!سانحے کے بعد کی لیڈر گری

Published on (December 16, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
!سانحے کے بعد کی لیڈر گری
16دسمبر2014پاکستان کی تاریخ کا ایک بھیانک باب ہے ، 16دسمبر 1971جیسا۔
جنرل نیازی نے جب جنرل اروڑا کے آگے بڑی سج دھج کے ساتھ ہتھیار ڈالے تھے،سج دھج جنر ل اروڑا کی تھی،اور ہماری فوج جس شرمناک طریقے سے ہتھیار ڈال رہی تھی ،وہ منظر آج تک لوگوں کے ذہن سے محو نہیں ہو سکا ۔ہماری جو نسل اس وقت پیدا نہیں ہو ئی تھی یا شیر خوار تھی ،آج بھی یو ٹیوب پر یہ نظارہ دیکھ کر دل کے درد میں مبتلا ہو جاتی ہے ۔
ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے دو لخت ہو نے اور فوج کی اس شرمناک شکست کے بعد بڑی ہمت سے ملک کو جوڑنے کی ٹھانی ۔ ان پر جو الزام ذاتی مفاد کی خاطرملک توڑنے کا تھا ، ذوالفقار علی بھٹو نے اس کو compensateکرنے کی ہر ممکن کو شش کی ۔ میں بھٹو کے اوائل دور کے کارناموں میں جو معجزاتی رنگ دیکھتی ہوں تو ، یہ گمان ہو تا ہے کہ بھٹو نے اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کی خاطر اپنے آپ کو ملک کا وقار بلند کرنے کے لئے وقف کر دیا تھا ۔ سیکورٹی کونسل کی 15دسمبر کی جذباتی تقریر سے لے کر ، شملہ معاہدہ جس میں اپنے نوے ہزار فوجی واپس لانا اور جنگ میں کھویا ہوا کچھ علاقہ( جو بہت ناممکن بات ہو تی ہے ) انڈیا سے واپس لینا ، ملک کو1973 کاپہلا آئین دینا ، بڑے بڑے اداروں کو قومیانے کا پہلا مرحلہ اور ملک کو نیوکلئیر پاؤر بنانے کے جنون سے لے کر اسلامی کانفرس کروانے تک ، ان سب فیصلوں اور اعمال کے پیچھے ہمیں صاف طور پر ایک ایسا انسان نظر آتا ہے جس نے جنگ کے بعد نقشے پر رہ جانے والے سبز اور سفید جھنڈے کو نہ صرف اس کا کھویا ہوا وقاردلانے کی بلکہ دنیا میں اس کو بلند مقام دلانے کی ٹھان لی تھی۔ اور یہی جوش اور جذبہ قوم میں بھی سرایت کر دیا تھا ۔
اس سے بھی انکار نہیں کہ بھٹو سے کئی فیصلے ایسے بھی ہوئے جن کے برے اثرات آج بھی ہم بھگت رہے ہیں مگر اس وقت موضوع یہ ہے کہ کسی بڑے سانحے کے بعد ایک لیڈر کا کردار کیا ہو تا ہے،پنی قوم کو سمیٹنا اور اس کا کھویا ہوا اعتماد واپس لوٹانا ۔
آج جب ہم ایک سال بعد سانحہٗ پشاور کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں قوم تو بالکل ویسی ہی نظر آتی ہے جیسے 1965میں تھی ، جیسے 1971میں تھی ، جیسے کسی بھی سیلاب اور زلزلے میں ایک دوسرے کی مدد کر تی ہوئی ،بانی کا جذبہ لئے ہو ئے ، بہادر قوم۔
