!!آؤ خود میں سرسید کو زندہ کریں

Published on (February 06, 2016)

دستک
روبینہ فیصل
rubyfaisal@hotmail.com
!!آؤ خود میں سرسید کو زندہ کریں
پاکستان کی بدقسمتی یہ نہیں کہ اس کے پاس ہیروز نہیں ہیں ، اس کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس کے اصلی ہیرو ، کافر یا غدار کے فتوؤں کے نیچے دفن کر دئے جاتے ہیں ۔ بر ے کردار تو میڈیا پر بہت اچھا لے جاتے ہیں مگر اعلی کردار والے نصاب کی کتابوں سے بھی غائب کر دئے جاتے ہیں ۔ کیا ہم نے کبھی سرسید کو ان کی لمبی داڑھی والی تصویر سے ہٹ کر جاننے کی کوشش کی ؟ کیا ہمیں اندازہ ہے کہ سرسید اپنی قوم کے لئے کیا چاہتے تھے ؟ یا انہوں نے کیا قربانیاں دیں ؟ یا یہی کہ اگر ہمیں سرسید ہی اچھی طرح سمجھا دیا جا تا تو ہم پاکستان کو ایک خوبصورت ، پڑھا لکھا ، ترقی یافتہ ، بر داشت اور حوصلے سے مالا مال معاشرہ بنا سکتے تھے ؟ نہیں ہم کچھ نہیں جانتے ۔۔مولویوں نے کافر کافر کے فتوؤں سے اور اسٹبلیشمنٹ نے غدار غدار کے فتوؤں سے ہمارے دماغ مفلوج کر رکھے ہیں ۔
آئیں سرسید کو دیکھیں وہ کون تھے ۔۔۔۔۔۔۔
1857کی ہندوستانیوں کی انگریزوں کے خلاف بغاوت ،اس کی ناکامی اور عبرت ناک انجام سے ہم با خبر ہیں، وہ بغاوت کامیاب ہو جاتی تو سب اس کے مالک ہو تے ناکام ہو ئی تو باقی سب مذاہب غائب اور الزام سارا مسلمانوں کے سر آگیا ۔ انگریز کو بھی صرف مسلمان کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لئے کسی ذیادہ حسابی کتابی کیلکولیشن کی ضرروت نہیں تھی ،کیونکہ انہوں نے اقتدار مسلمانوں سے ہی چھینا تھا اس لئے نفسیاتی طور پر ان سے الرٹ تھے ۔ دوسری طرف مسلمانوں کا مولویوں کے فتوؤں کے بعد مغربی تعلیم اور تہذیب سے نفرت والا رویہ ، بہت واضح تھا ۔ مسلمانوں کو تاکیدکی جا رہی تھی کہ وہ مسجدوں میں بیٹھ کر بس خدائے ذوالجلال سے دعائیں مانگیں۔اور انہی دعاؤں کے زور سے وہ اپنا چھینا ہوا اقتدار واپس لیں گے اور ہندوستان کی سر زمین کو کافروں سے پاک کر دیں گے ۔ یعنی عملی طور پر مسلمانوں کو معطل کر کے مسجدوں کے کونوں کو آباد کیا جا رہا تھا ۔ اسی لئے ہندوستان میں جتنی مسجدیں بر طانوی دور میں بنیں اتنی کبھی مغلیہ دور میں بھی نہیں بنی تھیں ۔
سرسید احمد خان جو اس وقت انگریز سرکار کی نوکری میں تھے ، نے اپنا فر ض نبھاتے ہو ئے اس خون خرابے میں انگریزوں کی جانیں بچائیں،آج سلمان تاثیر کو قتل کر نے والے اس کے اپنے ہی باڈی گارڈ کو یہ تعلیم ملی ہو تی ہے کہ فرض کیا ہے ؟ انسانیت کیا ہے تو وہ یہ گھناؤنا کام نہ کرتا۔ سرسید نے صرف اپنا فرض اور انسانیت کا تقاضا ہی نہیں نبھایا بلکہ اپنی قوم کا درد محسوس کیا ۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر ہندوستانیوں کی حالتِ زار پر روتے تھے ۔ جب انہیں گورنر شئکسپیئر اور اس کے خاندان کو بچانے کے عوض جاگیر سے نوازا جا رہا تھا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اپنے بھائیوں کے بہتے خون کو دیکھ کر میں کیسے کوئی جاگیر قبول کر سکتا ہوں ۔
