!اصل جرم

Published on (June 03, 2016)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
!اصل جرم
جن سے ہم نے آزادی لی ان کے بھی گنہ گار ہم اور جنہوں نے ہم سے آزادی لی ان کے مجرم بھی ہم ہی ہیں ۔ ۔ آئینہ دیکھتے ہیں تو مسلسل ایک مجرم ہی کی شکل نظر آتی ہے ،گناہ پچھلوں کا ہو یا اگلوں کا ، پھندہ ہماری گردن میں ہی تنگ رہتا ہے،اس میں دنیا کا نہیں ہمارا اپنا قصور ہے۔ ہم اپنے وہ کیس جو بہت مضبوط بھی ہیں عالمی عدالتوں میں ہا رے بیٹھے ہیں ۔ non state actor جن میں NGOsاور میڈیا شامل ہیں کے مفادات ہمارے قومی مفادات سے متصادم ہیں ، حکومتی سطح پر سستی ، نا عاقبت اندیشی اور نیشنل پالیسی کی عدم موجودگی کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوتا ہے اسے یہ بھرنے کی کوشش کر تے ہیں، ان سے خلا تو نہیں بھرتا مگر ان کے پیٹ ضروربھر جاتے ہیں۔
اکیسویں صدی میں بنگلہ دیش کی حکومت جس طرح گڑھے مردے اکھاڑ کر قانون کے نام پربوڑھے لوگوں کوپھانسیاں دے رہی ہے ، state terrorismکی اس سے ذیادہ گندی مثال نہیں ملتی ۔ 2008 کو بنگلہ دیش میں ا نٹرنیشنل کرائم ٹریبونل بنایا گیا ۔جس کا مقصد 1971کے جنگی مجرموں کو سزائیں دینا تھا ۔ وہ مجرم جنہوں نے بنگالیوں کا قتلِ عام کیا،عورتوں کی عصمتیں لوٹیں اور املاک کو نذرِ آتش کیا ۔ جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا کہ پاکستان سے آزادی لینے والوں کے بھی ہم تا حیات مجر م ہیں اور انڈیا کی تقسیم کے ولن بھی ہم ہی قرار پاچکے ہیں ۔یک طرفہ تماشے کی دہائی سن سن کر کان پک جائیں تو شرمیلا بھوسے جیسی کسی باضمیر ہندوستانی کی کتھائیں بھی پڑھ لیں جنہوں نے 1971کی جنگ کا وہ پہلو بھی دکھایا ہے جو ہشیار پر وپگنڈا کر نے والوں نے ہماری نظروں سے اوجھل رکھا ہو ا ہے ۔ ناحق بہے ہو ئے خون کا حساب دنیا میں ہی ہو جاتا ہے ۔ پاکستان پر آئے ہر عذاب کو تو ہم مقافاتِ عمل کہہ کر اب روتے بھی نہیں مگر غیر بنگالیوں کا وہ خون جو مکتی با ہنی اور بنگالیوں نے بہایا کیا دنیا نے نہیں دیکھاکہ اس کا حساب کیسے چُکتا ہوا ؟ گو اسے تاریخ کے صفحوں ، اخباروں کی سرخیوں ، ریڈیو اور ٹی وی کی بر یکنگ نیوز نہیں بننے دیا گیا مگر مظلوم بنے و ہ بنگالی جب اقتدار میں آئے تو مکتی باہنی کی رگوں میں بہنے والا وہ درندوں جیسا خون ہمیں بولتا نظر آیا، اسی لئے آزادی کے چار ہی سالوں بعد اپنے “قوم کے باپ “شیخ مجیب کو ایسی بے حسی اور سفاکیت سے خون میں نہلادیا کہ ساتھ 40لوگ اور مار دئے ۔جب مذہب کے نام پر جذبات ابھارنے کا الزام قائد اعظم پر لگا یا جاتا ہے تو مجھے الزام لگانے والوں پر حیرت ہو تی ہے کہ قومیت کے نام کا جن بوتل سے نکالنے والوں کو پہچانتے ہو ئے آپ کی نظر کیسے دھندلا جاتی ہے ؟ قومیت کے نام پر وحشیانہ پن ابھارنے والے مظلوم ہیں ؟ یاد رہے اگر تلہ میں سب سے پہلے دہشت گرد اور سازشیں کر نے والے آزادی کے بعد ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہے ۔
