عورت

Published on (March 12, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
عورت
خواتین ڈے پر میڈیا میں مشہور و معروف عورتوں کی کہانیاں تو ہم سنتے ہی رہتے ہیں ۔ میں اس دن کو اپنی امی کے نام سے منسوب کرتی ہوں ۔ ۔ تب وہ سخت پردہ کرتی تھیں اور پردے کے خلاف جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ پردہ سوچ کو غلام کرتا ہے تو میری امی کی کہانی اس دلیل کو جھوٹا کر دیتی ہے انہوں نے فیصل آباد کے چھوٹے سے محلے میں رہتے ہوئے بھی مجھے مغربی تعلیم اوراعتماد دیا ۔ میں نے عورت کی آزادی کا سبق ایک باپردہ عورت سے لیا ہے اس لئے میرے خیالات میں آزادی کے نام پر کوئی ننگ دھڑنگ بغاوت نہیں آتی ، جو آزادی کے نام پر رشتے روند دے اور صرف اپنے بارے میں سوچنے کو آزادی کہہ دے بلکہ ایک ایسی مقدس عورت کا باہمت اور محنتی چہرہ نظر آتا ہے جس نے اپنی ہم عمر عورتوں کی طرح فیشن اور شاپنگ کبھی نہیں کی بلکہ گھر کے اندر بنے سکول اور ٹیوشن سنٹر کو دن رات چلایا ۔ جس نے کھبی ایک وقت کی نماز بھی قضا نہیں کی اور کمانے والا ہاتھ ہونے کے باوجود کبھی ہمیں اپنے ہاتھ ہی کی بنی ہوئی روٹی کھلائی
میری امی کی تربیت کا ایک حصہ جو میں چاہتی ہوں اسے ہر ماں اپنی بیٹی کو نوازے وہ یہ کہ انہوں نے مجھے کبھی تعلیم میں اور نہ تربیت دینے میں یہ احساس ہونے دیا کہ میں لڑکی ہوں ۔ اسی لئے جب اٹھارہ سال کی عمر میں میں کو ایجوکیشن میں گئی تو لڑکوں کو کبھی لڑکا سمجھ کر بات نہیں کی اور جمعیت کی بے جا سختی کے خلاف آواز اٹھائی ۔ اور انہی کی تربیت کا حصہ کہ شادی کے بعد بھی جب کبھی جذباتی یا معاشی مشکلات پڑیں تو اپنے شوہر کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ انہی کی تربیت کا حصہ کہ آزادی اور بدکرداری میں فرق نظر آتا رہا اور معلوم رہا کہ بد کردار عورت ہو یا مرد دونوں برابر کے جوابدہ ہیں ،کیونکہ دونوں کا راستہ پہلے گھر اور پھر معاشروں کی تباہی پر آکر ختم ہوتا ہے ۔ یہ تربیت ہے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ ماؤں کو اپنی بچیوں کو دینی چاہیئے۔
8 مارچ کوخواتین کا دن منایا جاتا ہے ۔ مرد حضرات پوچھتے ہیں کہ مردوں کا دن کیوں نہیں ہوتا ؟ ترقی یافتہ ممالک میں عنقریب یہ بھی ہونے والا ہے ۔ کیونکہ ادھر پہیہ الٹا چلا پڑا ہے ۔ اس بات سے بہت سے لوگ اختلاف کریں گے مگر جتنے اختیارات یہاں عورت کو مل گئے ہیں وہ ان کا ناجائز استعمال بھی کرتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح مغربی ممالک میں بھی جب آدمیوں کے پاس عورت سے ذیادہ اختیارات ہوتے تھے تو وہ اسے غلط استعمال کرتے تھے ۔ طاقت بغیر تربیت کے کسی کے بھی ہاتھ میں آجائے گی وہ غلط استعمال ہوگی ۔ جن کے پاس طاقت ہو ان کی تربیت ہونا بہت ضروری ہے ۔ 2015کی جو عورت ہے اس نے آزادی بہت سال گھٹن میں رہنے کے بعد مرحلہ وار لی ہے۔ اور اسے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی گئی کچھ اس نے خود جدو جہد کی اور بڑا حصہ حالات کا بھی رہا ۔ جب دنیا کو معاشی بحران سے نکلنے کے لئے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی بھی میدان میں ضرورت پڑی ، گھر کے کام سے نکل کر معاشی ترقی میں شامل ہونے کی دیر تھی کہ ایک ایک حق ،ووٹ کا ، جائداد کا اور اپنے آپ کا ،سب منوانے آگئے ۔
دنیا میں ہر غلامی کی زنجیر” معاشی انحصار” ہے ۔ آپ کسی کو معاشی طور پر آزاد کر دو ،اس کے اندر اعتماد پیدا ہوجائے گا اپنے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی فیصلے کرنے کا ۔ یہ فیصلے ایک گھر کے اندر رہ کر خود مختاری اور اعتماد سے بھی ہوسکتے ہیں اور گھر سے باہر نکل کر جاب کرنے اور ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے بھی ہو سکتے ہیں ۔
خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دینا ایک اور بات ہے جس کی تائید ہر باشعور آدمی کرے گا ۔ لیکن عورت کو مرد کے برابر سمجھنا یہ وہ پوائنٹ ہے جہاں پر ماڈرن عورت اور معاشروں کو رک کر سوچنے کی ضرورت ہے ۔ ایک سیدھی سی بات ہے جب عورت کو جسمانی طور پر مرد کی طرح نہیں بنایا گیا ۔ یعنی وہ اپنی مختلف جسمانی ساخت اور جسمانی مسائل کی وجہ سے عورت ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ جسم کا تعلق دماغ اور روح سے ہوتا ہے ۔ ہر مہینے مخصوص دنوں ، حمل کے نو مہینوں ، بچے کی پیدائش کے بعد ، مینو پا ز یہ سب کسی بھی آزادی کی تحریک سے عورت کی زندگی سے نکال کر مرد کی زندگی میں شامل نہیں کیئے جاسکتے ۔ اور ان دنوں میں ہونے والی عورت کے اندر ہارمونل تبدیلیوں کو روکا نہیں جا سکتا ۔ آگاہی دے کر کچھ صورتحال کو قابو تو کیا جاسکتا ہے مگر اسے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ جس سے نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں ۔ ان دنوں عورتوں کو ذیادہ پیار شفقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسی ضرورت کسی آدمی کو نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے وہ جذباتی طور پر مضبوط ہوتا ہے ۔ اس لئے مرد کو عورت کا سہارا کہا گیا ہے ۔ یہ سہارا بروقت تھام لے تو عورت ماں ، بیٹی ،بہن اور بیوی کے روپ میں محبت اور شفقت نچھاور کرتی ہے ۔ تعلیم کو عورت کا زیور بنا دیا جائے تو وہ اس سے آپ کی نسلیں سدھار سکتی ہے ۔ اس کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ گھر رہ کر بچوں کی تربیت کرنا چاہتی ہے یا ملازمت ؟ اور کسی بھی دوسرے انسان کی طرح عورت کے نزدیک بھی مختلف کاموں کی مختلف اہمیت ہوسکتی ہے ۔ ایک عورت کا فیصلہ ملازمت کے حق میں بھی ہوسکتا ہے اور ایک عورت کا گھر میں رہ کر گھر کے معاملات کو اپنے طریقے اور فہم کے مطابق چلانے کا بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ آزادی ہے ۔ یہ عورت کے حقوق ہیں ۔
ایک عورت کو جب یہ لگتا ہے کہ اس کے بد قماش اور عیاش شوہر کی وجہ سے اس کے بچوں پر غلط اثر پڑ رہا ہے تو عورت کو اس سے با ز پرس کرنے کا اسی طرح اختیار ہے جیسے باپ ،بھائی یا شوہر بیٹی ، بہن یا بیوی سے سوال کرنے کا حق رکھتا ہے ۔بدکرداری یا آزادی کے اصول اپنے لئے مختلف اور عورتوں کے لئے مختلف ۔یہ نہیں ہونا چاہیئے ۔
عورتوں کی آزادی کی تحریکیں چلا چلا کر ہم نے ماڈرن عورت کو تو بہت آزاد کر دیا ہے ، اتنا کہ مرد بھی ان کے سامنے کان پکڑ لے ۔ مگر غریب ان پڑھ پسی عورت جسے نہیں پتہ کہ سوشل میڈیا پر اور پرنٹ ، الیکڑونک میڈیا پر اس کا نام لے لے کر دھائی دینے والی عورتیں مجبوری اور مفاہمت کا لفظ تک نہیں جانتیں ۔ جنہوں نے مردوں کو تگنی کا ناچ نچوایا ہوا ہے ۔ ان کے پاس اتنی آزادی ہے کہ انہیں بد ہضمی ہوئی پڑی ہے اور دوسری طرف وہ عورت جو واقعی آج چاہے مندروں میں داسی بنا کر چڑھائی جا رہی ہے یا قران پاک سے بیاہی جا رہی ہے یا کلیسا میں مریم بنا دی گئی ہے ، وہ ابھی بھی ویسے ہی ہے ۔ تیزاب سے جھلسے منہ والی لڑکی ایک عورت کی آزادی کے موضوع پر بننے والی فلم کا مرکزی کردار تو ہوسکتی ہے مگر اس معاشرے میں یا اپنے گھر میں وہ مرکزی کردار آج بھی نہیں ہے ۔ عزت لٹنے والی عورت خبروں اور کہانیوں کا یا کسی ادارے کے جلوس کا ایک اچھا موضوع تو ہوسکتی ہے مگرآزاد نہیں ہے ۔
ان بچاریوں کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کے نام پر اور ان پر ہونے والے ظلم لوگوں کے لئے کمائی کا کیسا کیسا طریقہ ہیں ۔ کینڈا میں ہونے والے ایک ریڈیو پروگرام میں میں نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ساؤتھ ایشاء کی عورت یہاں آکر اپنے شوہر کے خلاف 911کرنے سے پہلے تھوڑا سوچ لے تو بہت سے گھر بچ جائیں گے ۔ ایک سکھ بھائی نے کال کر کے کہا شکر ہے کسی نے آدمی کے حقوق کی بات بھی کی ۔ ورنہ ہم روز مار کھاتے ہیں مجال ہے پولیس بھی سن لے ہماری بات ۔ اس غیر متوازن رویوں نے گھروں کے توازن بھی خراب کر دئے ہیں ۔ جب آپ ایک دوسرے کا اعتماد نہیں توڑتے تو عزت برقرار رہتی ہے ۔ مل کر فیصلے کرنے سے پڑھی لکھی عورتوں کو گھر رہ کر اپنے کئیرئیر تباہ ہونے کے دکھ بھی نہیں رہتے ۔ وہ اپنے آپ کو زندگی کی گاڑی میں شریک سمجھتی ہیں ۔ میں میں کا شور اور آزادی کا شور اپنی جگہ ۔ مگر ہر گھر کی اپنی ایک منفرد کہانی ہے ۔ اس کا کسی دوسرے کے ساتھ موازنہ نہیں ہے ۔ عورت اور مرد کا باہمی اعتماد اور عزت گھر کو جوڑتا ہے اور یہی دونوں کی آزادی ہے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of