!!تبدیلی ناگزیر ہے 

Published on (May 08, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
!!تبدیلی ناگزیر ہے
کینڈا میں پاکستانی کمیونٹی کا درخت ابھی اتنا قد آوار ،پرانا اور مضبوط نہیں ہے ۔پرانی بستیاں چھوڑ کر جب نئی بستیاں بسائی جاتی ہیں تو یہ اسی طرح ہوتا ہے جیسے ایک انسان اپنے کئیرئیر کا آغاز کرتا ہے ۔ اسے بڑی بڑی باتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں ، اپنا مقام بنانے کے لئے محنت کے ساتھ ساتھ اس جگہ کے طور طریقے اور انداز اپنانے پڑتے ہیں ۔ہجرتوں کو اسی لئے کربناک کہا جاتا ہے کہ اس میں ہم نہ صرف اپنا ماضی بلکہ گلیاں اور گواہیاں سب چھوڑ آتے ہیں ۔
یادوں کا دامن تھام لینے والے سہانے مستقبل سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ماضی سے دامن چھڑا کر کچھ لوگ اپنے آپ کو مکمل طور پر حال میں ڈھال لیتے ہیں اور کامیابی پاتے ہیں ،کچھ لوگ نہ ماضی کو چھوڑتے ہیں نہ حال سے آنکھیں بند کرتے ہیں ، دونوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور ایک درمیانی سی کامیابی پا لیتے ہیں ۔
کینڈا کا سب سے پر کشش نعرہ ملٹی کلچرلزم ہے جس کی خوبصورتی یہ ہے کہ کینڈا میں تمام ثقافتیں برابری کی سطح پر پھل پھول رہی ہیں ۔ اپنی زبان ، اپنے تہوار ،اپنے کھانے اور اپنے مذاہب اور ان سے جڑی روایت سب کو اپنانے ،اپنی نسلوں میں آگے منتقل کرنے پر پابندی نہیں ہے ۔دنیا کے جتنے بھی مہاجر کینڈا کی سرزمین پر بستے ہیں وہ سب اپنی اپنی شناخت کے ساتھ آزادی سے رہتے ہیں ۔ یہ پہلو بہ پہلو چلتے کئی ثقافتوں اور سماجوں کے چشمے ایک دوسرے میں جذب ہوتے نظر نہیں آتے ۔ کینڈا کا اپنا کلچر کیا ہے ؟ اس کا جواب ہے یہی ملٹی کلچرل ازم ہی کینڈا کا اپنا کلچر ہے ۔ یعنی بغیر جذب ہوئے ساتھ ساتھ بہنے والے دھارے ؟ ہاں یہی ۔
اس کے فائدے تو بہت سے ہیں ۔ لوگوں کو اپنی شناخت کے ساتھ دنیا کے بہترین ملک میں رہنے کا موقع ملتا ہے ۔ مگر ایک بہت بڑا نقصان ہے کہ اپنی اپنی ثقافتوں میں سمٹے لوگوں کو کسی ایک جگہ اکھٹا ہونا پڑ جائے تو کیاہو گا ؟ جب کوئی legislationایسی بنے جس میں white culture کی جھلک ذیادہ نمایاں ہو رہی ہو تو کیا ہوگا ؟
اس کا عملی مظاہرہ ہم نے نئے sex ed curriculum کے اوپر ایشائی لوگوں کے ردِ عمل سے دیکھ لیا ہے ۔ ہم بچوں کے ساتھ ذیادتی کی خبریں پڑھ کر افسوس کا اظہار کرتے اور بے بسی محسوس کرتے ہیں کہ مگر بچوں سے اس موضوع پر بات کرنے سے جھجکتے ہیں ۔بچوں کے ساتھ ذیادتی ہو جائے اور ان کی زندگیاں تباہ ہوجائیں یہ کڑوی گولیاں ہم کھاتے رہتے ہیں اور کوئی جلوس نہیں نکالتے مگر بچوں کو” اس قسم کی آگاہی نہ ہو کہ ان کی معصومیت خراب ہوجائے” اس کے خلاف ہم جلوس نکال لیتے ہیں ۔ گریڈ ون کے بچے کو اپنے جسم کے اعضاء کے بارے میں آگاہی دینا اگر تعلیمی نصاب میں شامل ہو جائے تو غلط کیسے ؟ کیا ہمارے گاؤں شہروں میں مائیں مختلف ناموں سے ان اعضاء کے بارے میں بچوں کو نہیں بتاتیں ؟
