بیداری 

Published on (September 18, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
بیداری
مختار مسعود کی کتاب “لوحِ ایام “میں وہ ایک مصری صحافی محمد حسنین ہیکل کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ” اس نے بڑی پتے کی بات کہی تھی ،کہ مغرب عالمی ذرائع ابلاغ پر اتنی کامل دسترس رکھتا ہے کہ وہ جب چاہے تیسری دنیا کے کسی بھی لیڈر کو سارے جہان میں بدنام کرنے کی مہم چلا کر پنجرہ میں بند پرندہ کی طرح بے بس کر دے ۔اس قول کا دوسرا رخ بھی اسی قدر درست ہے ۔ مغرب جب چاہے تیسری دنیا کے کسی بھی لیڈر کو خواہ وہ کتنا ہی نکما کیوں نہ ہو اتنا عظیم و بے مثال اور ایسا نابغۂ عصر بنا کر پیش کر سکتا ہے کہ لوگ اس بات پر فخر کرنے لگیں گے کہ وہ اسکے زمانہ میں پیدا ہوئے تھے ۔مغرب کو شخصیت سازی کے علم میں بھی اتنا کمال حاصل ہے جتنا کردار کشی کے فن میں ۔ شہنشاہ ایران کی زندگی کے آخری چند سالوں میں مغرب نے اس علم و فن کا بھر پو ر مظاہرہ کیا ۔ ”
بات اب صرف بادشاہوں اور وزیر وں کے تشخص کو بنانے یا بگاڑنے کی نہیں رہی ،یہ بات اب عام شہریوں تک بھی پھیل گئی ہے اوریہ مظاہرے ہم ، گاہے بگاہے دیکھ چکے ہیں ۔ حالیہ مثالوں میں ہم نے اپنی گناگہگار آنکھوں سے روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کو امریکہ کے خلاف لڑنے پر دہشت گرد بنتے دیکھا ۔ اپنے ہاتھوں سے تیار گئے annihilatorsبربادی پھیلانے کھلے چھوڑ دئے اور جب آگ گھر تک پہنچی تو collaterl damage کے نام پر انسانی بستیاں اجاڑ دیں ۔ فلسطینی ، کشمیری یا افغانی اپنے وطن کی آزادی کے لئے جنگ لڑیں تو دہشت گرد اور یہی کام کوئی پیارا دلارا کرے تو انسانی حقوق اور آزادی کا جانباز۔ پاکستان میں فوج ملک کی جڑیں کاٹنے والے کو نتھ ڈالے تو ریاستی دہشت گردی ، یہی کام عظیم الشان جمہوری پڑوسی کی فوج ، کسی عبادت گاہ کے اندر گھس کر کر دے تو وہ ریاست کے بچاؤ کی تدبیر ۔
اور ملالہ یو سف زئی کو ہیرو بنتے کس نے نہیں دیکھا ؟ کیا ہوا اس کے بعد اور اس سے پہلے سینکڑوں بچے اور بچیاں سکولوں کے اندر کاٹ کر پھینک دئے گئے ۔ ان میں سے یا ان کے خاندان میں سے کوئی علم کا شہید یا مجاہد نہیں بن سکا ۔ سکول کی نوٹ بک ہاتھوں میں لئے خون میں نہانے والے لندن کے کسی ہسپتال میں علاج کے لئے بھی چلا چلا کر حق مانگتے رہے ، تب کہیں جا ایک آدھ کی سنی گئی،ان کا ہیرو بن کر دنیا میں مشہور ہونا یا علم کی علامت بننا تو دور کی بات ہے ۔۔
