دل پر رکھ کر ہاتھ کہئے دیش کیا آذاد ہے ؟

Published on (October 26, 2016)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
دل پر رکھ کر ہاتھ کہئے دیش کیا آذاد ہے ؟
سیدہ سیدین کون ہیں ؟
سوشل اورالیکڑانک میڈیا کے اس زمانے میں جہاں بات آواز کی سپیڈ سے نہیں بلکہ روشنی کی سپیڈ سے پھیلتی ہے ،ایسے میں بھی ہماری کم علمی اور کو تاہی کہ بہت سے نگینے نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں ۔ اس میں عام لوگوں کا قصور شائد اتنا ذیادہ نہیں جتنا متعلقہ ذمہ دار محکموں کا ہے ۔ کچھ تاریخی افراد کی تصویریں ذہنوں میں نقش ہیں اور اس سے ہی ہم ان کی عادات و اطوار اورکارناموں کا اندازہ لگانے کی کوشش کر تے ہیں ۔ سرسید احمد خان کی طرح ، مولونا الطاف حسین حالی ، جنہیں شمس العلما کہا جا تا تھا ، ہمارے تصور میں ایک داڑھی والے مو لانا کے سوا کچھ اور نہیں آتے ۔ مسدسِ حالی کی یاد اتنی سی ہے کہ سرسید احمد کے کہنے پر مولونا حالی نے مسلمانوں کی زبوں حالی پر لکھی تھی ۔ یہ بھی جانتے ہیں کہ دونوں دوست تھے ۔ حالی کے مقدمہ ٗ شعر و شاعری کا ذکر بھی سن رکھا تھا ، کہ ایک ادبی تنقیدی کتاب ہے ۔شاعر تھے ۔۔ہاں ضرور تھے ۔ مگر غزل کے محبت اور عورت کے مضمون سے نکل کر نظم کو وسعتِ موضوع کی وجہ سے اپنا لیا تھا ،شائد پہلے شاعر تھے جنہوں نے قلم کو معاشرے کی اصلاح کے لئے استعمال کیا ۔ مناجات بیوہ لکھی ، چپ کی داد جیسی نظم کھبی کہیں پڑھائی گئی ؟ عورتوں کی تعلیم اور ان کے حقوق پر زور دیا ۔ اگر سرسید احمد خان اور مولانا حالی کی داڑھی والی تصویریوں سے آگے ان کی بصیرت سے بھی ہمیں روشناس کر وایا جاتا تو ،خدا کی قسم انڈیا اور پاکستان کے غریب خاص کر کے عورتیں ظلم کی چکی میں ایسے نہ پستے ۔
مولانا حالی نے اردو میں بائیو گرافی لکھنے کا آغاز کیا ، شیخ سعدی ، مرزا غالب اور سرسید احمد کی زندگیوں پر لکھا ۔ وہ لوگ اپنا کام کر گئے ، آگے اس شمع کی روشنی پھیلانا کس کی ذمہ داری ہے ؟ آج تک اس کا فیصلہ ہی نہیں ہو پایا اور یہ لوگ جو ٹسٹ آف ٹائم پاس کر کے زندہ ہیں مگر فراموش ہیں ۔ ہمارے اندر ان کی تعلیمات زندہ ہوتیں تو معاشرے کے یہ مصلح آج قبروں میں بے قرار اور زندہ انسان درگور نہ ہو تے ۔
سوال یہ ہے ۔سیدہ سیدیں کون ہیں ؟
