اگلے جنم موہے بیٹیا نہ کیجئیو 

Published on (May 11, 2016)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
اگلے جنم موہے بیٹیا نہ کیجئیو
اس کا رپوریٹ ورلڈ نے جیسے طبقاتی فرق کوذیادہ نمایاں کر دیا ہے ، اسی طرح ظالم اور مظلوم کے فرق کو بھی بہت واضح کر دیا ہے ۔ ظالم وہ” ہو سکتا ہے” جس کے ہاتھ میں طاقت ہو تی ہے ، مظلوم وہ “ہو سکتا ہے” جو کمزو ہو تا ہے ۔ کوئی بھی کلیہ اٹل نہیں ہے ۔ سپر پاور امریکہ کی بجائے چین بن جائے تو شائد دنیا کو طاقت کی بھوک میں انسانوں پر ظلم ،آج سے بھی ذیادہ دیکھنے کو ملے ۔ بات تو جب ہے کہ جو طاقتور ہے وہ انصاف کی بات کر ے اور مظلوم ہے تو حق کے لئے سر اٹھا کر جئے ۔
طاقت کا نشہ سر چڑھ کر بولے تو گناہ کو ثواب بنانے کے لئے سو طریقے آجاتے ہیں،کمزور ہیں تو دکھ سہنے کو صبر کہہ کے سر جھکائے جیتے رہتے ہیں ۔۔ جو اپنے حا لات سے لڑتا ہے وہ کہاں ہے ؟ سب وہ کر دار نبھا رہے ہیں جو ان کو مل چکا ہے ، کوئی بھی ہدایتکار کے دئے ہوئے کردار سے باہر نکل کر جینے کی جرات نہیں کر سکتا۔
پڑھی لکھی عورت ، جہاں باپ بھائی ، معاشرہ اورقانون اسے مضبوطی دیتا ہو ، وہاں وہ کمزور نہیں طاقتور ہو سکتی ہے ۔ ظلم نہ سہنے کی طاقت اور ظلم کر نے کا ہلکا سا اختیار حاصل کر لیتی ہے ۔ صدیوں کی غلامی میں رہنے کے بعد تھوڑا سا اختیار بھی اسے خوشی سے بے اختیار کر دیتا اور وہ ظالم مرد سے بھی ذیادہ ظلم بر پا کر سکتی ہے ، کبھی تھوڑے پانی کی مچھلی کو سمندر میں چھوڑ کر دیکھیں ، چھلانگیں مار مار کر ہی مر جائے گی ، سمندر کی وسعت ہی اسے نگل لے گی ۔۔
یہ تو تھی نئی نئی ہلکی ہلکی آزاد عورت کی بات ، اور جب بات آجائے پرانے اور تجربہ کار ظالم مردوں کی تو ان کے ظلم کرنے اور مظلوم عورت کے سہنے کی کہانی دیکھ دیکھ کر آسمان بھی ایسا عادی ہو گیا ہے کہ اب وہ بھی خاموش ہو کر بیٹھ گیا ہے ۔ ورنہ نیشنل کمیشن فار وومن ( انڈیا ) کی یہ رپورٹ کہ آج بھی ہزارو ں دلیت ( اچھوت) عورتیں مندروں کی داسیاں بن کر زندگیاں گذار رہی ہیں ،ہم بس سرسری نہ پڑھتے رہتے ۔ دلیت ، ہندوستان کی ایک کمی کمین قوم ہے ، جب قوم ہی کمی ہو تو اندازہ لگانا کیا مشکل ہے کہ اس کی عورت کتنی کمی کمین ہو گی ۔ جنوبی بھارت میں جس کی ریاستیں ، مہاشٹرا ، کر ناٹکا، اندر پردیش ، تامل ناڈو ، ستم ظریفی یہ کہ جن کی ٹیکنالوجی میں ترقی کی وجہ سے بھارت آج گلوبل چیمپئین بننے کا دعوی دار ہے ، وہاں چھوٹی چھوٹی بچیاں ، جنہیں مذہب کے نام پر ، بھگوان کی خدمت کے لئے اور اسے خوش کر نے کے لئے مندر کے پنڈت کے حوالے کر دی جاتی ہیں ۔