تھرڈ ورلڈ اس لئے تھرڈ ورلڈ ہے کہ ان کے ہیروز اور ان کے زیروز کا فیصلہ بھی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ ارفع کریم فاؤنڈیشن اس لئے راتوں رات دنیا کے افق پر نہیں چھا گئی کیونکہ وہ پاکستان کی اصل ہیرو تھی اور جب تک مغرب کی مرضی نہ ہو گی اس کو کون پوچھے گا ؟ جن مقامی سہاروں کے ساتھ مغرب اپنا کرشمہ دکھاتا ہے ان میں سستا بکنے والے ضمیر فروش سرِ فہرست ہوتے ہیں ۔ جو اس ایجنڈا کی تکمیل کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں ۔ اور نہیں جانتے خسارے کا سودا کرتے ہیں ، سنا گیا ہے کہ بہت تھوڑے میں بک جاتے ہیں ، بجٹ میں بچت ہو جاتی ہے ۔
ایک اور مثال ایران ہی سے ، لوحِ ایام ہی سے ۔۔کہ نجانے کیوں اس میں اپنے ہی بھائی بندوں کا عکس نظر آتا ہے ۔۔
“کرمٹ روز ویلٹ جو 1953میں مشر قِ وسطی میں CIA کا نگران تھا ،اپنی کتاب میں ایران کے ڈاکٹر مصدق کے خلاف کامیاب ہنگامہ کرانے اور ایک ایسے وزیرِ اعظم کا تختہ الٹنے کا حال بڑی تفصیل سے لکھا ہے جسے چند دن پہلے ریفرنڈم میں 99.93فی صد ووٹ ملے تھے ۔ڈاکٹر مصدق کے خلاف سب سے بڑے جلوس کی قیادت ایک پہلوان کے سپرد کی گئی تھی جو تہران میں ایک اکھاڑا چلا تا تھا ۔جلوس میں جو لوگ جاوید شاہ کا نعرہ لگاتے تھے انہیں دس ریال یومیہ کے حساب سے اجرت ملتی تھی ۔ مختار مسعود لکھتے ہیں کرمٹ کی کتاب پڑھ کر صرف اس بات پر افسوس ہو اکہ CIAنے ایران میں معاشی اور سیاسی انقلاب کا رخ بدلنے اور وقت کو روکنے بلکہ پیچھے دھکیلنے کے لئے جو رقم منظور کی تھی وہ بھی پوری خرچ نہ ہو سکی ۔بچت کی وجہ یہ تھی کہ جن لوگوں نے اپنی خدمات اور وفاداریاں فروخت کیں انہوں نے معاوضہ بہت ہی کم مانگا ۔۔قومے فروختندوچہ ارزاں فروختند ( ضمیر فروش اسی طرح خسارے کا سودا کرتے آئے ہیں )۔البتہ نفع کی ٹوہ میں رہنے والے بڑی دور کی سوچ رکھتے ہیں ۔ڈاکٹر مصدق کا فسادات میں خستہ ہوجانے والا مکان ایک یہودی نے اس ا مید پر خرید لیا کہ ایک دن ایرانی لوگ پھر بیدار ہونگے اور اس عمارت کو زیارت گاہ کا درجہ حاصل ہو گا ۔ اس روز سرمایہ کار ان لوگوں سے ان کی تاریخ کا سودا کرے گا ۔۔۔”( مصدق نے پسماندہ اقوام کے قدرتی وسائل کو مغرب کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لئے پہل کی تھی )
سرمایہ کار اپنا فائدہ دیکھتا ہے ، بڑی طاقتیں اپنی طاقت قائم رکھنے کے لئے تیسر ی دنیا میں کھیل رچائے رکھتی ہیں ۔ تین سال کے شامی بچے کی ڈوب کر شہید ہو نے کی تصویر نے اچھے اچھوں کی روح ہلا دی ، مگر افسوس یہ ہوا اس تصویر پر بھی نفرت کا کاروبار اور ایجنڈے چلنے لگے ۔ کوئی عرب کو گالی دے رہا اور کوئی مغرب کو ۔۔ مغرب نے مہاجرین کو پناہ دینی شروع کی ، ایکدم چر چا ہونے لگا ۔عرب ممالک کو اور گالیاں پڑنے لگ گئیں ۔ میں نے بھی جی بھر کے دیں کم بختوں کے پاس اتنی دولت ،جسے کمانے کے لئے نہیں صرف خرچ کرنے کے لئے انہیں محنت کی ضرورت ہے ۔۔