آرمی پشاور سکول کی شہیدپر نسپل میڈم طاہر ہ قاضی کے بیٹے احمد قاضی سے “دستک”کے لئے بات ہو ئی ۔ میں نے پو چھا اپنی والدہ کو کھو دینے کے ایک سال بعد احمد قاضی کہاں کھڑا ہے ، تو اس نے کہا اپنی ماں سے قربانی کا جذبہ سیکھا ہے ،اس ملک سے محبت اور بڑھ گئی ہے اور اس ملک کو چھوڑ کر بھاگنے والوں میں سے نہیں ہیں ، نہ ڈر کر یا اپنے آپ کو بچا کر کسی اور ملک میں پناہ لیں گے ۔ مذید کہا ماں کی کمی کبھی پو ری نہیں ہو گی ۔ احمد اپنی ماں کے نقصان کو نہیں بھلا سکتا ، جن والدین نے اپنے بچے کھو دئے ، وہ اپنے بچوں کو نہیں بھلا سکتے ۔ یہ ان کے ذاتی نقصان ہیں ، ان کا درد صرف وہی جان سکتے ہیں ۔ احمد نے بتایا ان کی والدہ نے تو بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی جان کی پروا نہیں کی اور شہادت کا رتبہ پا لیا مگر وہ اس سکول میں پڑھنے والے دوسرے بچوں کے بارے میں بتاتے ہیں کہ جو بچ گیاجس کی بھی کہانی سنو ،اسی میں ہی قربانی کا جذبہ ملتا ہے ۔ دوست ایک دوسرے کو بچاتے رہے، ٹیچرز بچوں کو بچاتی رہیں ۔اویس سہراب اسی سکول کا ایک اور سٹوڈنٹ ، اس نے بتایا ایک ٹیچر عندلیب ہیں، ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بیٹے کو گولیاں مار دی گئیں اور وہ آج بھی سکول میں اسی طرح پڑھا رہی ہیں ۔
یہ تو ہے وہ جذبہ جو پاکستانی قوم میں موجزن رہتا ہے ۔ جسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔ مگر مت بھولئے یہ وہی جذبہ ہے جسے حکمران اپنی عیاشیوں ، بنک اکاؤنٹس بھرنے اور اپنی نسلیں سنوارنے میں استعمال کر رہے ہیں ۔حکمران تبدیلی کا نعرہ لگا کر تبدیلی نہیں لا سکے مگر کیا اب وقت نہیں کہ لوگ ہی اپنے اس جذبے کو تبدیل کر لیں اور سوال پو چھیں ۔
اس سانحے کے بعد حکمرانوں نے کیا کیا ؟ یہ سانحہء ایسا تھا جس نے روحوں کو 1971ہی کی طرح جھنجوڑ دیا تھا ۔ مگر آج کے لیڈروں نے قوم کا اعتماد بحال کر نے کے لئے کیا کیا ؟ابھی ان شہید معصوموں کا سکول کی دیواروں سے نہ خون سوکھا تھا،نہ پیچھے رہ جانے والوں کی آنکھیں،بچوں کی قبروں کی مٹی کی طرح ابھی گیلی ہی تھی کہ اسی صوبے کے لیڈر نے دکھ میں اپنا دھرنہ لپیٹا اور شادی کی شیروانی پہن لی ۔ حکو متی نمائندے دھرنے کے ناکام ہیروز کا پارلیمنٹ میں ٹھٹھہ اڑانے لگے ۔
سیریس نوٹ پر نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا اور کانفرسوں سے خوب خطاب ہو ئے ۔جیلوں سے دہشت گرد ضمانت پر رہا ہوتے گئے اور انڈیا اور افغانستان پر شکوک بیان کئے جا تے رہے ۔آرمی نے اس سانحے کو اپنی ہیرو گری کے لئے خوب استعمال کیا ، ملٹری کورٹس بھی بنیں اور سول ملٹری تعاون کی داستان بھی سنائی گئی ۔
