اپنی موت کے ساتھ ایک دن

Published on (September 16, 2016)

روبینہ فیصل
دستک
rubyfaisal@hotmail.com
اپنی موت کے ساتھ ایک دن

ذیادہ تر جب کوئی موت نظر سے گذرتی ہے تو یہ گمان بھی نہیں ہو تا کہ اس سے ہمیں بھی گذرنا ہے ۔
بلھے شاہ اساں مرنا نا ہی ،گور پیا کوئی ہور۔
مگر کھبی کھبی، انسان کو اپنی موت کے منظر کا سامنا ہو جا تا ہے ۔ شاید یہ لمحہ ہر کسی پر نہیں آتا اور ہر وقت نہیں آتا ۔ خواہشوں ،خوشیوں ،اور دکھوں بھری اس زندگی میں انسان ہر طرح کے لمحات سے گذرتا ہے مگر موت کے لمحات کا زندوں پر ظہور ہو جائے ،ایسا کم کم ہی ہو تا ہے۔
نہ جانے ایسے لوگوں سے ، جنہیں خدا، ضرورت سے ذیادہ حساسیت اور آگاہی سے نواز تا ہے ، خوش ہو تا ہے یا ناراض ؟ ۔ کیونکہ ایسے لوگوں کے جسم اور روح کی جنگ زندگی میں ہی جاری رہتی ہے ۔ جسم ،” کی جاناں میں کون آں” کی تلاش میں روح سے اپنی شناخت کا سوال پو چھتا رہتا ہے اور روح ان سوالوں کی چبھن سے بے چین رہتی ہے ۔ دونوں تمام عمر ایک دوسرے کے ساتھ بندھے مگر ایک دوسرے سے شاکی رہتے ہیں اور ایسا انسان زندگی کی گہرائی میں اتر جا تا ہے اور شائد انہی کے سامنے جیتی جاگتی موت آکھڑی ہو تی ہے پھر موت بھی ان سے سوال پو چھتی ہے۔
مجھے ڈاکٹر نے کہا ایک اور الٹرا ساؤنڈ ہو گا ، اسے شک تھا اسی موزی بیماری کا جو آج کے دور میں ہر گھر سے ایک فرد اٹھا کر لے جاتی ہے یعنی کینسر ۔میں نے ڈاکٹر کے ان کہے لفظوں کو اور اس کے ڈر کو اپنے اندر ایک سرد لہر کی صورت محسوس کیا اور بس وہی لمحہ تھا جب زندگی کے ہو تے ہوئے موت سامنے کھڑی بالکل قریب محسوس ہو ئی ، اتنی قریب کے لگا وہ ہاتھ بڑھا کر کھبی بھی مجھے چھو سکتی ہے ، کچھ دنوں میں ، کچھ ہفتوں میں ، کچھ مہینوں میں یا چند سالوں میں ۔۔زندگی بھر انسان زندگی کو گذارتا ہے مگر موت ایک پل کو آتی ہے اور بس اپنا بنا کر چلی جا تی ہے ۔ مجھے موت تو نہیں موت کا احساس اتنا شناسا لگا ، کہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ زندگی کا متضا د ہے ۔ بلا شبہ زندگی کا سب سے بڑا سچا دوست موت ہی ہے ۔
دوسروں کی موت کے ساتھ انسان جینا سیکھ لیتا ہے مگر اپنی موت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تصور ان سب موتوں سے جوڑ دیتا ہے ، جو ہم زندگی میں اپنوں کی ، پیاروں کی دیکھ چکے ہو تے ہیں ۔ اپنی موت کو میں نے ان سب موتوں سے جوڑ کے دیکھا تو جواب ملا کسی کے جانے سے جو خلا رہ جاتا ہے وہ کتنا خالی خالی سا اور غیر اہم ہو تا ہے ۔
