بھارت کی سوغات ۔۔شام 

Published on (November 13, 2014)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
بھارت کی سوغات ۔۔شام
قومی کونسل انڈیا کی جانب سے تین روزہ عالمی اردو کانفرس میں مقرر کی حیثیت سے شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا تو انڈیا کی گلیوں کوچوں میں جانے کا ایک دھندلا سا ،بہت پرانا خواب آنکھوں میں پھر سے زندہ ہوا ۔
انڈیا کی یادیں اگلے کالموں میں مگر آ ج کا یہ کالم شام کے نام ہے ۔ شام کون ہے ؟شام ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے۔آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں ۔ اس ٹیکسی میں تین لوگ کینڈا سے آئے ہوئے بیٹھے تھے اور ایک امریکہ سے ۔ سب نے بتایا ۔ پر جی بھارت میرا مہان(عظیم ) ہے ۔ہاں جی ۔۔ ہم سب نے سر ہلایا ۔
بھارت دنیا میں سب سے پرانا اتحاس ہے جی۔ شام نے ساتھ بیٹھے مسافر کو سیٹ بیلٹ لگانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا۔
جی بالکل ۔۔ہم سب نے باجماعت سر ہلایا ۔ ہم دنیا کی نمبر ون قوم ہیں !!
وہ کیسے ؟
بس جی دیکھ لو ہمارے پاس کیا نہیں ہے ۔ ہماری تاریخ سب سے پرانی ، اورآج بھی ہم ہی نمبر ون ۔ سڑکیں دیکھیں جی ہماری ۔ لوگوں کا پیار دیکھیں۔
امریکہ اور کینڈا بھی تھوڑی بہت ترقی کر ہی رہا ہے ۔ ایک صاحب نے ہلکی سی گستاخی کی جرات کی ۔۔۔
لو جی وہ بھی کوئی ملک ہیں ۔ شام نے انتہائی حقارت سے کہا ۔ آپ لوگ پتہ نہیں وہاں کیسے رہتے ہیں میں تو ایک دن کے لئے بھی نہ جاؤں ۔
ہیں؟؟؟؟؟ تقریبا تمام اہلِ ٹیکسی سیٹوں سے اچھل پڑے ۔ ماسوائے ایک صاحب کے جو انڈین مسلم ہیں اور انڈیا آتے جاتے رہتے ہیں ان کے چہرے پر ایسا اطمینان تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔
کیوں کیا برائی ہے ؟۔۔ میں نے سوچ رکھا تھا کہ اپنا منہ بند رکھوں گی مگر اپنے آپ سے کئے گئے اس عہد کو ذیادہ دیر نبھا نہ سکی ۔۔
اچھا کیا ہے جی ؟ شام نے غصے سے مجھے بیک ویو مرر سے گھورتے ہوئے کہا ۔
ہاں اچھا تو ایسا کچھ خاص نہیں مگر برا کیا ہے ؟ میں نے بیک فٹ پر کھیلتے ہوئے کہا ۔
ٹیکسی میں ایک اضطراب پھیل گیا ۔ ہم ہی جانتے تھے کہ یہ ٹیکسی ہمیں ہوٹل کے دروازے کے باہر تین گھنٹے انتظار کے بعد ملی تھی ۔ اس لئے اب کوئی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اتنا نایاب شام غصے میں آجائے ۔
جی وہاں انسانیت ہی نہیں ۔ look at india you will find love everywhere,humanity everywhereشام نے دو ٹوک فیصلہ سنا دیا ۔ بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے شام یہ بھی جانتا تھا کہ انگریزی کا سہارا ضروری ہے
