"خواب سے لپٹی کہانیاں" ۔۔اور اب اس کے خواب"

Published on (May 20, 2016)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
“خواب سے لپٹی کہانیاں” ۔۔اور اب اس کے خواب”
اردو میں کہانی لکھنا اور پھر اسے چھپوانا اور پھر کتابی شکل دینا ، یہ سب مراحل ہیں جن سے ایک بچارہ غریب مصنف اپنی جان پر کھیل کر گذرتا ہے ۔” خواب سے لپٹی کہانیوں” کو سلجھانا شائد اتنا مشکل نہیں جتنا ، اس کہانی کی اشاعت سے اورا جراء سے لپٹی گتھیوں کو سلجھانا ہے ۔ میری افسانوں کی اس کتاب میں پاکستان میں بسنے والے عام لوگ اور تارکین وطن کے جذباتی ، نفسیاتی ، معاشی اور معاشرتی مسائل کی کہانیاں ہیں۔ اور ان کہانیوں کو کتابی شکل میں شائع کرواتے کرواتے میرے کچھ خواب ، اردو ادب کی اشاعت و ترویج سے بھی جڑ گئے ہیں ۔ اور اب میں اٹھتے بیٹھتے ایک خواب دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں شائد اس خواب کی تعبیر اتنی مشکل نہ ہو کیونکہ جو اس خواب کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں وہ معاشرے کا کوئی عام یا جاہل طبقہ نہیں ، بلکہ پڑھے لکھے، سوچنے سمجھنے اور انقلاب کی باتیں کر نے والے لو گ ہیں ۔
میری مراد پبلشرز سے ہے ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ اردو زبان کا پبلشر دنیا کی باقی چھپنے والی زبانوں سے کچھ سبق حاصل کر لے ؟
کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کتاب کو چھاپنے اور اس سے پیسے کمانے کے آگے بھی وہ کوئی اور خواب دیکھ لے ؟
ایک اچھا پبلشر جب کتاب چھاپنے کی حامی بھر لے تو اس کے پیچھے کتاب کا معیاری ہو نا شرط ہو اور ایک دفعہ اگر پبلشر اسے اپنا لے تو بس ایمانداری سے اپنا فر ض نبھائے ۔ اس کی مارکیٹنگ بھی کر ے اور اس کے فر وخت ہو نے کے بعد جو رقم وصول ہو اس کی رائلٹی بھی رائیٹر کو دے ۔ آج اگر ہمیں پاکستان میں پڑھنے والوں کی تعداد میں ایک تشویشناک کمی محسوس ہو تی ہے تو اس کی اولین ذمہ داری پبلشرز کو جاتی ہے ۔ جیسے کینڈا میں کسی بھی نئی کتاب کی بھر پو ر پبلسٹی پبلشر کا کام ہو تا ہے ۔ اس سے رائٹر کا کام صرف لکھنا رہ جا تا ہے ۔ یہ نہیں کہ پہلے تو اپنا لہو جلا جلا کر ، آنسوؤں میں ڈوب ابھر کر ، اپنی زندگی کو کرداروں میں جذب کر کر کے اپنی جان کھپا لے اور پھرپبلشر منہ مانگے دام بھی وصول کر ے اور نہ کتاب کی پبلسٹی کر ے اور نہ کتاب کو بک سٹورز تک پہنچائے ۔ تو عام لوگوں کو خواب سے لپٹی کہانیوں کے بھی خواب نہیں آئیں گے کہ وہ کسی نے اپنا خون جلا کر لکھی ہے ۔