کفن میں لپٹ کر قبر کے اندر اتر کر جب اپنی ذات دیکھی تو ارد گرد پھیلی کچھ آہیں ، کچھ سسکیاں سنائی دیں ۔ اپنے بچوں کے چہرے پر پھیلی وحشت دیکھی تو قبر کا اندھیرا بڑھ گیا ۔ وہ سکتے کے عالم میں کھڑے تھے ، اتنے چھوٹے کے ابھی ٹھیک سے غم منانا بھی نہیں سیکھ پائے تھے ۔خاندان کی خواتین انہیں سینے سے چمٹائے احساس دلا رہی تھیں کہ تمھاری ماں مر گئی ہے اوراب تم لوگ کھبی اسے اس دنیا میں نہیں دیکھ پا ؤ گے ۔ یہ سنتے ہی بچے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔ رشتہ دار خواتین کے چہروں پر مشن کی کامیابی کی ہلکی سی چمک ابھر آئی ۔ میری بیٹی نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا ، اب کون ہو گا جس کے سینے پر سر رکھ کر وہ سب غم بھول جایا کر ے گی ۔ کوئی نہیں ؟ کون اس کے بالوں کو سہلائے گا ؟ کوئی نہیں ؟ ماں کا دیا اعتماد ساری دنیا مل کے چھین لے گی تو وہ کیا کر ے گی ؟ گھر سے ماما جب کھبی چلی جاتی تھیں تو بھائیوں اور پاپا کے ساتھ وہ کتنی مشکل سے وقت گذارتی تھی ۔۔اب کیا ہو گا ؟ سایہ ہٹنے کا احساس کرتے ہی ، بیٹی کے چہرے پر غم کی چھاپ میرے کفن میں ہلچل مچانے لگی ۔ سب سے چھوٹے بچے نے بڑے بچوں کے سینے میں پناہ لینے کی کوشش کی مگر وہ اپنے اپنے غم میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے ، کہ اس کو ساتھ تو لگا لیتے مگر سنبھال نہ پاتے ۔
ہر شوہر کی طرح ،میرے شوہر کو بھی غم ہوگا ،مگر کفنانے دفنانے کے مراحل کی فکرحاوی ہو گئی ہے ۔ اسے لوگوں کو اکھٹا کرنا ، ہجوم بنانا ، نہیں آتا ۔ ایسے کام تو میں ہی کرتی تھی ۔ اب یہ کیا کرے گا ؟ کیسے اطلاع دے گا کسی کو ، کیسے سب کام اکیلے کرے گا ۔ سب خراب کر دے گا ۔ میرے جنازے کو بھی برات کی طرح بے رونق کرے گا ۔۔اسے ایسے کام آتے ہی نہیں ، اسے کسی کو مدد کے لئے بھی نہیں کہنا آتا ۔ بے چینی آخری لباس میں اتر آئی ، کفن کا سفید رنگ پیلا پڑنے لگا ۔ میں شریکِ حیات کے اس کام کو کیسے بانٹوں ؟
موت ابھی چارپائی پر ہی دھری تھی اور بھائیوں ،بہنوں اور دوستوں نے ایک دوسرے کو فون کئے ، کچھ نے فیس بک کے سٹیٹس کو موت کی اس خبر کے ساتھ اپ ڈیٹ کر دیا ۔ساتھ ساتھ نوٹ کیا جانے لگا کہ کتنے likesہوئے، کتنے تعزیتی پیغامات آئے ۔
پرانے بنک کے ساتھیوں کو جب خبر ملی تو حیران رہ گئے ۔ ہیں ؟ وہ کیسے مر سکتی ہے ؟وہ تو زندگی تھی ۔ سب کی مدد کرتی تھی ،ہم نے کھبی اسے دکھی نہیں دیکھا تھا ۔ اسے کھبی غصہ بھی نہیں آتا تھا ۔ بڑی سے بڑی بات بھی پی جاتی تھی ۔ ہاں مگر بے ایمانی اور جھوٹ بر داشت نہیں کرتی تھی ۔ مینجر سے بھی ٹکر لے لیتی تھی ، بڑی بہادر تھی ۔
