فرزانہ کی فریاد 

Published on (June 04, 2014)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
فرزانہ کی فریاد
سنو !! اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہنے والو سنو !۱ اسلام کے رکھوالو سنو ، جمہوریت کے علمبرداروسنو !۱ انقلاب کی باتیں کرنے والو سنو،عدلیہ کی آزادی کے اوپر جان دینے والو سنو ، سڑکوں اور پولیس کا نظام ٹھیک کرنے کے دعوے داروں سنو !، میرے لئے آزاد وطن حاصل کر نے والو سنو ! عورتوں کے حقوق کی حفاظت کرنے والی فیشن ایبل بیگمات سنو !! میری موت کو کیش کرانے والو سنو !! قران اور میرے پیغمبر کی شان کے اوپر جان لینے والو اور دینے والو سنو !۱ دنیا میں پاکستان کی اچھی تصویر پیش کرنے والو سنو !۱ خاموش آوزوں اور بہرے کانوں والو سنو !۱ حکومت کی ناقص کارکر دگی اور بے حسی کا رونا رونے والو سنو !! بیٹیوں کے ماں باپ سنو !۱ بھائیو سنو !۱ شوہروں سنو !۱ سنو میں 21ویں صدی کے پتھر کے دور میں پیدا ہونے والی لڑکی ہوں ۔ میرے پچیس سالہ جوان جسم کو اینٹوں سے مار مار کر لہو لہان کر دیا ۔ میری چمکتی آنکھوں میں پتھر مارے گئے ۔ میرے سر پر چادر اور چار دیواری کے نام پر چادر اوڑھا کر مجھے سر عام ننگا کر دیا گیا ۔ میں صرف وہ نہیں جو اینٹیں مار مار کر مار دی گئی ۔۔ سب سنو میں کون ہوں ۔
میں ہوں فرزانہ پروین !!
حضرت محمدﷺ۔۔میرے پیارے پیغمبر میں دورد پڑھتی تھی ،آپ ؐپر سلام بھیجتی تھی تو دل منور ہوجاتا تھا ۔ میں سوچتی تھی میں آپؐ پر سلام بھیجتی ہوں تو آپ ؐبھی مجھ پر سلام بھیجتے ہونگے ۔میں آپ کی امتی تھی ۔ میں جب چھوٹی تھی تو مجھے پڑھایا گیا تھا کہ اسلام سے پہلے بیٹی پیدا ہوتی تو اُسے زندہ دفن کر دیا جاتا تھا ۔ زندہ دفن ہونے کے تصور سے میں اتنا ڈرتی کہ میرا پورا جسم پسینے سے بھیگ جاتا ۔اور شکر کرتی کہ میں اس دنیا میں آپ ؐ کے ظہور کے بعد پیدا ہوئی ہوں مگر میری مسخ شدہ لاش کے پاس اس خون آلود اینٹ کا کیا جواب ہے جس نے میرے سر کے پرخچے اڑا دیے ؟ زندہ دفن ہونے کی رسم کو ختم کر کے کیا اسلام میں یہ رواج فروغ پاگیا تھا ؟ مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی گئی ؟ مجھے کسی کتاب میں یہ کیوں نہیں پڑھایا گیا کہ میں دنیا کے پر امن مذہب کی ماننے والی اور آزاد ملک کی شہری ہوں ، اس کے باوجود میں کہیں بھی ، کچھ بھی کرنے پر آزادی سے مار دی جاؤں گی ؟ کیا “آزاد اسلامی ملک “لینے کا یہ مطلب تھا ؟ کہ مارنے والے مارنے پر تُلے ہوں تو انہیں یہ ہلکا سا شائبہ بھی نہ ہو کہ ایک انسان کی جان لینے پر ان کو سزا بھی ہوسکتی ہے ۔ تو یہ تھی آزادی ؟اور یہ ہوں میں! فرزانہ پروین ۔
