انسانی موت 

Published on (September 10, 2014)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
انسانی موت
سن سن کے کان پک گئے ہیں کہ امیر غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے لیکن اس قدر بڑھ جائے گی کہ موت بھی اس سے محفوظ نہ ہوگی ۔پہلے تو یہی کہا جاتا تھا نہ کہ امیر اور فقیر کے خواب ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ یا پہلا گھر ماں کا پیٹ اورآخری گھر ایک اندھیری تین فٹ چوڑی اور چھ فٹ لمبی قبر ہی ہوتی ہے نا ۔ یہی چند جملے غریب کے دل کی تسلی کا باعث ہوتے تھے ۔ افسوس اب وہ بھی نہیں رہے ۔
امیروں کو کتوں سے محبت ہوجائے تو ان کی موت کو بھی تھام لیتے ہیں، انہیں موت کے بعد بھی اپنی نظروں کے سامنے رکھنے کے لئے لاکھوں ڈالرز خرچ کر دیتے ہیں ۔ دولت گھرکی باندی ہو تو موت کو بھی چکمہ دیاجانے لگا ہے۔ ۔ غربت جسم نوچ رہی ہو تو زندگی آپ کو روز چکمہ دیتی ہے ۔ جب انسان سب کچھ خرید سکتا ہو تو کتے کو مرنے کے بعد بھی شان و شوکت دے سکتا ہے اور جب انسان کی زندگی قابلِ فروخت ہو تو موت بھی گلی کی کسی آوارہ اور غریب کتے کی طرح آتی ہے ۔
ایسی موت اور فروخت میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ پرانی اموات کو بہت رو لیا ۔ ہمیں رونے کو روز ایک نیا دکھ چاہیئے ۔ نیا دکھ دینے میں پاکستان کنجوس نہیں ۔ ایک مانگو تو ایسا فراخ دل ہے دکھوں سے جھولی بھر دیتا ہے۔ سوچا تھا 2010کے سیلاب میں انسان بہے ،اجڑے اور مرے تھے ۔ سوچا تھا ہزاروں اموات اور کروڑوں زیرِ ِ آب آنے کے بعد انسانی زندگیوں کو بچانے کے لئے کچھ تو غور و فکر اور کچھ خرچہ کیا جائے گا ۔ مگر یہ غریب لوگ تھے جن کی زندگی کسی امیر کے کتے کی موت کے برابر بھی نہیں تھی ۔ ورنہ کیا اسی دنیا میں یہ ہوتا ؟ کہ امیر کتوں کے مرنے کے بعد ان کو حنوط mummification))کروا لیتے اور دوسری طرف غریب انسانوں کی زندگیوں کی بھی حنوط کر دیا جاتا ۔
2010میں مرنے والوں کو انسان سمجھا جاتا تو آج 2014میں بھی انسان لکڑیوں کی طرح نہ تیر رہے ہوتے ۔ بے گھر نہ ہوتے اور یوں بن موت نہ مر رہے ہوتے ۔ FFCفیڈرل فلڈ کمیشن جو 1977سے بنا ہوا جس کا کام یہ تھا سیلاب کو روکنا اور اس کے خلاف لائحہ عمل بنانا ، لوگوں کی جان اور مال کو محفوظ کرنے کا کام ۔ تباہ شدگان کی مدد ۔۔ بلین روپیوں کی بیرونی امداد کے باوجود یہ ادارہ آج تک کچھ نہیں کر سکا ۔ اتنا بھی سنجیدہ نہیں جتنا کوئی امیر اپنے پالتو جانور کو حنوط کروانے میں ہو ۔۔اتنا بھی نہیں ؟ اتنا سا بھی ہوتا تو آج ۔۔۔۔۔۔