اسبابِ بغاوتِ ہند لکھ کر انہوں نے مسلمانوں پر لگے الزام کو دھونے کی کوشش کی ، اور انگریز کی پالیسی جس میں ہند ؤ مسلمان سے فرق رویہ اور عوام الناس سے حکومت کی دوری کی طرف نشاندہی تھی ۔ ان کی بات کو بر طانوی پارلیمنٹ میں بھی سنجیدگی سے سنا گیا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس احساس کے تحت کہ مسلمان اپنی حرکتوں کی وجہ سے ایک پسماندہ قوم بن کے رہ گئے ہیں ان کی تعلیم کی طرف توجہ شروع کی ۔ دورانِ نوکری ہی سکول قائم کر نے شروع کر دئے ۔
اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں عزتِ نفس کی بحالی کے لئے آواز اٹھانی شروع کی ۔ یہ بھی دو دھاری کام تھا ، ایک طرف مسلمانوں کو احساسِ کمتری سے نجات دلانا اوراپنی عزت کا احساس بیدار کرنا تھا تو دوسری طرف انگریزوں کو ان کے ظالمانہ روئیے کا احساس دلا نا تھا ۔
1876کے اخبار سائنٹفک سوسائٹی کے شماروں میں ،سرسید ایک تسلسل کے ساتھ انگریزوں کی بے رحمانہ اور آمرانہ حرکتوں پر تنقید کر تے رہے ہیں ۔ایک مثال :
“جب مختار نامی ہندوستانی کو ایک نوجوان مجسٹریٹ نے سر پرجوتے رکھنے کی سزا دی تو سرسید ، “جوتے کا مقدمہ” میں لکھتے ہیں: ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو عدالت کی ہتک عزت کے مجرم کو پندرہ منٹ تک سر پر جوتیاں رکھ کر کھڑا رہنے کی سزا دے ، یا جو شخص ذرا بھی اپنے مطلب کی گفتگو کرے تو نازک دماغ حاکم اس کے کان پکڑوائے اور اٹھاوے بٹھاوے یا اس کو ڈیم سور کہہ کر بہ اجلاس دو لاتیں لگا دے ۔۔یا راہ چلتے شخص کو اس جرم میں پکڑ کر بید لگوا دے کہ اس نے ہم کو سلام نہیں کیا تھا ۔ایسی سزاؤں کا اپنی طرف سے جاری کرنا ، جن کے وہ قانونا مجاز نہیں ہیں ،انگریزی عدالتوں کی تہذیب اور انصاف میں سرا سر بٹہ ہے”
پھر بھی آج ہم انہیں انگریز کا وفا دار کہتے ہیں ۔
وہ چاہتے تھے کہ مسلمان تعلیم اور تہذیب سیکھ کر انگریز کے مقابلے میں کھڑے ہوں تاکہ وہ انہیں حقیر نہ سمجھیں ۔اور مسلمان بھی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے باہر نکلیں ،اسی لئے 1894میں لکھتے ہیں :
“وہ زمانہ ابھی تک بھولا نہیں ہے جب کہ بعض مسلمان انگلستان سے واپس آئے تو تمام ہندوستان میں خطوط اور اشتہار جاری ہو ئیکہ کوئی مسلمان ان کے ساتھ نہ کھاوے کیوں کہ وہ انگریزوں کے ساتھ کھا چکے ہیں اور اسی لئے ان کے ساتھ کھانا حرام ہے ۔ وہ زمانہ بھی یاد سے نہیں اترا کہ اگر کسی اشراف اور نیک دل آدمی نے اتفاقیہ ان کے ساتھ کھا لیا تو اس کے گھر میں اور ہمسائے میں ، برادری میں ، محلے میں رونا پیٹنا پڑ گیا کہ ہے ہے وہ بھی عیسائی ہو گیا ۔”