وہ فرزانہ جس کی خون آلود لاش طمانچہ ہے ۔ میرے والدین کے منہ پر ، میرے شوہر کے منہ پر ، اس اسلامی ملک کے منہ پر ،اور ثقافت اور رواج کی حفاظت کرنے والے ٹھیکداروں کے منہ پر ؟
کہاں ہے وہ مذہبی لیڈر جو اسلام کے رکھوالے ہیں ۔جو قران پاک کے صفحات کے لئے جان لینے اور دینے کے فتوے دیتے نہیں چوُکتے، میں ورقوں سے کم قیمت ایک ادنی مخلوق ، جسے انہی ورقوں میں محبت سے پیار سے عزت سے رکھنے کا حکم دیا گیا مگر نہیں !! ان ورقوں کے لئے جلسے جلوس نکل آئیں گے ، مولوی نظامِ زندگی معطل کر دیں گے مگر ان مبارک ورقوں پر جو حکم ہے اس کی حکم عدولی پر گھروں میں بیٹھے آرام سے کسی اور موضوع پر فتوی دینے کا سوچ رہے ہونگے ،ان کے نزدیک میرا خون مکھی کے خون سے ذیادہ اہمیت کا نہیں ۔ ایک مجبور اور حاملہ عورت کو سر عام ، جب سورج کی روشنی چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی مار دیا گیا ۔ خون آلود اینٹ کیا خاموش موت مر جائے گی ۔اس کی خوشبو پھیلے گی ؟ مذہبی جماعتیں اس کی خوشبو پھیلنے دیں گے ۔ پاکستان کے اندر رہنے والی لاکھوں فرزانوں کو اس سے بچایا جا سکے گا ؟ کیا میری موت کو آخری ایسی موت بنا یا جائے گا ؟
نہیں !! کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔کیوں کہ سنا ہے لاہور میٹر و چلنے کے بعد ترقی یافتہ ہوگیا ہے ۔ سنا ہے لیپ ٹاپ بانٹنے سے مخلوق تعلیم یافتہ ہوگئی ہے ۔ سنا ہے ساری قوم کو بے حال کر کے چیف جسسٹس کی بحالی کے بعد عدالتیں آزاد ہوگئی ہیں ۔ سنا ہے لوگ اس بات پر یقین کرتے ہیں کہ 2008کے بعد کا پاکستان عدلیہ آزاد ہونے کے بعد بدل گیا ہے ۔ سنا ہے لوگ یقین کر بیٹھے ہیں کہ جمہوریت کا پہیہ چل پڑا ہے ، سنا ہے پاکستان کی معشیت بھی ترقی کر رہی ہے ۔ سنا ہے شدت پسندی اور انتہا پسندی کا بھی خاتمہ ہو رہا ہے ۔ سنا ہے فرقہ پرستی بھی ختم ہورہی ہے ۔ سنا ہے عورتوں کے حقوق کے لئے قانون پاس ہورہے ہیں ۔ مریم نواز اور ڈھیروں خواتین پارلیمنٹ ممبرز کو آزادی سے سیاست میں حصہ لیتے دیکھ کر کون اس بات پر یقین نہیں کرے گا ؟ عورتوں کے حقوق کے لئے بنائی گئی تنظیمیں دھڑا دھڑ ہر مسئلے کو اجاگر کرتی ہیں ،عورت پر ہونے والی ناانصافی پر آواز بلند کرتی ہیں ۔جب سب ہو چکا تو اب ہونے کو کیا ہے ۔ جمہوریت بھی ہے ، عدل بھی ہے ، انصاف بھی ، قانون بھی ہے اور حقوق کی بات کرنے والی تنظیمیں بھی ہیں ۔ ہم آزاد بھی ہیں اور مسلمان بھی ہیں ۔ تو میری موت کیا کرے گی ؟ میری موت کیا ہے ۔ اگر اس سب کے ہوتے ہوئے بھی خادمِ اعلی کے ترقی یافتہ ،سیاسی سماجی شعور والے شہر میں ، ہائی کورٹ کی ناک کے نیچے ، مستعد وزیرِ اعلی کے زیرِ انتظام پولیس کی ناک کے نیچے مجھے اینٹوں سے مار مار کر مار دیا گیا تو میرا ہی کوئی قصور ہوگا ،یا میرے پیٹ میں پلنے والے بچے کا ۔۔