!!اقرا کا جھوٹ 

Published on (July 10, 2015)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
!!اقرا کا جھوٹ

دنیا میں بڑے بڑے مسائل چل رہے ہوتے ہیں اور ہم آگاہ رہنے کے لئے ، ان سب حالات اور واقعات پر نظر رکھتے ہیں ۔ اپنا آپ الرٹ پر لگائے رکھتے ہیں ۔ یونان کے bailout plans ، فلسطین میں اسرائیل کی ننگی جارحیت، برما کے لاوارث لوگ ،مقبوضہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ ،ایران اور امریکہ کے نئے نئے یارانے ۔۔بے شمار خبریں۔پھر کینڈا کی خبریں الیکشن ،کمیونٹی ، مہاجروں کے سماجی مسائل ،کینڈا میں روزے اور مساجد ، فطرانے زکوۃ کے سوالات ۔اس کے بعد پاکستان ،مباحثوں کے لئے روز ایک نیا چٹخارہ کبھی کوئی جماعت زیرِ عتاب تو کبھی کوئی ۔ سیاسی وفاداریوں کا تمسخر تو کبھی مشترکہ ذاتی مفادات کو بچانے کے لئے جمہوریت کی تسبیح ۔۔
ان سب باتوں کا بڑا شور ہوتا ہے ۔اس شور میں انسان کو کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی ۔ ریس پر ایک نہیں بلکہ دونوں پیر رکھے ہوتے ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ چوہوں کی اس دوڑ میں جیت بھی گئے تو رہیں گے چوہے ہی پھر بھی اس rat race کو زندگی کا حاصل سمجھ لیتے ہیں۔ کبھی یہ خبریں بھگاتی ہیں اور کبھی ان خبروں کے پیچھے ہم اس طرح بھاگتے ہیں کہ اپنے اردگرد کو بھول جاتے ہیں ۔
میں آج کا کالم کسی سوشلزم ، کسی سیکولرزم یاکسی ازم پر نہیں لکھ سکتی ،میں آج کا کالم کسی بڑے دنیا کے مسئلے پر نہیں لکھ سکتی کیونکہ ہر انسان کی اپنی ایک ذاتی قیامت ہوتی ہے جب وہ اس پر بیت رہی ہو تو وہ بڑی قیامت کے خوف میں مبتلا ہو کر قیاس آرائیاں نہیں کرتا ۔ایک ننھی پانچ سال کی بن ماں کی بچی کی اداس آنسوؤں سے بھیگی آنکھیں آپ سے وعدہ مانگیں کہ آپ میرے ساتھ ہمیشہ رہیں گی ۔۔اور آپ یہ وعدہ وفا نہ کر سکیں تو سوچیں باہر کی خبروں کا شور کیسا مدہم پڑ جاتا ہے اورآپ کے اندر کا شور اتنا بڑھ جاتا ہے کہ لکھنے کو کچھ نہیں سوجھتا سوائے ان دو بھیگی معصوم آنکھوں کے ۔۔
اقراء ۔۔۔اس کی ماں کی کیمو تھراپی ہو رہی تھی ۔تب وہ تین سال کی تھی ۔ اس کے ماں باپ میرے پاس کبھی کبھی چھوڑ جاتے ۔ جب نہ چھوڑ کے جاتے تو میں لڑتی اسے کیوں ہسپتال لے کے گئے ۔ میرے دل میں ایک خیال جڑ پکڑ گیا تھا یہ خوبصورت آنکھوں والی گڑیا جسے میں نے پہلی دفعہ کسی میوزک پروگرام میں سٹیج پر چڑھ کر ڈانس کرتے دیکھا تھا ،اس کی خوشی ، اس کا موج میں آکر جھومنا ، اس کی آنکھوں میں بسی دنیا کی خوبصورتی ،سب ایسے ہی رہنا چاہیئے۔ جب لوگ گلوگار کو چھوڑ کر اسے دیکھ کر خوش ہوکرپیار بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے تو میں بس اس خوشی کو جو اقرا کے وجود سے نکل رہی تھی اسے اس کی ذات کا اٹل حصہ بنا دینا چاہتی تھی ۔ یہ پری دنیا کی خوشی ، پیار اور خوبصورتی جذب کرے اور بدلے میں دنیا کو یہی لوٹائے ۔۔۔بدصورتی ،بیماری یا موت کی صورت اس کے بھولے چہرے کو چھُو بھی نہ پائے ۔ مگرمیں یہ لڑائی ہار گئی جیسے اس کی ماں زندگی ہاری ،جیتی تو تقدیر کی ستم ظریفی۔
اقراء کی امی جب آخری دفعہ ہسپتال جانے سے پہلے بیٹی کو میرے حوالے کرنے آئی تو اس کی آنکھوں میں لکھی موت میں نے صاف پڑھ لی ۔ مگر اقرا جس کے نام کا معنی ہی ہے “پڑھ”۔۔اسے وہ پڑھنے سے بچانے لگی ۔ پارک میں پھولوں اور تتلیوں کے ساتھ اس کی باتیں کروانے لگی۔
بیماری سے توجہ ہٹا رہی تھی کہ موت سر پر آکھڑی ہوئی ۔ میرا کلیجہ کٹ گیا ۔۔ ننھی سی جان کو موت کی بدصورتی کا کیا بتاؤں ۔ ٹی وی پر مو ت کی خبر چل رہی ہو تو اپنے بچوں کا دھیان ہٹا دیتی ہوں ،کہیں سہم نہ جائیں ۔۔مگر یہاں لوگوں نے میری نہیں چلنے دی ۔ اسے کھینچ کر ماں کے مردہ جسم پر ڈال دیا اور سنگدلی سے بتایا کہ ماں مر گئی ۔ کینسر جیسی بیماری سے کملایا ہوا چہرہ بچی کے آگے کیا جانے لگا ۔ میں نے اقراء کی آنکھوں پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی ۔ مجھے اسلام کا لیکچر پلا دیا گیا ۔ اسلام کا حکم ہے موت کی حقیقت بچی کو پتہ ہو ورنہ ساری عمر سوال کرے گی ۔۔۔بہت ساری اسلامی عورتوں کے لشکر میں میں سہم کر پیچھے ہٹ گئی ۔ ان سے یہ بھی نہ پوچھا کہ کیا اقرا ساری عمر اس رب سے یہ سوال نہیں کرے گی کہ میری ہی ماں کیوں لے لی ؟ میرے ہی بہن بھائی پیدا ہوتے کیوں مر جاتے تھے ؟ میں بچ گئی تو جنم دینے والی کیوں مر گئی ؟ کیا اقرا اسلام کے مساوات کے اور انصاف کے نظام پر سوال نہیں اٹھائے گی ؟
اقرا کی کینڈر گارٹن کی گریجوایشن تھی ، اس کے سکول گئی تو ٹیچر نے بتایا کہ وہ کہتی ہے” میں روبینہ ماما کے پیٹ میں تھی، انہوں نے پیدا کر کے مجھے عظمی ماما کو دے دیا اور اب جب عظمی ماما آسمان پر چلی گئی ہیں تو مجھے واپس روبینہ ماما کو دے گئی ہیں” ۔ میں دھک سے رہ گئی ۔ اقرا نے اپنے آپ کو ایک جھوٹ کا سہارا لے کر خود ہی بہلا لیا تھا۔ کسی کونسلنگ کی ضرورت نہیں پڑی ، کسی ڈپریشن کی دوائی کا سہارا نہیں لینا پڑا ۔ پانچ سال کی گڑیا نے اپنے آپ کو خود ہی سنبھال کر تلخ حقیقت بتا کر رلانے والوں سے خود ہی نبٹ لیا ۔ پھر وہ مجھے ماما کہتی رہی ۔