پاکستان کی فوج کو تو ہم بہت کوسنے دے چکے مگر مکتی باہنی کے وحشیوں کے بارے میں کبھی کسی نے بات کی ؟یہ ہماری حکومتوں کا، ہمارے میڈیا کا اورہمارے دانشوروں کا کام تھا ۔ مگر ازلی سستی اور نااہلی کی وجہ سے ہمیں مجرموں کی طرح ہاتھ اوپر کر کے دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو نا آسان لگتا ہے اورخود کو کوسنا اس سے بھی سہل کام اس لئے کون ہوا کے خلاف جائے ، کون وقت برباد کرے اورتاریخ کے صفحوں کو خود کھول کے دیکھے ۔ “پڑھے کوئی ، سنے کوئی ، بھرے کوئی اور کہے کوئی” ۔۔یہ ہے ہمارا حال ۔
مگر آج بنگلہ دیش میں ضیعف العمر لوگوں کو ،بغیر شفاف ٹرائل کے جو موت کی سزائیں دی جا رہی ہیں اور اب تک چار کے قریب لوگ پھانسی پر جھول بھی چکے ہیں ،ان سے قدرت نے ہم نااہلوں کی صفائی کا خود ہی بند وبست کر دیا ہے ۔ جس سفاکی سے 70,90سال کے بزرگوں کو پھانسی دی جا رہی ہے اور جس قدر کھلی بدمعاشی پوری دنیا کے سامنے ہے ،آج بھی ہم سارے گناہ اپنی ہی جھولی میں بھرتے رہیں تو ہم سے بڑا بد قسمت اور کم عقل روئے زمین پر کو ئی نہیں ہو سکتا ۔
بلوچستان میں را کے ایجنٹ دندتاتے پھر رہے ہیں ۔ جیسے بنگلہ دیش کو بنوانے میں ہمارے حکمرانوں کی نا اہلی جتنی بھی ہو تی ، انڈیا کی بدنیتی اور دخل اندازی کے بغیر تاریخ کا یہ باب لکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔ بعد میں ا سکا اعتراف پہلے میڈم اندرا اور پھر مودی صاحب بھی کرتے ہیں ۔ شیخ مجیب نے بنگلہ دیش بنتے ہی کہا تھا کہ ہم آج آزاد قوم ہیں پہلے ہم پاکستان کی کالونی تھے ۔ مگر یہ پھانسیاں اور شیخ صاحب کی صاحبزادی کی بھارت نواز پالیسیاں، حساس پو سٹوں پر ہندؤں کا راج ، ہمیں آج یہ کہنے پر مجبور کر رہا کہ کل بنگلہ دیش پاکستان کی کالونی تھا مگر آج بھارت کی کالونی ہے ۔ اور اگر اندرا گاندھی دو قومی نظریہ کو بحیرہ بنگال میں سچ مچ غرق کر نے میں کامیاب ہو چکی ہو تیں تو کوئی شک نہیں کہ بنگلہ دیش بھارت کا ایک صوبہ ہو تا ۔ مگر 95%مسلمان آبادی کو واپس ہندوستان لے جانا کسی خا لہ اندرا جی کا گھر نہیں تھا ۔ سو دو قومی نظریہ نہیں ڈوبا ، حکمران طبقے نے حسبِ معمول اپنے مفادات کی خاطر انسانوں کا سودا کر دیا ۔
