فیصلہ آپ پر چھوڑا ۔

Published on (November 27, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
فیصلہ آپ پر چھوڑا ۔
پنجاب انڈیا میں حالات کافی بگڑ رہے ہیں ۔۔ میں نے ایک پاکستان کے معروف اخبار میں لکھنے والے انتہائی سنئیر کالم نگار کے ساتھ اظہار خیال کیا ۔ ان کا بڑا لاپرواہی سے جواب آیا” یہ سب پاکستانی پر وپیگنڈا ہے” ۔۔
بڑی بات ہے پاکستانی پر وپیگنڈا کا اتنا اثر ہے کہ وہاں کے کسان مہنگائی سے تنگ آکر خود کشیاں کرنے لگے ہیں اور ان کی آبادی کا تیسرا حصہ یعنی 75%لوگ نشے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اور شائدپاکستانی پروپیگنڈے کے زیرِ اثر چھبا گاؤں امرتسر میں سربت خالصہ ( سکھوں کا مذہبی اور سیاسی اجتماع ) کی کال 26مارچ 1986کے بعد10نومبر2015دی گئی۔ اور وہ یکساں حالات جو 1986میں پنجاب میں تھے ، وہی 2015میں اگر سکھ لیڈر شپ کو نظر آئے اور انہوں نے اس اجتماع کی ضرورت محسوس کی ، وہ بھی شائد پاکستانی پروپگینڈے کا شکار ہو گئے اورپاکستان کی خواہش کے عین مطابق اپنی قراددادیں منظو کیں۔
وہاں کی لوکل لیڈر شپ جو کہ اکالی دل پارٹی ہے ہم یہی سمجھتے رہے کہ وہ سکھوں کی جماعت ہے اور انہی کے مفادات کو اہمیت دیتی ہو گی ، مگر بھاگ دوڑ کرکچھ وہاں کے مقامی سکھوں سے بات کر نے سے پتہ چلا کہ وہ پنجاب میں اُسی طرح وفاقی حکومت کے ہاتھوں کٹھ پتلی ہے جیسے کشمیر میں لوگ اب نیشنل کانفرس پارٹی کا بی جے پی سے الحاق دیکھتے ہیں ۔۔ ہوں !!پاکستان کی سازش ۔۔۔
اور بھی دیکھئے !!
اکال تحت کا جھتے دار ،۔۔اکال تحت سکھوں کی religious supreme seat اور جھتے دار اس کا چیف ہوتا ہے ۔۔تو اس دفعہ سربت خالصہ میں جس شخص کا نام جھتے دار کے لئے مشترکہ طور پر منظور کیا گیا وہ ہے جگتار سنگھ ہوارا ۔۔۔
جگتار سنگھ وہ شخص ہے جسے انڈیا میں اتنگ وادی یادہشت گرد سمجھا جاتا ہے ، اسے سربت خالصہ میں ،جس میں 500,000سکھ شامل ہو ئے تھے “جتھے دار” منتخب کیا گیا ۔ جگتار سنگھ اس وقت بھی جیل میں ہے کیونکہ اس نے 1995میں بئینت سنگھ ، وزیرِ اعلی پنجاب کا قتل کیا تھا ۔ قانون اور حکومت کی نظر میں دہشت گرد اور قاتل ، جو ابھی بھی جیل میں ہے ۔ سکھوں کے سربت خالصہ ، جس میں صرف انڈیا سے ہی نہیں دنیا بھر سے سکھوں نے شرکت کی ہو ، اس میں ہوارا کو سب سے اہم سیٹ دینے کا کیا مطلب ہے ؟ چونکہ پاکستانی دانشوروں اور انڈیاکیمطابق تو پنجاب میں مہنگائی ، سکھوں کی مقدس کتابوں کی بے ادبی کے واقعات،فصلوں کی تباہی ، کسانوں کی خود کشیاں ، نشے کی وبا ، پولیس کا پر امن جلوس پر لاٹھی چارج اور اس کے بدلے دو سکھ نوجوانوں کی موت اور کئی زخمی ، ان سب کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ اور پروپیگنڈا شامل ہے مگر پھر بھی ایک خالصتانی تحریک کے سرگرم رکن کا جتھے دار مقرر کیا جانا حکومتِ انڈیا کے لئے ایک الارمنگ سائن ہے ۔ جو آگ وہ دوسروں کے گھروں میں لگاتے رہے ہیں ، وہی آگ ان کے اپنے صحن تک پہنچ چکی ہے ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ہوارا کا نام ہی نامزد کیا گیا تو پنڈال “خالصتان “کے نعروں سے گونج اٹھا ۔ مدن موہن متل جی آپ بی جے پی کے لیڈر ہیں آپ فورا انگلی ISIپر اٹھا تے ہیں تو عجیب نہیں لگتا کیونکہ آپ کا نیشنلزم اسی بات کا تقاضہ کر تا ہے مگر حیرت ہو تی ہے مجھے پاکستانی دانشوروں پر جنہیں نہ سربت خالصہ کا پتہ ہے ، نہ سکھوں کے لئے اکال تحت کی اہمیت پتہ ہے اور نہ اس کے جھتے دار کے مقام کا پتہ ہے ، مگر یہ ضرور پتہ ہے کہ پاکستان اس سب پر و پگنڈے کے پیچھے ہے ۔کمال کے انصاف پسند لوگ ہیں ہم ۔
1971کے بعد مسز اندرا گاندھی نے ایک برطانوی جرنلسٹ کو انٹرویو دیتے ہو ئے بڑے فخر سے کہا تھا کہ بنگالی لوگوں کا قتلِ عام اور عصمتیں لٹ رہی تھیں تو ہم مداخلت کیوں نہ کرتے ، کیا ہمیں خاموش بیٹھ سکتے تھے ؟ میں یہ انٹرویوسن کر محترمہ کی انسانیت اور دیدہ دلیری کی قائل ہو گئی ۔۔ اور لبرل دانشوروں کی فہرست میں مجھے شامل کر لیا گیا مگر یہ خوشی بہت مختصر ثابت ہو ئی جب میں نے انہی محترمہ کی انسانیت کو جون 1984 میں بے گناہ لوگوں کے خون سے غسل کرتے دیکھا اورمیرے منہ سے سوال پھسل گیا کہ” بنگالیوں کی غداری آزادی کی تحریک اور پنجابیوں کی آزادی کی تحریک غداری کیسے ہو گئی ، بلو چ ہتھیار اٹھائے تو anti national نہیں بلکہ آزادی کا سپاہی کہلاتا ہے اور پنجابی ہتھیار نہ بھی اٹھائے تو اسے anti antionalکہہ کر اس پر sedition chargesکیسے لگائے جا سکتے ہیں ؟ ” خاطر خواہ جواب دئے بغیر مجھے لبرل دانشوروں نے اٹھا کر مجھے لبرل ازم کے دائرے سے خارج کر دیا ۔
گولڈن ٹمپل میں،سکھوں کے اہم مقدس دن جب وہاں ، ہزاروں کی تعداد میں عام لوگ بھی جمع تھے ، جرنیل سنگھ بھینڈرا اور اس جیسے علیحدگی پسند سکھوں کو پکڑنے اور مارنے کی آڑ میں مس گاندھی نے فوج کو گولڈن ٹمپل پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔۔ اس سارے آپریشن کے سربراہ کرنل برار سے جب بعد میں پو چھا گیا کہ آپ نے عبادت گاہ کی تقدیس خراب کی تو ان کا جواب تھا جب دہشت گرد اندر چھپ گئے تو عبادت گاہ کی تقدیس اسی وقت ختم ہو گئی تھی ۔۔