جب رونا یہ رویا جاتا ہے کہ لوگوں میں پڑھنے کا رحجان ختم ہو گیا ہے تو کیا اس کے اسباب پر کسی نے غور کیا؟ْ اسباب پر غور کر لیا تو کیا کسی نے ان کا تدارک کر نے کی کوشش کی ؟ اگر پبلشنگ کا کام ایمانداری اور تندہی سے کیا جائے تو اس میں تینوں کا بھلا ہے ، لکھنے والوں ، پڑھنے والوں کا اور پبلشر کا بھی ۔۔ اس میں نقصان کسی ایک پارٹی کا بھی نہیں ہے، مگر نہیں سستی اور بے ایمانی کی وجہ سے ہم کسی کام کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور پھر اسی کو زمانے کا ستم کہہ کر کبھی شعر میں اور کبھی کالم میں سمو دیتے ہیں ۔
پبلشرز کے بعد قصور وار ہیں سنئیر رائٹرز ، جن کو اتنی فرصت نہیں کہ وہ نئے لکھنے والوں کی یا جونئیر رائٹرز کی حوصلہ افزائی نہیں تو حوصلہ شکنی کے لئے ہی وقت نکال سکیں ۔ ان کو جب کوئی نئی کتاب رائے کے لئے دے تو وہ پڑھنے کا وقت نکال کر یہی کہہ سکیں کہ بھائی لکھنا تمھارے بس کی
بات نہیں کوئی اور کام دھندہ شروع کر لو ۔اگر سنئیر رائٹرز اپنی انا کے خول سے باہر نکل کر جونئیرز کی بغیر کسی لالچ ،مروت یا لحاظ کے حوصلہ افزائی یا حوصلہ شکنی کر یں گے تو ان کی اس غیر جانبدار دلچسپی سے معیاری ادب تخلیق ہو نے اور شائع ہو نے میں کا فی مد د ملے گی ۔ ورنہ ردی کے ڈھیر میں کتاب نما چیزوں کا اضافہ ہو تا جائے گا ۔
تیسرا قصور ہے اس تیسرے stakeholderکا ،جو سب سے اہم ہے کیونکہ اس کے لئے ہی کتاب لکھی جاتی ہے ۔ رائیٹر جی جان لگا کے اپنی کتاب کو عام قاری تک پہنچانے کی کامیاب کو شش کر بھی لے تو قاری محترم کا انداز بڑا بے پرواہ ہو تا ہے ۔ اردو کی کتاب کو دیکھ کر ایک تو اس کا تاثر یہ ہو تا ہے کہ شائد لکھنے والا کم پڑھا لکھا یا کم ذہین ہے، کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام کے دوہرے پن نے جہاں انسانوں میں دوہرا پن پیدا کر دیا ہے اسی طرح یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ صرف انگلش بولنے ، اور لکھنے والا ہی ذہین ترین اورپڑھا لکھا آدمی ہو سکتا ہے ۔ حالا نکہ اصلی دانشوروں نے اس بات پر بار بار زور دیا ہے کہ زبان چاہے انگلش ہو یا کوئی بھی وہ صرف رابطے کے لئے ہے ، ذہنی درجات کا تعین کر نے کے لئے نہیں ہے ۔ مگر ہماری کمیونٹی میں اردو کتاب لکھنے والے کو سرسری طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس سے کسی سمجھداری کی توقع نہیں رکھی جا تی اور کو شش کی جاتی ہے اس سے کتاب مفت ہی ہتھیا لی جائے ۔ ہم سب فضولیات پر پیسے ہنسی خوشی خرچ کر دیں گے مگر کتاب، وہ بھی اردو کی کتاب اسے خرید کر پڑھنے میں ہتک محسوس کر یں گے ۔ یہ لکھنے والے کے لئے ایک اور دھچکا ہو تا ہے ۔ اس کے لئے اسے کتاب کا اجراء کر وانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے پڑتے ہیں جہاں پر وگرام کا اعنقاد کرنے والا اور اس پر تبصرہ کر نے والے اگر ہال میں بیٹھے لوگوں کو کتاب کے بارے میں اشتیاق دلانے میں کامیاب ہو جائیں تو مصنف کی چاندی ہو سکتی ہے ورنہ اجراء کے موقع پر کتابوں کے سٹال کو ہال تک پہنچانا اور پھر وہاں سے گھسیٹ کر واپس لے کر جانا ایک مر حلہ ہو سکتا ہے جس کے لئے پھر سے دو چار آدمیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔
اردو کے مصنف کے لئے لکھنے کے حالات اس قدرمخدوش ہیں کہ اگر اس کی ہڈی مضبوط اور ڈھیٹ نہ ہو تو وہ جلد ہی لکھنے سے نہ صرف خود توبہ تائب کر لے گا بلکہ اپنی نسلوں کو بھی اردو زبان سے دور رکھے گا اور جیسے کہ اب ڈھٹائی کا کام بھی سیاست دانوں کی میراث بن کے رہ گیا ہے اس لئے اردو کا مستبقل اور اس کا مصنف دونوں کی جان خطرے میں ہے ۔
“خواب سے لپٹی کہانیاں” لکھ تو دی مگر اس کے ساتھ اور خواب جڑ گئے ہیں ۔ اور خواب ہی ایک ایسی چیز ہے جن پر نہ کوئی حد لگتی ہے اور نہ کو ئی شریعت ۔۔کہیں بھی کوئی بھی خواب آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ رفیع مصطفے لکھتے ہیں کہ:
‘ اس کتاب میں ہر کہانی کا ایک اچھو تا خواب ہے” ، رفیع صاحب یہ ایک اور خواب ہے جو اس کتاب سے باہر کھڑا کتاب کے لئے دیکھا جا رہا ہے ۔حسین حیدر لکھتے ہیں:
‘ روبینہ کی کہانیوں میں ٹورنٹو کے دیسی ماحول کی عکاسی کی گئی ہے،حقیقی واقعات کی جھلک دکھائی گئی ہے اور جیتے جاگتے کر داروں کے ذریعے یہ واضح کیا گیا ہے کہ محفوظ اور خوشخال دنیا کے خواب کی تعبیر حاصل کر نے میں یہاں کیا کیا مشکلات اور رکاوٹیں آسکتی ہیں جن سے نبر د آزما ہو نے کے لئے ہمیں سمجھداری اور صبر کی ضرروت ہے” ۔ حسین حیدر صاحب یہ صبر ہر خواب کی تکمیل کے لئے ضروری ہے مگر تکمیل و تعمیر کا کام کہیں سے شروع بھی تو ہو نا چاہیئے ، کتاب کے اندر کی کہانیاں جو خواب سے لپٹی ہیں ، ان کا تو کہیں نہ کہیں کوئی حل ہو گا مگر یہ خواب جو کتاب سے باہر کھڑا ہے اور اسی کتاب کو قارئین تک لے کر جا نا چاہتا ہے اس کی تعبیر کبھی لکھنے والوں اور پڑھنے والے حق داروں کو ملے گی ؟
کچھ دیوانے اردو میں لکھتے رہیں گے مگر ایک پیشن گوئی ہے کہ اردو زبان تو شائد سننے بولنے کی حد تک زندہ رہ جائے مگر اردو ادب کی تدفین اس کے اپنے پیاروں ہی کے ہاتھوں عنقریب ہو جائے گی ۔اور پیاروں میں شامل ہیں اردو کے سنئیر ادیب جو سانپ کی طرح خزانے پر پھن پھیلائے بیٹھے ہیں کہ کو ئی لُچا ٹُچا چوری نہ کر لے اور پبلشر حضرات جو این جی او چلانے والی بیگمات کی طرح ایڈمنسٹریشن خرچے کے نام پر پیسے تو ہڑپ کر ہی جاتے ہیں مگر اس احتیاط سے کہ کتاب کی سُن گُن بھی باہر نہ نکلنے پائے مبادا غلطی سے بھی کسی لکھنے یا پڑھنے والے کو فائدہ نہ ہو جائے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of