مگر کسی نے یہ نہیں بتا یا کہ ان مدرسوں کا کیا کرنا ہے جو فارن فنڈنگ سے چل رہے ہیں ۔ان طالبان کا کیا کرنا ہے جو دھڑلے سے ذمہ داریاں قبول کرتے ہیں ۔ وزیرستان کے آپریشن میں ملٹری اور سول سیکورٹی ایجنیساں آپس میں تعاون کر رہی ہیں یا نہیں ؟ طالبان کے پاس جوانوں کی بھرتیاں بند ہو ئی ہیں کہ نہیں ؟ طالبان کو فنڈز کون دیتا ہے، اس سوال کا جواب قوم کے آگے آیا ہے کہ نہیں ؟وہ بچے جو پیٹ کی آگ سے مجبور ہو کر دہشت گرد بن رہے ہیں ، اپنے خزانوں سے کچھ ان کی دال روٹی اور تعلیم کا بندوبست کیا ہے یا نہیں ؟ پولیس کو کرپشن سے آذاد اور عدلیہ کو تیز گام بنایا ہے یا نہیں ؟ آرمی سکول پر حملہ آرمی کی ناکامی ہے ، یا سیکورٹی ایجنیسیوں کی یا پو رے ملک کی ؟
تدابیر کرنا تو دور کی بات سہی ،ابھی تک کسی ادارے میں یہ اخلاقی جرات نہیں کہ اپنی ناکامی ہی تسلیم کر لے حالانکہ حملہ آوروں نے تو حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ۔ وزیرِ اعظم، وزیرِ اعلی پختون خواہ، پو لیس کے سربراہ اور آرمی کے چیف اور چست و چالاک سیکورٹی ایجنیساں جن پر نجانے انڈیا کون کون سے سمارٹ حملوں اور تحریکوں کے الزام لگاتا رہتا ہے ،ان میں سے کوئی ہے جو ایک سال گذرنے کے بعد کہہ سکے کہ ہاں یہ میری ناکامی تھی ۔
حکمرانوں کے پاس ، شہیدوں کی پہلی برسی پر ،گانے بنانے ، ان معصوم بچوں کی تصویریں چلانے ، ان کی ماؤں کے کلیجوں پر تیر چلانے ، سیکورٹی کانفرسوں میں خطاب کر نے کے علاوہ اور کیا ہے؟
سنا جا رہا ہے کہ نواز شریف صاحب اس سانحے کے ایک سال مکمل ہو نے کے بعد ، دلاسہ دینے پشاور سکول کے شہیدوں کے لواحقین کے پاس جائیں گے ۔ مگر حیران ہوں کس منہ سے جائیں گے ؟ انہیں جا کر کیا بتائیں گے ؟ کہ میں ایک سال بعد کیوں آیا ۔ یا ان کے زخم مند مل کرنے اور ان کے دکھ کا مداوا کرنے کے لئے ،کیا عملی کام دکھائیں گے انہیں ؟ کیا وہ میاں اعجاز احمد جس کے معصوم بیٹے شہزاد کو گیارہ گولیاں ماری گئی تھیں ، اسے تسلی دے سکیں گے کہ اس کے دوسرے بیٹے زکریا کا جسم ایسا چھلنی نہیں ہو گا ۔۔کیونکہ ہم نے یہ یہ ۔۔۔۔ سخت قسم کے نتیجہ خیز اقدامات کر لئے ہیں ۔ کیا وہ اسے کہہ سکیں گے تم ان گیارہ گولیوں کا غم بھلا دو جب ان کی بغل میں ایک طرف بیوٹی پارلر سے تیار سجی سنوری مریم نواز اور دوسری طرف اعلی سوٹ میں ملبوس محفوظ و ممنون حمزہ شہبا ز کھڑے ہو نگے ؟
آرمی چیف راحیل شریف بھی ضرور جائیں گے مگر ان والدین کی خاموش نگاہیں ان سے سوال ضرور پو چھیں گی کہ ہم بے بسوں نے اللہ کی مرضی سمجھ کر اس پر سر تو جھکا لیا مگر آپ اللہ کے آگے اپنے دئے گئے عہدے ، طاقت اور اختیارات کا حساب کیسے دو گے ؟
کیا سب نے ہمارے بچوں کی شہادتوں کو عالمی منڈی میں ایسے نہیں فروخت کیا جیسے کوئی فقیر اپنے بچوں کے ہاتھ پاؤں توڑ کر انہیں ریڑھی میں ڈال کر خیرات اکھٹی کرتا ہے ؟

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of