فنکشنز میں جب بچے کھیل سے تھک کر اپنی اپنی ماؤں کی گود میں جا پہنچتے تو وہ بڑے اعتماد سے میری گود میں آکر بیٹھتی ،میرا منہ چومتی اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے میرا چہرہ تھام کر کہتی “آپ دنیا کی سب سے اچھی ماں ہو،میری ماں ہو” ۔سچ ہی تو کہتی ہے یہ وہ واحد رشتہ ہے جس میں کسی دستحط کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ خدا جب کسی عورت کو ماں کے درجے پر بٹھاتا ہے تو اس کا دل دنیا کے سب بچوں کے لئے ماں کا دل ہوتا ہے ۔ ماں سب کی سانجھی ہوتی ہے ۔ کینڈا کا پلا بڑھا میرا پریکٹکل مائنڈڈ، سچ کا پجاری بیٹا مجھے ٹوکتا ، ماما اقرا کو حقیقت بتائیں اس سے جھوٹ نہ بولیں ۔ میں اسے کیا بتاتی یہ جھوٹ تو اس گڑیا نے خود گڑا ہوا ہے ۔
کبھی کبھار چھپ چھپ کر ، کسی کو پتہ نہ چل جائے مجھ سے پوچھتی تھی میری ماں کہاں چلی گئی ؟ تو میں بتاتی تھی ایک ستارہ ہے جو آسمان پر ماں بن کر چمک رہا ہے وہ وہاں سے دیکھتا ہے ، ماں تمھیں دیکھتی ہے ۔ وہ میرے سینے سے چمٹ کر کہتی ” ماما آپ ستارہ بن کر مجھ سے دور نہ جانا , مجھے ستارے اچھے نہیں لگتے وہ بہت دور ہوتے ہیں” ۔
میں پھر اس سے کیا عہد نہ نبھا سکی ۔ اس کے ابو کی ٹرانسفر پاکستان ہوگئی ۔اس سے چھپا کر رکھا ۔ اسے خوشی ڈھونڈ ڈھونڈ کے دی ۔ مگر پتہ نہیں اسے کیسے خبر ہوجاتی تھی ۔ جس دن جانا تھا اس رات کو میرے اوپر چڑھ کر سوئی ۔ میں اسے میکڈونلڈ لے کر گئی پسندیدہ برگر کے نوالے بھی اس کے حلق میں اٹک رہے تھے پھر یکا یک دھاڑیں مار مار کر رونے لگ گئی بالکل اسی طرح جیسے ماں کے مردہ جسم سے لپٹ کر روئی تھی ۔ ۔ میں نے کہا اقرا inside outفلم دیکھیں گے ۔ اُ س وقت بھی جب ماں کے جنازے سے لپٹ کر رو رہی تھی میں نے اس کے کان میں کسی فلم کا کہا تھا ۔ ایکدم خوشی سے کہنے لگی تھی چلو ابھی چلتے ہیں ۔ موت سے فرار چاہتی تھی۔ مگر آج فرار کا راستہ بھی بند تھا اور فلم کے لالچ میں بھی نہ آئی ۔ سسکتے سسکتے کہنے لگی آپ کو ایک سیکرٹ بتاؤں “آپ میری اصلی ماما نہیں ہیں ، میرے پاس صرف ابو ہیں “۔میں نے جھوٹ کو بچانے کی آخری کوشش کی ، بچی ہی تو ہے بہل جائے گی ، کہا ، “میں تمھاری اصلی ماما ہوں” ۔۔اس نے شکوہ بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا “نہیں یہ سچ نہیں ہے” ۔۔پانچ سال کی اقراء کی آنکھوں میں پچیس سال کی لڑکی کی سنجیدگی تھی ۔ماں کا رشتہ کسی دستحط ، کسی رسم کا پابند نہیں ہوتا مگر کبھی کبھی کتنا مجبور ہوجاتا ہے ۔ نہ اس کی جنم دینے والی ماں اور نہ میں، ہم دونوں مائیں لاکھ کوشش کے باوجود اسے بیماری ، موت اور جدائی کے دکھوں سے نہیں بچا سکے ۔
سب لوگ اور میرا بیٹا اقرا ء کے سچ مان لینے کے بعد خوش ہوگئے ہونگے اور میں اس کی زندگی میں ایک اور ستارے کی طرح دور دور سے چمکنے لگ گئی ہوں ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of