یہ تھا مسلمانوں کی سوچ کا عالم اور انگریز کا رویہ جسے انہوں نے بدلنے کی ٹھان رکھی تھی ۔ اس کے لئے وہ زور دیتے کہ تعلیم حاصل کر ؤ اور انگریزوں سے دوستی کر ؤ ۔ ان کی دور اندیش نظر بھانپ گئی تھی کہ انگریز کے قدم یہاں جم چکے ہیں اور وہ ترقی میں ہندوستانی قوم سے اتنی آگے ہیں کہ یہ چھوٹی چھوٹی بغاوتیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں کیونکہ یہ توپ اور تلوار کی لڑائی ہے ۔ اس لئے ان حالات میں سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنے آپ کو انگریز کا دوست بنا لو اور ان سے سیکھو ۔ دوسری طرف تعلیم اور تہذیب کے میدان میں اپنے آپ کو منوا لو تاکہ تمھاری عزت اور کھویا ہوا مقام واپس مل جائے ۔ طرزِ کہن سے چمٹے رہنے سے صرف ذلت اور رسوائی مقدر ہے ۔
جدیدیت کی بات کی اور مذہب کو رسم و رواج کی الجھنوں سے پاک کرنے کو کہا تو کافر قرار دے دئے گئے ۔
مگر وہ اپنے مشن پر ڈٹے رہے ، انگلینڈ یہ دیکھنے گئے کہ وہ کیا راز ہے جو یہ مٹھی بھر انگریز ہزاروں میل دور سے اٹھ کر آئے اورہندوستان کے اتنے بڑے خطے اور لوگوں پر قابض ہو گئے، وہاں جا کر آکسفورڈ اور کمیبرج جیسی درسگاہوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا ،وہاں کا نظام دیکھا اور واپس آکر اسی طرز پر مسلمانوں کے لئے ایسی درسگاہ بنانے کی جد و جہد شروع کر دی جس میں وہ جدید علوم سے مستفید ہوں ۔۔ محمڈن اورینٹل کالج بنانے کے لئے جتنے پاپڑ سرسید نے بیلے کیا ہمیں آج تک اس کا ایک فی صد بھی پتہ چلتا ہے ؟ اس کی بجائے ہمیں اکبر الہ آبادی کے تنقیدی اشعار پڑھنے کو ملتے ہیں جو نجانے کتنے قدامت پرستوں کے دل کی آواز تھے :
سدھاریں شیخ کعبہ کو، ہم انگلستان دیکھیں گے
وہ دیکھیں گھر خدا کا ،ہم خدا کی شان دیکھیں گے
کافر ، ملحد اور نیچری کے مسلسل فتوئے جاری رہے ،لوگوں کو انہیں چندہ دینے سے روکا جا تا تھا ۔ کہا جانے لگا کہ جو بھی اس کفر کے کام ( انگریزی زبان اور سائنسی تعلیم سیکھنے ) میں حصہ دار بنے گا وہ گو یا اپنے ہاتھ سے اپنے لئے جہنم کا دروازہ کھولے گا ۔۔ اکبر الہ آبادی ہی کہتے ہیں :
نہ کتابوں سے نہ کالج کے ہے در سے پیدا
دین ہو تا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
لاہور میں سکولوں کے لئے چندہ جمع کر نے کی مہم کے دوران ایک جلسے میں خطاب کرتے ہو ئے سرسید نے کہا :
مجھے چوڑا چمار کہہ لو ، کافر ملحد کہہ لو مگر خدا کے واسطے اپنے بچوں کے مستقبل سے نہ کھیلو ۔ ان کی خاطر اس کافر کو چندہ دو تاکہ کل کو تمھارے بچے دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے قابل ہو ں ۔۔ اس تقریر کے دوران پنڈال میں بیٹھے لوگ زارو قطار روتے رہے ۔۔