مگرپھرایکسپریس کی چھوٹی سی ایک خبر پر نظر پڑی کہ ایک مصری ارب پتی تاجر نجیب ساوارس نے بھی ننھے ایلان کرد کی آسمانوں سے پکار سن لی ہے اور ایک پورا جزیرہ شامی پناہ گزینوں کے لئے خریدنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ اس نے ایک ٹوئٹ کیا ہے کہ اٹلی اور یونان کی حکومتیں مجھے ایک جزیرہ فروخت کریں ،جسے آزاد ملک کی حیثیت حاصل ہو گی اور وہاں مہاجرین کو بنیادی سہولتیں اور ملازمتیں میسر ہونگی ۔ ۔۔۔۔ بہت ڈھونڈا،کسی سوشل میڈیا میں کسی ایک ا نسانی حقوق کے علمبردار کے سٹیٹس پر اس بات کی بھی شاباشی دے دی گئی ہو گی ،یہ خبر ہی شئیر کر لی ہو گی مگر نہیں یہ دنیا اتنی قدامت پسند مولوی نے بر باد نہیں کی جتنی سیکولر لبرل نے اپنی اندھی نفرت میں بر باد کی ہے ۔یہاں صرف مولوی ہی پیٹ پالنے کو فرقے نہیں بیچ رہا بلکہ پڑھا لکھا سکالر بھی یہی نفرت بیچ کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے ۔
ذرائع ابلاغ کے کرشمے اپنی جگہ اور ملکوں کی قسمتیں اپنی جگہ ۔ پاکستان اس معا ملے میں کچھ ذیادہ ہی بد قسمت ہے ۔ اظہار الحق صاحب کے کالم میں پڑھا تو لگا یہی تو میں کہہ رہی ہوں : “واہ پاکستان تیری بھی کیا قسمت ہے ، تو وہ تھالی ہے جو تجھ سے کھاتا ہے ، تجھی میں چھید کرتا ہے” ۔ لکھتے ہیں انڈیا میں مدرسوں میں جشنِ آزادی منایا جاتا ہے اور چھتوں پر ترنگا لہرایا جاتا ہے ۔ پاکستان کے مدرسوں میں نہ جشن آزادی منایا
جاتا ہے ، نہ جھنڈا لہرایا جاتا ہے اور قائد اعظم کو جناح صاحب کہا جاتا ہے”۔نہ مولوی ،نہ لبرل تو پاکستان کا ہے کون ؟
عام لوگ بروقت بیدار ہو کر یہودی سرمایہ کار کو ان کی تاریخ خریدنے اور بعد میں انہی کو بیچنے سے روک سکتے ہیں ۔ ورنہ یہ آگ صرف بادشاہوں یا ملکوں کو ہی نہیں کھاتی ۔ آپ کے گھر کے صحن سے آپ کے بچے بھی اٹھا لے جاتی ہے ۔یہ میڈیا کا ہی کمال ہے کہ پاکستان کی جوان نسل مستقبل بنانے یا دنیا میں نام کمانے نہیں بلکہ صرف فلمی محبت کرنے آئی ہے ۔ فلمیں ہیں یا ڈرامے یا تھرکتے ہوئے مارننگ شوز ، ہر جگہ ، ایک آدمی دو عورتیں، بے تحاشا محبتیں ، گھر میں عورتوں کو سازشوں سے اورباہر آدمیوں کو عشق لڑانے سے فرصت نہیں ۔ ڈراموں کے نام ملاحظہ ہوں ، عشقاوے ، دل عاشق ، عاشقی ، محبت وہ آگ ۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ْآپ کا تقریبا ہر سیاسی لیڈر ، اپنے انٹرویو میں یہ ضرور کہہ چکا ہے کہ حسن ،سراہنے اور محبت بار بار کرنے کی چیز ہے ۔۔ کسی فہم ،شعور اور عقل کے بغیر کچے ذہنوں میں محبت کا لفظ کسی بیرونی ڈرون حملے سے کم نہیں ۔۔۔۔نوروز اور فاطمہ نے محبت کے نام پر خود کشی کر لی تو کیا اب بھی نہ کرتے ؟

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of