اور جب گریڈ ون کے بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتیاں ہو رہی ہیں تو ان بچوں کو انہی کے جسم کے بارے میں آگاہی دینا کہاں کا جرم ہے ؟ یا تو بتایا جائے کے دنیا میں ایسے جرائم نہیں ہو رہے یا تو بتایا جائے کہ بچوں کو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہ سب کینڈا کے گوروں کے گندے ذہن کی اختراع ہے اور وہ یہ آگاہی دے کر لوگوں کو اس طرف راغب کر رہے ہیں اور اس سے پہلے دنیا ایک جنت تھی ۔
بچے جب بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہیں تو انہیں اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کی سمجھ نہیں آتی ۔ کئی بچے ڈر جاتے ہیں ۔ ہارمونل تبدیلیوں سے گھبرا جاتے ہیں ۔ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں اور کئی تنہا پسند ہوجاتے ہیں اور اپنے اپنے حساب سے اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کے بارے میں پہلے سے ہی کینڈا کے نصاب میں موجود ہے مگر اب گریڈ ۵ سے گریڈ ۳ میں منتقل کیا جارہا ہے ۔ اور اس کی وجہ کہ اب میڈیا اور دوسرے عناصر کی وجہ سے بچے بلوغت کی عمر میں جلدی پہنچ رہے ہیں ۔
جنسی بے راہ روی سے جڑی بیماریوں کے ذیادہ پھیلنے کی وجہ سے بچوں کواس کے بارے میں بتانا اس لئے غلط نہیں ہے کہ یہ والدین کا ماننا ہے کہ ان کے بچے معصوم ہیں ،بچے اپنے بارے میں یہ خیال نہیں رکھتے ۔ وہ ایک آزاد معاشرے میں اپنے والدین کے ذریعے اور مرضی سے پہنچے ہیں ، وہ نئی دنیا اور نت نئے تجربات کرنے کے لئے اپنے والدین کا نظریہ نہیں رکھتے ۔ اس معاشرے میں آکر آپ گھر بیٹھے یہ تصور کر لیں کہ آپ کے بچے GLBTسے نابلد ہیں تو اسے خوش فہمی ہی کہا جا سکتا ہے ۔ ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ بتانے کی ضرورت کیا ہے ؟ بچے خود ہی وقت کے ساتھ سیکھ جائیں گے ۔ ایک جذباتی خاتون نے مجھے کہا آپ کو کس نے بتایا تھا ؟ یہ بہت دقیانوسی سوچ ہے اسے بدلنا ہوگا ۔ دس سال پہلے بھی دنیا کے حالات یہ نہیں تھے ، ہر گذرتا وقت پچھلے وقت سے مختلف ہوتا ہے ۔آج معلومات کی دنیا ہے ، ایک انگلی دب جائے آپ کے سامنے کیا کیا مناظر آسکتے ہیں ، سمارٹ فون اور سمارٹ بچوں کا زمانہ ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا جب ہمیں نہیں بتایا گیا تو کیا بچوں کے ساتھ ذیادتیاں نہیں ہو رہی تھیں ؟ پاکستان میں تو یہاں تک بے ہودگی دیکھی گئی ہے کہ مردوں کی محفل میں معصوم چھوٹے بچوں کا پاجامہ تفریح کی خاطر نیچے کھینچ دیا جاتا ہے اور پھر سب بچے کی گھبراہٹ کا مزہ لیتے ہیں ۔ کیا ان رویوں کے خلاف کبھی ہم نے پاکستان میں بیٹھے جلوس نکالے ؟ پچھلے دنوں جب ایک پانچ سال کی بچی کو کوئی ذیادتی کے بعد گنگا رام ہسپتال کے باہر پھینک گیا تو اسکا کیا بنا ؟ کیا کسی نے ا سکی معلومات لینے کے لئے، مجرم کیفر کردار تک پہنچے کبھی جلوس نکا لا ؟