ہیلی کالج کی دوستوں کو پتہ چلا تو وہ بھی ششدر رہ گئیں ،کہنے لگیں اتنا ہنستی تھی اتنا ہنستی تھی کہ اسکے گلی کا موڑ مڑنے کی دیر ہو تی تھی کہ گھر بیٹھے اس کی ہنسنے کی آواز آجاتی تھی ۔ راہ چلتوں پر فقرے کستی تھی سب کو چھیڑتی تھی ،اتنا چھیڑنے والی ، اتنا ہنسنے والی ، زندگی کو اتنا غیر سنجیدہ لینے والی کیسے مر گئی ؟نہیں!! یقین نہیں آتا ۔ فیس بکس کے کمنٹس میں اضافہ ہو نے لگا ۔
ایف سی کالج کے کلاس فیلوز کو پتہ چلا تو وہ بھی بے یقینی سے گنگ ہو گئے ۔ ہنسنے مسکرانے والی ، چھوٹی چھوٹی لڑائیاں لڑنے والی ، جس نے پو ری کلاس کے نام ڈال رکھے تھے ۔ جو کلاس کی زندگی تھی ۔۔موت اسے کیسے آگئی ۔ایک دوسرے کو فون بجنے لگے ۔
کالم پڑھنے والوں کو پتہ چلا تو کہنے لگے ، ہم نے درد مندی ،سچ اور غیر جانبداری انہی کالموں سے سیکھی ۔ انسانی حقو ق کی آواز انہی کالموں سے اٹھتی تھی ، بغیر غرض کے پاکستان سے محبت میں لکھے گئے کالم ، کینڈا میں بیٹھ کر عام پاکستانیوں کی آگاہی کے لئے ایسا بے لوث کام کھبی نہیں دیکھا تھا ۔
کمنٹس میں مجھ کم بخت کے ہاتھوں لکھے گئے افسانوں پر بھی بات ہو نے لگی ۔ بہادری اور ہمت کی داستانیں رقم ہو نے لگیں ۔ کمنٹس کا صفحہ بھر گیا ۔ کسی رائٹر دوست نے ایک مضمون بھی لکھ دیا ۔اس مضمون میں کی گئی تعریفیں اور میرے وجود کے بعد پیدا ہونے والے خلا کا ذکر اس قدر درد مندی سے تھا کہ میرے کفن کی آنکھیں بھی بھیگ گئیں ۔۔
میرے ماں باپ کا دکھ بانٹنے کی ناکام کوشش ہونے لگی، اپنے بچوں کی خاطر دی جانے والی قربانیوں کا ذکر ، پورے خاندان میں ہونے لگا ۔ اپنے چھوڑ ، دوسروں کے بچوں کو ماں کا پیار دینے کی کہانیاں دہرائی جانے لگیں ۔۔ جومیرے خلوص کو استعمال کر کے کوڑا کچرا کر کے آگے بڑھ گئے تھے ، انہوں نے بھی مڑ کر دیکھا اور اپنا سینہ پیٹا کہ کاش ہم اس کے پیار کی قدر کر لیتے ،خلوص کی قیمت چند الفاظ محبت کے ہوتے ہیں ، وہی ادا کر دیتے ۔ نظریات سے اختلاف رکھنے اور اس بنا پر میری کردار کشی کرنے اورمجھ پر اسٹبلشمنٹ کاایجنٹ ہونے کا الزام لگانے والوں کے کمنٹس بھی میری سچائی کی داستان لکھنے لگے۔
کاش !!مجھے زندگی میں ان میں سے سچی تعریف کا ایک بھی لفظ بھی سننے کو مل جا تا تو شائد میں کچھ دن اور جی لیتی ، اور خوب جی بھر کے جی لیتی ۔۔۔۔۔۔۔جس تعریف کی بھوک سے میرا جسم ہڈی بن گیا ، اب اس کی فروانی سے کفن کا پیٹ پھول گیا تھا ۔
اور پھرتین دن بعد سب کمنٹس دھندلانے لگے۔ میری موت کا غم بھلانے والوں نے ذیادہ شدت سے جینا شروع کر دیا ۔ اور قبر پر پڑے پھول میرے بعد زندگی میں پیدا ہو نے والے خلا کی طرح سوکھنے لگے ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of