سب قرض بہت بڑے ۔ اس کالم کا دامن بہت چھوٹا ۔
خدا نے موت کا مقام اور وقت اپنے ہاتھ میں کر رکھا ہے ۔ورنہ عمران نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔جس صبر اور ہمت سے ہمارے دوست اس بیماری کے مرحلے سے گذرے ان کے لئے خدا کے پاس بہت بڑا اجر ہوگا ۔بارش ہو یا طوفان ۔ ڈاکٹر ہو کہ کہ کوئی روحانی علاج ،عمران نے موت کو بھگانے کی بہت کوشش کی تھی ۔ حالانکہ خود ڈاکٹر تھا موت کی چاپ ہم سے ذیادہ جلدی اسے محسوس ہو گئی تھی ۔ مگر چہرے سے ہمت نہیں جانے دی ۔ جس دن عظمی گئی اس دن بھی کسی حاجت مند کی حاجت پوری کر رہا تھا ۔ اپنی اتنی کڑی تکلیف میں بھی دوسروں کے کام آنے والے کو اللہ نے ایسی سختی سے کیوں گزارا ابھی بھی عقل میں یہ بات نہیں آرہی ۔ آنکھیں بند کرتی ہوں تو عظمی کا جاتا ہوا چہرہ نظر آتا ہے ۔ بے بس لوگوں کی مدد کرتا عمران علی نظر آتا ہے ۔
اقرا کو دیکھ کر سکون ہوتا ہے کہ عظمی کہیں نہیں گئی اس میں زندہ ہے ۔اور عمران علی لوگوں کی اسی طرح مدد کرتا رہے گا ۔ وقت زخم بھر دے گا ۔ بن ماؤں کے بچوں کو ہمدردی سے گلے لگا کر رونے کی بجائے ان کے لئے مثبت کام کرنے کی کوشش کی جائے ۔ ماں ہوں جانتی ہوں مائیں اپنے بچوں کے لئے لوگوں کی نظروں میں ترس نہیں بلکہ فخر دیکھنا چاہتی ہیں ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of