بہنے کے لئے پہلے برف کا پگھلنا ضروری ہے

Published on (November 26, 2016)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
بہنے کے لئے پہلے برف کا پگھلنا ضروری ہے
آنکھیں بند کر کے یقین تو اماں حوا اور بابا آدم نے خدا کے دربار میں نہیں کیا تھا، کھوج کی تھی اور پھل چکھ کے دیکھا تھا ۔تو ہم مذہب کے نام نہاد ٹھیکداروں سے سوال کر نے اور ان کی بنائی مذہبی رسومات پر سوال کیوں نہیں اٹھا سکتے؟ عقل اور تجسس کا دروازہ خد ا نے بند کیا ہو تا تو ،دنیا کے پہلے انسان کو شعور کا استعمال اور فیصلے کی طاقت اور آزادی کھبی میسر نہ ہوتی ۔ جب خدا نے اپنے دربار میںیہ آزادی دے رکھی تھی تو ہم کون ہوتے ہیں کسی کی سوچ ، کسی کے فیصلے اور کسی کے عقیدے پر پابندی لگانے یا کفر کے فتوے دینے والے ؟جب خدا ئے بزرگ و برتر کے دربار میں ابلیس کو انکار کی طاقت میسر تھی تو اکیسویں صدی کے انسان سے کیا خدا یہ طاقت واپس لے چکا ہے ؟
یہ زمانہ عقل اور تصدیق کا ہے ۔ آج بھی ہم آنکھیں بند کر کے مولوی کے خود ساختہ اصولوں پر چلتے رہے تو یہ نافرمانی ہے قرانِ پاک کے الفاظ کی اور رسولِ پاکﷺ کی ذات کی ۔۔۔لفظ جلا دئے جائیں یا آنخضورﷺ کی ذات پر کوئی غیر مسلم سوال اٹھا دے تو ہم مسلمان زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں مگر حیرت ہے انہی الفاظ اور اس پاک ذات کی شخصیت کی مسلسل نافرمانی کر کے کچھ مضحکہ خیز چیزیں مذہب میں شامل کر دیتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھنے لگ جا تے ہیں حالانکہ یہ انخراف ہے ،یہ قابلِ سزا عمل ہے ۔ خدا کے واسطے عربی زبان بولنا اور اسے حفظ کرنا ایک اتنا ہی فن اور علم ہو سکتا ہے جتنافرنچ یا انگریزی زبان فر فر بولنا ۔جس طرح ہر انگریزی بولنے والا دنیا وی علوم کا ماہر نہیں ہو سکتا اسی طرح عربی آئیتیں زبانی سنانے والا اسلام کا عالم نہیں ہو سکتا ۔زبان میں مہارت اور چیز ہے اور علم و دانش رکھنا ایک اور چیز ہے ۔۔۔یقین کا دور نہیں ہے شک کا دور ہے ۔۔سوال کیجئے ۔۔۔ کھوج کیجئے جب خدا کھوج کی طرف خود مائل کرتا ہے ،جب اس نے کہا کہ سمندر کی گہرائی میں اور آسمان کی پرتوں میں سے علم کھوج لاؤ ، تو آپ کیسے ایک مولوی کی کہی بے سروپا باتوں پر یقین لا سکتے ہیں صرف اس لئے کہ وہ مولوی ہے ۔۔۔
جس طرح سیاست دان ، بیور کریٹ ، استاد ، صحافی ،پولیس ،فوج، سوشل ورکر ،ڈاکٹر ، سائنس دان جواب دہ ہیں ، اسی طرح ایک مولوی بھی قابلِ پکڑ ہے ۔ بلکہ اگر وہ لوگوں کو راستے سے بھٹکا رہا ہے تو وہ مندرجہ بالا لوگوں میں سے سب سے بڑا مجرم ہے کیونکہ لوگ اس پر اندھایقین کرتے ہیں ۔
چھوٹی سی مثال ہے :غصے میں دی گئی تین طلاقیں اور اس کے بعد اپنے بھائی یا قابلِ اعتبار دوست کے ساتھ بیوی کا حلالہ کروانے کی جو مکروہ روایت پاکستان اور انڈیا کے مسلمانوں میں پھیل چکی ہے،وہ قابلِ مذمت ہے اور ایسے لوگ جو اسلام کا مذاق بنا رہے ہیں وہ قابلِ گرفت ہے ۔۔ منصوبہ بندی سے کروایا گیا نکاح ، تاکہ طلاق لے کر دوبارہ سے شادی کی جائے ،کیا ایک عام عقل والا اسے اپنی سمجھ کے حساب سے درست تسلیم کر تا ہے ؟ نہیں کرتا تو جان لیجئے کہ جب پڑھے لکھے دماغ کو بھی ایک ان پڑھ مولوی مفلوج کر نے کی طاقت رکھتا ہے تو ، ایسا معاشرہ بہت صدیاں گذرجانے کے بعد بھی ایسے ہی منجمد رہے گا۔