ان ماں باپ کا بھی نہیں جنہوں نے مجھے پیدا کیا تھا ۔ ان بہن بھائیوں کا بھی نہیں جن کے ساتھ کھیلتے ، لڑتے اور کھاتے پیتے بچپن گزرا تھا ۔ اس شوہر کا بھی نہیں جو پہلی بیوی کو مار کر مجھ تک پہنچا تھا ۔ میرا ہی قصور ہوگا کوئی ۔ میں نے شائد نادانی میں ایک گھر کے جہنم سے بچنے کے لئے دوسرے جہنم کو منتحب کر لیا ہوگا ۔مجھے ہی کوئی انہونی گھٹن محسوس ہوئی ہوگی ۔ میں نے ہی شائد اپنے شوہر پر اعتبار کیا ہوگا کہ یہ میری ڈھال ہوگا ۔ مجھ تک گرم ہوا نہیں پہنچنے دے گا ۔ میں نے ارد گرد کھڑے پولیس والوں کو دیکھ کر سوچا ہوگا جب میرے محافظ کھڑے ہیں ، جو میرے ہم رنگ ہم وطن اور ہم مذہب ہیں ،یہ مجھ پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ جب میں نے بہت سے لوگوں کا ہجوم دیکھا ہو گا تو سوچا ہوگا ، اتنے لوگوں میں کون مجھے کچھ کہہ سکتا ۔ مجھے انسانوں اور پتھروں میں فرق ہی نہیں پتہ چلا ۔ تو پھر یہی ہونا چاہیے تھا نا میرے ساتھ ، پتھروں سے ہی سر لہولہان ہونا چاہیئے تھا ۔ ہائی کورٹ کی اونچی عمارت دیکھ کر سوچا ہوگا یہاں تو انصاف ملتا ہے ۔ تو میرا انصاف یہی تھا شائد مجھے مل گیا مگر اسلام کے پہرے دارو !۱ے میرے گھر والو !۱ میرے ملک والو !۱ے1 میرے پیٹ کے اندر جو میرا بچہ تھا اس کا کیا قصور تھا ؟ جس کا سورج بھی میری کھوکھ سے چھن کر اس تک جاتا تھا ، جو کھانے پینے سانس لینے تک میں میرا محتاج تھا ۔اس نے ابھی اپنے حصے کا سورج ، زندگی ، سوچ ، بھوک اور ہنسی ۔ابھی کچھ بھی تو نہیں دیکھا تھا ؟
اس کو تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ مسلمان ہے اور آزاد ملک میں پیدا ہو رہا ہے ۔ وہ کسی ایسے گُمان میں نہیں تھا کہ اس کے اردگرد اس کے اپنے نانا نانی ماموں ، چچا ، بھائی ، خالائیں اور ابو ، اس کے اپنے ملک والے ، اپنے شہر والے ، اپنے محافظ چاروں طرف کھڑے ہیں اسے نہیں پتہ تھا کہ سفید دن میں پیرس بنتے شہر لاہور کی ترقی یافتہ سڑک پر انصاف کی عمارت کے سامنے کھڑا ہے اور محفوظ ہے ، اس نے تواعتبار کرنے کا یہ گناہ نہیں کیا تھا۔ اسے تو کوئی گُمان نہیں تھا ۔ کسی پر بھروسہ نہیں تھا کوئی خوش فہمی نہیں تھی ۔۔تو وہ تو بے گناہ ہوا نا پھر اسے کس بات کی سزا دی گئی ؟میری فرزانہ پروین کی فریاد اس ان جنمے بچے کے لئے ہے۔ باقی مجھے پتہ ہے تیزاب میں جھلسنے والی بچیاں ، بے حرمت ہونے والی ، ونی ہونے والی ، کاروکاری ہونے والی ، بازاروں میں ننگی گھمائی جانے والی ، آٹھ سال کی عمر میں بوڑھوں سے بیاہے جانے والی ۔۔ان سب پر بات چیت ہورہی ہے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of