بغاوت یا انقلاب؟

Published on (September 03, 2014)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
بغاوت یا انقلاب؟
“As I saw grieving families suffering with the pain of losing their loved ones and the sadness and resentment of the public, I thought I should take all responsibility as prime minister,” Chung said. “There have been so many varieties of irregularities that have continued in every corner of our society and practices that have gone wrong. I hope these deep-rooted evils get corrected this time and this kind of accident never happens again.”
“میں نے متاثرہ خاندانوں کو بچھڑ جانے والوں کے غم اور تکلیف میں مبتلا دیکھا ۔ عوام اداس اور خفا محسوس ہوئی تو میں نے سوچا کہ مجھے وزیر اعظم کی حیثیت سے حادثے کی ساری ذمہ داری قبول کر لینی چاہیئے ۔ہمارے معاشرے میں ہر طرف بہت بد نظمی پھیلی ہوئی ہے ۔ اس وقت ہمارے نظام کے اندر تک گھسی ہوئی برائیوں کا ٹھیک ہونا بہت ضروری ہے ۔اور اس قسم کے حادثات دوبارہ نہ ہوں “۔۔
جنوبی کوریا کے وزیرِ اعظم چنگ نے جب ایک پرائیوٹ بحری کشتی (ferry)ڈوب گئی اور کوئی تین سو کے لگ بھگ طالبعلم اس میں مار دئے گئے ( سوری مر گئے ۔۔حکومت نے نہیں مارے ) تومندرجہ بالا الفاظ کے ساتھ اپنا استعفی دے دیا ۔
“تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو “۔۔۔جنوبی کوریا نارتھ امریکہ یا یورپ کا نہیں ایشیاء کا ہی ایک ملک ہے ۔جس کی آزادی بھی پاکستان سے ایک سال بعد عمل میں آئی تھی ۔ اور آزادی کی دو سال بعد ہی امریکہ اور روس کی پہلی proxy warوہاں لڑی گئی تھی ۔ یہاں مارشل لاء بھی لگے ۔ جنگ کے بعد کے مخدوش کوریا نے اپنے آپ کو ایسا اٹھایا کہiger economy tبن گیا ۔آج جنوبی کوریا میں معشیت ، رہن سہن کا معیار ، عام آدمی کی زندگی اور حقوق سب دئے اور ترقی یافتہ ملک بن گیا ۔انٹرنیشنل مداخلت وہاں بھی تھی اور ہوگی ۔ فوج کی مداخلت وہاں بھی تھی اور آج بھی اس کا ڈیفنس بجٹ دنیا کا دسواں بڑا کا بجٹ ہے ۔ مگر نیم صدراتی نظام کے تحت یہ ملک ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے ۔ وجہ کیا ہے ؟
نظام کوئی بھی ہو صدارتی یا پارلیمانی ،جہاں عوام کی آواز کی سنوائی ہوگی ، چلے گا وہی ۔ چلنے اور رینگنے میں فرق ہے ۔ حکومت کرنے اور بادشاہت کرنے میں فرق ہے ۔ بادشاہت کے تحت لوگ رینگتے ہیں ۔ حکومت عوام کی خادم بن جائے تو لوگ مستعد رہتے ہیں ۔ چلنا سیکھتے ہیں، محنتی ہوجاتے ہیں اور وہ ملک کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ انسانوں کو مساوات ملے تو ان کے اندر خود اعتمادی اور محنت کی لگن پیدا ہوتی ہے ۔ انہیں اکیسویں صدی میں بارہویں صدی جیسا غلام بنا دیا جائے تو وہ ڈھے جا تے ہیں۔ کوئی اس مٹی سے کیسے وفادار ہوسکتا ہے اور کتنی کو دیر وفادار رہ سکتا ہے جو مٹی اس پر تو آگ پھینکے اور 10%لوگوں پر ٹھنڈی پھواریں ۔ جنوبی کوریا کے وزیرِ اعظم کا استعفی علامتی ہی سہی مگر چنگ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ باعزت لوگ اور قومیں کیسے ترقی کی راہوں پر چڑھتی ہیں ۔ آج کوریا ہم جیسا تاریخی پسِ منظر رکھنے کے باوجود ہم جیسا مقدر نہیں رکھتا اس کی وجہ ہم چنگ کے استعفی میں دیکھ سکتے ہیں۔
پاکستان میں جو ملزم ہے وہ حکومت ہے اور حکومت کہتی ہے بیس دنوں سے گھروں سے نکلے اور دھرنا مارے بیٹھے لوگوں میں سے جب تک دس بیس لاشوں میں تبدیل نہیں ہوجاتے ۔ حکومت گرانے کی سازش کامیاب نہیں ہوتی ۔ اس بات پر دل کرتا ہے قہقے مارتی جنگلوں کی طرف نکل جاؤں ۔ مگر شائد اعصاب مضبوط ہیں ،گو کہ کچھ کمزور دل لوگوں کے نروس بریک ڈاؤن ہورہے ہیں ۔ایک دوست کی دوست کا کل پر سوں نروس بریک ڈاؤن ہوگیا ۔ اس کا حال معلوم کیا اور پوچھا اس کی دوست سے کہ ایسا کیا ہوگیا کہ کینڈا میں بیٹھے پاکستان کی صورتحال کا اتنا غم لے لیا ۔ دوست نے بتایا کہ میری دوست نے جب عمران خان کو تنہا کنٹینر پر ٹہلتے دیکھا تو وہ یہ منظر برداشت نہیں کر سکی ۔اس سے پہلے وہ کہتی تھی کہ وہ سب چوروں کو ( او ہ مجھے تو پارلیمانی زبان استعمال کرنی ہے ) وہ جو بھی کہتی تھی میرے کالم میں شائد اس لفظ کی گنجائش نہیں کیونکہ کرپٹ حکمرانوں کو برے نام سے پکارنا قابلِ مذمت اور غریب کو جان سے مار دینا قابلِ فخر عمل ہے ۔
جتنے لوگ نفسیاتی مریض بن رہے ہیں وہ تو کوئی وجہ نہیں مگر سوال یہ ہے کیا اب تک جتنی لاشیں گر چکیں ہیں کیا وہ بھی ناکافی وجہ ہے ؟صرف تھر کے علاقے میں بھوک سے ۷۰۰ سے ذیادہ افراد مر گئے یہ کافی نہیں ؟ کیا یہ وجہ بھی کافی نہیں کہ اس ملک میں آٹھ کروڑ سے ذیادہ لوگوں کو چوبیس گھنٹے میں ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے نصیب نہیں ہوتا اور حکمرانوں کے ساتھ جہازوں میں بھی کھانا بھر بھر کے جاتا ہے انصاف کا نہ ملنا گویا کوئی وجہ ہی نہیں ؟۔ ٹی وی کیمروں میں دکھائی گئی اموات کے ذمہ داروں کو آئین کا پاسدار اور ان کے لئے انصاف مانگنے والوں کو دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔
قمر زمان کائرہ کا ایک انگریزی مضمون ہے The tale of delayed justice over stealing public mandate جو انہوں نے 1990میں جو مینڈیٹ چوری ہوا اس پر لکھا تھا ۔ اس میں لکھتے ہیں” ستر کی دہائی میں امریکہ کے صدر نکسن کو مخالف پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز پر buggingکرنے کے جرم میں نہ صرف سیاست سے باہر کر دیا گیا تھا بلکہ سزا بھی دی گئی تھی اور یہ فیصلہ بائیس دن کے اندر اندر کر دیا گیا تھا ۔ کائرہ صاحب لکھتے ہیں بی بی کو یہ درخواست دائر کئے بائیس سال گذر گئے اور پھر عدالت میں یہ ثابت ہوگیا کہ وہ الیکشن اس وقت کے صدر غلام اسحاق نے چوری کر کے نواز شریف کی جھولی میں ڈالے ۔ پھر بھی سزا کسی کو نہ ملی” ۔
