دنیا گول ہے

Published on (January 10, 2018)

دستک
روبینہ فیصل
qrubina25@gmail.com
دنیا گول ہے
ایک راہگیر میراثی کو بتاتا ہے:”تمھارے گھر کی دیوار ٹیڑھی ہے ۔
میراثی جواب دیتا ہے’: تو کیا ہوا تیری بیٹی بھی تو گھر سے بھاگ گئی تھی “۔
ڈونٹ لاف !! پاکستان کی محبت میں تڑپتے لوگوں کی اسی طرح کی گفتگو یہاں کینڈا میں ، ڈرائنگ رومز میں ،ڈنر پارٹی کے بعد ہونا ، ایک معمول کی بات ہے ۔۔۔۔۔
آپ کے لئے ایک جھلک:
انصافیا: نون لیگ کے لیڈرنااہل قرار دئے جا چکے ، پھر بھی بے غیرتوں کو شرم نہیں آتی؟
نون لیگیا: اوہ ہو : جیسے کہ ساری جماعتوں کے کر پٹ لوگ تحریکِ انصاف میں آکر دھل چکے ہیں ؟ شرم تو اُن کو آنی چاہیئے۔
انصافیا : وہ خان صاحب اور اللہ سے معافی مانگ کر آتے ہیں ۔ گناہ کس سے نہیں ہو تے؟
نون لیگیا: ہمارے لیڈر صاحبان زیادہ عمرے اور حج کرتے ہیں ۔ سعودی عرب کی صورت اللہ کی سرپرستی ہم پر قائم ہے ۔۔ تو معافی کا چانس کس کے پاس زیادہ ہے ؟
انصافیا : تبدیلی کے پاس ۔
نون لیگیا: اس لیڈر کا کیا کردار ہو گا جو اپنی ہی پارٹی کی عورتوں کو گندے میسجز کرتا ہو ۔ ۔سب عورتوں کو ایک ہی نظرسے دیکھتا ہے اور وہ ہے “گندی “۔ابھی تو شکر ہے اس کی آنکھیں چھوٹی ہیں ، بڑی ہو تیں تو نہ جانے پاکستان کو کیا دن دیکھنے پڑتے۔
انصافیا: ۔ جاؤ جاؤ !ہمارے لیڈر کی شخصیت میں کر شمہ ہے تب ہی تو لڑکیاں اس کے گندے میسجز بھی چار چار سال تک سنبھال کر رکھتی ہیں اور پڑھ پڑھ کر شرماتی رہتی ہیں زرا اپنے لیڈرکی فرسٹریشن دیکھو ، میسجز کر نے کے لئے سیل فون بھی جیب سے دینے کی آفر کرتا ہے پھر بھی عورت نہیں بلکہ “انٹرنیشنل بے عزتی’ ملتی ہے۔how embarassing ?
انصافیا : تمھارے لیڈرکس قدر اخلاقی طور پر کر پٹ ہیں ، ایسی بڑی بڑی توندوں کے ساتھ مراعات کا لالچ دے کر عورتوں کو ٹریپ کرتے ہیں ۔
نون لیگیا:ٹریپ کیا ؟ اپنی مر ضی سے آتی ہیں،بچیاں تھوڑی ہو تی ہیں ۔اور اسلام میں بے سہارا کو سہارا دینے کا حکم ہے۔
انصافیا : بے سہارا کو سہارا دینے کا حکم ہے ،شادی شدہ کو پہلے طلاق کروا کر بے سہارا کرنے اور پھر اس کا سہارا بننے کا نہیں ۔۔
تمھارے وزیرِ اعلی ،گاڑی میں ڈرائیور کی جگہ مولوی، اور گاڑی کی رجسٹریشن کی جگہ نکاح نامہ رکھتے ہیں ۔ جہاں کوئی عورت پسند آگئی وہیں پہ عارضی نکاح کر لیا ۔ یہ نکاح جیسے مقدس فرض کا مذاق ہے ۔ halal dating واہ ؟
نونیا : تم لوگوں کی زبان اتنی گندی ہے ،کیوں نہ ہو ؟جن کے لیڈر کا زبان سے لے کر زاربن تک ، کسی چیز پر کنٹرول نہ ہو ، اس کے fansسے کیا امید ؟ اس کے برعکس ہمارا لیڈر سیاسی مدبر ہے ، کھبی چھچھوری بات نہیں کرتا۔