ایک انسان کی موت شائد موت ہوتی ہے بہت سوں کی تماشہ یا نمبرز ۔ اور حساب کتاب میں کون دلچسپی رکھتا ہے ؟ اور تماشے کو کون سنجیدگی سے لیتا ہے ؟ ۱۸ افراد پولیس کی گولیاں سے مار دیئے گئے تو وہ افراد نہیں ہونگے ، نمبرز تھے ۔ اس لئے باقی نمبرز کی طرح کسی لیڈر کی تقریر کا حصہ یا کسی اخبار کی خبر اور بس ۔۔۔ وہ انسان ہوتے تو شائد قانون حرکت میں آجاتا ۔ مگر شائد وہ کسی کے نہیں تھے اسی لئے تو ان کی لاشوں کو دیکھا اور اچھالا گیا مگر حنوط نہ کیا گیا ۔ کسی مجرم کی گر دن میں پھندہ ڈال دیا جاتا تو شائد ان کے جسم بھی حنوط ہوکر ہمارے سامنے رہتے ۔ مگر وہ تو سڑک پر پڑے خون کی طرح پہلے لال ، پھر جامنی اور پھر کالے ہوکر سڑک کا ہی حصہ بن کر نظروں سے ہمیشہ کے لئے اوجھل ہوجائیں
گے ۔ یعنی مر کر بھی کسی کام کے نہیں ۔ کسی کا کچھ نہ اکھاڑ سکے ۔ کسی کو کچھ نہ احساس دلا سکے ۔ اور بس ایک تماشہ سا بن کر مر گئے ۔
منہاج القران ما ڈل ٹاؤن میں مار دئے جانے والے شائد قصور وارتھے ۔ سیاسی اور متازعہ جگہ ہوگی ۔ مار دئے جانا چاہیے تھا ۔ آئین کی بالادستی شائد اسے ہی کہتے ہیں ۔ جمہوریت شائد اسی کا نام ہو کہ انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح کچل دو ۔ کسی مذہبی ادارے میں بیٹھ کر سیاسی باتیں کرنے اور سننے کی سزا شائد اسی طرح سڑکوں پر بے دریغ مارنااور قتل کرنا ہی ہو۔
درواغہ والا لاہور میں نماز پڑھتے ۹نما زی مسجد کی چھت گرنے سے ہلاک ہوگئے .تیس زخمی اور کافی ملبے تلے دبے ہوئے ۔پارلیمنٹ میں آئین اور قانون کی بالادستی کی تقریریں سن کر ،مذہبی سیاسی لیڈروں کی فحاشی کے خلاف تقریریں سن کر لگا ، یقیناًیہ اموات بھی جائز ہونگی ۔ اور ناقابلِ ذکر۔ اسی لئے تو کسی آئین کسی قانون میں ایسی اموات کے ذمہ داروں کے بارے میں کوئی سزا نہیں ہے ۔ نماز پڑھنے کے لئے جانے والوں کے اوپر مسجد کی چھت ایسے ہی عذاب بن کر گرنی چاہیئے ۔ شائد ان کا قصور یہ تھا کہ خدا سے سوال پوچھنے تو پہنچ گئے مگر حکمرانوں سے نہ پوچھا ، محلوں میں رہنے والو ں سے نہ پوچھا ، نماز پڑھنے کے لئے بھی جو خانہ کعبہ جاتے ہوں ان سے یہ نہ پوچھا کہ بتاؤ میرے حصے کی زندگی کھانے کا حق تمھیں کس نے دیا ؟ ان کا گریبان پکڑ کر یہ نہ پوچھا کہ میرے خون سے مہنگا منرل واٹر کیسے ہوگیا ؟ اور منرل واٹر کے ساتھ ساتھ میرا خون پینے کی جرات کیسے ہوئی اور پی کر ہضم کرنے والا معدہ کہاں سے پایا؟ ۔جب سوال بندے سے نہ پوچھا تو اللہ کے پاس کیا لینے گئے تھے ؟ یہ تو سراسر قانون کی بے حرمتی ۔ مسجد کی چھت تو ان پر آئین کی بالا ستی قائم رکھنے کو گرنی ہی چاہیئے تھی ۔
غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفان کئے ہوئے ۔