۔ اسی وقت گاڑی لال اشارے پر کھڑی ہوئی ۔ فٹ پاتھ پر بیٹھے چار نوجوان بچوں میں سے ایک بچہ بچی دوڑ کر گاڑی کی کھڑکی پر بھیک کے لئے ہاتھ مارنے لگ گئے اور ایک لڑکا لڑکی وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ ہلکی پھلکی شرارتوں میں مصروف رہے ۔مانگنے والے ہاتھوں اور فٹ پاتھ پر چلتی ڈیٹ کی طرف ہمارا دھیان نہ جائے شام نے باآواز بلند انڈیا گیٹ کی تاریخ بتانا شروع کر دی ۔ میں آپ کو سونیا گاندھی کا گھر دکھاتا ہوں ۔ شام نے فیصلہ سنایا ۔
نہیں ہمیں نظام الدین کے مزار پر پہلے لے چلو ۔۔ ہمارے لیڈر نے شام کو حکمیہ انداز سے کہنے کی کوشش کی ۔
رات کو وہاں کیا دیکھیں گے ؟ شام قائل نظر نہیںآرہا تھا ۔
جو رات کو سونیا گاندھی کے گھر کو دیکھ کر کریں گے ۔ کسی نے منحنی سی آواز میں کہا ۔۔
مزار غالب ، امیر خسرو اور نظام الدین اولیا کا مزار سب ساتھ ساتھ تھے ۔ شام گلیوں کے باہر ہی کھلی سڑک پر کھڑا تھا اس لئے وہ دیکھ نہیں سکا کہ اندر تھڑوں پر کتے اور بچے اکھٹے سو رہے تھے ۔ گلیاں سوئے ہوئے انسانوں سے بھری ہوئی تھیں اسی کو شائد وہ انسانیت کہہ رہا ہوتھا۔ جو واقعی امریکہ کینڈا میں نہیں ہے ۔ چادریں خرید کر حضرت نظام الدین کے مزار پر چڑھائی جارہی تھیں ۔ مزار کے ساتھ ہی ننگے بدن انسان پڑے تھے ۔ جہاں بھی مزار ہیں وہاں یہی کچھ ہو رہا ہے ۔ قبروں کو سجایا جارہا ہے اور انسانوں کو زندہ دفنایا جارہا ہے ۔ یہ شام کے انڈیا کا کوئی تاریک پہلو نہیں ہے ۔ہر جگہ یہی ہورہا ۔
“بھارت میرا مہان” ۔۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی شام نے پھر نعرہ بلند کیا ۔ میں جو ابھی ابھی مزار غالب کے پاس پڑی گندگی، بکرے کا گوشت اوجھڑی ،دیکھ کے اور وہاں پھیلی سڑاند اور بو سے نڈھال ہو کر الٹیاں کر کے آئی تھی ۔ نقاہت کے مارے شام کی ہاں میں ہاں نہیں ملا سکی ۔ باقی سب مجھ سے ذیادہ سخت جان تھے اسی خضوع و خشوع سے شام کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے ۔
سونیا گاندھی کی رہائش دکھاؤں ؟ شام نے پھر تحکمانہ انداز سے پوچھا ۔۔ نہیں کچھ اور دکھا دو ۔اور شام نے ہم سب کو انڈیا کے لہراتے ہوئے بہت بڑے جھنڈے کے نیچے لا کھڑا کیا ۔ ہم سب نے حیرت اور خوشی سے تالیاں بجائیں ۔ شام نے سب کی تصویریں کھینچیں اور ہر تصویر میں اس بات کا خیال رکھا کہ انڈیا کا یہ جھنڈا دنیا کا سب سے بڑا جھنڈا نظر آئے ۔
آپ کو پتہ ہے اندرا گاندھی بہت زبردست لیڈر تھی ۔ اب شام اپنے تاریخ کے علم کے بعد ہمیں پولٹیکل سائنس کے میدان میں مات دینے جارہا تھا ۔ اچھا وہ کیسے ؟
کیا مجال تھی جی کہ پاکستان جیسا ملک ہماری طرف آنکھ بھی اٹھا کر دیکھ سکتا ، تُن کے رکھا ہوا تھا ۔ ابھی تک شام کو یہ پتہ تھا کہ ہم کینڈا مریکہ سے ہیں ۔یہ نہیں پتہ تھا کہ ہم بچارے پاکستانی ہیں ۔ ہم بھی عزت بچا کر خاموش بیٹھے رہے ۔