کیا کینڈا میں اس نصاب کے متعارف ہونے سے پہلے بچے معصوم ہیں اور ایسی کوئی حرکت یہاں نہیں ہورہی ؟ کیا بچے انٹر نیٹ ، ٹی وی کمرشل یا راہ چلتے adult shopsیا اخباروں کے صفحات پر اس قسم کا مواد اور تصویریں نہیں دیکھ رہے ؟ کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ آپ کے بچوں کو کچھ نہیں پتہ ؟ اور اگر پتہ چل گیا تو اسی دن سے وہ جنسی بے راہ روی کا شکار ہو جائیں گے ؟
sexting پر بات کرنا اسی لئے ضرروی سمجھا گیا ہوگا نا کہ وہ ہو رہی ہے ۔ برٹش کولمبیا کی Amanda toddکی خود کشی والدین کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے ۔ نوجوان بچی نے فیس بک پر اپنی قابلِ اعتراض تصویریں کسی دوسرے ملک کے پختہ عمر کے آدمی سے شئیر کر لی تھیں ۔ یہ کیس پورا پڑھیں اور یہ کہہ کر مطئمین نہ ہوجائیں کہ ہم تو اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں ۔ ان ماں باپ کا بھی سوچیں جنہیں دو وقت کی روٹی اور مکان کی چھت کے لئے دن رات کام کرنا پڑتا ہے ۔جو ہر وقت بچوں پر نظر نہیں رکھ سکتے ۔ اگر ٹیچر جو پروفیشنلی ٹرینڈ ہو گا ان والدین کے بچوں کو کوئی تربیت، کوئی سیکھ دے دے گا تو کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا ۔ یہ ملٹی کلچرل سوسائٹی ہے ۔یہاں ایک دو تین کلچر نہیں،کئی کلچر ہیں، اور ایسے لوگ بھی بستے ہیں جو اپنے بچوں کے تحفظ کے لئے یہ علم پر وفیشنل ٹیچرز کے ذریعے ان تک منتقل کروانا چاہتے ہیں ۔ آپ انہیں اس حق سے کیسے محروم رکھ سکتے ہیں ؟
آپ کو یا مجھے کسی ایک بات پر اعتراض ہوسکتا ہے اسے اونٹاریو حکومت تک پہنچایا بھی جا سکتا ہے مگر ریسرچ کے بعد کے ہمیں چاہیئے کیا ؟ مکھی پر مکھی مارنے کی بجائے راستہ دیکھنا چاہیئے ۔ حیرت ہوتی ہے مجھے اپنی کمیونٹی کے سیاست دانوں پر جو مین سٹریم پارٹیوں کے ٹکٹ لینے یا ان کی خوشنودی کی خاطر اپنی کمیونٹی کی جائز آواز ایوانوں تک نہیں پہنچا سکتے اور نہ اپنی پارٹی کا موقف اپنے لوگوں تک پہنچانے کی جرات رکھتے ہیں ۔ سیاست دان لیڈر بھی ہوتا کیونکہ وہ ووٹوں سے منتحب ہو کے آتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے وہ ان لوگوں کی نمائندگی کر رہا ہے ، ان کا لیڈر ہے ۔ تو سیاست دانوں کو صرف سیاست ہی نہیں کچھ لیڈر شپ بھی دکھانی چاہیئے ۔ ایک دو پاکستانی خواتین جو اونتاریو حکومتی پارٹی کا ٹکٹ جیت چکی ہیں وہ ایسے کسی بھی موضوع پر بات کرنے نہیں آتیں ۔ یہ لوگوں کو ان سے اور انہیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیئے کہ ان کا پارٹی میں اور کمیونٹی میں کیا کردار ہے ؟ کیونکہ وہ دونوں سے ہی منا فقت کر رہے ہیں ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of