بنگلہ دیش میں جمہوریت اپنی سب سے بد صورت حالت میں موجود ہے ۔ شیخ حسینہ واجد نے اکیلے ہی الیکشن لڑا اور اکیلے ہی جیت گئیں ۔ ایسے تو بچپن میں بچے نہیں کھیلتے تھے انہیں بھی ریس ہرانے کے لئے دو مقابلے بازوں کی ضرورت پڑتی تھی ۔ اکیلے بھاگنے والے کو پاگل کہا جا تا تھا ۔ مگر حیرت ہے بنگلہ دیش کی عوام پر جنہوں نے ایسی پاگل کے ہاتھوں ملک سونپ رکھا ہے ، جو ان پھانسیوں اور ایسی ہی حرکتوں کی وجہ سے ملک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہی ہے ۔ جب جنگی جرم کی پاداش میں ،یعنی 1971میں پاک فوج کا ساتھ دینے کے جرم میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو چُن چُن کر پھانسیاں دی جاتی ہیں تو پھانسی والے دن کا منظر،جس میں موت کی خبر کنفرم ہو نے کے بعد ایک طرف خوشی سے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے اور دوسری طرف غم ذدہ احتجاج ، کسی بھی لیڈر تو دور کی بات ایک عام باشعور انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ سوسائٹی کی یہ واضح تقسیم ملک کو کس طرف لے کر جا رہی ہے ؟
یہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسی وحشیانہ ذیادتیاں ہی دہشت گردی کے پنپنے کے لئے پہترین کھاد ہو تی ہیں ۔ لال مسجد والے کیس کو انسانیت اور سمجھ بوجھ کے ساتھ حل کیا ہو تا تو آج پاکستان میں دہشت گردی کا اژدھا انسانوں کو نگل نہ رہا ہو تا ۔ خالدہ ضیاء کو کھڈے لگا کے جماعت اسلامی کو سیاسی انتقام کا نشانہ ، ان پھانسیوں کی صورت میں دے کر ، شیخ حسینہ دو دن حکومت میں نہیں نکال سکتی تھی ، اگر ہیومن رائٹس کے انٹڑنیشل ادارے چشم پو شی سے کام نہ لے رہے ہوتے ، اگر انڈیا بنگلہ دیش کی پشت پناہی نہ کر رہا ہو تا ، اور سب بڑا” اگر”پاکستان اپنی آوا ز اتنی مدہم نہ رکھتا کہ کسی کے کان تک پہنچ ہی نہ پائے۔
تُرکی کے صدر طیب اردگان کی 4منٹ کی ایک تقریر یو ٹیوب پر ہے جس میں انہوں نے بنگلہ دیش میں دی جانے والی ان خوفناک اور بے شرم پھانسیوں کی نہ صرف زبانی کلامی پر زور مذمت کی بلکہ بنگلہ دیش سے اپنا سفیر بھی واپس بلوا لیا ۔ پاکستان نے کیا کیا ؟
حالانکہ پاکستان کے پاس ان پھانسیوں پر کر نے کے لئے 1974میں انڈیا ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہو نے والے معاہدے کی صورت ایک قانونی حق موجود ہے اور ایک جذباتی رنگ بھی ، یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان سے محبت کے جرم میں مارے جا رہے ہیں ۔ اسی طرح کئی ایسے بنگالی ، جو بہاری ہیں اور پاکستان سے محبت کر تے ہیں انہیں بھی ، موت سے بدتر زندگی میں بنگلہ دیش میں کیمپوں میں جھونک رکھا ہے ۔ اس دوزخ سے انہیں نکا لنے والا کوئی نہیں ۔ معاہدہ موجود ہے مگر دونوں حکومتیں اس سے مکر چکی ہیں اور انسان پاکستان جیسے بے وفا محبوب کی محبت کے جرم میں بے موت مارا جا رہا ہے۔ ہمارا جرم نااہلی اور اپنی ہی قوم سے بد نیتی ہے ۔باقی جن گناہوں کا ہمیں مجرم کہا جاتا ہے ان گناہوں کو کرنے کی ہمارے اندر صلاحیت ہی موجود نہیں ۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of