سرسیدنے ہمت نہیں ہا ری ، وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر آپ کو اس بات پر بھروسہ ہے کہ آپ جو کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں تو پھر بس کرتے جائیں ۔۔تنقید اور مخالفت سے گھبرائیں نہیں ۔۔
سرسید احمد خان ، ہندوستان کو ایک دلہن کہتے تھے اور ہند ؤ ، مسلمان کو اس کی دو آنکھیں ، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ ہندؤ تو زمانے کی رفتار سے نہ صرف آگے بڑھ رہا ہے بلکہ حیلے بہانے سے مسلمانوں کو پیچھے دھکیل رہا ہے تو انہوں نے اپنی توجہ صرف مسلمانوں کی ترقی پر مر کو ز کر دی ۔
سرسید احمد کو کا فر کہا گیا مگر کیا کسی نے یہ بتا یا کہ یہ وہ شخص تھا جس نے اپنے جداگانہ مذہبی اور قومی تشخص کو قائم رکھنے پر زور دیا ۔۔ کیا کہا ؟ کہا یہ کہ اپنے مذہبی تشخص کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ تہذیب اور تعلیم ان سے سیکھو جو آج دنیا پر راج کر رہے ہیں ۔۔ کیا سرسید کی اس بات کو ہم پلے باندھ لیتے تو نقصان تھا ؟
انہوں نے نہ صرف ہندوستانی کی عزت پر زور دیا بلکہ انہیں دوسروں کی عزت کا بھی سبق دیا ۔ مذہبی رواداری اور برداشت جو اسلام کا خاصہ ہے اور جسے جد ید زبان میں سیکولرازم کہا جا تا ہے ، اس کا عملی مظاہرہ کیا ۔۔ علیگڑھ مسلم کالج کے ہو سٹل میں گائے کا گوشت پکنے کی ممانعت تھی
، صرف اس وجہ سے کہ کسی ہندو طالبعلم کی دل آزاری نہ ہو ، چمڑے کی مشک سے ہندؤ طالبعلموں کو پانی پینے میں ہچکچاہٹ تھی ، ان کے لئے پانی کے کنوئیں کھدوائے گئے ۔محمڈن کالج( علیگڑھ یو نیورسٹی) کا پہلا طالبعلم بھی ہندو تھا اور پہلا گریجوئٹ بھی۔ اگر علیگڑھ یو نیورسٹی اور سرسید احمد کی شخصیت کو ہی مشعلِ راہ بنا لیا جاتا تو ہمیں آج پاکستان اور ہندوستان کے اندر جو مذہبی عدم برداشت اور انتہا پسندی نظر آتی ہے ،کیا وہ ایسے ہی ہو تی ؟
سرسید کا خیال تھا ایک مہذب حکومت کو مذہبی معاملات میں غیر متعصب ہو نا چاہئے ۔ یہ تصور ان کا انگلینڈ جانے سے بھی پہلے موجود تھا ۔ پروفیسر افتحار عالم ایک مضمون میں لکھتے ہیں :
1869میں لندن کے سفر کے دوران جہاز میں سرسید کی ملاقات ناگپور کے ڈائریکٹر پبلک انستڑکشن ( ایک طرح سے صوبے کے وزیرِ تعلیم )میجر ڈاڈ سے ہو ئی ، اس نے ایک شخص کا ذکر کرتے ہو ئے کہا “فلاں صاحب ایک اچھے ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن اس لئے ثابت نہ ہو سکے تھے کیونکہ وہ لا مذہب تھے یعنی کسی مذہب پر ان کا پختہ یقین نہیں تھا “اس پر سرسید نے کہا میری رائے میں ضروری ہے کہ:
” ہندوستان میں ڈاءئریکٹر پبلک انسٹرکشن ایسے ہی ہوں جو لا مذہب ہوں ،کیونکہ جب ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں تو مذہبی آدمی کا افسرِ تعلیم ہونا اکثر دفعہ بے تعصب عام تعلیم کا مانع ہو جاتا ہے۔ درحقیقت میری رائے یہ ہے کہ جیسا خدا بے تعصب ہے ، مشرک ،بت پرست ، خدا پرست سب کو برابر پرورش کر تا ہے ۔اسی طرح گورنمنٹ کو اور افسرِ تعلیم کو بے تعصب ہو نا چاہئے ”