حضرت ابو بکر صدیق نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ” تم رسول ﷺکی بہت سی حدیثیں بیان کرتے ہواور ان سے اختلاف کرتے ہو اور تمھارے بعد کے لوگ بہت ذیادہ اختلاف کریں گے۔ پس تم رسول ﷺسے کو ئی حدیث بیان نہ کیا کرؤ ۔ جو کوئی تم سے پو چھے تو کہہ دو کہ ہم میں اور تمھارے میں اللہ کی کتاب یعنی قرآن مجید ہے”۔) سر سید احمد کے مضامین سے ) ۔سرسید احمد لکھتے ہیں: “مسائل اجتہاد یہ میں تقلید دوسری چیز ہے اور کسی امر کو رسولِ خدا کی طرف منسوب کرنا دوسری چیز ہے “۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب بھی کوئی ایسی رسم جسے اسلام کا لباس پہنایا ہو ، دیکھیں قرانِ پاک میں اس کے بارے میں کیا حکم ہے ۔
آج جو ترقی یافتہ قومیں سر اٹھائے کھڑی ہیں کیا آپ جانتے ہیں کہ جتنا خون خرابہ مذہب کے نام پر ان ممالک میں ہو چکا ہے ، وہ ہمارے ہاں فرقوں کی جنگ کا سواں حصہ بھی نہیں ۔ پو ری پو ری جنگوں کی سیریز چلتی رہی ہیں ۔۔ مگرآج ان مغربی معاشروں میں مذہبی رواداری کا بول بالاہے ، یہ مقام سوئے رہنے سے نہیں ملا ۔۔
1524-1648خاص کر کے آخری تیس سالہ طویل لڑائی جس میں آٹھ ملین لوگ مارے گئے ۔۔جنوبی یورپ اوررومن کیتھولک اورشمالی یورپ کے پروٹسٹنٹ کے درمیان یہ جنگیں اُن ملکوں کو معاشی ، اخلاقی اور معاشرتی طور پر دیوالیہ کر رہی تھیں ۔ جس ملک کا بادشاہ جس بھی فرقے سے تعلق رکھتا تھا ، تمام شہریوں کو اسے ہی اختیار کر نا پڑتا تھا ۔مذہب کے نام پر بدترین خون خرابے یورپین ممالک میں ہوتے تھے ۔
1492 والے غرناطہ معاہدے میں مسلمانوں کو سپین میں ان کے زوال کے بعد پر امن طریقے سے رہنے کی جازت تھی مگر ذیادہ دیر اس پر عمل نہ ہو سکا 1501میں الٹی میٹم آگیا یا عیسائی ہو جاؤ یا ملک چھوڑ دو ۔۔ یہودی اور مسلما ن یا تو جھوٹ موٹ کے عیسائی ہو نے لگے یا ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے ۔۔۔سوال اٹھنا شروع ہو ئے ۔ امن کے لئے بڑے سر جوڑ کر بیٹھتے ۔ جنگ کے دنوں میں بھی مذاکرات ہو تے اور مختلف معاہدے ہو تے رہے۔ تیس سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعدwestphilia treatyسے ایک دوسرے ملک کے معاملات میں ناجائز مداخلت کو روکا اور ایک دوسرے کو قبول کر نے کی ابتدا ہو ئی ۔۔
سوال اٹھانا پڑتا ہے ۔ بدتر ہو تے حا لات کی وجوہات ڈھونڈنی پڑ تی ہے ۔ ورنہ ہندوؤں کی دستور منو میں بھی جو لکھا ہے اسے ماننا شروع ہو جائیں تو سوائے برہمن کے یہ زمین باقی سب پر تنگ ہو جائے،ہندوستان کا آئین کھبی بھی سیکولر نہ ہو پاتا اور مسلمان کھبی ہندوستان کے صدر نہ بن پاتے ۔لکھا ہے “کائنات میں ہر چیز برہمن کی ملکیت ہے”۔
ایک اور جگہ لکھا ہے “اونچی ذات کا آدمی نچلی ذات کی رفاقت میں نیچ بن جا تا ہے۔ لیکن ایک نیچ ،اونچی ذات سے رفاقت کے باوجود اونچا نہیں بن سکتا “َََََََََََََ.