یونس حبیب جن انکشافات کے ساتھ منظرِ عام پر آئے تھے انکی بدولت تمام لوگ، کیا صحافی اور کیا سیاسی ، ایک ہی حمام میں ننگے کھڑے ہوگئے ۔ مگر سب ثابت ہونے کے بعد بھی چشم پوشی کی گئی ۔ کس کے لفافے میں کتنے پیسے تھے یہ تک منظرِ عام پر آگیا مگر مجال ہے اس سب تماشے کے پیچھے ایک بھی فیصلہ کن کام ہو ا ہو۔ ایسا ہوا ہوتا تو آج لوگ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ، جہاں لوگوں کی بہتری کے فیصلے ہونے ہوتے ہیں ، وہیں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو لے کر شدید گرمی اور بے بسی میں دھرنا دئے نہ بیٹھے ہوتے ۔ جنوبی کوریا کے وزیرِ اعظم نے استعفی صرف اپنے آج کو بچانے کے لئے نہیں دیا بلکہ ملک کے لوگوں کے چہرے پر پھیلے آج کے کرب کو اور کل کو بچانے کے لئے دیا ۔
نکسن کو سزا نہ ہوتی تو امریکہ کا ووٹنگ نظام آج اتنا صاف اور شفاف نہ ہوتا ۔
کہا جاتا ہے عمارتیں مقدس ہوتی ہیں مگر میں یہ کہنا چاہتی ہوں ۔ہاں عمارتیں مقدس ہوتی ہیں ۔ ہاں جمہوریت کا احترام کرنا چاہیئے ۔ مگر ان عمارتوں کے تقدس کی وجہ کیا ہے ؟ یہاں عوام کے خدمتگار عوام کی بھلائی کے لئے شب و روز محنت کر تے ہیں ۔ جمہوریت کے نطام کا احترام کیوں ؟ اس لئے کہ وہ سب انسانوں کو بلاامتیاز اپنے دامن میں چھپاتی ہے ۔ اس کا پھل غریب بھی کھاتا ہے اور امیر بھی ۔ جمہوریت کسی کے محل کی لونڈی بن جائے تو لوگ مغلیہ زمانے کی بادشاہت یاد کرنے لگ جاتے ہیں ۔عمارت کا اور نظام کا تقدس انسان سے وابستہ ہے ۔ ورنہ پیرس کے لوگوں نے 1792کو جب شاہی محل پر حملہ کر دیا تھا تو وہ بھی اپنے وقت کی مقدس علامت تھا ۔ روس کے زار کا جب تحت الٹا تو وہ بھی بڑی مقدس جگہ میں بیٹھا تھا ۔ بھوکے اور انصاف مانگتے لوگوں کو مشتعل کر دو گے تو پھر آئین اور قانون کون دیکھے گا ۔ Bastille جیل کو منہندم کر دیا گیا تو شہنشاہِ فرانس نے اپنے ڈیوک سے جمائی لے کر پوچھا ۔۔کیا یہ revoltہے ۔ اس نے کہا نہیں سر یہrevolutionہے ۔
تو حکومتِ وقت !لوگوں کو اتنا نہ تنگ کرؤ کہ وہ بغاوت کرتے کرتے کسی سبز انقلاب نہیں خونی انقلاب کی طرف نکل پڑیں ۔
اور مکر اور جھوٹ کے نظام سے بغاوت کرنے والو ں سے یہ عرض ہے کہ وہ طے کر لیں کہ کیا وہ حقیقی انقلاب کی طرف نکل پڑے ہیں اور اگر نوبت یہاں تک نہیں آئی تو چھوٹے موٹے قانون بھی نہ توڑیں کیونکہ وہ آج تنہا اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں وہ آہ بھی کریں گے تو بدنام ہوجائیں گے اور حکومت قتل بھی کرے گی تو چرچا نہ ہوگا ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of