اس کے بعد زمانے نے دیکھا کہ اندرا گاندھی کو انہی کے دو سکھ باڈی گارڈرز نے 30 اکتوبر 1984کوگولیوں سے چھلنی کر دیا ۔ اور اس کے بعد ایک دو اور تین نومبر کو سکھوں کی نسل کشی شروع ہو ئی ،جسے ہم دھنگے نہیں کہہ سکتے ۔ اس کے پیچھے پو لیس اور حکومت کا ہاتھ تھا ۔ پولیس نے سکھوں سے ان کے ہتھیار یہ کہہ کر لے لئے تھے کہ ہم آپ کی خود حفاظت کر یں گے ۔
امیتابھ بچن جیسے فنکاروں نے کہا خون کی یہ ندی ان کے گھروں تک بھی پہنچنی چاہیئے ، سکھوں کو ۔۔جلا دو ، مار دو کا ٹ دو ۔۔ کے نعروں میں منظم طریقے سے قتل کیا گیا ۔ مارنے والوں کے ہاتھوں میں ڈنڈوں کا سائز تک ایک جیسا تھا ، ووٹر لسٹ سے سکھوں کے نام نکال نکال کر ان کے گھروں پر حملے کئے گئے ، ابھی بھی پنجاب میں کئی گھر آپ کو ایسے ملیں گے جن کے تمام مردوں کو مار دیا گیا تھا اور عورتوں کی عصمت دری کی گئی تھی ۔ عورتیں اپنی عزت کے خوف سے آج تک یہ بات چھپائے بیٹھی ہیں ۔۔
اندرا گاندھی، جو بنگالیوں کے لئے تڑپتی ہو ئی فوج لے کر پہنچ گئی تھیں ، آج ان کے دیس میں ان کے اپنے لوگوں کے ساتھ یہی کچھ ہو رہا تھا اور ان کے بیٹے راجیو گاندھی اس سب خون خرابے کے بعد جنتا سے بڑے سکون سے کہہ رہے تھے “بڑا شجر گرتا ہے تو دھرتی تو ہلتی ہی ہے “۔ مجھے پہلے ہی لبرل ازم سے دیس نکالا مل چکا ہے اس لئے میں اپنے سب خیالات اپنے تک ہی رکھتی ہوں ۔۔ اور بس یہ دیکھنا باقی ہے کہ کشمیری یا سکھ کا خون ،ایک بلوچ یا ایک بنگالی کے خون سے کیسے مختلف ہو تا ہے؟یک کشمیری یا سکھنی کی عزت ایک بلوچن یا بنگالن سے کیسے کم ہے ؟ بس ان سوالوں کا جواب نہیں ملتا اور میری دانشوری جاتی ہے چولہے میں ۔۔
جیتندر گریوال سنگھ ایک پچیس چھبیس سال کا سکھ نوجوان مجھے پنجاب کے یہ سب حقائق بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ آج جس کو سب لوگ “باہر بیٹھے سکھوں کی تحریک “کہہ رہے تھے ۔ بہن جی ،آپ نے دیکھا سربت خالصہ میں کیا ہوا ؟ پنجاب میں بیٹھے لوگ ، جو پہلے ڈر کی وجہ سے بولنا چھوڑ چکے تھے ، آج اتنے تنگ آگئے ہیں کہ پھر سے خالصتان ،سکھ راج کا نعرہ گونجنے لگا ہے ۔ اب یہ انڈیا سے باہر بیٹھے سکھوں کی بات نہیں،
دیکھایہ آگ دوبارہ سے ہوا پکڑ رہی ہے ۔۔ میں نے لبرل دانشور بننے کی کوشش کرتے ہو ئے کہا “جیتندر یہ تو سب پاکستانی پروپیگنڈا ہے ، شائد اس کے پیچھے ISIہے ۔ خالصتانی تحریک کا یہ سرگرم رکن با آوازِ بلند ہنسا :
جب میں چھوٹا تھا ، باہر سے آتا تھا تو ماتا جی مارتی تھیں کہ کلب سے آئے ہو ، ایک دن میں نے سوچ لیا مار تو پڑتی ہی ہے کلب بھی جانا شروع کر ہی دوں ۔۔۔انڈیا میں بچہ بھی جمے تو ISI کے متھے لگتا ہے ۔ تو بہتر ہے کہ اب وہ کچھ کر ہی لے ۔۔
اب پتہ نہیں یہ خالصتانی نوجوان ٹھیک کہہ رہا ہے یا میرا پاکستانی دانشور ۔۔؟فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of