تین رنگی جھنڈا (انڈیا سفر نامہ ۴)

Published on (December 17, 2014)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
تین رنگی جھنڈا (انڈیا سفر نامہ ۴)
سوئے ہوئے چند ہی گھنٹے ہوئے ہونگے کہ ناشتے کا سندیسہ آگیا ۔ڈائننگ ہال میں پہنچی تو کینڈا سے تشریف لائے ہوئے ناظم الدین مقبول ، ڈاکٹر تقی عابدی اورنومان بخاری موجود تھے ۔ ڈاکٹر تقی نے دوسرے ممالک اور انڈیا کے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے مندوبین سے مجھے متعارف کرویا ۔ ڈاکٹر تقی عابدی کی اردو زبان سے محبت دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ڈاکٹر مریض کی نبض میں بھی اردو کو ہی ڈھونڈتے ہونگے۔ ڈاکٹر صاحب بہت نفیس اور عمدہ انسان ہیں اس لئے انہوں نے اتنی ہی نفاست اور عمدگی سے میرا تعارف کم اور تعریف ذیادہ کی کہ مجھے بولنا پڑ گیا کہ ڈاکٹر صاحب کی باتوں کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے ۔ مگر وہاں موجود سب لوگوں نے میری بات کو غیر سنجیدہ لیا اور ڈاکٹر صاحب کی بات پر ان کے کسی ڈاکٹری نسخے کی طرح یقین کیا ۔ اور مجھے بتانے دیجئے کہ وہاں اتنی عزت ملی کہ میں لاکھ چاہوں بھی تو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔
علی گڑھ کے پروفیسر صغیر افراہیم اور ان کی بیگم ڈاکٹر سیما صغیراورپرفیسر ابو الکلام قاسمی شکاگو کے امین حیدر ، سری نگر کے پروفیسر زمان آزردہ ،فیصل آباد کے پروفیسر آصف عوان ، لاہور کے مرزا حامد بیگ ،جاپان کے ناصر نا کاگاوا،پاکستان کے جمیل اصغر ،ایران کی وفا یزدان ،فرزانہ اعظم لطفی اورپروفیسر علی بیات ازبکستان کے ڈاکٹر سراج دین ،میروت کے ڈاکٹر اسلم ،مصر کے ڈاکٹر گلال ،مارششس کے عنایت حسین اور جرمنی کے اقبال حیدر ،ممبئی کے شاہد لطیف ،ترکی کے ڈاکٹر خلیل طوق اور ،پروفیسر مظفر شہ میری ،علی فاطمی اور کئی نام صفحہء یا داشت سے پھسل گئے ہیں، ان سب سے ملنا میرے لئے اعزاز تھا ۔ اور ناشتے کی میز پر ہی سب ایک بڑے خاندان کا روپ دھار چکے تھے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سب ایک دوسرے کو نہ جانے کب سے جانتے ہوں ۔ یہ شائددہلی کی دوستانہ ہوا کا اثر تھا ، وہ دلی جس کو دشمنوں نے روندا بھی تو اس نے اپنی اجڑی مانگ کو پھر سے سجا کر دشمنوں کو بھی گلے سے لگا لیا ۔یہ اسی دلی کی کشادہ دلی تھی جس نے لمبے سفر کی تھکن اور بیزاری کے بعد بھی ہر چہرے کو خوبصورت مسکراہٹ اور محبت کا تحفہ دے کر ترو تازہ اور شگفتہ بنا دیا تھا ۔ ہر کوئی خواشگوار موڈ میں تھا ۔