اکبر وہ مغل بادشاہ تھا جب فرانس میں پروٹسٹنٹ، کیتھولک کے ہاتھوں قتل ہو رہے تھے، عہدِ الزبتھ میں پر وٹسٹنٹ انگلستان میں کیتھولک کو مار رہے تھے ، سپین میں یہودیوں کی لوٹ مار اور قتل و غارت ہو رہی تھی ، اٹلی میں برونو کو زندہ جلایا جا رہا تھا ، تو اکبر اپنی سلطنت میں تمام فرقوں اور عقائد کے لئے بردباری، تحمل اور برداشت کے احکا مات صادر کر رہا تھا۔جانتے ہیں اس وقت کا ہندوستان معاشی طور پر کتنا مضبوط تھا ؟
محبت کا عظیم تاج محل بنوانے والا شاہ جہان اس جہانگیر کی اولاد تھا ، جس نے نور جہاں کو اس کے پہلے شوہر کو قتل کروا کے حاصل کیا تھا ،شاہ جہاں ایک اہل اور دانش مند حکمران تھا ، مگر لازمی نہیں جو محبت کی نشانی تاج محل ہے وہ بھی اس کا ایک سچ ہو بلکہ وہ تو شائد محبت کے نام پر بولا جانے والا سب سے بڑا جھوٹ ہے ۔لیکن ہم اس پر بھی سوال نہیں کرتے ۔کیا اس نے اپنی حکومت کا آغاز اپنے بھائیوں کو قتل کر کے نہیں کیا تھا ؟ پھر اسی شاہ جہاں کے بیٹے اورنگزیب کو اسلام کا حسین مغلیہ دور کہنے والے اس کا اپنے ہی باپ کے ساتھ کیا سلوک تھا؟باپ کو آگرہ کے قلعے میں نو سال تک قید رکھا ، اور پلٹ کر ایک دفعہ خبر گیری نہیں کی ؟ ستم ظریفی یہ ہے کہ اورنگزیب کی شہرت سب سے رحم دل مغل بادشاہ کی ہے ۔۔ کیا وہ باقی مذاہب کو صفحہ ہستی سے مٹانے والا ایک سچا مسلمان ہے یا باپ کو قید میں پھینکنے والا ایک بدتر انسان ہے ؟
مذہب اخلاق ہے یا اعتقاد ؟ سادی اور محنت کی زندگی گذارنے والا مغل بادشاہ ،عدم رواداری کی بدترین مثال تھا۔
آنکھیں بند کر کے مذہب کے نام پر بے وقوف بننا اور بنانا اسلام کی حرمت نہیں بلکہ تذلیل ہے اورجس مذہب کے پیرو کار اخلاق ، انصاف اور برداشت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں ، کوئی اور نہیں ، وہ خود ہی مذہب کے اور اپنے وجود کو خطرے میں ڈالتے ہیں ۔یورپ اس حالت سے جاگ گیا اور ترقی کرتا گیا ۔۔مسلمانوں کے لئے جاگنا کیوں مشکل ہے ؟

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of