انصافیا : واہ واہ : تم لوگ جن کو سڑکوں پر گھسٹینے کی باتیں کر تے ہو ، انہی کی گود میں بیٹھ کر NROسائن کر تے ہو ۔ اگر یہ سیاسی تدبر ہے تو ہمیں اپنا منہ پھٹ اور سچا لیڈر ہی پسند ہے ۔۔ کم از کم منافقت تو نہیں کرتا ۔
نونیا : ہاں ہاں بس شادی کر کے مانتا نہیں ،لیکن جب خفیہ ایجنیساں اسے بے نقاب کر نے کا ٹھان چکتی ہیں تو پھر ایسی بے شرمی سے منہ جھکا کر مہنگی شیراوانی پہن کر تصویریں پبلش کروا دیتا ہے۔یہ ہے اس کی سچائی ؟اس سے بڑا منافق ہم نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔۔ اس کا تو لاسٹ نیم “نیازی” نہیں” جھوٹا”ہو نا چاہیئے ۔
انصافیا : شادی اس کا ذاتی معاملہ ہے ۔ اور تم لوگ جب بھی اس کا گھر بسنے لگتا ہے ، اسے نظر لگا دیتے ہو ، بچارہ کیا کرے ؟ اسے کیا کمی ہے ۔۔اس کے پیچھے لڑکیاں بھاگتی ہیں ۔۔ یاد ہے نا کیسے طاہرہ سید کا گھر تڑوا دیا تھا ، آج تک اس کا شوہرسانپ کے ڈسے ہوئے انسان کی طرح زہر آلود ہنسی ہنستا پھرتا ہے ۔۔بچارہ بخاری ! ہمارے لیڈر کی شخصیت میں تو خدا نے عجب کر شمہ رکھ دیا ہے ۔۔۔
نونیا : کیا ذات کے کر شمے صرف عورتوں کو پھنسانے میں ہی لگائے گا ؟ بس کر دے اب ۔۔ پاکستان کے مرد پہلے ہی ایسے کاموں میں بڑے تیز ہیں،اس کی ایسی حرکتوں سے پورے معاشرے کا اخلاق خراب ہو رہا ہے ۔خاص کر کے نوجوانوں کو کیا پیغام دے رہا ہے ؟
انصافیا : ۔۔ چلو مان لیا ہمارے لیڈر کی ایک یہی کمزوری ہے ۔ مگر تمھارے لیڈروں کی طرح مردانہ کمزوری کا نمونہ تو نہیں ، جو حکومتی اخراجات سے طاقت بخش دوائیوں کے خر چے نکالتے ہیں ، اور امریکہ کے آگے کانپتے ہیں ۔۔۔ ہمارا شیر رواں انگریزی بولتا ہے ، کاغذ سے دیکھ دیکھ کر نہیں ۔۔۔
نونیا : ہمارے لیڈر انگریزی نہ بول سکیں مگر خاندانی ہیں ۔ ایک بیوی ضرور خاندانی رکھتے ہیں ۔ قوم کے بچوں کے لئے مشترکہ فیملی کی اچھی مثال قائم کرتے ہیں ۔
انصافیا : ہاں اور اقربا پروری کی بھی ۔۔۔اندھے ہیں اور اپنوں کو ہی بس ریوڑھیاں بانٹتے ہیں ۔ لڈو جیسے بیٹوں اور بی اے فیل میک اپ زدہ بیٹی کو ہمارے سروں پر مسلط کیا ہوا ہے ۔یہ پاکستان ان کے باپ کی جاگیر ہے ؟
نونیا : تو جہانگیر ترین کی جاگیر ہے ؟
انصا فیا : اس کا بیٹا 100%اعوامی سپورٹ سے آیا ہے ۔
نونیا :نون کے بچے بھی افریقہ کی نہیں پاکستانی عوام ہی کی سپورٹ سے آتے ہیں ۔
انصافیا :پاکستانی عوام تو جاہل ہیں ، انہی کی آکسیجن پر تو بھٹو بھی آج تک زندہ ہے ۔حتی کہ”غیر بھٹو “بھی اُسی کا کھا رہے ہیں ۔
نونیا : تم لوگ توجلسوں میں ناچ گانا کر کے عوام کو اکھٹا کر تے ہو ۔۔