ایک اور سبق جو اگر ہم نے سرسید کی ذات سے لے لیا ہو تا تو توہینِ رسالت کر نے والوں کے خلاف اپنا ہی گھر نہ جلاتے پھرتے ۔
یو پی کا گورنر تھا ولیم میور اس نے حضرت محمد ﷺکی ذاتِ پاک کے بارے ایک تضحیک آمیز کتاب لکھی ، جب سرسید نے اسے پڑھا تو وہ بھی ہر مسلمان کی طرح دکھی ہو ئی ۔ مگر ان کا ردِ عمل کیا تھا ، اس پر غور کرنے کی اور اسے اپنانے کی ضرورت ہے ۔ وہ نہ مشتعل ہو ئے ، نہ ٹائر جلائے ، نہ دکانیں توڑیں ، نہ کتاب پر پابندی کے لئے نعرے لگائے بلکہ اپنا گھر گروہ رکھ کر انگلینڈ گئے کیونکہ تحقیقی مواد ہندوستان میں نہیں تھا ، وہاں کی لائبریوں میں بیٹھ کر اس کے جواب میں “خطباتِ احمدیہ “لکھی ۔ اور وہ اتنی جامع کتاب تھی کہ میور کی تحقیق پر انگلستان میں سوالیہ نشان اٹھ گیا ۔ سوچئے آج اپنے ارد گرد دیکھیں کیا لوگوں کو مذہب کے نام پر مشتعل کر نے والوں میں آج تک اتنی جرات ہو ئی کہ اپنے بینک بیلنس استعمال کر کے ایسی کتابوں کا جواب لکھ سکیں۔گھروں کو گروی رکھنا اور چندہ اکھٹا کر کے ایسے مقاصد کے لئے لگانا تو دور کی بات ہے ۔
آج مدرسے بنانے کی بجائے ، مدرسوں میں بھی جدید تعلیم کر دی جائے تو کیا ہم بہت سے مسائل کو صرف ایک اسی حکمتِ عملی کو اپنا کر حل نہیں کر سکیں گے ؟ اردو کو سرکاری زبان کرنے سے پہلے کیا ہم اردو کو جدیدیت سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں ؟ اگر ہم اردو کو ماڈرن زبان نہیں بنا سکتے تو اردو ہر جگہ رائج کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی قوم کو اس مقام سے بھی پیچھے لے کر جارہے ہیں جہاں سرسید نے اسے کھڑے دیکھا تھا کیا سو ڈیڑھ سو سال گذرنے کے بعد بھی ہم کوئی روشنی نہیں حاصل کر سکے ۔
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا ۔۔۔۔۔ سرسید کی شفق کہاں ہے ؟
فرقوں کے نام پر مارنے والوں کو کیا آج یہ یا د کر وانے کی ضرورت نہیں کہ سرسید غیر مذہب کے لئے بھی کتنے کشادہ دل تھے ۔ ایک مثال دیکھئے : ایک اخبار جریدہ روزگار میں 1876 ایک خط شائع ہو ا تھا جس میں استفسار کیا گیا تھا کہ مدرستہ العلوم تو خاص مسلمانوں کے لئے مقرر کیا گیا ہے اس میں ہندؤں کو پڑھانے کی وجہ ؟ سرسید نے اس سوال کے جواب میں ایک تفصیلی تحریر تہذیب الاخلاق میں شائع کی تھی کچھ باتیں وہاں سے :