یہاں تک کالم پڑھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو محترمہ سیدہ کی کھوج سے پہلے کھوجئے مولونا حالی کو ، سجاد حسین کو ، اور خواجہ احمد عباس کو ۔۔کیا ہم ان مشہور شخصیات کو ، ان کے ناموں سے آگے جانتے ہیں ؟ آپ سب ایمانداری سے جواب دیں گے تو وہ نہ میں ہو گا ۔ ہم مان جائیے کہ ہم ان شخصیات سے نا آشنا ہیں ۔ میں اس کالم میں ان میں سے کسی ایک شخصیت کو بھی نہیں سمو سکتی ، مگر پڑھنے والوں سے گذارش کرتی ہوں کہ پڑھئے ، جانئے اور کھوج کیجئے ،ان لوگوں کی جنہوں نے اپنی زندگیاں ، مسلمانوں کی تعلیم ، سدھار اور عزتِ نفس کی بحالی کے لئے وقف کر دی تھیں ۔ ان کا پیغام سمجھ آجائے گا تو دنیا میں جینے کا ڈھنگ بھی آجائے گا اور سر دنیا کے آگے خو د بخود اٹھ جائے گا۔اور پھر آپ سیدہ صاحبہ کو بھی تلاش کر لیں گے ۔
میری خوش قسمتی کہ ڈاکٹر تقی عابدی کے دولت کدے پرسیدہ صاحبہ کو سننے کا اتفاق ہوا ۔ خوبصورت اور گوری چٹی ،کشمیر میں پیدا ہو نے والی ،دھان پان خاتون کو اپنی نر م و نازک آواز میں مسد سِ حالی اور دوسری کتابوں سے اردو بند ، انگریزی ترجمعے اور پھر رومن میں دلنشین انداز میں پڑھتے سنا تو نجانے کیوں احسا س ہوا جیسے اس نزاکت کے پیچھے مولونا حالی صاحب کا رعب دار وجود پوری تمکنت کے ساتھ سہارا دیے کھڑا ہے ۔ ورنہ کہاں یہ نرم و نازک سا وجود کہاں 25کتابیں ، جن میں ابو لکلام آزاد ، عصمت چغتائی اور مولونا حالی کے کام کے تراجم بھی شامل ہیں ۔ ساری عمر انگریزی سکولز میں پڑھنے والی ، اردو میں بھی مکمل مہارت رکھتی ہیں ۔ اردو ادب کے شاہکار پاروں کا انگریزی میں ترجعہ بلاشبہ اردو ادب کی بہت بڑی خدمت ہے ، نئی نسل تک ، اردو ادب کسی بھی طریقے سے پہنچے ، انگریزی تراجم کے ذریعے یا رومن کے ذریعے ،لیکن پہنچا نے کی ٹھان رکھی ہے ۔
میں نے جب دستک کے لئے ان کاا نٹرویو کیا تو مجھ پر حیرت کے مذید در وا ہوئے ، انہوں نے voice of the voiceless
صرف لکھی نہیں بلکہ گاؤں گاؤں جا کر بے بس عورتوں کے لئے عملی کام بھی کیا۔ نیشنل کمیشن فار وومن کی ممبر تھیں ، بتاتی ہیں ایک ایک کیس کو خود سن کر حل کر تی تھیں ،اسلام کے نام پر مرد کو مولوی کی دی ہو ئی ناجائز شے ، جس میں تین طلاقیں ، حق مہر ، چھوٹی عمر کی لڑکیوں سے شادیاں ، ایک سے ذیادہ شادیاں ، کو ببانگِ دہل چیلنج کیا :
دیش میں عورت اگر بے آبرو ناشاد ہے
دل پر رکھ کر ہاتھ کہئے دیش کیا آذاد ہے
سید ہ صاحبہ پہلی مسلمان خاتون قاضی بھی ہیں ، جنہوں نے نکاح پڑھوایا ،اور گواہوں میں دو مردوں کی بجائے چار عورتوں کی گواہی ڈلوائی ، جب وہ مجھے یہ بتا رہی تھیں ، پھر سے ان کے چہرے پر مجھے مولونا حالی صاحب کی پر چھائیں نظر آئی ، ورنہ یہ ذرا سا وجوداور طاقت ور مولوی کا مقابلہ ؟
میں نے ان سے پو چھ ہی لیا کہ; “بتائیے ذرا آپ میںیہی ٹیلنٹ ، یہی جذبہ اور یہی لگن ہو تی ، مگر آپ مولونا حالی کی پڑپوتی نہ ہو تیں ، سجاد حسین آپ کے دادا ، سیدین ،آپ کے ابو اور خواجہ احمد عباس آپ کے چچا نہ ہو تے تو کیا آپ یہ سب کام کر پاتیں؟” ۔۔