آج جب کے عورت آزادی کے نام پر بہت کچھ حاصل کر چکی ہے ، اسی صدی کی ، اسی دنیا میں رہنے والی ایک داسی کون ہے ، کیا یہ دنیا کے افق پر ستارے کی طرح چمکنے والے بھارت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ نہیں ؟ ؟ کیا یہ پو ری دنیا کے منہ پر کالک نہیں؟کیونکہ اکیسویں صدی میں جب دنیا ہماری ہتھیلی میں آچکی ہے اور گلوبل ولیج کا نعرہ سن سن کر کان پک چکے ہیں ، اور ہم ایک طرف عورت کو اتنا آزاد اور خود مختار دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف مندر کی سیڑھیوں پر جھاڑو لگاتی ایک کم سن بچی کو ، جسے اچھوت کہا جا تا ہے اور جس کے چھونے سے عزت دار اور اونچی ذات والے لوگوں کے برتن تک پلید ہو جاتے ہیں ، مگر جنسی تسکین کے لئے وہی بچیاں سیکس شاپ میں پڑے ہو ئے کھلونوں کی طرح استعمال ہو رہی ہیں ۔ ان کم بخت بچیوں کے ماں باپ بھی جانتے ہیں ، ہمسائے بھی جانتے ہیں اور مندر کی وہ سیڑھیاں بھی جانتی ہیں کہ یہ بھگوان کی نذر کی گئی اچھوت کم ذات بچیاں اصل میں پنڈتوں ،چوہدریوں اور زمینداروں کی بھینٹ چڑ ھ گئی ہیں ۔ مگر سب خاموش ہیں ۔ گلوبل ولیج میں ایک اچھوت ایک باعزت زندگی کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتی ۔ بلکہ اسے تو شائد پتہ بھی نہ ہو کہ ان مندر کی گھنٹیوں سے آگے بھی کوئی دنیا ہو سکتی ہے ۔یاد رہے انڈیا میں 1934 devadasi security actموجود ہے ، 1980میں پھر اس پر زور شور سے بات ہوئی تھی مگر جب نیت نہ ہو تو قانون کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، جیسے دیوار پر لکھا ہو” یہاں پیشاب کر نا منع ہے” اور وہاں پیشاب کے ڈھیر لگے ہو ں ، یہ قانون بھی ایسے ہی بن کر رہ جاتے ہیں۔
چھوٹا جرم ہو تو بھیڑ بکری دے دلا کر معاف ہو سکتا ہے ، مگر بڑا قرضہ نہ دیا جائے ، کسی کی عزت لوٹ لی جائے یا کوئی اور بڑا جرم تو جر گہ مجرم کو کہتا ہے کہ کنواری بیٹی یا بہن حوالے کر دو ، دشمنی ختم کر نی ہو تو جائداد کی بجائے بیٹی دے کر جان چھڑائی جاتی ہے ۔ کسی کا بھائی کسی کی بہن کولے کے بھاگ گیا تو اس بھائی کی معصوم بہن کو سزا کی settlement میں استعمال کر نا ، ونی کہلاتا ہے اور یہ کوئی سو صدیوں پرانی بات نہیں ۔ آج کی صدی کی اور روشن پاکستان کی بات ہے۔ دنیا ایک گاؤں بن چکی ہے مگر گاؤں کے کسی چوہدری نے آج تک اس عورت کو رہائی نہیں دلوائی ، جس کی قیمت بھیڑ بکری سے ذیادہ مقرر کی گئی ہے مگر بکنے کا طریقہ کار وہی ہے ۔ یاد رکھئے پاکستان میں بھیbill 342اس جہالت کو روکنے کے لئے پاس ہو چکا ہے مگر کھنچی ہو ئی لائن اور قانون پر عملددرامد کروانے کے لئے قوموں کو بہت ” مرد “بننا پڑتا ہے ۔ اور مردانگی نام ہے حوصلے کا ، ظرف کا اور دکھوں کو سینے میں سمونے کا ، مظلوموں کو دھتکارنے یا استعمال کر نے کا نہیں ، اپنی جھوٹی انا کے خول سے نکل کر کسی کی سچی مدد کر نے کا ۔۔اس کے لئے صرف قانون ہی نہیں پاس کر نا ہو تا اپنے اندر درد اور جگر دونوں پیدا کرنا ہو تا ہے ۔ ورنہ سب اسی دیوار پر موتتے جائیں گے جس کے اوپر لکھا ہو تا ہے” یہاں مُوتنا منع ہے ۔۔”
حق بخش ، ایک اور رسم جو اندرونِ سندھ میں آج بھی زندہ ہے ۔ جہاں جاگیر کو بچانے کے لئے ، (سید خاندان میں کو ئی نہیں تو غیر سیدوں میں بیٹی بیاہ دی تو جاگیر باہر چلی جائے گی) ، قران پاک سے اپنی بیٹی یا بہن کو بیاہ دیا جاتا ہے ۔کیا پڑھی لکھی اور آذاد عورت ، شہروں میں رہنے والے نوجوان جانتے ہیں کہ یہ رسم کیا ہے؟ جس لڑکی کو “حق بخش “کیا جاتا ہے اسے دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے ،ہاتھوں پر مہندی بھی رچائی جاتی ہے اور پھر اس کے اوپر کالی یا سفید چادر ڈال دی جاتی ہے ، اس کے ہاتھوں میں قران پاک تھما دیا جاتا ہے ، مطلب، اب یہی اس کا عمر بھر کا ساتھی ہے ۔ جہاں دنیا گلوبل وولیج بن چکی ہے وہاں یہ سب ہو رہا ہے تو قصور وار صرف وہ گاؤں ، وہ جرگہ اور اس کا چوہدری وڈیرا یا نواب نہیں ہے بلکہ پو را شہر ، پورا ملک اور پو ری دنیا ہے ۔ ا اسلام میں اس کی ممانعت ہے تو مولوی حضرات یہ پیغام کھل کے کیوں نہیں پہنچا سکے ، کیا وہ قران پاک کی ایک آیت بھی وہاں تک نہیں پہنچا سکتے جب کے دنیا بھر میں وہ اسلام کی ماڈرن ازم کی دلیلیں لئے گھومتے پھرتے ہیں کیا وہ آیت بہت مشکل ہے جس میں خدا نے اپنے بندوں سے کہا کہ میں نے زمین پر سب کے جوڑے بنا دئے ہیں ۔۔ کیا اس نے کہیں یہ کہا کہ میں نے کچھ عورتوں کے لئے اس مقدس کتاب کو ساتھی چُنا ؟
یہ تو جنوبی بھارت اور اندرونِ سندھ اور بلوچستان ، افغانستان کی بات ہے کوئی یہ جانتا ہے کہ کینڈا میں first native, aborginal عورتوں کے ساتھ کیا سلوک ہو تا ہے ؟ native woman association of canada (NWAC)کی رپورٹ دیکھیں ، مارچ 2010تک 582عورتوں کی گمشدگی کے کیس ہیں ، دبی ہو ئی قوم کی د بی ہو ئی عورتیں ، عام عورتوں سے ذیادہ تشدد ، بے رحمی اور جانوروں والے سلوک کے لئے vulnerableبے بس ہو تی ہیں ۔ان کو کوئی آزاد کروائے تو جانیں۔۔
دنیا کے امن اور ترقی کے لئے ان داسیوں کے پاؤں سے کھبی مذہب اور کبھی روایت اور کبھی آزادی کے نام پر غلامی کے گھنگرؤ توڑنے ہو نگے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of