چھیڑ ہی دیا ہے تو پاکستان میں بسنے والے مجرموں کی اور داستان سنو ۔ طنزیہ کہا جاتا تھا کہ حکمرانوں کے بس میں ہو تو شائد آکسیجن بھی نہ دیں ،یہ طنز بھی فقط طنز نہیں رہا ، آٹھ مجرم (نوزائیدہ بچے) جو وہاڑی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت میںآکسیجن ماسک پر تھے ۔ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے آکسیجن سلنڈر میں گیس ختم ہونے کے باعث مر گئے ۔ ان مجرموں کو تو بہت جلد سزا مل گئی ۔ ارے تھوڑا اور بڑے ہوتے ۔ کوڑے میں سے روٹی اٹھا کر کھاتے ۔ ریپ ہوتے ، یا کہیں گولی کھاتے یا کسی سیلاب کی نظر ہوتے یا کسی مسجد کی چھت کے نیچے آکر دبتے یا کسی فیکٹری کے اندر زندہ آگ میں جھلس کر مرتے ۔ ایسے ہی مر گئے اتنی جلدی ؟ اتنے آرام سے ۔ بس ہسپتال کے سٹاف کے عملے کی چھوٹی سی لاپرواہی سے ، کہ گیس سلنڈروں میں آکسیجن نہیں بھری ۔ اتنی آسان موت ؟۔۔یہ بھی کوئی موت ہوئی ؟ ایسے مجرموں کی اتنی آسان موت یقیناًآئین اور جمہوریت کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔
وزیرِ اعظم نے اتنی لمبی لمبی تقریریں تو کی ہیں کہ آئین کو بچائیں اور جمہوریت کو فرو غ دیں ۔ یہی سب اموات کو روکے گا ۔ ایک دفعہ جمہوریت کو بچا لیں دیکھئے گا نہ کوئی سیلاب آئے گا اور نہ کہیں آگ لگے گی ، نہ چھت گرے گی اور نہ ہسپتالوں میں سٹاف بچوں کی زندگیوں سے کھیلے گا ۔
وزیرِ اعلی پنجاب بڑے بوٹ پہن کر پانی میں پھر تو رہے ہیں اب اس سے ذیادہ وہ سیلاب کو روکنے کے لئے کیا کریں ۔ مسجد میں مرنے والوں کی قیمت پانچ لاکھ طے تو پا گئی ہے اور کیا کریں ؟
مجھ سے پوچھیں ، ا ورکچھ نہیں کینڈا میں ہسپتالوں میں لوگوں کو عزت کی طبعی موت مرتے دیکھتی ہوں تو بس حکمرانوں سے عوام کی زندگی سنوارنے کی بھی التجا نہیں کروں گی بس اتنا کہوں گی ان کو صرف موت انسانوں والی دے دو ۔ ذیادہ کچھ نہیں مانگوں گی ۔ کینڈا میں تو لوگ موت کے بعد کتوں کو بھی پیار سے حنوط کروا لیتے ۔ آپ زندہ انسانوں کو حنوط تو کر چکے اب ان کو موت انسانی دے دو۔ ایسے تو کیڑے مکوڑے بھی نہیں مرتے جیسے پاکستان میں لوگ مر رہے ہیں ۔۔ ایک انسان مرے تو موت بہت سارے ہر روز ،ہر لمحہ مریں تو تماشہ ۔لوگوں کی اموات کو کیڑوں مکوڑوں کا تماشہ نہ بنائیں ۔آپ کا آئین اور آ پ کی جمہوریت یقیناًانسانوں کے لئے ہے ، کیڑے مکوڑوں کے لئے نہیں ۔ اسی بہانے کیڑوں مکوڑوں کو اٹھا کر انسان کے درجے پر بٹھا دیں ۔
پاکستان کے لوگوں کو انسانوں والی موت کے ذائقے سے محروم نہ کریں ۔ ورنہ وقت تو سیلاب کے ریلے کی طرح سب کچھ بہا لے جاتا ہے ۔ تہی دامن ہونے سے پہلے لوگوں کی جھولی میں ایک انسانی موت مرنے کا فخر ہی ڈال جائیں ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of