عاجزی سے بولیں جو ، ہمت کے ساتھ ساتھ مولونا صاحب کی میراث ہے ؛
“افسوس کے ساتھ کہتی ہو ں کہ نہیں کر پاتی ۔”
سوچتی ہوں شائد کر بھی پاتیں مگر اس وقار اور عزت کے سا تھ نہیں ۔ عام گھرانوں کی عورتوں کو مواقع حاصل کر نے کے لئے ، آگے بڑھنے کے لئے ، آج کے ماڈرن دور میں بھی ، کسی نہ کسی صورت کو ئی نہ کوئی قیمت ادا کر نی پڑتی ہے ۔ عورتوں کے حقوق کے لئے جد و جہد کرنے والے ، عورتوں کی اقتصادی اور سماجی اہمیت کو منوانے کے لئے لمبی لمبی لڑائیاں لڑنے والے یہ لو گ برصغیر کی مٹی کااثاثہ ہیں ، اس مٹی کے امن اور خوشخالی کے لئے ، اب اس اثاثے کا استعمال ناگزیر ہو گیا ہے۔
بتاتی ہیں کہ: “ہندوستان کے چپے چپے کا سفر کیا ، عورتوں کی کہانیاں سنیں ، کیرالہ وغیرہ جہاں کسی زما نے میں عورتوں کے ناموں سے گھروں کی پہچان ہو تی تھی ، کہ فلاں بی بی کا گھر ہے ، عورتوں کی empowermentکو دکھا تا تھا ، اب ایسے علاقوں میں عورتوں کے خلاف ہو نے والے جرائم سے ہم پریشان ہیں ”
جگمگاتے چہرے سے بتایا کہ :امن کی خاطر ،دہلی سے لاہور اور کلکتہ سے ڈھاکہ تک عورتوں سے بھر ی بسیں چلا ئیں ، کارگل کی لڑائی کے دن تھے ، اور ہم سب عام عورتیں تھیں ، حکومت یا کسی فنڈ سے نہیں ، اپنے اپنے خرچے سے جا رہی تھیں ،سرحد پار سے استقبال کے لئے آنے والی خواتین نے بھی اپنے گھروں اور دل کے دروازے کھول دئے ، پھر وہاں سے بھی عورتوں کی بس ،ا سی طرح ہمارے نقشِ قدم پر چلتی ہوئی ، اپنے خرچے پر ، آئی ۔ ہم نے بھی پر جوش استقبال کیا ، پھرحکومتی نمائندے اور سیاستدان بھی ملے ۔۔عورتیں امن میں سب سے بڑی سٹیک ہو لڈر ہو تی ہیں ، اس لئے جتنے جذبے سے وہ امن کے لئے کام کر سکتی ہیں ، کوئی اور نہیں ۔ ”
میں نے پو چھا: “آج کل کے حالات دیکھ کر ، جس میں امن پھر کونے کھدرے میں جا چھپا ہے ، آرٹ اور آرٹسٹ کو سرحدوں سے نکالا جا رہا ہے ، انتہا پسندی اپنے پو رے عروج پر ہے ، ایسے میں آپ کی کی گئی کو ششیں تو ضائع گئیں ”
چمکتا ، دمکتا چہرہ پل بھر کو سیاہ پڑ گیا ، افسردگی سے بولیں ،” ہاں یہ سب حالات دیکھ کر دل بہت دکھی ہو تا ہے ، ہم ہندوستان میں اس رویے کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور اٹھاتے رہیں گے ۔ ”
کمرہ ایک دفعہ پھر سے مولانا حالی کے وجود سے بھر گیا جیسے کہہ رہے ہوں :
“ظلم اور سامراجیت سے آزادی حاصل نہیں ہو ئی ۔۔ امن کے لئے جنگ جاری ہے ۔۔”

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of