انصافیا : جی نہیں ، عوام ایسی بھی جاہل نہیں، وہ ملک میں تبدیلی کے لئے صرف خان صاحب پر ایمان رکھتے ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں کا مجمعہ منٹوں میں اکھٹا ہو جاتا ہے ۔ ۔
نونیا : اب وہی عوام سمجھدار ہو گئی ؟ اور تبدیلی ، جوان خون سے آتی ہے ۔۔اور وہ ہیں ۔۔ مریم ، حمزہ ، حسن اور حسین ۔۔۔تم بتاؤ، کون جوان ہے تمھاری پارٹی میں ۔۔؟،شیریں مزاری ؟ فوزیہ قصوری ؟شیخ رشید ؟ جہانگیر ترین ؟مخدوم قریشی ؟عمران خان خود ؟
انصافیا : خاندان کی یوتھ کی بات نہیں ہو تی جاہل ، پورے ملک کی یوتھ ۔۔
نونیا : وہ بھی ہمارے ساتھ ہے ،ہمارے ہی لیڈر زہیں جو اپنے سے بیس سال چھوٹی عورت سے شادی کر کے پارٹی میں جوانوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں ۔
انصافیا : ہاں یہ خرید وفروخت تم لوگ ہی کر سکتے ہو ۔ ڈیلیوری بتاؤ کیا کی ؟
نونیا : اس بات کا ڈیلیوری سے کیا تعلق ؟
انصافیا : میں کاموں کی ڈیلیوری کی بات کر رہا ہوں ۔۔بچوں کی نہیں ۔۔تمھارے عیاش لیڈر اس کے علاوہ بھی کچھ ڈیلور کر رہے ہیں ؟
نونیا ت: اور کیا تمھارا لیڈر اپنی لفنگی حرکتوں سے باز آیا ؟۔۔ اپنی پیرنی سے ہی شادی کر لی ؟تو بہ تو بہ
(یہ سنتے ہی انصافیا کا رنگ زرد پڑگیا ۔۔۔۔بالکل جنوری 2015کی طرح ۔۔۔۔)
نونیا : اب تو پو رے ملک کی بازو پر خوشخالی کا تعویز بندھے گا ۔۔اور خاتونِ اول ، بادشاہ سلامت کو اپنی امان میں رکھیں گی ۔۔
انصافیا تیز دھڑکتے دل سے ۔:جی نہیں یہ دیکھو تردیدی بیان ، خان صاحب کا ۔۔
نونیا : یہ تو خا ن کا سٹائل بن چکا ہے ۔۔۔۔پہلے تردید پھر تحریک پھر تجدید ۔۔۔ پھر لذیذ ۔۔بعد میں غلیظ ہی غلیظ ۔۔ ( فلک پھاڑ قہقہ)۔
نونیا : مگر کسی کا گھر تڑوا کر ؟ تو بہ توبہ ۔۔طلاق دلوا کر ؟
انصافیا 🙁 آنسو چھپاتے ہو ئے): خان صاحب کی پر سنالٹی ہی ایسی ہے کہ کوئی بھی عورت ان کی خاطر اپنا گھر توڑ دے ۔ اس میں خان صاحب کا کیا قصور ۔۔ یہ تو mutual consentسے ہوا ہو گا نا ۔۔۔ وہ کوئی ایسی بچی تھوڑی ہے، تین بیٹیاں بیاہ چکی ہے ۔۔
نونیا : مان لو جانِ من :
جس عہد میں لٹ جائے پیروں کی لُگائی
اس عہد کے خان سے کچھ بھول ہوئی ہے
بالاخر انصافیا چیخ اٹھا : نکاح ہی کیا ہے نا کوئی گناہ تونہیں کیا؟ اور جو مریم گھر سے بھاگ گئی تھی، وہ ۔۔وہ کیا ؟
اور اس کے بعد دونوں کی غیرت آپس میں گھتم گھتا ہو گئی اور اس ساری پر مغز اور معلوماتی سیاسی گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ خان صاحب،شہباز شریف اور مریم نوازتینوں اس پاکستان کی وزارتِ اعظمی کے اہل قرا ر پائے جس کی مٹی پربزرگوں کو کبھی یہ یقین تھا کہ زرا نم ہو تو بڑی زرخیز ہے ، اب تو ماشاللہ نم چھوڑ کیچڑ ہی کیچڑ ہے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of