“اس کے جواب میں کوئی فیاض مسلمان کہہ سکتا ہے کہ ہاں اس مدرسہ کے قائم ہو نے کی ضرورت مسلمانوں کو تھی جن کے لئے قائم ہوا ، مگر مسلمانوں کو ایسے بخیل و تنگ دل نہیں ہو نا چاہیئے کہ اگر دوسری قوم اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو اسے محروم رکھے بلکہ نیکی اور خوبی اسی میں ہے کہ مسلمانوں کے سبب سے اور لوگ بھی فائدہ اٹھائیں ، کوئی شیخی خورہ اور خود ستا شخص جس نے اپنی آنکھوں کو مسلمانوں کی موجودہ حالت سے بند کر لیا ہے اور ہمیشہ پچھلے زما نے کے خواب دیکھ رہا ہے وہ یہ جواب دے گا کہ ہم ہمیشہ ایسے ہی فیاض رہے ہیں ۔۔مگر ہاں جب کو ئی باغیرت اور قومی ہمدردی کر نے والا ٹھیٹ مسلمان اس سوال کو پڑھے گا تو بے اختیار رو دے گا اور اپنی قوم کی ذلت اور اپنی قوم کے ادبار، جھوٹے تعصب ، خود غرضی ، جھوٹی دین داری ، ناسمجھی و نا عاقبت اندیشی پر افسوس کرے گا ۔۔
سرسید ایک کھرے ، غیر متعصب انسان تھے وہ کہتے تھے :
“اپنے مذہب میں پختہ ہو نا جدا بات ہے اور یہ ایک نہایت عمدہ صفت ہے جو کسی اہلِ مذہب کے لئے ہو سکتی ہے اور تعصب گو کہ وہ مذہبی باتوں میں کیوں نہ ہو نہا یت برا اور خود مذہب کو نقصان پہنچانے والا ہے” ۔
سرسید کا نظریہ تھا کہ قوم کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی بھی ضرورت ہے اسی لئے انہوں نے رسالہ تہذیب الا خلاق جاری کیا تھا ۔ جس میں وہ زندگی کے ہر شعبے پر مضمون لکھتے تھے اور اپنے لوگوں کی راہنمائی کر تے تھے ۔اس رسالے کو جاری کر نے میں بھی انہیں ہر قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، بار بار بند ہو تا ۔تہذیب الا خلاق کے مقاصد ان کے لئے وہی تھے جو رچرڈ ااسٹیل اور ایڈیسن کے ٹیلٹلر اور سپیکٹیٹر نکلانے میں تھے ۔ وہ قوم کو بناؤٹی برائیوں سے پاک کرنا چاہتے تھے اور جھوٹی شیخیوں کو مٹا دینا چاہتے تھے ۔ قوم کی پوشاک ،اور گفتگو اور برتاؤ میں عام سادہ پن پیدا کر یں ۔
سرسید لکھتے ہیں : ان پرچوں کے جاری ہو نے سے انگریزوں کے اخلاق اور عادات اور دین داری کو کافی فائدہ پہنچا ۔ اس سے پہلے انگلستان کے لوگوں کی جہالت ، بداخلاقی اور نا شائستگی قابلِ نفرت تھی ۔علم جو اب عام لوگوں میں پھیلا ہوا ہے شاذ و نادر ہی کہیں پا یا جاتا تھا ، علم کا دعوی تو درکنار جہالت کی شرم بھی کسی کو نہیں تھی ، عورت کا پڑھا لکھا ہونا اس کی بدنامی کا باعث ہو تا تھا ، عورتیں صرف آپس میں بد گوئی کیا کر تی تھیں۔۔۔۔ان کی اخلاقی حالت کو ایڈیسن اور سٹیل نے سدھارا ۔۔ سرسید کا خیال تھا تہذیب الا خلاق بھی قوم کی بہتری میں یہی کردار ادا کر ے گا مگر ایک مضمون میں مایوس ہو کر لکھتے ہیں :
ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے زمانے کے لوگ ان کی تحریروں کو پڑھتے اور قدر کر تے تھیاور ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہماری تحریروں کو مذہب کے بر خلاف کہا جاتا ہے اور ان کا پڑھنا باعثِ عذاب سمجھا جا تا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے )

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of