یہ 31 اکتوبر 2014 کی صبح ، اور عالمی اردو کانفرس کا دوسرا دن تھا ۔ ویزے کی مشکلات کی وجہ سے میرا کانفرس کا پہلا دن ضائع ہوچکا تھا ۔ ناشتے کے بعد ،سب ایک بس میں سفر ہو کرJNU convention centreپہنچے ۔یہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا بہت کشادہ اور خوبصورت ہال تھا ۔ باہر نہرو صاحب کا مجسمہ سیڑھیا ں چڑھتے ہی مجھے مسکرا کے دیکھ رہا تھا ، میں نے ان سے سلام دعا کی ۔ اور پتہ نہیں کیوں ایسے ہی شکوہ کر ڈالا “کیوں آپ نے یہ کہا تھا کہ ہندوستان میں دو ہی طاقتیں ہیں ایک برٹش اور ایک کانگرس کے انڈین نیشنل ۔ کیا تھا اگر مسلم لیگ کو اپنی ہم پلہ جماعت مان لیتے ؟ کیوں ہمارے جناح کو اتنا زچ کیا کہ انہیں کہنا پڑا “ایک تیسری قوت بھی ہے اور وہ ہیں مسلمان “۔۔۔نہرو صاحب کچھ کہنے ہی والے تھے کہ قومی کونسل کی ایک سٹاف میرے بازو میں آکر کھڑی ہوگئیں ۔۔آپ کینڈا سے روبینہ فیصل ہیں ؟ پہنچ گئیں ؟ وغیرہ وغیرہ جیسے سوال جواب شروع ہوگئے ۔ پتہ نہیں آبگینہ کی دفتری ڈیوٹی تھی یا اس کا اپنا پیار کانفرس کے باقی دو دن اس پیاری سی خاتون نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا میری چھوٹی چھوٹی باتوں کا دھیان رکھا ۔ اور میں قومی کونسل کی میزبانی جو میرے تک آبگینہ کی صورت پہنچی تھی ، سے بہت متاثر ہوئی ۔ ہال کے اندر گئے تو سٹیج پر خواجہ اکرام الدین جو قومی کونسل اور اس عالمی کانفرس کے روح رواں تھے ان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ اتنے عاجزانہ انداز سے کھڑے تھے کہ میں انہیں ہی پوچھ رہی کہ اکرام صاحب کہاں ہیں ۔ میرا خیال تھا ڈائرکٹر ہیں ، تو بڑی توپ چیز ہونگے ، کیونکہ ابھی تک ان سے رابطہ ای میل یا فون سے ہی تھا ۔ انہیں میں نے بہت متحرک اور منظم پایا ۔کانفرس کے انتظامات بہت اعلی پائے کے تھے ۔ یہ ایک مکمل طور پر سنجیدہ اور علمی کانفرس تھی ۔ کہیں فضول قسم کی نمود و نمائش نظر نہیں آرہی تھی ۔ ہال نوجوان طالبعلموں صحافیوں اور مہمانوں سے بھرا ہوا تھا ۔ایک بڑی مثبت قسم کی فضا تھی ۔ جس کی روشنی شائد ڈاکٹر اکرام کے وجود سے نکل کر سب مہمانوں اور مندوبین تک پہنچ رہی تھی ۔
پروفیسر ابولکلام قاسمی ، ڈاکٹر تقی عابدی اور سید محمد اشرف جیسے مقررین کو سن کر معلوم ہوا ہندوستان کی تقریر کا روایتی حُسن کسے کہتے ہیں ۔
بہادر یار جنگ بھی کیا ایسی ہی تقریر کرتے ہونگے ؟ کانفرس کے باقی شرکا کے پیپرز بھی سننے کے قابل تھے ۔ سب کے مراسلے چونکہ چھپ چکے تھے اس لئے مختصر بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا ۔
مہمان نوازی لنچ ٹائم ، ٹی ٹائم میں بھی عروج پر تھی ۔ کانفرس کا دوسرا روز بھی ختم ہوا ۔ شام ڈھل چکی تھی ۔ اور میرے پاس دلی دیکھنے کے بھی بس یہی دو دن تھے ۔ جب ہوٹل واپس پہنچے تو کم وقت میں ذیادہ سے ذیادہ دلی دیکھنے کا لالچ ۔مگر ہوٹل ریسپیشن سے پتہ چلا کہ رات کو بڑی ٹیکسی ملنا بہت مشکل ہے ۔ اتنا ترقی یافتہ دلی اور ٹیکسی کی یہ صورتحال بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی ۔میرے پاس دلی دیکھنے کا ذیادہ وقت نہیں تھا اوربڑی ٹیکسی کے انتظار میں وقت ضائع ہونے لگا اس وجہ سے ڈاکٹر تقی عابدی جھنجلاہٹ کا شکار ہونے لگے ۔ خیر جیسے تیسے کر کے ہمیں وہی ٹیکسی ملی جس کا ڈرائیور وہی شام تھا جس پر میں ایک پورا کالم لکھ چکی ہوں ۔اب ہم پہلے ڈنر کے مقام کریم مغلئی ریستوان پہنچے ۔یہ تاریخی ریستوران 1913میں بنا تھا ۔مین برانچ پرانی دلی میں تھی ۔حسبِ معمول ڈاکٹرتقی کی مہمان نوازی یہاں بھی عروج پر تھی ۔ میں اپنے ایرانی ساتھیوں وفا اور علی کو تیز مصالحے کھاتے دیکھ کر حیران ہو رہی تھی ۔ بلا شبہ یہ ہماری زندگی کا ایک یادگار کھانا تھا ۔
انڈیا گیٹ جانا ہے ۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی شام کو کہا گیا ۔رات کے اندھیرے میں اس” جنگ کی یادگار” کو محسوس کرنے کی کوشش کی ۔ یہ گیٹ ان 82000فوجیوں کی یاد میں بنایا گیا تھا جو( 1914-21 ) پہلی جنگِ عظیم میں متحدہ ہندوستان کیطرف سے لڑتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ بعد میں اندر ا گاندھی نے 1972میں یہیں پر امر جوان جیوتی کا افتتاح بھی کیا ۔ یہ 1971میں بنگلہ دیش کی آزادی کی لڑائی میں انڈین فوجیوں کی جان سے جانے کی یاد میں مستقل آگ کے آلاؤ کی صورت میں انڈیا گیٹ میں ایک اضافہ ہے ۔ ری پبلک ڈے پر مارچ راشٹر پتی بھون سے شروع ہوتی ہے اور انڈیا گیٹ سے گذرتی ہے ۔ ہرشام سات بجے سے ساڑھے نو تک اسے روشن کر دیا جاتا ہے ۔
آپ کو انڈیا کا سب سے بڑا جھنڈا دکھاتا ہوں اور شام اپنی من مانی کرتا ہوا ہمیں کناٹ پلیس لے گیا ۔ وہاں پر 5 3
کلو گرام وزنی 5400sq ft چوڑا اور 207 فٹ اونچے پول پر انڈین ترنگا آزاد فضاء میں جھوم رہا تھا ۔ راستے میں آتے ہوئے سگنل پر کھڑی ہماری گاڑی کی کھڑکی سے چپکے فقیر بچوں نے تھوڑی دیر کے لئے شام کو خاموش کروایا تھا مگر اس جھومتے ترنگے کے آگے ہماری تصویریں کھینچتے ہوئے شام کی آنکھوں میں وہ عزم اور فخر جھلکتا تھا ، جو 31 دسمبر 1929کوجواہر لال نہرو نے دریائے روای لاہور ( جو اس وقت متحدہ ہندوستان کا شہر تھا )کے کنارے تین رنگی انڈیا کا جھنڈا لہرا کر ہر ہندوستانی کو بخشا تھا ۔
اس جھنڈے کو آندھی بھی اپنی جگہ سے نہیں اکھاڑ سکتی ۔۔شام نے بتایا ۔
اندھیرے کے شر سے بچا نے کے لئے مسٹر جنڈال نے جو کوڈ آف انڈین فلیگ بنا رکھا ہے کہ رات کے اندھیرے میں پرچم کو لہرانے نہ دیا جائے ۔ مگر اس بڑے پرچم کو ہر ہندوستانی کے دل میں گاڑنے کے لئے یہ اصول توڑا گیا اور ہم نے دیکھا رات کے اندھیرے میں یہ بھاری بھر کم پرچم بہت بلندی پر لہرا رہا تھا ، شائد اسی کے ذریعے ہندوستانی قوم کو خود اعتمادی اور مضبوطی کا سبق دیا گیا ہے ۔
برٹش راج کے زمانے میں بننے والا یہ کناٹ پیلس اب دنیا کے بڑے تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے اوررسمِ دنیا کے مطابق اس کے چوکوں کے نام راجیو چوک اور اندر گاندھی کے ناموں میں بدلے جا چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔(جاری ہے )

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of