آخری سنہری دن بھی ہمیں شام کو بلانا پڑا ۔ آج مندوبین کچھ بدلے ہوئے تھے ۔ ایک جاپان کے اور ایک حیدر آباد کے صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے ۔میں نے جاپانی پاکستانی کو پہلے ہی آگاہ کیا کہ جب آپ اس ٹیکسی سے اتریں گے تو آپ کو جاپان سے نفرت ہوچکی ہوگی ۔ وہ میری بات نہیں سمجھا ۔ مگر جب شام نے اس سے پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں ۔ میں سوچ رہی تھی جاپان میں شام کیا برائی نکالے گا مگر میں شام کو underestimateکر رہی تھی ۔۔جاپان کا لفظ سنتے ہی اس نے بڑی ترس بھری نظروں سے ان صاحب کو دیکھا اور چٹکی سی بنا کر کہا ۔”اتنا چھوٹا سا تو ہے جاپان” ۔ ۔ جاپانی صاحب جاپان کی تعریفیں کرنے ہی لگے تو سب اہلِ ٹیکسی چلا اٹھے ہاں ہاں اتنا سا تو ہے ۔ کہاں ہندوستان کہاں جاپان ۔۔
آپ لوگ یہاں کیوں آئے ہیں ؟ اب شام کی سوشیالوجی کی کلاس شروع ہونے والی تھی ۔
اردو کانفرس تھی ۔ کسی معصوم نے جواب دیا ۔
لو جی فضول ہی وقت ضائع کر رہے ہو آپ لوگ ۔۔ یہاں تو ہندی چلتی ہے ۔ اردو تو نہ کوئی بولتا ، نہ سمجھتا نہ لکھتا اور نہ پڑھتا ۔۔
اب کوئی نہ ہاں میں نہ ناں میں کسی بھی سمت سر کو نہ ہلا سکا ۔۔ ایک سناٹا چھا گیا ۔
شام جب مجھے ائیر پورٹ چھوڑنے جا رہا تو پوچھنے لگا آپ کینڈا جا رہی ہیں ؟ میں نے کہا نہیں پاکستان ۔۔ میرا خیال تھا پاکستان کے بارے اب تک جو کچھ کہہ چکا ہے تھوڑا شرمندہ ہوگا کہ ایک پاکستانی کے سامنے ہی کہتا رہا ہوں ۔۔ مگر شام نے انتہائی ہمدردی سے مجھے دیکھا اور کہا ۔ڈر نہیں لگتا پاکستان جاتے ہوئے ؟
میں نے سارا ڈر بالائے طاق رکھا اور کہا شام تمھیں دہلی دنیا کا سب سے پیارا شہر لگتا ہے نا؟ تو مجھے لاہور ۔ جیسے تم دہلی کے فٹ پاتھ کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہو نا اسی طرح مجھے لاہور میں کچھ ڈراؤنا نہیں لگتا “۔۔
“نہیں جی دنیا میں جو بھی کرپشن ہورہی ہے وہ پاکستان اور افغا نستان کروا رہا ہے” ۔ شام میری بات سمجھنا نہیں چاہتا تھا ۔
شام مجھے کینڈا میں بیٹھ کر لگتا تھا دہلی میں سب سے ذیادہ ریپ ہو رہے ہیں لیکن لڑکیوں کو جینز اور شرٹ پہنے اعتماد سے آدھی رات کو گھومتے دیکھ کر لگا جو اخبار کہتے ہیں وہ سب سچ نہیں ہوتا ۔ میں تمھارے ساتھ اکیلی ائیر پورٹ جارہی ہوں اور مجھے لگ رہا ہے میں دنیا کے محفوظ ترین علاقے میں ہوں ۔۔۔۔
“ہاں جی انڈیا تو ہے ہی مہان ” شام کی تان وہیں پر ٹوٹی ۔۔ میں نے سوچا ہاں واقعی انڈیا عظیم ہے جس میں شام جیسے اپنے اوپر فخر کرنے والے اور اپنے آپ کو منوانے والے ٹیکسی ڈرائیور موجود ہیں ۔
واپسی پرکسی نے پوچھا انڈیا کی سوغات کیا ہے ؟ میں نے کہا وہاں تو سب پاکستان جیسا ہی تھا سوائے شام کے ۔۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of